چولستان، جس کا شمار رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے بڑے صحرائی خطّوں میں ہوتا ہے، آج ایک بار پھر خُشک سالی کے خطرے سے دوچار ہے۔ یاد رہے، یہ وہ خطّہ ہے، جو صدیوں سےقدرت کے سخت امتحانات، آزمائشیں جھیلتا آیا ہے، مگر حالیہ برسوں میں رُونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں، ناقص منصوبہ بندی اور حکومتی عدم توجّہی نے یہاں کے مسائل کو ایک سنگین انسانی بُحران کی شکل دے دی ہے۔ اس وقت چولستان میں پانی، جو زندگی کی بنیادی ضرورت ہے،تقریباً نایاب ہے اور ریاستی ترجیحات پر پہلے سے زیادہ سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔
چولستان کی جغرافیائی حیثیت اسے انتہائی حسّاس بناتی ہے۔ تقریباً 26ہزار مربّع کلومیٹر پر پھیلا یہ صحرا بہاول پور، بہاول نگر اور رحیم یارخان جیسے اضلاع کےبڑے حصّے پر محیط ہے اور مشرق میں بھارتی صحرائے تَھر سے جاملتا ہے۔ مقامی آبادی کا بڑا حصّہ نیم خانہ بدوش طرزِ زندگی اختیار کیے ہوئے ہے، جس کا انحصار بارش، گلہ بانی اور ٹوبہ جات پر ہے۔
چولستان کوعمومی طور پر دو حصّوں، چھوٹا چولستان اور بڑا چولستان میں تقسیم کیا جاتا ہے اور بڑے چولستان میں آج بھی حصولِ آب کا واحد ذریعہ ٹوبے ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق، چولستان میں تقریباً 1700ٹوبے موجود ہیں، جو بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کےقدرتی یا نیم قدرتی گڑھے ہوتے ہیں۔
یہی ٹوبےانسانی آبادی اور لاکھوں مویشیوں کے لیے زندگی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، مگر اس وقت صُورتِ حال یہ ہے کہ ان میں سے بیش تر مکمل طور پر خُشک ہو چکے ہیں، جب کہ باقی ماندہ میں پانی کی مقدار انتہائی کم ہے یا پھر وہ آلودہ ہو چُکا ہے۔
دوسری جانب ٹوبے خُشک ہونے کے ساتھ قدرتی چراگاہیں بھی ختم ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں مویشی لاغر اور کم زور ہو رہے ہیں اور متعدد علاقوں سےلوگ نقل مکانی پر مجبور ہوچُکے ہیں۔ قلّتِ آب کے باعث متاثرہ خاندان سرکاری پائپ لائنز، کنوؤں اور مختلف چکوک کے قریب منتقل ہورہے ہیں، مگر وہاں بھی صاف پانی کی دست یابی ایک سنگین مسئلہ بن چُکی ہے اور خواتین و بچّوں کو کئی کئی کلومیٹر پیدل چل کر پانی لانا پڑتا ہے، جو کسی بھی مہذّب معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔
چولستان کے مقامی باشندوں کے مطابق، صورتِ حال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے، مگر زمینی سطح پر ریلیف کے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دیتے اور ریاستی ترجیحات کا تضاد اس بُحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ ایک طرف تفریح اور تشہیر کے نام پر ہر سال چولستان جیپ ریلی کی صُورت کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، جب کہ دوسری طرف اِسی چولستان کے مستقل باشندے پینے کے صاف پانی، علاج معالجے اور چارے جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔
تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ترقّی کا معیار چند دنوں پر محیط ایونٹس ہیں؟ نیز، سماجی و عوامی حلقے یہ سوال بھی اُٹھا رہے ہیں کہ کیا چولستانی باشندوں کی مدد کے لیے کسی بڑے سانحے یا جانی نقصان کا انتظار کیا جا رہا ہے؟ تاریخ گواہ ہے، ماضی میں بھی چولستان میں خُشک سالی کے نتیجے میں اَن گنت انسانی جانوں اور لاکھوں مویشیوں کا زیاں ہو چُکا ہے، مگر ہر بار اقدامات عارضی و نمائشی ہی ثابت ہوئے۔ صُورتِ حال اُس وقت مزید تشویش ناک ہوجاتی ہے، جب چولستان کو نہروں کے ذریعے فراہم کیے جانے والے پانی کی حقیقت سامنے آتی ہے۔
ہیڈ پنجند کے مقام سے نکلنے والی عباسیہ لنک کینال، جو خصوصی طور پر چولستان کو سیراب کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، آج پورے اوچ شریف شہر کے سیوریج کا پانی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق اس آلودہ پانی کا استعمال انسانی صحت، مویشیوں اور پورے صحرائی ماحولیاتی نظام کے لیے شدید خطرہ بن چُکا ہے اور متعلقہ اداروں کی خاموشی کئی سوالات جنم دیے رہی ہے۔
چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کےحُکّام کے مطابق، بارشوں کی کمی کے باعث ٹوبے خُشک ہو رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں فراہمیٔ آب کے لیے واٹر بائوزرزسمیت دیگرعارضی انتظامات کیے جا رہے ہیں، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ اقدامات بُحران کی شدّت کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔ اگر عن قریب بارشیں نہ ہوئیں اور آلودہ نہری پانی کامسئلہ فوری طور پر حل نہ کیا گیا، تو چولستان ایک آفت زدہ خطّے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
ایسے میں چولستان کے مکین اور سماجی حلقے مطالبہ کرتے ہیں کہ نمائشی سرگرمیوں کی بجائے یہاں ایمرجینسی نافذ کی جائے، موبائل واٹر ٹینکرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے، عباسیہ لنک کینال میں سیوریج کے پانی کا اخراج فوری بند کیاجائے اور چولستان کے لیے ایک مستقل، شفّاف اور قابلِ عمل واٹر مینجمینٹ پالیسی مرتّب کی جائے۔
یاد رہے، اگر متعلقہ حُکّام کی غفلت کا یہی عالم رہا، تو چولستان کی خُشک سالی ریاستی حکمتِ عملی کی ناکامی کی ایک واضح مثال بن جائے گی۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے، چولستان کے باسی خیرات نہیں بلکہ اپنا بنیادی انسانی حق، ’’پانی‘‘ طلب کررہے ہیں اور اس کی مناسب فراہمی ریاست کی اوّلین ذمّے داری ہے۔