• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں ایچ آئی وی کا خطرناک پھیلاؤ، کیسز میں 4.3 گنا، اموات میں 6.4 گنا اضافہ

کراچی (بابر علی اعوان) پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی صورتحال تیزی سے تشویشناک ہوتی جا رہی ہے، جہاں ایک جانب دنیا بھر میں اس مرض کے نئے کیسز میں کمی آ رہی ہے، وہیں پاکستان میں 2010کے بعد ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد میں4.3گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور 2024تک یہ تعداد بڑھ کر تقریباً ساڑھے تین لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس کی بڑی وجہ صحت کے نظام میں موجود سنگین خامیاں، غیر محفوظ طبی طریقہ کار اور ناقص انفیکشن کنٹرول ہیں۔ میڈیکل مائیکرو بایولوجی اینڈ انفیکشس ڈیزیزز سوسائٹی آف پاکستان نے اس حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک تفصیلی وائٹ پیپر جاری کیا ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں ایڈز سے ہونے والی اموات میں بھی 6.4گنا اضافہ ہوا ہے، جو 2010میں 2,200سے بڑھ کر سالانہ 14,000تک پہنچ چکی ہیں۔ مزید براں صرف 21فیصد متاثرہ افراد کی تشخیص ہو پاتی ہے جبکہ محض 16فیصد علاج حاصل کر رہے ہیں، جو عالمی سطح پر انتہائی کم شرح ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ اب صرف مخصوص ہائی رسک گروپس تک محدود نہیں رہا بلکہ عام آبادی، خصوصاً خواتین اور بچوں تک بھی منتقل ہو رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق تقریباً 39 فیصد کیسز اب ایسے افراد میں سامنے آ رہے ہیں جو عام طور پر کم خطرے والے سمجھے جاتے تھے۔ ملک میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران متعدد بڑے ایچ آئی وی آؤٹ بریک سامنے آئے، جن میں رتوڈیرو، فیصل آباد، کوٹ عمرانہ اور جلال پور جٹاں شامل ہیں۔ خاص طور پر 2019 میں رتوڈیرو لاڑکانہ میں ہونے والا آؤٹ بریک دنیا میں بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے والے بڑے واقعات میں شمار ہوتا ہے، جہاں ایک ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جن میں 82 فیصد بچے 15 سال سے کم عمر تھے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان بچوں میں سے 99 فیصد نے بیماری سے قبل انجیکشن لگوائے تھے جبکہ اکثر کی مائیں ایچ آئی وی سے محفوظ تھیں، جس سے واضح ہوا کہ وائرس طبی غفلت کے باعث پھیلا۔ حالیہ برسوں میں بھی صورتحال بہتر نہیں ہو سکی۔ 2024 میں ملتان کے ایک ڈائلیسس یونٹ میں 31 مریضوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی، جہاں ایک ہی ذریعہ انفیکشن سامنے آیا۔ اسی طرح کراچی کے علاقے سائٹ ٹاؤن میں 2025 کے دوران ایک ہی صحت مرکز سے منسلک 15 سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی، جن میں کم از کم دو اموات بھی ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں “انجیکشن کلچر” اس بحران کی ایک بڑی وجہ ہے، جہاں ہر فرد کو سالانہ اوسطاً 8 سے 13 انجیکشن لگائے جاتے ہیں۔ عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ انجیکشن زیادہ مؤثر ہوتے ہیں، جبکہ بعض ڈاکٹرز مالی فوائد کے لیے بھی اس رجحان کو فروغ دیتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق 38 فیصد تک ڈاکٹرز سرنجز کو دوبارہ استعمال کرتے ہیں، جو انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اس کے علاوہ غیر محفوظ خون کی منتقلی، غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس، اور اتائی (غیر تربیت یافتہ) ڈاکٹرز بھی ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے 44 فیصد نئے کیسز بھی غیر محفوظ انجیکشنز سے جڑے ہوئے ہیں، جو نظام صحت کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ میں صحت کے عملے کو درپیش خطرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں 66 سے 77 فیصد ہیلتھ ورکرز کو سوئی چبھنے کے واقعات پیش آتے ہیں جبکہ 90 فیصد ایسے مواقع پر دستانے بھی استعمال نہیں کیے جاتے۔

اہم خبریں سے مزید