عیدالفطر کے تیسرے روز، ڈاکٹر احمد حسن رانجھا کے نمبر سے، ایک مختصر نوٹ (اُمید ہے، خیریت سے ہوں گی۔ یہ مَیں نے قارئینِ ’’سنڈے میگزین‘‘ کے لیے اپنی عظیم مادرِ علمی، اساتذہ اور بچپن کے دوستوں، ساتھیوں سے متعلق ایک یادداشت رقم کی ہے، جو میرے خیال میں نوجوان طلبہ کے لیے خاصی دل چسپی کا باعث ہو سکتی ہے۔ یہ تحریر کسی بھی اور جگہ بھیجی یاسوشل میڈیا پہ پوسٹ نہیں کی گئی۔
اگر آپ اورآپ کی ٹیم کو پسند آجائے تو سنڈے میگزین میں اشاعت کے لیے دیکھ لیجیے گا) کے ساتھ،ایک مفصّل مضمون موصول ہوا، جو اُن کی سابقہ نگارشات ہی کی طرح علم و ادب کی چاشنی، اظہار کی سلیقگی سے گندھا ہوا تھا۔ ابھی تحریر کا بمشکل سرسری جائزہ ہی لیا تھا کہ سوشل میڈیا پر اُن کی رحلت کی خبر گردش کرنے لگی۔ (بس یہی زندگی ہے ؎ یوں بنی ہیں رگیں جسم کی…ایک نس ٹس سے مس اور بس…سب تماشائے کُن ختم شُد… کہہ دیا اُس نے بس اور بس۔) معلوم ہوا کہ اُنھیں اچانک دل میں تکلیف ہوئی، خُود گاڑی ڈرائیو کر کے اسپتال تک گئے، مگرجاں بر نہ ہو سکے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ڈاکٹر رانجھا ایک قابل معالج ہی نہیں، صاحبِ علم و دانش لکھاری اور تہذیب و شائستگی سے گندھے بہت متحمّل، خلیق، ملن سار، حد درجہ منکسرالمزاج انسان بھی تھے۔ اللہ تعالی مرحوم کی بہترین مہمان نوازی اور اُن کے حق میں اُن کے اہلِ خانہ و رفقاء کی گواہی قبول فرمائے۔
بلاشبہ ڈاکٹر رانجھا کا شمار ’’سنڈے میگزین‘‘ کے چند ایک نہایت اچھے لکھاریوں میں ہوتا تھا۔ تب ہی اُن کے متعدّد افسانے، مختلف موضوعات پر تحریریں اور ایک شاہ کار سفرنامہ ’’دہلی نامہ‘‘ ہمارےجریدے کی زینت بھی بنے۔ آج ملاحظہ فرمائیے، اُن کی’’سنڈے میگزین‘‘ کے لیے بطورِ خاص لکھی گئی آخری تحریر۔
( ایڈیٹر، سنڈے میگزین)
ایک چھوٹی سی کچی پکی سڑک ہے۔ سڑک کے سینے پہ پتھر اور خاکہ ڈال کے اُسے واٹر بائونڈ کیا گیا ہے۔ قصبے کے بڑے مغربی بازار سے نکل کر جب اِس سڑک پر آتے ہیں تو دائیں ہاتھ نہر تک کئی ایکڑ پر محیط سیم زدہ رقبہ ہے۔ اِس سیم زدہ رقبے میں دُور تک جنگلی گھاس، بان کے پودے، کنول کے پھول ایک عجب نظارہ پیش کرتے تھے۔ سردیوں میں دھند کےپردے میں سےجب بُجھا بُجھا میلا سا سورج روشنی پھیلانے کی ناکام کوشش کرتا ہوا طلوع ہوتا، تو قصبے کے لڑکے بستے بغل میں دابے، سفید رنگ کی وردیاں زیبِ تن کیے اِس کچی پکی سڑک پہ نمودار ہونا شروع ہوجاتے۔
کچھ لڑکے پیدل تو کچھ سائیکلوں پہ گپیں ہانکتے، قہقہے لگاتے، قدموں سے دھول اُڑاتے اسکول کی طرف رواں دواں ہوتے۔ قدموں اور ٹائرز سے اُٹھنے والی دھول، دھند سے بغل گیر ہو کر ماحول کےدُھندلکےمیں مزید اضافے کی کوشش کرتی ہوئی ہوا میں اُٹھتی، کارواں کو تکتی اور پھر زمین پہ بیٹھ جاتی۔ آبادی جب پیچھے رہ جاتی تو بائیں ہاتھ کھیت کھلیان اور اُن میں کام کاج میں مصروف کسان نظر آنا شروع ہوجاتے۔ اس راہ گزر پہ خراماں خراماں چلتے جاتے، تو بائیں ہاتھ وہ شہرِ خموشاں آجاتا، جس کا نام ’’قبرستان منیاں شہیداں‘‘ ہے۔
یہ قصبے کا پرانا قبرستان ہے،جس کی خاک میں میرے خاندان کے کئی گنج ہائے گراں مایہ آسودۂ خاک ہیں۔ قبرستان سے متصل ایک درختوں کا جھنڈ ہے، جسے جنگل، چمنستان، خیابان یا گُلستان کہہ لیں۔ زمین کا یہ قطعہ جیسےایک گوشۂ فردوس ہے۔ ہوا جب گُلستان سے گزر کر اس کچی راہ پہ محوِ سفر ہوتی تو پھولوں کی مہک، بُوباس بھی ہم رکاب ہوتی۔ درختوں کا ایک گھنا جھنڈ، جس کے پاس سے گزرتے تو پرندوں کی چہچہاہٹ ایک سرمدی گیت الاپتی محسوس ہوتی۔ اس نغمۂ جاں فزا کو سُنتے بائیں ہاتھ کنکریٹ کی بنی چھوٹی سی سڑک آجاتی اوراِس سڑک پہ مڑ کر ہم بس فردوسِ بریں میں داخل ہوجاتے۔
زمین کا وہ ٹکڑا، باغِ ارم کا حصّہ تھا۔ یہ ایک مادرِعلمی ہی نہیں، ایک ایسا گہوارہ تھا، جس میں ہم نے ہنسنابولنا،کھیل کُوداوربہت سی شرارتوں سےدل بہلانا سیکھا۔ دائیں ہاتھ بورڈنگ ہاؤس کی سُرخ عمارت تھی۔ بورڈنگ ہاؤس کے ساتھ چھوٹی سی مسجد اور مسجد سے آگے دو طرفہ سرسبز گھاس کے میدان، جن کے حاشیوں پہ رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں تھیں۔ گل و لالہ کی فصل جب ان کیاریوں پہ طلوع ہوتی تو گویا زمین پہ بچھی قوسِ قزح معلوم ہوتی۔
کبھی یوں لگتا، یہ گلاب، گیندے، موتیے، چنبیلی، سورج مُکھی کے پھول نہیں، تارے ہیں، جو زمین پہ اُتر آئے ہیں۔ پھولوں کی اِن کیاریوں کے ساتھ ساتھ آبِ جُو بھی محوِ سفر تھی کہ یہ چھوٹی نہریں اِن گھاس کے قطعات،پھولوں کی کیاریوں کو سیراب کرتی تھیں۔ اِن نہروں کے دونوں کناروں پہ شیشم کے گھنے پیڑسایہ کرتے تھے۔ موسموں کا مزاج بدلتا تو گھاس کے اس میدان کے رنگ بھی تبدیل ہو جاتے۔ جاڑے کے موسم میں سبز گھاس سنہری سی ہو جاتی اور گھنے درختوں کی شاخیں بے برگ۔ اس گھاس کی طلائی رنگ چادر پہ جا بجا زرد پتّے بکھر بکھر جاتے اور سرد ہوائیں ان پتّوں کو اِن طلائی میدانوں پہ اُڑائے لیے پِھرتیں۔
گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول، بھابڑہ کی عمارت دو حصّوں میں تقسیم تھی۔ دائیں ہاتھ مڈل سیکشن تھا، جب کہ بائیں ہاتھ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی کلاسز ہوتی تھیں۔ اسکول بارہ ایکڑ رقبے پہ محیط تھا۔ جس طرف نکل جائیں، گھاس کے میدان، درختوں کے جھنڈ ہی جھنڈ نظر آتے۔ اُس زمانے میں اسکول کی کوئی چار دیواری نہیں تھی، بس چہار اطراف اونچے درختوں کی دیوار نے گھیر رکھا تھا۔ پگڈنڈیاں کھیل کے مختلف میدانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی تھیں اوراِن پگڈنڈیوں کےدونوں اطراف درختوں کی قطاریں تھیں۔1996 ء، مارچ کا مہینہ تھا۔ پانچویں کے امتحان کا نتیجہ آچکا تھا۔
بوڑھ والا پرائمری اسکول، جو گھر کے بالکل قریب تھا، اُس سےجدائی کا وقت آگیا تھا۔ بوڑھے برگد کی چھاؤں میں کھیلنے کودنے کے دن تمام ہوئے۔ دو برآمدوں اور دو کمروں پر مشتمل اس لگ بھگ ایک صدی پرانی عمارت سے بچھڑنا بھی کسی صدمے کم نہیں تھا کہ یار بیلیوں کی ٹولی اِن دو’’غلام گردشوں‘‘ اوربوڑھ کے گھنے سائے میں دن بھر اودھم مچاتی پھرتی تھی۔ پڑھائی کم شرارتیں زیادہ ہوتیں، اِسی لیے ماسٹر شیخ محمد اقبال، ماسٹر عبدالرحمٰن، افتخارشاہ صاحب جیسے کچھ نرم اور کچھ گرم مزاج اساتذہ محنت سے پڑھاتےبھی اورجہاں چُوک ہوتی، وہاں گوشمالی بھی فرماتے۔
گھر میں ماسٹر بشیر گجر صاحب پڑھانے آتے۔ اُن کی باقاعدہ آمد نے ذہنی استعداد بڑھا دی تھی۔ نالائق، نکمّے طالب علموں کی صف سےکھسکتےکھسکتے کسی حد تک محنتی طلبہ میں شمار ہونے لگا تھا۔ خیر، مارچ کے مہینے میں دُکھی دل، بھاری قدموں سے بوڑھ والے اسکول سے رخصت ہوئے تو ہائر سکینڈری اسکول کا وسیع سبزہ زار چشمِ براہ تھا۔ مڈل سیکشن کے بالکل سامنے درختوں کے ایک گھنے جھنڈ میں سائیکل اسٹینڈ تھا۔ کچھ اساتذہ تو نرم گفتار، مردِ ابریشم، خندہ پیشانی سے پیش آنے والے تھے۔ کمرۂ جماعت میں داخل ہوتے تو یوں لگتا، جیسے ویرانے میں چُپکے سے بہار آ گئی ہے۔
اُن کی خوش گفتاری سے پڑھنا لکھنا اور سیکھنا ایک بوجھل مشقّت کی بجائے، دل خُوش کن مشغلہ بن جاتا۔ کچھ اساتذہ ایسے بھی تھے کہ لگتا، کلاس روم میں نہیں آئے رِزم گاہ میں اُتر آئے ہیں۔ کمرۂ جماعت نہیں، میدانِ کارزار میں قدم رکھ دیا ہے۔ پیریڈ کی گھنٹی نہیں بجی، طبلِ جنگ بجاہے۔ نقّارے پہ چوٹ پڑ چُکی، بس اب ہر طرف کُشتوں کے پشتے لگ جائیں گے۔ اندر آتے ہی سب کو خشمگیں نگاہوں سے گھورا جاتا۔ پھر الماری نہیں گویا اسلحہ خانہ کُھلتا، جس میں مختلف سائز کے بید اور چھڑیاں وافر تعداد میں موجود ہوتیں۔
کمروں کی ایک لمبی قطار شمالاً جنوباً واقع تھی۔ اس قطار کے سامنے ایک طویل برآمدہ اور شمالی کونے پہ ایک گول کمرا تھا۔ اس گول کمرے سے پہلے ایک ڈیوڑھی پہ بر آمدے کا اختتام ہوتا تھا۔ گول کمرے سےمتصل شرقاً غرباً تین کمرے تھے۔ مشرقی کونے کے آخری کمرے میں ششم اے کلاس بیٹھتی تھی۔ پہلے دن بستہ بغل میں دبائے سفید وردی پہنے کلاس ششم اے میں جابیٹھے۔ یہ اُس اسکول میں ہماری تعلیم و تربیت کی ابتدا تھی۔ پھر اگلے پانچ سال کے سرد و گرم موسم اِس اسکول کی راہ داریوں اور کمروں ہی میں گزرے۔
ماسٹر محمد اکرام ہماری کلاس کے انچارج تھے۔ وہ عربی زبان کے معلم تھے۔ چھٹی جماعت میں ہمارا دو نئی زبانوں سےواسطہ پڑا۔ ایک عربی اور دوسری انگریزی۔ عربی زبان سے شناسائی تو بچپن سے تھی۔ قرآنِ پاک کی ناظرہ تعلیم مولوی میاں منظور احمد کے مدرسے میں چوتھی جماعت ہی میں مکمل کرچُکا تھا۔ عربی پڑھنی تو آتی تھی، لیکن سمجھ نہیں آتی تھی۔ میاں منظور احمد پستہ قد، منحنی سے وجود کے حامل تھے۔ خشخشی داڑھی، عُمر ستّر برس کے لگ بھگ، مگر اِس عُمرمیں بھی نہایت چاق چوبند، مِیلوں، کوسوں کا سفر پیدل طے کرتے۔ نظر اُس عُمر میں بھی چشمے کی محتاج نہ تھی۔
سر کے بال گھنے، پٹّے، زلفیں شانوں تک دراز، درمیان سے مانگ نکالتے اور سفید پگڑی باندھتے۔ دانت بھی موتیوں کی طرح چمک دار تھے۔ سر اور داڑھی کے سفید بالوں میں سیاہی کی آمیزش، بڑھاپے میں سےعُمر کے کافی سارے سال منہا کرتی تھی۔ کے ٹی یا کاٹن کا سفید کُرتا زیبِ تن کرتے اور سفید ہی کاٹن کا تہہ بند باندھتے۔ بقول اُن کے، ہماری طرح کئی جنّات بھی اُن کے سامنے زانوئے تلمّذ تہہ کر چُکے تھے۔ دُور دُور کے دیہات میں اُن کے جادو ٹونے کے علم کی شہرت تھی۔
رزق کی کشادگی، امتحان میں کام یابی، شوہروں کو مطیع و فرماں بردار اور محبوب کوقدم بوس کرنے، غرض دنیا جہان کے ناممکنات کو ممکن بنانے کے سب گُر، تعویذ، دھاگے، عملیات و وظائف کا ایک وسیع خزانہ اُن کی دست رس میں تھا۔ جو لڑکے ساتھ ساتھ اسکول کی تعلیم بھی حاصل کر رہے تھے، وہ سمجھیں، مولوی منظور کے مُنشی بھی تھے۔ لاتعداد تعویذ لکھنا اور جنّات کے ساتھ، عوام الناس کے طرف سے دیے گئے ہڈیوں اور تحفے تحائف کا حساب کتاب رکھنا، اِن مُنشی لڑکوں ہی کا کام تھا۔
بعض اوقات یہی تعویذ نگاری اور حساب کتاب کا لکھنا، سبق یاد نہ کرنے کی لغزش و کوتاہی پہ ملنے والی سزا سے نجات کا ذریعہ بھی بن جاتا۔ خیر، اسکول میں جلد ہی عربی زبان سے شناسائی ہوگئی۔ اکرام صاحب بہت سخت مزاج مدرّس تھے۔ آموختہ ازبرنہ ہونے پہ، دھوپ میں مُرغا بناتے۔ کان کی لوئیں مسلنے میں اتنے طاق اور ماہر تھے کہ جس کےکان کھینچتے اور مسلتے اُسے یہی محسوس ہوتا کہ ملک الموت کانوں کے راستے رُوح قبض کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
چَھٹی جماعت ہی میں ہمارا ایک ہم جماعت ظفر اقبال سدھو (ظفرا) تھا۔ جماعت کا سب سے نالائق اور کام چور لڑکا۔ اُسے نالائقوں کا بادشاہ کہا جائے، تو غلط نہ ہوگا۔ کتابوں کو ہاتھ لگانا گویا اُس کے لیےشجرِ ممنوعہ تھا۔ سبق یاد کرنے سے اُسے سخت چڑ تھی۔ ہوم ورک ہمیشہ نامکمل ہوتا۔ چہرے مُہرے سے بھی ناتواں، مدقوق سا۔ لیکن جب کھانے پہ آتا تو آگے پیچھے کچھ نہ دیکھتا۔ یوں محسوس ہوتا، جیسے میدانِ کارزار میں گھمسان کا رن پڑا ہے اور وہ بہادر جنگجو دسترخوان پہ موجود خوراک کا کسی ازلی دشمن کی طرح صفایا کر کے ہی پیچھے ہٹتا۔
بے تحاشا مار کھانے، بھانت بھانت کی سزائیں بھگتنے میں بھی ’’ظفرا‘‘ طاق تھا۔ گرمیوں کی کڑی دھوپ میں گھنٹوں مُرغا بن کے دھوپ تاپنا اس کےبائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ اکرام صاحب اس کے ہاتھوں پہ مسلسل بید رسید کرتے رہتے۔ اس ’’بید کاری‘‘ سے بید چٹخ جاتا، مگر ظفرے کے پائےاستقلال میں لغزش نہ آتی۔ یہاں تک کہ اکرام صاحب جیسےسخت مدرّس ہار مان جاتے۔ ظفرے کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا جوئے شِیرلانے کے مترادف تھا۔
بہرحال، کچھ سال متواتر فیل ہونےکےبعداُس نےاسکول کو خیرباد کہہ دیا اور اُس دن سے آج تک کھیتوں ہی میں کام کرتا، جانوروں کو چارہ، پانی ڈالتا ہے۔ ہم نے جب ہائر سیکنڈری اسکول میں قدم رکھا تھا تو استاد سید مشتاق احمد شاہ کا انگریزی پڑھانے کا طریقہ بہت معروف تھا۔ انگریزی کی لغت دماغوں میں محفوظ کروانے کے لیے اُنہوں نے اپنے ہی اشعار ایجاد کر رکھے تھے۔ مثال کے طور پر اُن کا ایک شعر تھا ؎ منکی باندر، ڈنکی کھوتا… پیجن کبوتر، پیرٹ توتا۔
اِس طرح کے اشعار سے لغت ازبر کروانا بس، سر مشتاق شاہ ہی کا ہنر تھا۔ وہ بہت سینئر استاد تھے۔ کئی طالب علموں کےباپ، دادا بھی اُن کے زیر سایہ تعلیم کےمدارج طےکر چُکے تھے۔ ایسےعظیم معلم کے رعب و دبدبے کا کیا ہی کہنا کہ جس کا شوقِ تعلیم و تدریس کئی نسلوں پہ محیط تھا۔ ابتدائی کچھ دن شاہ صاحب سے انگریزی سیکھی۔ پھر خواجہ عزیز انگریزی کے استاد مقرر ہوئے اور پھر آٹھویں جماعت تک وہی انگریزی پڑھاتے رہے۔ وہ اساتذہ کے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے سارے بھائی (خُرد و کلاں) درس و تدریس ہی کے شعبے سے وابستہ تھے۔ اُن کے بڑے بھائی خواجہ اقبال ہمارے پرائمری اسکول کے ہیڈ معلم رہ چکے تھے اور اُن کے سب سے بڑے بھائی خواجہ حیات صاحب ہمیں مطالعۂ پاکستان پڑھاتے تھے۔
وہ درس گاہ اِس زمین پہ گویا اِک کہکشاں تھی۔ اُن اساتذہ کو یاد کرتا ہوں، تو یادوں کے آسمان پہ ستارے سے جھلملانے لگتے ہیں۔ میرے لیے وہ سب انتہائی معزز و مکرم، حد درجہ محترم ہیں۔ اگر زندگی کا کچھ حاصل وصول ہے، تو بس اُن ہی کی بدولت۔ زندگی میں جو بھی تھوڑی بہت کام یابیاں و کام رانیاں حاصل کیں۔ بعدازاں، پاکستان کی معتبر ترین درس گاہوں میں میرٹ پہ داخلہ ملا، تو اِس کارِ محال میں میری محنت کم اور ان جگمگاتے ستاروں کی روشنی کا عمل دخل بہت زیادہ ہے۔
اگر ان سب ہستیوں کا تفصیلی ذکر کروں تو داستان طولانی ہوجائے گی۔ سو، جیسے جیسے نام ذہن کے پردے پہ اُبھرتے جاتے ہیں، انتہائی اختصار سے ذکرکرنے، خراجِ تحسین و عقیدت پیش کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ ایک معلم، نثاراحمد لدھیانوی صاحب تھے۔ انتہائی بھاری چشمہ لگاتے تھے۔ اِتنا بھاری کہ وہ چشمہ ان کی پوری شخصیت پہ حاوی تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ خُود تو لدھیانہ سے اُٹھ کر بھابڑہ آگئے، مگر لدھیانہ اُن سے کبھی جدا نہ ہوسکا۔
آدھا پیریڈ انتہائی محنت سے اُردو پڑھاتے اور آدھا وقت لدھیانہ کی یادیں تازہ کرنے میں بیت جاتا۔اُن کا ایک صاحب زادہ، اظہر میرا ہم جماعت تھا۔ نثار لدھیانوی صاحب بھی دو تین نسلوں میں فروغِ علم کا شہرہ رکھتے تھے۔ حرف بہ حرف رٹّے پر بہت زور دیتے تھے اور اگر کوئی طالبِ علم کوئی ایک آدھ لفظ بھی کتاب کی سطروں کے علاوہ سنانے، سمجھانے کی کوشش کرتا، تو ’’مولابخش‘‘ کےاستعمال سےایک لمحےمیں ساری ’’نوزائیدہ ووکیبلری‘‘ ادھیڑ کے رکھ دیتے۔ ان کے رٹّے کےاصرار سےچیزیں یادداشت میں محفوظ کرنے کی ایسی عادت ہوئی کہ آج بھی بعض اہم باتیں یاد کرنے اوررکھنے میں بہت معاون ثابت ہوتی ہے۔
بعد میں اُردو کا مضمون باطن رانجھا صاحب سے پڑھنے کا موقع ملا۔ باطن صاحب میری برادری سےتھے۔ پولیو کی وجہ سے ایک ٹانگ میں تھوڑا سا خم تھا، جس سے چلنے پھرنے میں کچھ دشواری ہوتی۔ وہ ہمارے محلے کی مسجد کے مہتمم اور مؤذن بھی تھے۔ اسکول میں داخلے سے پہلے ہی اُن سے شناسائی تھی۔ وہ چوں کہ محلے دار تھے، تو اُن کے زمانے میں اُردو کہ مضمون پہ خود بخود توجّہ مرکوز رہی کہ وہ ہردوسرے تیسرے دن اباجان کو ہماری کارکردگی سے ضرور آگاہ کرتے تھے۔ اُنہوں نے بھی بہت محنت سے پڑھایا۔
ساتویں جماعت میں اُنہوں نے تمام سیکشنز میں سے لائق ترین لڑکے ہفتم اے میں اکٹھے کردئیے کہ اِن لڑکوں پہ زیادہ توجّہ دی جائے گی اور اِنہیں آٹھویں جماعت میں وظیفے کے امتحان یا ورنیکولر فائنل کے امتحان میں بٹھایا جائے گا۔ اسی کہکشاں کے ستاروں میں سے ایک، احمد یار سیالوی صاحب تھے۔ سیالوی صاحب بھی عربی کے معلم تھا۔ اُن جیسی میٹھی، ملائم اور نرم طبیعت کا بندہ مَیں نے آج تک نہیں دیکھا۔
سُرخ و سپید رنگت، کالی سیاہ، بَھری بَھری داڑھی، موتیوں جیسے سفید دانت اور متین،ذہین چہرے پہ ہمہ وقت سجی مسکراہٹ، سفید چوگوشہ کپڑے کی ٹوپی پہنتے یا کبھی کبھار سفید پگڑی باندھتے۔ اسکول کی مسجد میں ظہر کی نماز کی امامت سیالوی صاحب ہی کرواتے تھے۔ مسجد کے بغل میں بورڈنگ ہاؤس کا میس تھا،جب کہ اسکول کی بہت بڑی لائبریری بھی بورڈنگ ہاؤس کے میس میں شفٹ کر دی گئی تھی۔ سیالوی صاحب لائبریری کے انچارج تھے۔
اُن سے براہِ راست رسمی تعلیم توحاصل نہیں کی، مگر جب وہ لائبریری کے انچارج بنے تو اُس وسیع کتب خانے کے دروازے ہم پہ وا ہوگئے۔ بےشمار کتابیں اُس زمانے میں اسکول کی لائبریری سے لے کر پڑھیں۔ سیالوی صاحب سے راہ و رسم اِس طرح پیدا ہوئی کہ اُس زمانے میں طارق شکیل صاحب (اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے) نئے نئے مدرّس بن کر اسکول میں تعینات ہوئے اور ہمیں ریاضی کامضمون پڑھانے لگے۔
طارق صاحب کتابوں کے مطالعے کے بےحد شوقین تھے اور جو کتابیں ان کے زیرِ مطالعہ ہوتیں، اُن کا ذکر کبھی کبھار کلاس میں بھی کرتے۔ یہ جو ہمیں کتابیں پڑھنے کا چسکا بلکہ نشہ ہے، یہ لت دراصل پرائمری اسکول ہی سے لگ گئی تھی، تو مطالعے کا یہ شوق، جنون، طارق شکیل صاحب سے دوستی کاسبب بن گیا۔طارق صاحب، سیالوی صاحب کے یارِغار تھے، تو ان کے توسّط سے سیالوی صاحب سے بھی یاداللّٰہ ہوگئی۔ اور یوں کُتب کا وہ عظیم خزانہ ہمارے ہاتھ لگ گیا۔
سیالوی صاحب اور طارق صاحب کی راہ نمائی سے مطالعے کے ذوق وشوق میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ تعلیمی و ذہنی استعداد کے اضافے میں اِس مطالعے کی عادت نے بھرپورحصہ ڈالا۔ مَیں جو ایک اوسط درجے کا طالبِ علم تھا۔ کسی امتحان میں کبھی کوئی پوزیشن نہیں آئی تھی، تو گھر میں ماسٹر بشیر صاحب پڑھانے آنے لگے تھے اور اُن کی خصوصی توجّہ اور کثرتِ مطالعہ ہی نےمجھے اس قابل بنایا تھا کہ آہستہ آہستہ میرا شمار کلاس کے محنتی، ذہین طلبہ میں ہونے لگا تھا۔ پھر باطن صاحب نے جو سارے درخشاں ستارےایک چھت کےنیچےاکٹھے کردیئے، تو ان لائق فائق دوستوں کی رفاقت نے بھی مہمیز کا کام دیا۔
ویسے تو دوستوں کی ایک لمبی فہرست ہے، مگرجو سرِفہرست تھے، یہاں مختصراً اُن ہی کا ذکر کروں گا۔ ثاقب شہزاد جماعت کے لائق ترین لڑکوں میں سے ایک تھا۔ آج کل وہ اُسی اسکول میں بطور مدرّس فرائض سر انجام دے رہا ہے اور اس گلستانِ علم و ادب کے نئے پھول، کلیوں کی نشوونما میں اپنا زبردست کردار ادا کر رہا ہے۔ شمعِ علم کو نسل در نسل روشن رکھنے کا کارِعظیم اُس نے اپنے ہاتھ لے رکھا ہے اور میرے خیال میں روئے زمین پہ علم کی روشنی پھیلانے جیسے کام سےعمل سے معزز کوئی کام نہیں ہو سکتا۔
ثاقب کا مسکراتا چہرہ اور اُس چہرے پہ سجی روشن ذہین آنکھیں اُسے دوستوں کی محفل میں ہر دل عزیزبناتی تھیں۔ اُس کی لکھائی دیکھ کے رشک آتا تھا۔ اُس کی کاپیوں میں ہوم ورک اِس طرح کیا گیا ہوتا، جیسے کسی خطّاط یا کاتب نے اپنے ہنر کے اعلیٰ نمونے تیار کر رکھے ہوں۔ ثاقب ہی کا ہم پلّہ طارق زرگر تھا۔ طارق کی خوش نویسی بھی اپنی مثال آپ تھی۔ پھر نصراقبال، جو اب ڈاکٹر نصر اقبال ہے اور نارووال یونی ورسٹی میں شعبۂ انگریزی کا سربراہ ہے۔ اچانک ماسٹر اسلام صاحب یادآگئے،جو ہمیں زراعت پڑھاتے تھے۔
ماسٹر یوسف اظہر صاحب جن کے مزاج کی سختی اسکول بھر میں مشہور تھی، انگریزی پڑھاتےرہے۔طارق شکیل صاحب کے بڑے بھائی ماسٹر خالد حسین، کچھ عرصہ مطالعۂ پاکستان پڑھاتے رہے۔ ماسٹر اکرم رانجھا صاحب عربی کے معلم اور ہمارے عربی کے استاد، مولوی اکرام صاحب کے دوست تھے۔ کبھی کبھار اکرام صاحب کی غیر حاضری میں ہمیں بھی عربی پڑھایا کرتے تھے۔ اکرم رانجھا مولوی منظور کے بھانجے تھے۔
اعجاز صاحب کسی دوسرے شہر سے تبادلے کے بعد ہمارے اسکول وارد ہوئے تھے۔ کھچڑی داڑھی والے چھوٹے سے قد کے، سانولے سلونے، مگر بہت ہی ہنستی مُسکراتی شخصیت کےمالک۔ سائنس کے مضمون پر اُنھیں کیا ہی مہارت، ملکہ حاصل تھا۔ ہمیں آٹھویں جماعت میں سائنس کا مضمون اس دل جمعی سے پڑھایا کہ بعد کی زندگی میں سائنس ہمیشہ پسندیدہ مضامین میں شامل رہا۔
آج بھی سردیوں کے وہ دن یاد آتے ہیں، جب بورڈنگ ہاؤس میں ورنیکولر فائنل کے امتحان کی تیاری کا وقت تھا اور ہمارے اساتذہ نے ہمارے لیے دن رات ایک کیا ہوا تھا۔ یہ ان سب اساتذہ کی شبانہ روز محنت ہی کا نتیجہ تھا کہ 1998 ء میں جب وظیفے کا امتحان ہوا، تو ہمارے اسکول کے دس میں سے آٹھ لڑکوں کے بہت ہی شان دار نمبرز آئے۔ تحصیل بھر میں ہماری درس گاہ ہی تھی، جس کے آٹھ لڑکوں کا وظیفہ مقرر ہوا۔
مَیں زندگی میں پہلی مرتبہ کلاس میں تیسرے نمبر پہ آیا اور ورنیکولر فائنل کے امتحان میں سات سو تینتیس نمبر کےحصول کے ساتھ وظیفے کا حق دار ٹھہرا۔ چھٹی سےآٹھویں تک کے اُس زمانے کو یاد کرتا ہوں، تو وہ ایسا دَورتھا، جس نے زندگی میں آگے بڑھنے، کچھ کر دکھانے، ایک کے بعد ایک کام یابی حاصل کرنے کا گُر سکھایا اور وہ گُر بس ایک ہی تھا، ’’اَن تھک محنت۔‘‘ اَن تھک محنت ہی وہ شاہ کلید تھی، جس کے سبب آنے والی زندگی میں یکے بعد دیگرے کام یابی کے سب دروازے، دریچے کُھلتے چلے گئے۔ اور…گورنمٹ ہائر سیکنڈری اسکول، بھابڑہ، ضلع سرگودھا ہی وہ درس گاہ تھی، جس کی بدولت یہ ’’شاہ کلید‘‘ ہمارے ہاتھ لگی۔