• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنّفہ: شاہین کمال

صفحات: 288، قیمت: 1000روپے

ناشر: گفتگو فورم پبلی کیشنز، 749۔ نیلم بلاک، علّامہ اقبال ٹائون، لاہور۔

فون نمبر: 5861605 - 0336

شاہین کمال کب سے کہانیاں لکھ رہی ہیں، اِس کا ہمیں علم نہیں، ہمارا اُن سے تعارف زیرِ نظر کتاب ہی کے حوالے سے ہوا۔ وہ کینیڈا میں بیٹھ کر پاکستان کے لیے کہانیاں لکھ رہی ہیں، جسے حب الوطنی کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔ کتاب کا نام ایک فلمی گیت کے بول سے اخذ کیا گیا۔’’زندگی اور کچھ بھی نہیں، تیری، میری کہانی ہے۔‘‘ اِس کتاب کی کہانیاں بہت سادہ اور دل نشین انداز میں لکھی گئی ہیں۔

البتہ بعض بلیغ جملے مصنّفہ کی کہنہ مشقی کا پتا دیتے ہیں۔ یہ کتاب30 کہانیوں پر مشتمل ہے اور ہر کہانی ایک نیا آہنگ لیے ہوئے ہے۔ عموماً نقّاد، تخلیق کار کی اُن خوبیوں کو بھی اجاگر کرتے ہیں، جن سے وہ خُود بھی نابلد ہوتا ہے، حالاں کہ تخلیق کار کا اصل تعارف اُس کی تحریریں ہی ہوتی ہیں۔

’’بڑے لوگوں‘‘ سے بڑے بڑے مضامین لکھوانے سے آدمی بڑا نہیں ہوتا، اندازِ تحریر ہی کسی کو بڑا بناتا ہے۔ رحمان نشاط، کراچی کے نہایت معتبر افسانہ نگار ہیں اور زیرِ نظر کتاب پر اُن کا تجزیہ نہایت جامع اور معلومات افزا ہے۔ نیز، عبدالشکور پٹھان کا بھی ایک مختصر مضمون کتاب میں شامل ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید