57 سالہ’’Qiu Sijun چین کے ایک ساحلی شہر’’NINGBO‘‘ کے رہائشی ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے راج گیر ہیں۔ ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ ذیابطیس کے پرانے مریض ہیں۔ اپنے روٹین کے ذیابطیس چیک اَپ کے لیے قریبی اسپتال جاتے ہیں۔ اُنھیں میڈیکل چیک اَپ کے ٹھیک تین دن بعد اسپتال کے ایک ڈاکٹر کی فون کال آتی ہے، وہ اُن ڈاکٹر سے پہلے کبھی نہیں ملے۔ یہ ڈاکٹر اسپتال کے شعبہ لبلبہ کے سربراہ ہیں۔
ڈاکٹر نے اُنھیں دوبارہ میڈیکل چیک اَپ کا کہا۔یقیناً مسٹر QIU کے لیے یہ کوئی اچھی خبر نہیں تھی۔ بہرکیف، وہ اسپتال گئے اور ڈاکٹر سے ملے۔ ڈاکٹر نے اُنہیں بتایا کہ آپ کے لیے ایک بُری خبر ہے اور وہ یہ کہ آپ کو لبلبے کا کینسر ہے۔تاہم، اچھی خبر یہ ہے کہ لبلبے کا کینسر جلد تشخیص ہوگیا ہے اور کینسر کے مرض میں جَلد تشخیص کے سبب بروقت علاج شروع کیا جاسکتا ہے۔
مسٹر QIU کے لبلبے کی بروقت سرجری کی گئی اور اُنھیں سرطان زدہ ٹیومر سے نجات مل گئی۔ دراصل، مسٹر QIU کی روٹین کی سی ٹی اسکین فلم کو اسپتال میں قائم نئے اے آئی(آرٹیفیشل انٹیلی جینس) طبّی آلے کی مدد سے چیک کیا گیا، تو سی ٹی اسکین میں لبلبے کے کینسر کی نشان دہی ہوئی، جب کہ اُن میں ابھی تک سرطان کے آثار ظاہر نہیں ہوئے تھے۔ گویا،اب اِس جدید اور نئے اے آئی آلے (مصنوعی ذہانت کے حامل) کی مدد سے لبلبے کے سرطان کی قبل از وقت شناخت ممکن ہوگئی ہے۔
سرطان ایک خطرناک مرض ہے، جس میں جسم کے خلیات بے قابو ہوکر بڑھنے لگتے ہیں، یہاں تک کہ ٹیومر یا گلٹی کی شکل اختیار کرلیتے ہیں یا جسم کے دیگر حصّوں تک بھی پھیل سکتے ہیں۔ یوں تو سرطان کی کئی اقسام ہیں، لیکن اِن میں خطرناک ترین لبلبے کا کینسر ہے، جس کی جلد تشخیص بہت مشکل ہے۔ لبلبے کے سرطان کی تشخیص کے لیے عموماً کنٹراسٹ سی ٹی اسکین تجویز کیا جاتا ہے۔
اِس سی ٹی اسکین سے بڑی مقدار میں تاب کاری شعائیں خارج ہوتی ہیں، جو مریض اور ماحول، دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ بہت سے ماہرینِ صحت کنٹراسٹ سی ٹی اسکین کی بڑے پیمانے پر اسکریننگ کی حمایت نہیں کرتے۔ وہ اِس کے متبادل کے طور پر سادہ سی ٹی اسکین تجویز کرتے ہیں، جو کم مضرِ صحت ہے اور اس سے تاب کاری شعائیں بھی کم خارج ہوتی ہیں۔
سادہ سی ٹی اسکین میں ڈائی (Dye) انجیکٹ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تاہم، اِس نان کنٹراسٹ سی ٹی اسکین کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اِس کی فلمز زیادہ واضح اور صاف نہیں ہوتیں، جس کے باعث ریڈیالوجسٹ کو بیماریوں کی تشخیص میں دقّت پیش آتی ہے۔ تخلیق کاروں نے اِس مسئلے کا حل بھی تلاش کرلیا ہے کہ اب اِس سادہ سی ٹی اسکین فلم کو اے آئی ٹُولز کی مدد سے چیک کیا جاتا ہے اور اِس نئے آلے کی مدد سے جسم میں چُھپے سرطان کی نشان دہی ممکن ہوچُکی ہے۔
اِس نئے مصنوعی ذہانت کے آلے کا نام’’ PANDA‘‘ ہے، جو چین کی ایجاد ہے۔ 2024ء میں ماہرِ امراض لبلبہ اور شعبے کے ہیڈ ڈاکٹرZHU نے پیپلز اسپتال یونی ورسٹی آف ننگبو (NINGBO) میں 2024ء میں اِس جدید اے آئی آلے کے کلینیکل ٹرائلز کیے۔ لگ بھگ ایک لاکھ،80 ہزار مریضوں کے پیٹ اور سینے کے سی ٹی اسکینزز اِس اے آئی آلے کی مدد سے چیک کیے گئے، جن میں سے دو درجن مریضوں میں لبلبے کے کینسر کی تشخیص ہوئی، جب کہ ان میں سے14مریضوں میں لبلبے کا کینسر ابھی ابتدائی مراحل میں تھا۔20 مریضوں میں’’ Ductal Adenocarcinoma‘‘ کی تشخیص ہوئی، جو لبلبے کا بہت ہی عام اور مہلک ترین سرطان ہے، جب کہ مسٹر Qiu کو لبلبے کا ’’Neuroendocrine tumor‘‘ شناخت ہوا، جو کم خطرناک اور شاذ و نادر ہی رپورٹ ہوتا ہے۔
یاد رہے، اِن تمام مریضوں کو اکثر اوقات پیٹ کی عام تکالیف رہتی تھیں، جیسے اپھارہ، جی مالش ہونا اور پیٹ میں درد کی شکایت وغیرہ۔ مگر انھوں نے کسی ماہرِ امراضِ لبلبہ سے طبّی معائنہ نہیں کروایا۔ لہٰذا، اِس نئے اے آئی آلے نے کئی قیمتی جانیں محفوظ بنائیں، وگرنہ لبلبے کا سرطان ان کی ہلاکت کا باعث بھی بن سکتا تھا۔
واضح رہے، اِس اے آئی طبّی آلے کی افادیت اور حوصلہ افزا نتائج مدّ ِنظر رکھتے ہوئے امریکن فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اسے قبولیت کا درجہ دیا ہے اور عن قریب دنیا بَھر کی مارکیٹس میں یہ مصنوعی ذہانت کا آلہ دست یاب ہوگا۔
2023ء کے میڈیکل سائنسی جریدے’’Nature Medicine‘‘ میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی، جس کے مطابق 20,000نان کنٹراسٹ سی ٹی اسکینز کو نئے اے آئی آلے کی مدد سے چیک کیا گیا، تو 93فی صد میں اِس ٹُول نے لبلبے میں موجود زخموں کی درست نشان دہی کی۔
بہرکیف، اس اے آئی ٹُول کی افادیت اور نتائج پر تحقیق کاروں، ماہرینِ صحت کے درمیان بحث مباحثہ بھی جاری ہے کہ اس آلے کے ساتھ بھی’’False ،Positive ‘‘الارمنگ کا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے مریضوں میں کافی تشویش بھی پیدا ہوجاتی ہے اور محض یہ جاننے کے لیے کہ’’ مَیں صحت مند ہو، مجھے کوئی تکلیف تو نہیں‘‘، ہزاروں روپے مزید ٹیسٹس کی نذر ہوجاتے ہیں۔
ریڈیالوجسٹس کا کہنا ہے کہ اِس آلے کی افادیت اور نتائج جانچنے کے لیے مزید ڈیٹا کی ضرورت ہے، لیکن ان سب کے باوجود، یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ عن قریب ہم اے آئی کی مدد سے جسم میں پوشیدہ ٹیومرز کا بروقت سراغ لگانے میں کام یاب ہوجائیں گے۔ (مضمون نگار، سِول اسپتال، حیدرآباد کے شعبہ گیسٹرو انٹرولوجی سے بطور چیف میڈیکل آفیسر وابستہ ہیں)