• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کا صفحہ: ’’جنگ گروپ‘‘ کا اعزاز و افتخار ...

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

قصّۂ پارینہ ہوا

جنوری کے تیسرے شمارے میں بھی گزشتہ سال کےجائزے پڑھنے کوملے، حالاں کہ کبھی یہ سب جائزے ایک ہی شمارے میں سموئے جاتے تھے۔ منور مرزا کا وینزویلا میں امریکی جارحیت سےمتعلق تجزیہ لاجواب تھا۔ سوفی صد درست کہا کہ’’ یہ روایت دیگر طاقت وَر ممالک کو کم زورمُلکوں پہ چڑھ دوڑنے پر راغب کرے گی۔‘‘ ثانیہ انور نے سالِ گزشتہ، ٹی وی اسکرین پر پیش کیے جانے والے ڈراموں، ٹاک شوز اور مارننگ شوز وغیرہ کا تفصیلی جائزہ لیا، سچ پوچھیں تو گزشتہ دو، تین سالوں سے ٹی وی اسکرین بھی موبائل اسکرین ہی تک محدود ہوگئی ہے۔

ایک پی ٹی وی کا سنہرا دَور تھا، جب ڈرامے کےاوقات کا باقاعدہ انتظار کیا جاتا۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کا رائٹ اَپ شائستہ اظہرصدیقی نےبہت ہی خُوب صورتی سے لکھا۔ موضوع ’’خاموشی‘‘ تھا اور کیا ہی عُمدگی سےموضوع کےساتھ انصاف کیا گیا، خصوصاً خاموشی پر مختلف مفکرین کے اقوال اور اسلم کولسری کے اشعار نے تحریر کو چار چاند لگادئیے۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘میں والد جیسے عظیم رشتے پرعمدہ تحریریں لکھی گئیں، خاص طورپر افشاں مراد نے اپنے والد کے ساتھ گزرے ایام کو شان دار پیرہن عطا کیا۔ 

تحریر پڑھتے اپنے والد کی یادبھی شدت سے آتی رہی۔ عائشہ مشتاق بانڈے نے بھی اپنے والد کو بہترین الفاظ سےخراجِ عقیدت پیش کیا۔ ’’متفرق‘‘ میں نرگس فاطمہ اور محمّد ریاض علیمی اچھی تحریریں لائے۔ ڈاکٹر محمود حسین لائبریری میں مطالعۂ کتب کے احیاء کا پڑھ کر ازحد خوشی ہوئی۔

’’آپ کا صفحہ‘‘ میں تجمل حسین مرزا کو دئیے گئے جواب سے خاصے محظوظ ہوئے، تو برقی خطوط میں مشعل فاطمہ کی بات کہ ’’وہ لمبا مضمون ٹائپ کر کے نہیں بھیج سکتیں۔‘‘ پڑھ کےحیرت ہوئی کہ اب توہر دوسرا شخص ٹائپ ہی کررہا ہے، ہاتھ سے لکھنا تو گویا قصۂ پارینہ ہوا۔ ( رانا محمد شاہد،گلستان کالونی، بورے والا)

ج: کہاں قصۂ پارینہ ہوا۔ ایک طویل عرصے سے یہ ’’آپ کا صفحہ‘‘ کا سلسلہ اِن ہاتھ سے لکھے خطوط ہی کے سہارے تو چل رہا ہے۔ اورخُود آپ نہ صرف طول طویل خطوط لکھتے بلکہ باقاعدہ خوش خطی فرماتے ہیں۔

میری ہی طرح نازک اندام

سرِورق پسند آیا۔ ماڈل کو رنگ برنگے ملبوسات اور شال دوشالوں نے چار چاند لگا رکھے تھے۔ یوں لگا، جیسے سردی سے ٹھٹھر رہی ہو یا شاید کمال اداکاری کررہی تھی۔ ویسےتھی بھی میری طرح نازک اندام ہی۔ اللہ زمانے کی سردوگرم ہواؤں سے محفوظ رکھے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کی تحریر شائستہ اظہر صدیقی نے لکھی، اور خُوب لکھی۔ اُن کی تو کسی بھی تحریر کے لیے بس نام ہی کافی ہوتا ہے۔

اس بار موضوعِ گفتگو ’’خاموشی‘‘ تھا۔ خاموشی کی تحریر خاموش آواز ہی سے پڑھی۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی محفل میں اب کی بار ’’اعزازی کرسی‘‘ پر پھر محمّد سلیم راجا ہی براجمان تھے، مگر کافی نئے انداز سے آئے۔ دیگر شریکانِ محفل بھی جانے پہچانے ہی سے تھے۔ ثانیہ انور کا ’’ٹی وی اسکرین‘‘ کا ری ویو انتہائی مفصّل اور جامع تھا۔ نرگس فاطمہ نے ڈاکٹر محمود حسین لائبریری کی طرف سے سال 2025ء میں منعقد کردہ پروگرامز کا احوال رقم کیا۔

پرنٹ میڈیا کے زوال کی اِن گھڑیوں میں کافی اچھا اقدام اور کوشش معلوم ہوئی۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کے تحت لکھے گئے افسانے ’’آسیہ‘‘ کی تیسری قسط بھی ازحد دل چسپ رہی۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ میں افشاں مراد اور عائشہ مشتاق بانڈے اپنے عظیم باوقار، بے انتہا خوبیوں کے حامل والد کی خوبیوں، صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کررہی تھیں۔ رابعہ فاطمہ نے انتہائی باریک بینی سے دانش مندانہ مشوروں سے نوازا۔ آخر میں دُعاگو ہوں کہ آ پ کی زیرِ قیادت یہ قافلہ، کارواں یوں ہی رواں دواں رہے۔ (محمّد صفدر خان ساغر، مکی مسجد، راہوالی، گوجرانوالہ)

ج: ہماری ماڈلز سے تو کچھ ایسا obsession ہوگیا ہے آپ کو کہ اُن کی دیکھا دیکھی ’’نازک اندام‘‘ تک ہونے کو تیار ہیں۔ اپنے بھاری بھرکم نام ہی کی کچھ لاج رکھ لیں۔ یوں بھی مَردوں پر مردانگی ہی جچتی ہے، نزاکت نہیں۔

جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس

سرِورق پر ماڈل دل کش انداز میں جلوہ گر تھی۔ منور مرزا امریکا کی دھونس، دھمکیوں پر تبصرہ کررہے تھے۔ سچ ہے، ’’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘‘۔ وحید زہیر سیلاب کی تباہ کاریوں پر پریشان نظر آئے۔ رابعہ فاطمہ معیارِ تعلیم کے انحطاط پر افسردہ تھیں۔ 

نرگس فاطمہ کا مطالعۂ کتب کے ضمن میں مضمون اچھی کاوش معلوم ہوا، جب کتابیں فٹ پاتھس پر اور جوتے شوکیسز میں سجے ہوں گے، تو وہ صدی سےکتاب سےمحبت کی آخری صدی ہی ٹھہرے گی۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے سب ہی خطوط، جوابات مزے دار تھے، جب کہ ونر راجا صاحب ہی قرارپائے۔ قرآت نقوی کی شمولیت نے بھی دلی خوشی دی۔ ( شمائلہ نیاز، دائرہ دین پناہ، تحصیل کوٹ ادّو، ضلع مظفر گڑھ)

طویل ای میل، طویل جواب

’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا کا ’’ایران کا بحران‘‘ اور ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں منیراحمد خلیلی کا سلطنتِ عمان پر مضمون پڑھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں عشرت فاطمہ نے تو حلووں کا جمعہ بازار ہی لگادیا۔ ہر قسم کا حلوا موجود تھا، کمال ہے بھئی۔’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ میں ’’آسیہ‘‘ کی آخری قسط بھی پڑھ ڈالی، شکریہ عرفان جاوید۔ ’’متفرق‘‘ میں محمد آصف قریشی کا تحریر کردہ سرشاہ محمّد سیلمان پر چھوٹا سا مضمون بہت ہی معلوماتی تھا۔

’’ڈائجسٹ‘‘ میں جاوید جواد حسین کے ادبی شگوفے اچھے لگے، چوہدری قمر جہاں علی پوری، سمیرا اور جمیل ادیب سیّد کی غزلیں بھی پسند آئیں۔ ’’نئی کتابیں‘‘ میں جہدِ مسلسل نامی کتاب پر منور راجپوت کا تبصرہ بہترین تھا۔ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں شہزادے بھی موجود تھے اور راجے بھی، مگر حسبِ روایت بازی راجے ہی لے گیا۔ 

’’گوشۂ برقی خطوط‘‘ میں ٹیکساس، امریکا سے قرأت نقوی کی ایک ساتھ دو ای میلز پڑھنے کو مل گئیں، زبردست۔ اگلے جریدے میں ’’سانحۂ گل پلازا‘‘ پر منور راجپوت کی تفصیلی رپورٹ نم آنکھوں سے پڑھی گئی۔ واقعتاً ایک مکمل، بہترین رپورٹ تیارکی، جس میں ہر زاویے سے بھرپور جائزہ لے کر سب ہی کچھ بیان کر دیا۔ پھر رحمان فارس کی نظم ’’شہرِسوختہ نصیب‘‘ نے بھی ازحد غم گین کیا۔

جریدے میں ’’حالات و واقعات‘‘ بھی موجود تھا اور ہمیشہ کی طرح منورمرزا کے شان دار، بےباک تجزبے کےساتھ۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ میں عرفان جاوید ’’بے دیارم‘‘ کی پہلی قسط کے ساتھ موجود پائے گئے۔ گوشۂ برقی خطوط میں فضا الہی کی طویل ای میل پر آپ کا جواب بھی طویل تھا۔ سو، دوسروں کو جگہ ہی نہیں مل سکی۔ ( رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)

ج: عمومی طور پر تو یہی کوشش ہوتی ہے کہ ’’گوشۂ برقی خطوط‘‘ میں مختصر ای میلز شایع ہوں، توجوابات بھی مختصرہی دیئے جائیں، مگر بعض اوقات کچھ اہم میلز کے تفصیلی جوابات کی اشاعت ناگزیر بھی ٹھہرتی ہے۔

بہاول نگر کا تعارف

اس بار بھی دو ہی شماروں پر تبصرہ حاضر ہے۔ دونوں میں ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ کے متبرّک صفحات موجود نہیں تھے۔ پلیز! اُنہیں مِس نہ فرمایا کریں۔ ’’وینزویلا میں امریکی آپریشن، طاقت کے استعمال کی ایک غلط روا یت‘‘ عُمدہ تجزیہ تھا۔ امریکا تو ایک بدمست ہاتھی کی طرح جب، جسے دل چاہے روندے چلے جارہا ہے۔ اللہ کرے، اُسے کوئی روکنے والا بھی پیدا ہوجائے تاکہ کسی طور دنیا میں امن و امان تو ہو۔ ’’سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، کائناتی دریافتوں کافیصلہ کُن سال‘‘ راؤ محمّد شاہد نے بالکل درست کہا۔

واقعتاً گزشتہ سال سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت پیش رفت ہوئی۔ چینی فلم انڈسٹری لالی وُڈ، بالی وُڈ پر سبقت لے گئی، سُپراسٹارز کا سحرٹوٹ گیا، زبردست معلوماتی رپورٹ تھی۔ فلم کی اسٹوری اچھی ہو، ڈائریکٹر محنت کرے تو کبھی کبھی نئےفن کار بھی کمال کرجاتے ہیں۔ ’’ڈاکٹر محمود حسن لائبریری، مطالعۂ کتب کا احیاء‘‘ ایک اچھی کاوش تھی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کتابوں سے محبّت، دوستی برقرار رکھیں۔ 

نئی نسل کو جب بھی تحفہ دینا ہو تو کسی کتاب ہی کا دیں۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ میں ’’آسیہ‘‘ کی آخری دونوں اقساط گزشتہ قسطوں کی طرح شان دار تھیں۔ ’’سلطنتِ عمان، خلیج عرب کی قدیم ترین ریاست‘‘ میں یہ پڑھ کر حیرت ہوئی کہ گوادر، پاکستان نے عمان سے تین ملین ڈالر میں خریدا تھا۔ ’’پیارا وطن‘‘ سلسلے میں میاں والی اور بورے والا کا مفصّل تعارف پڑھ کے مزہ آگیا۔ 

کیا مَیں بھی اپنے شہر بہاول نگر کا تعارف بھیج سکتا ہوں اور یہ بھی پوچھنا چاہوں گا کہ اپنے شہر کا تعارف تحریری صُورت میں بھیجوں یا ای میل کی شکل میں۔ پلیز! رہنمائی ضرور فرمائیے گا۔ میری تحریریں، خطوط پسند فرمانے پرمحمّد سلیم راجا، شمائلہ نازاوررونق افروز برقی کا تہہ دل سے شکریہ۔ (پرنس افضل شاہین، نادر شاہ بازار، بہاول نگر)

ج: ضرور بھیج دیں، مگر مضمون تھوڑا تحقیقی اور دل چسپ ہو کہ کسی بھی شہر سے متعلق سرسری معلومات تو ’’گوگل‘‘ کر کے بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اور آپ کے لیے جیسے آسانی ہو، آپ بھیج سکتے ہیں۔ کمپوزڈ فائل ای میل کی جا سکتی ہے، تو ہاتھ کی لکھی تحریر بھی ای میل ہو سکتی ہے۔

’’جنگ گروپ‘‘ کا اعزاز و افتخار

’’سنڈے میگزین‘‘ جنگ گروپ کا ایک ایسا اعزاو افتخار ہے، جس پر ادارے کو بہت فخر ہونا چاہیے کہ اِس جریدے نے اپنے آغاز سے تاحال اپنا بلند ترین معیار مستقلاً برقرار رکھا ہوا ہے۔ اللہ تعالی سے دُعا ہےکہ یہ میگزین اِسی طرح قارئین کی اُمیدوں، تمناؤں پر سو فی صد پورا اُترتا رہے۔ (شری مرلی چند گوپی چند گھوگھلیہ، شکارپور)

                        فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

وہ ہے ناں کہ چہرہ شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ تو پھر ٹائٹل، میگزین کاعکّاس ٹھہرا۔ عموماً ماڈلز کے خوش رنگ پہناوے موسمی منشا بتاتے، دل میں اُترتی ہیڈ لائنز بدلتی رُتوں کی نوید لاتی اورسرورقی تصاویر (ونڈوز) حالاتِ حاضرہ کی خبردیتی ہیں۔ نوّے فی صد، تصویرِ رسالہ وجودِ زن سے یوں رنگی ہوتی ہے کہ ’’جچتا ہے، ہر رنگ کا جوڑا، توبہ ہے۔‘‘ 

چلیں، اس بار ہم ’’سنڈے میگزین‘‘ کی اشاعتِ سالِ رفتہ کو ماہ بہ ماہ ٹائٹلز کے آئینے میں دیکھتےہیں کہ کس طرح ایونٹس سیلیبریٹ کرتے قارئین کے شوقِ مطالعہ کو ایکسلریت اور ہم کمنٹیٹرز کو موٹیویٹ کیا گیا۔ یخ بستہ جنوری کے پہلے اتوار، سالِ نو ایڈیشن کوگرم جوشی سے وصول کیا۔ ٹائٹل پرعظیم ایتھلیٹ، ارشد ندیم نیزہ تھامے، مریم نواز فاتحانہ مُکّا لہرائے اور خان عاجزانہ منہ موڑے ہوئے تھے۔

؎ خط لکھیں گے، گرچہ مطلب کچھ نہ ہو… کی سب ہیڈنگ، ورقِ آخر(آپ کا صفحہ) پر سجے سالانہ دربار کی جھلکِ رونق دِکھا رہی تھی۔ دوسرے ہفتے’’سال نامہ پارٹ ٹو‘‘ کو ہم نے’’تُو میرا جانو ہے، تُو میرا دل بر ہے۔‘‘ گنگناتے تھاما۔ خاکی پیراہن میں سرورقی ماڈل، بندۂ خاکی کوباور کرواگئی کہ بزمِ رنگ نے’’Mocha Mousse‘‘ بطور کلر آف دی ایئر 2025ء ڈیکلیئر کیا ہے۔

دوسرے مہینے فروری کے روزِ دوم، اتوار کو دانت بجاتے، مونگ پھلی کھاتے اور ’’جاڑا آیا، جاڑا آیا‘‘گاتے میگزین پکڑا۔ سیاہ پوش ماڈل، شاخِ سبزبرگ لیےکھڑی تھی، جو ہم سردی کے ماروں کے لیے اشارہ تھا۔ ؎ پیوستہ رہ شجر سے، اُمیدِ بہار رکھ… جب کہ فریم ون میں نو منتخب صدر ٹرمپ مُسکرا رہے تھے۔ 9 فروری کے سرِورق پر ماڈل کا رنگِ لباس پھر سیاہ تھا، تاہم پس منظرمیں بہارسماں منادی کر رہا تھا۔

’’بہار آرہی ہے‘‘ یکم رمضان کو دوسرا دن تھا، تیسرے مہینے مارچ کا، جب باحجاب ماڈل نے ہدیۂ صیام (رمضان ایڈیشن) دیا تو ادراک ہوا کہ فرشِ زمیں سے عرشِ بریں تک، رنگ ونورکا عالم ہے اور تیسرے ماہ کا تیسرا شمارہ ’’یومِ پاکستان‘‘ کے سنگ آیا۔ ٹائٹل پر رُوح پرور افطار پارٹیز کی ایمان افروز عکّاسی تھی۔ موسمِ گرماکےنرمل مہینے اپریل کے پہلے شمارے کے ٹائٹل پر نمودار ہوتا سورج، گرمی کی آمد کا اعلان کررہا تھا۔

مئی کا مہینہ، بہے جس میں چوٹی تا ایڑی پسینہ، اپنے جلومیں ’’مدرز ڈے ایڈیشن‘‘ لایا۔ ؎ ماں کا احساس چھائوں جیسا ہے… گرم جون کا نرم شمارہ، عید کا مُون بن کر بزمِ دل میں اُترا؎ شُکر خدا کا، پھر نظر آئی بہارِ عید… اگلےشمارے کے ٹائٹل پر’’عالمی یومِ والد‘‘کی مناسبت سےاہتمامِ خاص تھا۔ مون سونی جولائی کے سرورقی پیکرکو، ساون ساجن کی راہِ استقبال پر آداب بجا لاتے پایا۔ اگلے شمارے میں لوٹ کر واپس گھر آتے، سجن بے پروا کو دیکھ کرساون جھولے جھولتی سجنی نے کی واہ۔ ؎ وہ کتنا دل نشیں، کتنا حسین ہے… ماہِ آزادی، اگست کے ’’یومِ آزادی ایڈیشن‘‘ کے سبز و سفید سرتاج کی ہم نگارِ وطن سے انتہائے نگارش تھی۔

؎ تپتے صحرا میں یہی ایک شجر اپنا ہے…اشجارِچمن واسطے ماہِ ستم گر، خزاں ستمبر کا دوسرا جریدہ تو تین کا تڑکا (تھری ایڈیشنز) تھا۔ باوجودِ پت جھڑ، اگلے رسالے کے شاہ ورق پر بہارِجوبن تھی اور ماہ رُخ و ماہ پیکر کے لیے سُرخی تھی۔ ؎ ہر حسین منظر، استعارہ تیرے پیکر کا… آغازِ اکتوبر کا شاہی صفحہ ہم معلمین کو ’’سلام ٹیچر‘‘ کہتا دل میں گھر کر گیا اور شمارۂ آئندخوش بوکاجھونکا سنگ کرگیا

؎ اور وہ خود گلاب جیسا ہے…9نومبر کو اقبال ڈے اور میگزین آف سن ڈے یک جان، راحتِ جان ہوئے۔ 21دسمبر کو ادب پارے کے دیباچے؎ تیرے موسم، تری گفتگو اور تو… کو باادب میزان دی ’’میری زندگی ہے تُو‘‘ اور آخر الآخر، 28 دسمبر کودبستانِ ادب کا ’’دبیر الملک‘‘ گڈ بائے 2025ء کہنےآگیا، تو راجا پاکستانی کے لب پر آئی یہ دُعا ؎ خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اُترے… وہ فصلِ گل، جسے اندیشۂ زوال نہ ہو۔ (محمد سلیم راجا، لال کوٹھی، فیصل آباد)

ج: نامہ نگاری میں ایسی بوقلمونی، تنوّع بس اِک آپ ہی کا خاصّہ ہے۔

گوشہ برقی خطوط

* محمّد عمیر کی سائنس کے اماموں سے متعلق تحریرمعلوماتی تھی۔ ذکیہ مشہدی کا افسانہ ’’ہم جیسے‘‘بہت اداسی بَھرا تھا۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ میں مہرمحمد بخش کا والدہ سے متعلق واقعہ پُراثر تھا۔ پڑھ کے پلکیں بھیگ بھیگ گئیں۔ ویسے اِسے ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ میں لگنا چاہیے تھا۔ دوسرے واقعے پہ نظر پڑی، تو یقین نہیں آیا۔

ہائے میری تحریر! دیکھ کے حددرجہ خوشی ہوئی۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں محمّد صفدرخان نے ہمیں یاد فرمایا، شکریہ۔ اگلے شمارے میں، حضرت عتبہؓ سے متعلق شان دار مضمون پڑھنے کو ملا۔ منور راجپوت نے اخبار فروشوں کے مسائل سے متعلق سو فی صد حقائق پرمبنی بہت ہی متوازن اور چشم کُشا تحریر رقم کی۔ دیکھتے ہیں، کوئی شنوائی بھی ہوتی ہے یا نہیں۔ ڈاکٹر اسلم کی تابش دہلوی پہ تحریر کا جواب نہ تھا، خصوصاً والدہ کی داستان پڑھ کے بہت لُطف آیا۔ مَیں نے بھی فیصلہ کیا ہے، اب سے پیلےکو زرد ہی پُکاروں گی۔

افسانہ ’’مجبوری‘‘ میں گہرا کرب چُھپا تھا۔ ایک فرمایش ہےکہ میگزین کےکسی گوشے/ کونےمیں اُردوالفاظ کےصحیح تلفّظ کاسلسلہ شروع کردیں۔ جیسے ابھی توتا (طوطا) تے سے لکھا دیکھا۔ اگلے شمارے میں، ڈاکٹر سمیحہ’’سوشل میڈیا‘‘ کے نقصانات پر روشنی ڈال رہی تھیں۔ عالمی ایام پر ثانیہ کی تحریر کا جواب نہ تھا۔ ماڈل من موہنی تھی اور اس کے سیاہ لباس پہ کڑھت بہت جچ رہی تھی۔ افسانے ’’نمشکار‘‘ کی دونوں اقساط ایک ساتھ پڑھیں۔

اب ’’کابلی والا‘‘ پڑھنے کا اشتیاق ہورہا ہے۔ اُردو کی پہلی سفرنامہ نگارخاتون، تصاویر سے توخاصی دبنگ معلوم ہوئیں۔’’نبیذ‘‘ کی آسان ترکیب پڑھ کےفوراً سے پیش تر کھجوریں بھگودیں۔ رونق افروز کے بچّوں کی معصومیت سے متعلق خیالات سے متفق نہیں، لیکن بحث کرنے کی عادت نہیں ہے۔ اگلے شمارے میں ڈاکٹرعابد شیروانی ایک انتہائی جامع تحریر کے ساتھ آئے۔

نصرت عباس کی ہجرتی پرندوں پر تحریر بھی اچھی تھی۔ براہِ کرم قیدی پرندوں پر بھی ایک تحریر لکھوائیں۔’’اسٹائل‘‘ کے ہلکے پھلکے ملبوسات بہت بھائے اور ماڈل کی ہتھیلی پہ رچی سُرخ حنا دیکھ کے دل خوش ہوگیا۔ (قرات نقوی، ٹیکساس، امریکا)

ج: تمھاری کئی کئی ای میلز یک جا کر کے شایع کی جا رہی ہیں، مگر پھر بھی اشاعت کے وقت خاصی پرانی ہی معلوم ہوتی ہیں۔

قارئینِ کرام کے نام !

ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk

سنڈے میگزین سے مزید