• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

پاکستان کی بیٹی کیوں ترسے؟

نئے سال کا پہلا شمارہ موصول ہوا۔ ٹائٹل اہم مُلکی و بین الاقوامی شخصیات کی تصاویر کے ساتھ سالِ رفتہ کےاہم واقعات سے متعلقہ اخباری شہ سرخیوں سے مزیّن تھا۔ ’’حرفِ آغاز‘‘ کے عنوان سے لکھی مدیرہ کی تحریر میں 2025ء کا جس جامع انداز سے جائزہ لیا گیا، وہ اپنی مثال آپ تھا، جب کہ مدیرہ کی دوسری تحریر ’’سال 2025ء کی بہترین چِٹھی‘‘ کے انتخاب اور سال بھر کی چٹھیوں کے جائزے پر مبنی تھی۔

اگر ہمارے دائرۂ اختیار میں ہوتا تو اِس اعلیٰ کارکردگی پر آپ کو تمغۂ حُسنِ کارکردگی سے ضرور نوازتے۔ دیگر مندرجات میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا کی مکمل سالانہ رپورٹس اور منور راجپوت کی پیش کردہ تصویری رپورٹ کا بھی جواب نہ تھا۔

بقیہ تحاریر بھی بےحد معلومات افزا تھیں۔ گویا پورا سال ہی چند صفحات میں سمودیا گیا۔ اگلا شمارہ ملا۔ ’’کِھلاہو باغ میں جیسےکوئی سفید گلاب…‘‘ عبارت کے ساتھ مہ وش علی، لائبہ (ماڈلز) دودھیا سفید ملبوسات میں جلوہ افروز تھیں۔ سونے پہ سہاگا ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کی تحریر نرجس ملک نے خُود لکھی اور کیا ہی خُوب لکھی۔ سفید رنگ پر نہ صرف بہترین روشنی ڈالی، بلکہ اس رنگ کےپچیس نام لکھ کر حیران و پریشان کردیا۔

زیادہ خوشی و حیرانی یہ جان کر ہوئی کہ ایڈیٹر صاحبہ کو پنجابی پر بھی ملکہ حاصل ہے۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ بھی کئی ستاروں سے جگمگا رہا تھا۔ پروفیسر سید منصور علی، مانیٹریال، کینیڈا سے تشریف لائے۔ اللہ ان کو سلامت رکھے۔ شہزادہ بشیر اور سید شاہ عالم زمرد نے میری تراکیب پسند کیں، ذرّہ نوازی ہے۔ 

قرأت نقوی ٹیکساس، امریکا میں جامن، فالسے نہ ملنے پر افسردہ تھیں۔ ہمارے پاکستان کی بیٹی اِن نعمتوں کے لیے کیوں ترسے، جب موسم ہوگا، ہمیں یاد دلائیں، ہم پہنچا دیں گے اور ڈھول والوں کی آواز کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، بذریعہ ویڈیو کال انھیں سُناہی نہیں، دیکھا بھی جاسکتا ہے۔

ویسے ہمارے علاقے کا آخری کوچوان بھی پچھلے دنوں اللہ کو پیارا ہوگیا۔ مطلب، چکّی، چرخے کی طرح ٹانگا (تانگا) بھی قصّۂ پارینہ ہوا۔ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ بہترین پیغامات سے مرصّع اور ڈاکٹر عزیزہ انجم کے ’’استقبال‘‘ کا جواب نہ تھا۔ دیگر مندرجات میں ثانیہ انور، ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر، راؤ محّمد شاہد اور ہمایوں ظفر کی نگارشات پسند آئیں۔ (محمّد صفدر خان ساغر، راہوالی، گوجرانوالہ)

ج: پنجابی ہماری مادری زبان ہے اور ہماری تحریروں میں آج سے نہیں، ہمیشہ سے اپنی ماں بولی کا کسی نہ کسی انگ میں اظہار بھی ہوتا رہتا ہے۔ رہی بات، قرأت تک جامن، فالسے پہنچانے کی، تو ایڈے ہی تُسی سخی داتا ہو، تو اُس نےکیوں یاد کروانا ہے، جب گلی گلی ریڑھیوں پر بکتے نظر آئیں، ایک ایک پیٹی خریدکر بھجوا دیں۔ ساتھ ایک عدد ڈھول بھی بھیج دیں۔ آواز سُننے کی زیادہ ہڑک ہوگی، تو میاں سے بجوا لے گی یا خُود ہی بجا لیا کرے گی۔ آخر یہاں بھی منہدی، مایوں میں لڑکیاں بالیاں بجاتی ہی ہیں۔

معلومات سے لب ریز

سرِورق پر دو سہیلیاں بہت ہی پیاری لگ رہی تھیں۔ سالِ نو ایڈیشن کا حصّہ دوم بھی معلومات سے لب ریز رہا۔ خصوصاً ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ سلسلہ بےحد پسند آیا اور خطوط کا صفحہ، آپ کے کھٹ مِٹھے جوابات کے سبب بہت لُطف دے گیا۔ (شمائلہ نیاز، دائرہ دین پناہ، تحصیل کوٹ ادّو، ضلع مظفّرگڑھ)

ایسے قارئین میسّر ہوں

سنڈے میگزین کے سالِ نو ایڈیشن کا دوسرا حصّہ بھی آج پڑھ ڈالا۔ ’’دودھیا سفید رنگ‘‘ بھی دیکھ لیا اور آپ کی تحریر بھی خُوب ہی انجوائے کی۔ حسبِ سابق سب کچھ ہی بہت عُمدہ رہا۔ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ میں اچھے اچھے پیغامات پڑھنے کو ملے اور ساتھ ہی ڈاکٹر عزیزہ انجم کی نظم ’’استقبال‘‘ کا بھی استقبال ہوگیا۔

’’آپ کا صفحہ‘‘ میں پروفیسر سید منصور علی خان کی چِٹھی ’’اِس ہفتے کی چِٹھی‘‘ قرار پائی، پروفیسر صاحب بھی بڑے زبردست شخص ہیں، اُن کی محبّت دیکھیں کہ کینیڈا سے اپنے عزیز کے ہاتھ خط بھیجا۔ پروفیسرصاحب زندہ باد۔ ویسے جس جریدے کو ایسے قارئین میسّر ہوں، اُسے اور کیا چاہیے۔ (رونق افروز برقی، دستگیرکالونی، کراچی)

ج:جی، بےشک، اِس دَورِاُفتاد میں واقعتاً آپ لوگوں جیسے قارئین، لکھاری کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔

بڑا کارنامہ انجام دیا

شمارہ موصول ہوا۔ سرِورق پر ماڈل شال دو شالے میں لپٹی بھلی معلوم ہوئی۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا وینزویلا میں امریکی صدر ٹرمپ کی جارحانہ کارروائی پرتبصرہ کر رہے تھے۔ دراصل امریکا ایک بدمعاش ملک ہے۔ وہ جوچاہے کرے، اُسے دنیا کے کسی قانون، اصول کی کوئی پروا نہیں۔ جاپان پر ایٹمی حملے سے لے کر وینزویلا تک کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ تو مقصد پورا ہونے کے بعد دوستوں سے بھی منہ پھیر لیتا ہے۔

وحید زہیرسیلابوں، طوفانوں کی تباہ کاریوں کا نوحہ پڑھ رہے تھے۔ بھیا! حُکم رانوں کے ایوان تو محفوظ ہیں، وہ کیوں تدارک کی طرف توجّہ دینے لگے۔ عوام کے جان ومال کا کیا ہے۔ بس، اللہ ہی عوام کو رہبر و رہزن میں فرق کا شعور دے دے۔ رابعہ فاطمہ تعلیمی انحطاط کا دُکھڑا سُنا رہی تھیں کہ ریجن کے ممالک میں سب سے کم تعلیمی بجٹ ہمارا ہے۔ 

یہاں تو گملے میں پودے ہی نہیں لگ رہے، شجر کی تو بات ہی کیا، تقریباً 3 کروڑ بچّے اسکولز سے باہر ہیں، یہ پودے لگیں گے، تو شجر بنیں گے ناں۔ راؤ محمّد شاہد اقبال نے گزشتہ سال کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا نقطۂ آغاز بتایا۔ 

محمد ریحان نے تین فلم انڈسٹریز کا عُمدگی سے جائزہ لیا، تو ثانیہ انور ٹی وی اسکرین پر ماہرانہ تبصرہ لائیں۔ ویسے درست خبر کے لیے تو پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا ہی سند ٹھہرا، سوشل میڈیا تو جھوٹ کی دکان ہے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں شائستہ اظہر صدیقی نے خاموشی کی افادیت پر خُوب روشنی ڈالی۔ واقعی اِک خاموشی وہ سب کچھ کہہ دیتی ہے، جس کا زبان سے اظہار ممکن نہیں۔ کلیم الدین ابو ارحم کھیلوں کی دنیا کا احوال سُنا رہے تھے۔

’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ میں افشاں مراد اور شائستہ مشتاق نے اپنے اپنے والدِ بزرگوار کو خراجِعقیدت پیش کیا۔ ’’آسیہ‘‘ کی تیسری قسط کا بھی جواب نہ تھا۔ ہمارے محلے میں بھی ایک ایسی عورت ہوا کرتی تھی، بچے، بڑے، عورت و مرد سب اُس کی درشت کلامی سے خوف کھاتے تھے۔ طلعت عمران نے پیاروں کے نام اچھے پیغامات مرتب کیے اور اپنے صفحے پر محمّد سلیم راجا نے سال کے کرارے جوابات مرتب کرکے بڑا کارنامہ انجام دے ڈالا۔ ( شہزادہ بشیر محمد نقش بندی، میرپورخاص)

ج: آپ بھی اگر مختصر نویسی کی عادت اپنالیں، تو واللہ، ہماری نظرمیں تو یہ امر بھی کسی بڑے کارنامے سے کم نہ ٹھہرے گا۔

بہترین معلومات کے سبب

امید ہے، بخیر ہوں گی۔ سب سے پہلے تو اتنا اچھا جریدہ تیار کرنے پر مبارک باد قبول کریں۔ اللہ ہم سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے، بلاشبہ فکری اور تعمیری سوچ انسان کو عظیم تر بنا دیتی ہے۔ سنڈے میگزین اپنی بہترین معلومات کی وجہ سے پورے مُلک میں بصد شوق پڑھا جاتا ہے۔ دُعا ہے، اس کے تیار کنندگان اور قارئین سلامت تا قیامت رہیں۔ ( سید شاہ عالم زمرد اکبر آبادی، راول پنڈی)

منی انسائیکلو پیڈیا کا درجہ

اس ہفتے بھی حالات و واقعات کے تناظر میں لکھی گئی تمام تحریریں معلوماتی تھیں۔ جو قارئین کےلیےمِنی انسائیکلوپیڈیا کا درجہ رکھتی ہیں۔ دُعا ہے کہ سالِ رواں بھی جنگ، سنڈے میگزین کے لیے مثلِ آفتاب ثابت ہو اور روزنامہ جنگ اِسی طرح گھر گھر کی زینت بنتا رہے۔ ( بابر سلیم خان، سلامت پورہ، لاہور)

ج: آمین۔

اشاعت کا جامہ

تقریباً سال ڈیڑھ سال قبل بھی یہ سب تحاریر ارسال کر چُکا اور مستقلاً اشاعت کا منتظر رہا۔ اب مجبوراً دوبارہ بھیج رہا ہوں۔ اُمید ہے، اب اشاعت کا جامہ پہن لیں لے گی۔ واضح رہے، تحریر میں متعدد الفاظ انگریزی کے تو شامل ہی رہیں گے کہ اِن طبّی اصطلاحات کا کوئی اُردو متبادل نہیں۔ (ڈاکٹر اطہر رانا، فیصل آباد)

ج: ڈیڑھ سال قبل بھی یہ تحاریر ناقابلِ اشاعت تھیں، آج بھی ہیں اور ڈیڑھ سال بعد بھیجیں گے، تب بھی ناقابلِ اشاعت ہی ہوں گی کہ ایک اُردو اخبار میں40 سے 50 فی صد انگریزی الفاظ پر مشتمل تحریر شایع ہی نہیں کی جاسکتی اور یہ بات آپ کو متعدد بار بتائی جا چُکی ہے۔

دوسری بات یہ کہ اِن کُل300 ، 400 الفاظ پر مشتمل مضامین میں کوئی ایسی خاص بات نہیں کہ جس کے لیے اس قدر تردّد کیا جائے۔ نوٹ فرما لیں، آپ کی تحاریر ’’پیری کورو نائٹس‘‘، ’’اوسٹیو مائی لائٹس‘‘، ’’زبان کی ٹائی‘‘ ’’الویو لائٹس‘‘،’’زبان کی جلن‘‘، ’’ٹنگ ٹائی‘‘ اور’’خاندانِ دندان‘‘ سب اِن ہی وجوہ کے سبب ناقابلِ اشاعت ہیں۔ براہِ مہربانی بار بار ارسال کی زحمت سے خُود بھی بچیں اور ہمیں بھی شرمندہ نہ کریں۔

گرین ٹرین پر سفر

اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آس رکھتا ہوں کہ اہلِ بزم خوش وخرم ہوں گے۔’’سالِ نو ایڈیشن‘‘ موصول ہوا اور خُوب ہوا۔ ’’سرِورق‘‘ نہ صرف سال نامے کا ترجمان تھا، بلکہ یہ ایک ’’جہانِ رنگ وبو‘‘ تھا۔ مشرف صاحب کہا کرتے تھے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ تو اِسی تلاش میں ’’بساطِ عالم‘‘ کو پیچھے چھوڑ دیا اور گرین ٹرین پرچڑھ کر سفر شروع کیا۔

بھلاہو، منور راجپوت کا کہ ’’کلکس‘‘ میں چاروں صوبوں کو یک جا کیا ہوا تھا۔ ویسے صوبوں کا جو الگ الگ تجزیہ پیش کیا گیا، اگر جریدے کے اول نصف میں ہوتا تو اچھا تھا۔ خیر، گرین ٹرین کے ذریعے پنجاب سے ہوتے ہوئے سندھ، بلوچستان اور پھر خیبرپختون خوا پہنچ گئے۔ 

رؤف ظفر، منور راجپوت، امین اللہ فطرت اور ارشد عزیز ملک کی زبانی سارے سال کا احوال گوش گزار ہوا۔ چاروں ہی خُوب بولتےہیں بھئی۔ ٹرین ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے آخری اسٹیشن پر پہنچی تو ہوش آیا، وگرنہ تو رِنگ روڈ کی طرح ایک دائرے ہی میں گھومتے رہتے۔ 

’’آزاد کشمیر‘‘ کے لیے دوسری ٹرین پکڑی، تب جاکے حقیقی آزادی کا احساس ہوا۔ جمع تفریق، روزِ روشن کی طرح عیاں تھا، تو ثانیہ انور ’’وجودِ زن‘‘ پہ رقم طراز تھیں۔ ’’نسلِ نو‘‘ کی آس شفق سے بندھی، تو اندھیرے چھٹتے محسوس ہوئے۔ ’’اِن اینڈ آؤٹ‘‘ کے ناظر نے بھی زبردست آگہی دی۔ ڈاکٹر عنبریں، ادب کے سوزوگداز اور آہ و واہ کی شاہدہ ٹھہریں۔

ڈاکٹر سکندر ’’صحتِ عامہ‘‘ پر قلم آراء تھے اور راؤ محمد شاہد ’’سوشل میڈیا‘‘ کی حرکات وسکنات پر روشنی ڈال رہے تھے، تو ہمایوں ظفر نے ’’جوہم میں نہ رہے‘‘ کو چراغِ گل سے تشبیہ دی۔ طلعت عمران ’’ایک پیغام پیاروں کے نام‘‘ سجانے میں مصروفِ عمل دکھائی دئیے۔’’امتِ مسلمہ، خارزارِ سیاست، ایوانِ نمائندگان، عدالتِ عظمیٰ، پاک افواج‘‘ سب ایک سے بڑھ کر ایک تجزیات، تبصرے اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ بھی شامل تھا، بے حد شکریہ۔ (ڈاکٹر محمد حمزہ خان ڈاھا، لاہور)

ج: اپنی طرف سے تو آپ نے سالِ نو ایڈیشن (حصّہ اول و دوم) پر تبصرہ آرائی فرمائی، مگر غالباً کچھ اگڑم بگڑم ہی کردیا ہے کہ کہیں کا تبصرہ کہیں کر رکھا ہے۔ حصّہ اول کے اہم مضامین کا آخر میں ذکر، کم ازکم ہمیں تو سمجھ نہیں آیا۔

                   فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

سرِورق پر ماڈل کے پس منظر میں خزاں رُت بہت ہی بھلی لگ رہی تھی۔ منیراحمد خلیلی تاریخی موضوعات پر مکمل گرفت رکھتے ہیں۔ ’’الجزائر، غلامی سےآزادی تک‘‘ میں بھی اُنہوں نے تاریخ کے کئی پہلوئوں سے آگاہ کیا۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر سیّدہ تحسین عابدی نے بہترین لکھا۔ سچ تو یہ ہے کہ دسمبر کے ان ایام میں تحریر پڑھتے ہوئے وہ سارے مناظر، سڑکوں پر عوام کا غم و غصّہ اور مُلکی صورتِ حال ذہن میں گھوم گئی کہ اس سانحے نے واقعتاً مُلک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں رستم علی خان نے ’’بیٹیوں کی شادی میں تاخیر کیوں؟‘‘ جیسے اہم موضوع کا انتخاب کیا۔

’’نئی کہانی، نیافسانہ‘‘میں بلال حسن منٹوکے افسانے ’’آسیہ‘‘ کی پہلی قسط پیش کی گئی۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں ’’تِرے موسم، تیری گفتگو اور تُو‘‘ کےعنوان سےثانیہ انور نے خُوب صُورت تحریر لکھی۔ موسم کے بدلتے رنگوں، انسانی نفسیات اور موسموں کے ساتھ وابستہ ثقافت کا ذکر عُمدگی سے کیا گیا۔ ’’متفرق‘‘ میں اِمزا کرن اور پروفیسر سیما نازصدیقی کی تحریریں دل چسپ تھیں۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں عندلیب زہرا کی تحریر ’’شاید وہ کوئی اور دسمبر تھا‘‘ بھی موقعے کی مناسبت سےخوب رہی۔ 

اگلا جریدہ ’’سال نامہ‘‘ تھا، جو اب ’’سال نامہ‘‘ یعنی ’’سالِ نو ایڈیشن‘‘ کہنے ہی کی حد تک ہے کہ وہی عمومی 16 صفحات پر تو مشتمل ہوتا ہے۔ کبھی یہ 50 ,40 اور ایک آدھ بار 100 صفحات تک بھی محیط رہا۔ ’’حرفِ آغاز‘‘میں پورے سالِ رفتہ کی کارگزاری کوآپ نےایک صفحے میں سمو دیا۔ مُلکی و بین الاقوامی اہم واقعات کا ایک ترتیب سے ذکر کیا گیا۔

ابتدا میں رحمان فارس کی خصوصی طور پر سنڈے میگزین کےخاص شمارے کے لیے لکھی نظم بہت ہی پسند آئی۔ ویسے اس خصوصی ایڈیشن کے لیے ہر سال ہی مختلف موضوعات کا سالانہ تجزیہ نہایت خُوب صورتی و عُمدگی سے پیش کیا جاتا ہے۔

اس دفعہ بھی غزہ، ایران، اسرائیل صُورتِ حال پر نعیم کھوکھر، ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ پر محبوب حیدر، آئینی ترامیم، آئینی عدالت پر اویس یوسف زئی، خارزارِ سیاست پر بلال غوری، ایوانِ نمائندگان پر اعزاز سیّد، بین الاقوامی امور کے ماہر، منور مرزا کی جنگوں اور امن معاہدوں پر، صوبہ پنجاب کے انتظامی معاملات پر رؤف ظفر، سندھ پر منور راجپوت، بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر اور دیگر مسائل پر امین اللہ فطرت اور خیبرپختون خوا کی بدامنی پرارشد عزیز ملک بہت دل چسپ، معلوماتی و تجزیاتی تحاریر لائے۔ 

آخر میں ’’آپ کا صفحہ‘‘ پر سالانہ جائزہ بھی موجود تھا۔ جس میں صفحےکے لکھاریوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اسی سے معلوم ہوا کہ 2025ء میں ہماری 12 چھٹیاں اعزاز کی مستحق ٹھہریں، مگر اصل ہیرو توسلیم راجا ہی ہیں۔ ویسے آپ لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ایک ناپید روایت کو زندہ رکھنے کی بھرپور سعی کررہے ہیں۔ (رانا محمد شاہد، گلستان کالونی، بورے والا)

گوشہ برقی خطوط

* ہم نے جنگ اخبار میں شیرِ مجاہد، یحیٰی سنوار سے متعلق تحریر لکھی تھی۔ آپ نے ناقابلِ اشاعت میں ڈال دی۔ کیا آپ کے معیار کے مطابق نہیں تھی یا پھر ہم اپنے مجاہدین سے متعلق کچھ لکھ نہیں سکتے۔ (سونیا عباس علی قریشی، حیدرآباد)

ج: مجاہدین سے متعلق لکھنے میں کیا قباحت ہے، آپ کی تحریر ہی خاصی ناپختہ تھی۔

* سلامت رہے میرا پیارا وطن، جنگ اخبار اور خصوصاً سنڈے میگزین۔ ممکن ہو تو ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے فارمیٹ میں کچھ تبدیلی لائیں، اگر لاسکیں تو… ضرورغور کیجیے گا کہ صفحہ یک سانیت کا شکار ہو رہا ہے۔ (ثناء توفیق خان، کراچی)

ج: مثلاً، کیا تبدیلی لائیں؟ قارئین کےخطوط، ای میلز اوراُن کے جوابات کے فارمیٹ پرتیار کیے گئے صفحے پر بھلا کیا اور کیسی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ خطوط نگاروں کے نام و پتے اُلٹے لکھنے شروع کر دیں۔ ٹاک شوزکی طرزپر لوگوں کو ایک دوسرے سے گتھم گتھا کروا دیں۔

تابش ہاشمی سےجوابات دینےکی درخواست کریں۔ ہر سال کےآغاز پر صفحے کی کلراسکیم، لے آؤٹ تبدیل کیا جاتا ہے اور فی الحال تو یہی تبدیلی ممکن ہے۔ آپ کے ذہن میں کوئی اچھا آئیڈیا ہو تو آپ شیئر کرسکتے ہیں، مگر آپ نے تو اپنا نام و پتا لکھنا ضروری نہیں سمجھا، آئیڈیا کیا ہی شیئر کریں گے۔

* براہِ کرم نعت خواں حافظ رضا قادری کا انٹرویو شائع کردیں۔ (عینی زیدی)

ج: آپ غالباً کئی بار یہ فرمائش کرچُکی ہیں۔ ہم کوشش کر دیکھتے ہیں۔ ویسے اِن کے یو ٹیوب پر کئی انٹرویوز، پوڈ کاسٹس وغیرہ موجود ہیں، آپ اِن سے متعلق جو جاننا چاہتی ہیں، وہاں سے بھی جان سکتی ہیں۔

* سنڈے میگزین میں زاہدہ حنا کی کہانی ’’نمشکار‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ کہانی میں وہ جنگ زدہ افغانستان کے حالات تحریر کرتے ہوئے لکھتی ہیں، جب طالبان کو کنٹینروں میں مزار شریف سے شبرغان لایا گیا اور وہ سب دَم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے تو اُنہیں خندقیں کھود کر دشتِ لیلی میں دفن کردیا گیا۔ 

برسوں پہلے جب طالبان نے اِس علاقے کو فتح کیا تو یہاں کے لوگوں کا قتلِ عام کیا پھر ان کو چُھپانے کے لیے Mass Graves میں دفن کیا، اب وقت ان کے لیے لٹو کی طرح گھوم گیا ہے، تو ان کا بستر بھی دشتِ لیلی کی خندقوں میں لگا۔ واہ، کیاہی خُوب صُورت انداز سے تاریخ بیان کی گئی۔ (ڈاکٹر عارف سکندری، کھوکھر محلہ، حیدرآباد، سندھ)

قارئینِ کرام کے نام !

ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk

سنڈے میگزین سے مزید