• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عید الاضحیٰ مسلمانوں کا ایک نہایت اہم مذہبی تہوار ہے، جس میں قربانی کی سنّت ادا کی جاتی ہے، جس سے معاشرے میں ایثار، ہم دردی اور اجتماعی فلاح و بہبود کے جذبات کو فروغ ملتا ہے۔ اِس موقعے پر گھروں میں گوشت کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے اور اکثر افراد چند دنوں تک زیادہ مقدار میں گوشت کا استعمال کرتے ہیں۔

تاہم، یہ امر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ اگر گوشت کا استعمال غیر متوازن یا حد سے زیادہ ہو، تو یہ صحت کے لیے کئی سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ گوشت بنیادی طور پر پروٹین، آئرن اور دیگر غذائی اجزاء کا اہم ذریعہ ہے، لیکن اس کا غیر ضروری استعمال نظامِ ہضم، دل، گُردوں اور میٹابولزم پر منفی اثرات مرتّب کر سکتا ہے۔

چوں کہ عید کے دنوں میں خوراک کا معمول تبدیل ہو جاتا ہے، اِس لیے غذائی احتیاط، متوازن خوراک اور محفوظ ذخیرہ کرنے کے اصول سمجھنے انتہائی ضروری ہیں تاکہ خوشیوں کے اِس موقعے کو صحت بخش انداز میں منایا جا سکے۔ عید الاضحیٰ کے موقعے پر گوشت کا کثرت سے استعمال جہاں ہماری روایات کا حصّہ ہے، وہیں طبّی لحاظ سے اس کے کچھ سنگین نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔

نظامِ ہضم کے مسائل

گوشت میں فائبر(Fiber) کی مقدار صفر ہوتی ہے، جب کہ پروٹین اور چکنائی بہت زیادہ ہوتی ہے، لہٰذا اِنسانی نظامِ ہضم کو گوشت کے ریشے توڑنے کے لیے بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ بدہضمی اور گیس: جب معدہ اپنی گنجائش سے زیادہ گوشت وصول کرتا ہے، تو ہاضمے کے خامرے (Enzymes) کم پڑ جاتے ہیں، جس سے پیٹ پھول جاتا ہے۔

بدہضمی اور گیس محسوس ہوتی ہے۔ قبض: فائبر کی کمی کی وجہ سے آنتوں کی حرکت سُست پڑ جاتی ہے، جو شدید قبض کا باعث بنتی ہے۔ تیزابیت: گوشت ہضم ہونے کے دَوران معدے میں تیزاب(Acid) زیادہ بنتا ہے، جس سے سینے میں جلن محسوس ہوتی ہے۔

دل کی بیماریوں اور کولیسٹرول کا خطرہ

سُرخ گوشت میں سیچوریٹڈ فیٹس(Saturated Fats) کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ کولیسٹرول میں اضافہ: یہ چکنائی خون میں ایل ڈی ایل(بُرا کولیسٹرول) کی سطح بڑھاتی ہے، جو شریانوں کی دیواروں میں جمنا شروع ہو جاتا ہے۔ بلڈ پریشر: نمک اور مسالوں کے ساتھ پکا ہوا گوشت خون کی نالیوں پر دباؤ ڈالتا ہے، جس سے بلڈ پریشر اچانک بڑھ سکتا ہے اور دل کے دورے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

وزن میں تیزی سے اضافہ

گوشت ایک حراروں سے بھرپور غذا ہے، خصوصاً جب اسے تیل، گھی اور مسالوں کے ساتھ کڑاہی یا قورمے کی شکل میں پکایا جائے۔ اضافی کیلوریز: ایک اوسط سیخ کباب یا گوشت کی بوٹی میں بہت زیادہ توانائی ہوتی ہے۔ عید کے دنوں میں جسمانی سرگرمی کم ہونے کی وجہ سے یہ اضافی کیلوریز چربی بن کر پیٹ اور جسم کے دیگر حصوں پر جمع ہو جاتی ہے۔ میٹابولزم پر بوجھ: مسلسل بھاری غذا کھانے سے جسم کا میٹابولک نظام سُست ہو جاتا ہے۔

گُردوں پر اضافی دباؤ

گُردے خون سے زہریلے مادّوں اور اضافی پروٹین کے میٹابولائٹس فلٹر کرنے کا کام کرتے ہیں۔ پروٹین کا بوجھ:جب ہم بہت زیادہ پروٹین لیتے ہیں، تو گُردوں کو نائٹروجن والے فضلے(جیسے یوریا) کو نکالنے کے لیے دُگنی محنت کرنی پڑتی ہے۔ پتھری کا خطرہ: گوشت کا زیادہ استعمال پیشاب میں کیلشیم اور آکسیلیٹ کی مقدار بڑھا سکتا ہے، جو گُردوں میں پتھری بننے کا سبب بن سکتے ہیں۔

یورک ایسڈ اور جوڑوں کا درد

سُرخ گوشت اور اعضاء کا گوشت(کلیجی، مغز، گردے) پیورین (Purines) نامی مادّے سے بھرپور ہوتے ہیں۔ گاؤٹ (Gout): جسم جب پیورین کو توڑتا ہے، تو یورک ایسڈ بنتا ہے۔ اگر خون میں اس کی مقدار بڑھ جائے، تو یہ کرسٹلز کی شکل میں جوڑوں(خصوصاً پاؤں کے انگوٹھے اور گُھٹنوں) میں جمع ہو جاتا ہے، جو شدید درد اور سوجن کا باعث بنتا ہے۔ دائمی سوزش: جن افراد کو پہلے سے جوڑوں کا درد ہو، اُن کے لیے گوشت کا زیادہ استعمال ان کی تکلیف کئی گُنا بڑھا سکتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

اعتدال سے کھائیں: عید الاضحیٰ کے موقعے پر گوشت کی فراوانی کے باعث اکثر افراد ضرورت سے زیادہ کھا لیتے ہیں، جو صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی جسمانی ضرورت کے مطابق خوراک لیں، نہ کہ صرف دست یابی یا ذائقے کی بنیاد پر۔ ایک بالغ فرد کے لیے ایک وقت میں تقریباً 100 سے150 گرام گوشت کافی ہوتا ہے۔

اِس سے زیادہ مقدار لینے سے معدے پر بوجھ پڑتا ہے اور ہاضمے کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ دن میں بار بار گوشت کھانے کی بجائے اسے ایک وقت تک محدود رکھنا بہتر ہے۔ باقی اوقات میں ہلکی غذا جیسے دال، سبزی یا دہی کا استعمال کیا جائے تاکہ جسم متوازن رہے اور نظامِ ہضم پر دباؤ نہ بڑھے۔ کھانے کے بعد لیموں پانی یا سبز چائے (قہوہ) پیئں تاکہ ہاضمے میں مدد ملے۔ سبزیوں کا استعمال بڑھائیں: گوشت کے ساتھ سبزیوں کا استعمال نہایت ضروری ہے، کیوں کہ سبزیاں فائبر(ریشہ) فراہم کرتی ہیں، جو ہاضمہ بہتر بناتا ہے۔

فائبر آنتوں کی حرکت تیز کرتا اور قبض سے بچاتا ہے، جو کہ عید کے دنوں کا ایک عام مسئلہ ہے۔ سلاد، جیسے کھیرے، ٹماٹر، گاجر اور ہری پتیاں نہ صرف ہاضمہ بہتر کرتی ہیں، بلکہ جسم کو ضروری وٹامنز اور منرلز بھی فراہم کرتی ہیں۔ دالیں بھی ایک بہترین متبادل ہیں، جو پروٹین کے ساتھ فائبر فراہم کرتی ہیں، اِس طرح گوشت کا بوجھ متوازن کرتی ہیں۔ اگر خوراک میں سبزیاں شامل نہ کی جائیں، تو صرف گوشت پر مشتمل غذا جسم میں تیزابیت، بدہضمی اور تھکن کا باعث بن سکتی ہے۔

پانی زیادہ استعمال کریں: زیادہ گوشت کھانے کے دوران جسم کو زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے، کیوں کہ پروٹین کے میٹابولزم کے لیے پانی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پانی نہ صرف ہاضمہ بہتر بناتا ہے، بلکہ جسم سے زہریلے مادّے خارج کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ عید کے دنوں میں اکثر افراد کولڈ ڈرنکس یا میٹھے مشروبات زیادہ استعمال کرتے ہیں، جو کہ صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اِس کی بجائے سادہ پانی، لیموں پانی یا نمکول جیسے مشروبات زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

روزانہ کم از کم 8 سے10 گلاس پانی پینا چاہیے، خاص طور پر اگر خوراک میں گوشت کی مقدار زیادہ ہو۔ مناسب پانی نہ پینے سے قبض، سر درد اور تھکن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ چکنائی کا استعمال کم کریں: گوشت میں قدرتی طور پر چکنائی موجود ہوتی ہے، خاص طور پر سُرخ گوشت میں۔ اگر اسے مزید تیل یا گھی میں پکایا جائے، تو یہ صحت کے لیے مزید نقصان دہ ہو جاتا ہے۔ اِس لیے ضروری ہے کہ گوشت پکانے سے پہلے اس کی اضافی چربی الگ کر لی جائے۔

کھانا بناتے وقت کم تیل استعمال کریں اور کوشش کریں کہ گوشت اُبال کر، گرل کر کے یا ہلکے مسالوں کے ساتھ پکایا جائے۔ زیادہ تلی ہوئی غذائیں کولیسٹرول بڑھاتی ہیں اور دل کی بیماریوں کا خطرہ پیدا کرتی ہیں۔ چکنائی کم کرنے سے نہ صرف کھانا ہلکا اور ہضم کرنے میں آسان ہوتا ہے، بلکہ وزن بڑھنے اور دیگر میٹابولک مسائل سے بھی بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ ورزش، گھریلو کام کاج اور چہل قدمی: عید کے دنوں میں زیادہ کھانے کے بعد جسمانی سرگرمی نہ ہونے کی وجہ سے ہاضمہ متاثر ہوتا ہے۔

اِس لیے کھانے کے بعد ہلکی چہل قدمی (10 سے 20 منٹ) بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ واک کرنے سے معدے کی حرکت بہتر ہوجاتی ہے، کھانا جلد ہضم ہوتا ہے اور جسم میں توانائی کا توازن برقرار رہتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ چہل قدمی بلڈ شوگر لیول کو بھی کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتی ہے، خاص طور پر ذیابطیس کے مریضوں کے لیے یہ بہت اہم ہے۔

روزمرّہ کی سادہ سرگرمیاں، جیسے سیڑھیاں چڑھنا، گھر کے کام کاج یا ہلکی پُھلکی واک بھی کافی ہوتی ہے۔ کلیجی اور مغز کا محدود استعمال: کلیجی اور مغز غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں، لیکن ان میں کولیسٹرول اور یورک ایسڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔

ان کا زیادہ استعمال دل کے مریضوں اور گاؤٹ کے شکار افراد کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ غذائیں کبھی کبھار اور کم مقدار میں استعمال کرنی چاہئیں۔ خاص طور پر وہ افراد، جنہیں ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول یا جوڑوں کا درد ہو، ان سے پرہیز کریں یا پھر محدود استعمال کریں۔ اگر کلیجی یا مغز کھایا جائے، تو اسے کم تیل میں پکایا جائے اور ساتھ میں سلاد یا سبزیاں ضرور شامل کی جائیں تاکہ اس کے منفی اثرات کم ہو سکیں۔

حسّاس افراد کے لیے زیادہ خطرات

ہر فرد کا جسم گوشت کو یک ساں طریقے سے برداشت نہیں کرتا۔ کچھ افراد کے لیے عید کے دنوں میں زیادہ گوشت کا استعمال زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ان میں خاص طور پر دل، گُردوں کے مریض، ذیابطیس کے شکار افراد اور بزرگ شامل ہیں۔ ذیابطیس کے مریضوں میں غیر متوازن غذا خون میں شوگر لیول متاثر کر سکتی ہے، جب کہ گُردوں کے مریضوں میں اضافی پروٹین گُردوں پر مزید دباؤ ڈالتی ہے۔

بزرگ افراد کا نظامِ ہضم نسبتاً کم زور ہوتا ہے، اِس لیے اُن میں بدہضمی اور کم زوری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ نیز، بچّوں کو بھی زیادہ چکنائی والا گوشت دینے سے گریز کرنا چاہیے، کیوں کہ اُن کا ہاضمہ مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتا۔

گوشت کی محفوظ تیاری اور پکانے کے اصول

گوشت کی تیاری کے دَوران صفائی اور درجۂ حرارت کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔ گوشت اچھی طرح دھو کر، صاف جگہ پر رکھنا چاہیے اور کچن میں صفائی کا مکمل خیال رکھا جائے۔

اُسے پکاتے وقت مکمل طور پر گلایا جائے تاکہ کسی بھی بیکٹیریا کے اثرات ختم ہو جائیں۔ کچا یا نیم پکا گوشت کھانے سے فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اِسی طرح کچن میں استعمال ہونے والے برتن اور چُھریاں بھی صاف ہونی چاہئیں تاکہ جراثیم منتقل نہ ہوں۔

گوشت فریز، محفوظ کرنے کا طریقہ

عید کے دنوں میں گوشت کی بڑی مقدار دست یاب ہوتی ہے، جسے محفوظ رکھنا ایک اہم مسئلہ ہوتا ہے۔ اگر گوشت صحیح طریقے سے محفوظ نہ کیا جائے، تو وہ جلد خراب ہو سکتا ہے اور صحت کے لیے نقصان دہ بن سکتا ہے۔ تازہ گوشت فریج میں2 سے4 ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھا جائے، تو یہ2 سے3 دن تک قابلِ استعمال رہتا ہے۔ تاہم، اِس دوران اسے بار بار باہر نکالنے سے گریز کرنا چاہیے۔

فریز کیا ہوا گوشت18ڈگری سینٹی گریڈ پر زیادہ عرصے تک محفوظ رہ سکتا ہے، لیکن ضروری ہے کہ اسے مناسب طریقے سے پیک کیا جائے تاکہ اس میں ہوا داخل نہ ہو اور اس کی کوالٹی برقرار رہے۔ گوشت فریز کرنے کے لیے چند بنیادی اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے تاکہ اس کی غذائی کیفیت اور ذائقہ برقرار رہے۔ سب سے پہلے تو اسے صاف کر کے اچھی طرح خشک کیا جائے تاکہ اضافی نمی ختم ہو جائے۔

اس کے بعد گوشت چھوٹے حصّوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ ضرورت کے مطابق نکالنا آسان ہو اور بار بار پورے پیک کو ڈی فراسٹ نہ کرنا پڑے۔ ہر حصّے کو ایئر ٹائٹ پلاسٹک بیگز یا کنٹینرز میں محفوظ کیا جائے تاکہ ہوا اور نمی کا اثر نہ ہو۔ ہر پیک پر تاریخ درج کرنی بھی ضروری ہے تاکہ معلوم رہے کہ گوشت کب محفوظ کیا گیا تھا۔ فریز کرنے کے بعد گوشت کو دوبارہ بار بار پگھلا کر فریز نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ اس سے اس کی غذائی حیثیت متاثر ہوتی ہے اور بیکٹیریا بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

ڈی فراسٹنگ ہمیشہ فریج میں آہستہ آہستہ کرنی چاہیے، نہ کہ کمرے کے درجۂ حرارت پر، کیوں کہ اس سے جراثیم کی افزائش رُکتی ہے۔ تازہ گوشت کو بہتر معیار کے لیے2 سے3 دن کے اندر استعمال کرنا چاہیے۔ قیمہ نسبتاً جلد خراب ہوتا ہے، اِس لیے اسے1 سے2 دن میں استعمال کرنا زیادہ محفوظ ہے۔

فریز کیا ہوا گوشت اگر صحیح طریقے سے محفوظ کیا جائے، تو وہ کئی ماہ تک قابلِ استعمال رہ سکتا ہے، تاہم بہتر ذائقے اور غذائیت کے لیے اسے جلد استعمال کرنا بہتر ہے۔ پکا ہوا گوشت بھی فریزر میں کافی عرصے تک محفوظ رہ سکتا ہے۔ اگر مناسب طریقے سے محفوظ کیا جائے۔

عید الاضحیٰ خوشی، ایثار اور شُکرگزاری کا پیغام دیتی ہے۔ ہمیں اِس موقعے پر اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔ گوشت کا اعتدال کے ساتھ استعمال، متوازن غذا، مناسب پانی اور ہلکی جسمانی سرگرمی ایک صحت مند طرزِ زندگی کی بنیاد ہیں۔

اِسی طرح صفائی، حفظانِ صحت اور گوشت کو محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنا بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر ہم سادہ احتیاطی تدابیر اپنالیں، تو نہ صرف اپنی صحت بہتر بنا سکتے ہیں، بلکہ عید کی خوشیاں بھی محفوظ، خوش گوار اور بھرپور انداز میں منا سکتے ہیں۔

(مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، محکمۂ صحت، سندھ ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید