٭… حضرت علی ؓ سے ایمان کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا۔ ’’ایمان دل کا عقیدہ، زبان کا اقرار اور اعضاء و جوارح کے عمل کا نام ہے۔‘‘
٭… شیخ سعدیؒ، اپنے شہر سے دوسرے شہر جا رہے تھے، راستے میں ایک کھیت پڑتا تھا۔ جہاں ایک عورت اپنے خاوند کا کھانا لے کر آرہی تھی۔ شیخ سعدیؒ نے پوچھا۔ ’’اے عورت! یہ تو بتا کہ عورت چلتّر کیا ہوتا ہے؟‘‘ اُس نے کہا۔ ’’ابھی بتاتی ہوں۔‘‘ اور اپنی ایک ٹانگ زمین سے اُوپر اٹھا لی اور زور زور سے ’’بچاؤ، بچاؤ‘‘ چلانا شروع کردیا۔ کھیت میں موجود سب لوگ جمع ہوگئے۔
لوگوں نے پوچھا۔ ’’کیا ہوا؟‘‘ تو عورت نے جواب دیا۔ ’’کچھ نہیں، ایک سانپ آگیا تھا۔ شیخ صاحب نے بچا لیا۔‘‘ لوگ واپس چلے گئے۔ پھر اُس عورت نے کہا۔ ’’اگر مَیں یہ کہتی کہ شیخ صاحب نے مجھے چھیڑا ہے تو آپ کی اچھی خاصی پٹائی ہوجاتی، تو بس یہ ہوتا ہے عورت چلتّر۔‘‘
٭… اولاد کی تین قسمیں ہیں۔ (1) پُوت (2) سپوت (3) کپوت۔ پُوت: جو والدین کے بعد چھوڑے ہوئے اثاثے پر تاعُمر گزارہ کرتا ہے۔ سپوت: جس میں آگے بڑھنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور اِس کی بھی دو اقسام ہیں۔ ایک تو ماں باپ کے اثاثے کو ایک سے دس گنا تک لے جاتا ہے، دوسرا صرف بیوی بچّوں کے لیے کماتا کھاتا ہے۔ کپوت: یہ والدین کے اثاثے کو اپنی بُری صحبت اور علّتوں میں ختم کرکے کنگال ہو جاتا ہے۔
٭…قناعت سے بڑی سلطنت نہیں اور حُسنِ اخلاق سے بہتر کوئی نعمت ہے۔ (سلطان لطیف)