مصنّف: ڈاکٹر فاروق عادل
صفحات: 434، قیمت: 1600روپے
ناشر: قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، یثرب کالونی، والٹن روڈ، لاہور کینٹ۔
فون نمبر: 0515101 - 0300
ڈاکٹر فاروق عادل سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار کی حیثیت سے اپنی نمایاں شناخت رکھتے ہیں۔ وہ صدر ممنون حسین (مرحوم) کے زمانے میں ایوانِ صدر، اسلام آباد سے بھی منسلک رہے۔ ممتاز صحافی محمّد صلاح الدّین(شہید) سے بھی اُن کی قربت تھی، تو غالباً ڈاکٹر فاروق عادل کی تحریروں میں بے باکانہ انداز اُنہی کا ودیعت کردہ ہے۔ وہ روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی سے بھی وابستہ رہے اور اِس حوالے سے کچھ عرصہ ہماری بھی اُن سے رفاقت رہی۔
ڈاکٹر فاروق عادل کا شمار اُن صحافیوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے مصلحت کوشی سے گریز کیا اور دیانت داری پیشِ نظر رکھی، اِسی لیے اُنہیں صحافتی اور سیاسی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ زیرِ نظر کتاب اُن کالمز اور تجزیوں پر مشتمل ہے، جو اُنہوں نے مختلف اخبارات و جرائد کے لیے تحریر کیے۔ وہ ایک مستند ادیب بھی ہیں، اِس لیے اُن کے سیاسی تجزیوں میں بھی تہذیبی اقدار کی پاس داری نمایاں ہے۔
کتاب 33مضامین پر مشتمل ہے اور ہر مضمون گراں قدر معلومات سے آراستہ ہے۔ اُن کا اندازِ نگارش دوسرے صحافیوں اور تجزیہ نگاروں سے بہت مختلف ہے کہ اُن کی حالاتِ حاضرہ پر بھی گہری نظر ہوتی ہے، سو، اُن کا کوئی تجزیہ مقصدیت اور معنویت سے خالی نہیں ہوتا۔ ایسے صحافی اِس دَور میں بہت کم ہیں، جنہیں اِس کسوٹی پر پرکھا جاسکے۔
ڈاکٹر فاروق عادل نے پاکستانی تاریخ کے بہت سے متنازع اور پیچیدہ پہلوؤں پر ہر قسم کے تعصّبات سے بلند ہوکر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے، جس کی وجہ سے یہ کتاب ایک تاریخی دستاویز بن گئی ہے، جب کہ اِس میں مجیب الرحمان شامی، ڈاکٹر حسن الامین اور ڈاکٹر خلیل طوقار کے بھرپور تبصرے بھی شامل ہیں۔