انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوشن نے اپنی حالیہ رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ موجودہ روش پر چلنے کا مطلب مزید تصادم کا خطرہ ہے کہ دنیا بھر کی نہایت تیزی سے بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کی شرح کے باعث پانی کی سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ 2028 میں ہم مزید دو ارب افراد کو پانی فراہم کر رہے ہونگے جن میں سے 95 فیصد شہری آبادی اور علاقوں کی رہائش پذیر افراد ہونگے ایک اندازے کے مطابق واٹر سیکٹر میں ہر سال 80 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوتی ہے مگر پانی کی ضرورت "اہل دنیا" کو اس سے دگنی سے بھی زیادہ ہے سائنس دانوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی کا طوفان اور پھیلتی آلودگی کے باعث پانی کیلئے جنگوں کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں ۔جرمنی کے پروفیسر ولیم ہاگن نے کہا ہے کہ ہم تیل پر جنگیں لڑ چکے یہ ہماری زندگی ہی میں لڑی گئیں اس طرح پانی پر جنگیں بھی ممکن ہیں یہ ہماری زندگی ہی میں ہوں یا آئندہ نسل اس کا خمیازہ بھگتے یہ بات اس رپورٹ میں کہی گئی ہے جو ورلڈ واٹر ویک(www) کانفرنس کے ختم ہونے پر کتابی صورت میں شائع کی گئی ہے ۔کتاب کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متمول ممالک میں لاعلمی اور اطمینان بخش صورتحال نظر آرہی ہے امریکہ کے پروفیسر نیچرل ریسورسز مچل نے کہا ہے کہ "مجھے نہیں معلوم کہ نہ آسودہ علاقوں کو خشک سالی، وبائی امراض اور پانی کے حقوق پر متوقع جنگوں سے کون روکے گا "اور اس حقیقت سے کون جھنجھوڑے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیائی ممالک میں شامل ہیں جہاں ان جنگوں کا خطرہ ہے میں نے اس سے پہلے بھی کئی بار اپنے کالموں میں اس بات کی نشاندہی کر رکھی ہے کہ پاکستان 2020 تک پانی کی قلت والا ملک بن جائے گا پاکستان میں فی کس پانی کی فراہمی جو 1951 میں 5650 مکعب میٹر تھی 1999 میں کم ہو کر 1450 مکعب میٹر رہ گئی جبکہ آئندہ چند برسوں میں یہ مزید کم ہو کر 1030 مکعب میٹر رہ جائے گی اور ملک میں موجودہ زیر زمین پانی کی سطح قریباً 50 فٹ مزید نیچے چلی جائیگی۔ایک حالیہ ڈچ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 70 فیصد پانی آبپاشی، 23 فیصد صنعتی ضروریات اور 8 فیصد گھریلو ضروریات کیلئے استعمال ہوتا ہے آبپاشی کا رقبہ جو پہلے کی نسبت 26 فیصد بڑھ گیا ہے اس سے پانی کی ضروریات میں بھی 26 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ تازہ پانی کی مانگ میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کیلئے زرعی زمین اور زرعی پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے اقوام متحدہ کے منشور کی ایک شق کے مطابق دنیا کے ہر شہری کو حق حاصل ہے کہ حکومت ہر روز اسے کم از کم پانچ لیٹر پانی پینے کیلئے پانچ لیٹر کھانا پکانے کیلئے 45 لیٹر نہانےکیلئے اور 25 لیٹر دھونے اور صفائی کیلئے فراہم کرے اس کے علاوہ دیگر ضروریات کی تکمیل کیلئے 40 لیٹر پانی حاصل کرنا ہر شہری کا حق ہے گویا 120 لیٹر پانی فی کس ہر روز ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور ضرورت ہے۔ اُدھرپاکستان کا یہ حال ہے کہ وہاں پانی کے حصول کے ذرائع کم ہوتے ہوئے اب اپنے آخری کناروں کو چھو رہے ہیں ان "ذرائع" سےپاکستان زیادہ سے زیادہ اوسطاًسالانہ 144 ملین ایکٹر فٹ پانی حاصل کر سکتا ہے جبکہ زراعت کے علاوہ بھی پاکستان میں دوسرے شعبوں میں پانی کی مانگ بڑھ رہی ہے حکومت پاکستان وزارت پانی اور بجلی اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اشتراک سے پاکستان میں پانی کے شعبے کی حکمت عملی پر کرائی گئی تازہ ترین سٹڈی میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو پانی کے سنگین بحران کا سامنا ہے جسکے خاتمے کیلئے اسے سالانہ 7500 سو ملین ڈالر کی پانی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی اسٹڈی کے مطابق شہریوں کو مختلف ضروریات کیلئے جس میں پینے کا پانی بھی شامل ہے 30.16ملین ایکٹر فٹ پانی فراہم کیا جاتا ہے جو ملک میں استعمال ہونے والے کل پانی کا تین فیصد ہے۔ ـ2020 کے وسط میں شائع ہونے والی عالمی آبادی سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ میں اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد اپنی "پہنچ" سے بھی زیادہ وسائل استعمال کر رہے ہیں اور اسے روکنے میں تاخیر کی گئی تو آگے چل کر بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی ـ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2050 تک 4.5 ارب افراد جو دنیا کی آبادی کا 42 فیصد حصہ ہونگے وہ ایسے ملکوں کے باشندے ہونگے جنکی فی کس 50 لیٹر پانی کی بنیادی ضروریات پوری نہ ہو سکیں گی۔آج دنیا کی آبادی گزشتہ 40 برسوں میں دوگنی ہو کر 8 ارب 30 کروڑ تک پہنچ گئی ہے جو آئندہ 50 برسوں میں 15 ارب 30 کروڑ ہو جائے گی آبادی کا یہ اضافہ ترقی پذیر ملکوں میں ہوگا جو گزشتہ 50 دہائیوں سے ترقی پذیری ہی کی صف میں چلے آرہے ہیں ۔ان ملکوں میں وسائل پر پہلے ہی ضرورت سے زیادہ دباؤ ہے رپورٹ کے مطابق دنیا میں پانی کے ذخائر کو تباہ کن طریقے سے آلودہ کیا جا رہا ہے دستیاب سالانہ پانی فی الحال سالانہ 45 فیصد استعمال ہو رہا ہے اور اس میں سے تقریباً دو تہائی زرعی مقاصد کیلئے استعمال ہو رہا ہے 2029 تک یہ کھپت 70 فیصد ہو جائیگی اور اگر ترقی پزیر ممالک میں کھپت ترقی یافتہ ملکوں کی سطح پر پہنچ گئی تو کھپت 90 فیصد ہو جائیگی بہت سے ملکوں میں پانی کا استعمال پہلے ہی غلط اور برے طریقے سے ہو رہا ہے چین، لاطینی امریکہ اور جنوبی ایشیا (پاک وہند بنگلہ دیش وغیرہ) کے کچھ ملکوں میں زیر زمین پانی کی سطح ہر سال ایک میٹر سے زیادہ نیچے اتر جاتی ہے اس کے تدارک کے لیے ملک عزیزنے کچھ نہیں کیا اور میرے حساب سے زیر زمین پانی کی سطح کا دن بدن نیچے اترتے جانا دراصل افراد کا ’’زیر زمین‘‘ چلے جانا ہے کہ پانی صرف پانی نہیں ہے بہت سے لوگ اسے ’’امرت‘‘ اور ’’آب حیات‘‘ بھی کہتے ہیں۔