• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایز راج نے بر صغیر کو 200 برس میں جو چند تحفے دیے، ان میں سے دو ایسے ہیں کہ انگلش راج کی بہت سی خطائیں معاف کرنے کو جی چاہتا ہے ایک تو ریلوے کا جال جس نے ذریعےآمد ورفت اور معاشی ترقی کی ٹھوس بنیاد رکھ دی اور جس کی وسعت اور اعلیٰ کارکردگی کا جواب 1947 تک براعظم ایشیا میں کہیں نہیں تھا ۔دوسرا تحفہ بی بی سی (برٹش براڈکاسٹنگ)ـ اس کا خبریں فراہم کرنے اور پھیلانے کا نظام اس قدر پختہ با اثر، باکمال اور مستعد ہے کہ برطانوی حکومت سے ناراضی و برہمی کے باوجود اکثر بڑے لوگ اسی نشریاتی ادارے سے خبریں اطلاعات ، معلومات اور تبصرے حاصل کرتے رہے ہیں ـ اور کر رہے ہیں ۔

سو آج کچھ حال بارے اس برطانوی نشریاتی ادارےہو جائے کہ گزشتہ دنوں جب میں لندن میں تھا تو میرے ایک قدیمی لاہوری دوست جو برطانوی ادارے کی انتظامیہ میں ہیں نے ایک دعوت نامہ ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا کہ آج شام بی بی سی ایشین سروس کے تحت برمی سیکشن کی رنگا رنگ تقریب منعقد ہو رہی ہے اگر آپ پسند کریں تو شام کو اس تقریب میں شرکت کر لیں۔میں نے وہ شام بی بی سی میں گزاری جہاں برمی چہرے تو کم کم نظر آئے البتہ دو ہمسایہ ملکوں کی آبادی ناوؤنوش میں مصروف ضرور نظر آئی ۔وہاں نہ تو نفرتیں تھیں نہ ڈھکی چھپی منافقتیں اور نہ علانیہ مخالفتیں ۔ ایسا لگتا تھا دونوں طرف کے دانشور اور بیدار مغز لوگ اور امن سے مخلص لوگ اپنی مٹھیوں میں نفرت کی اس ریت کو زیادہ دیر تک تھام نہ سکیں گے۔

کہتے ہیں کہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو صبح شام شیو کرتے اور کپڑے بدلتے وقت بی بی سی پروگرام’ آن‘کر لیتے تھے۔ ان کے دفتر میں اکثر بی بی سی سنا اور دیکھا جاتا تھا آج کل تو دوسرے کئی ریڈیو پروگرام بھی کافی مقبول ہو گئے ہیں لیکن جیسے برطانوی پارلیمنٹ کو باقی تمام پارلیمنٹوںکی ماں کہا جاتا ہے۔ ویسے ہی بی بی سی بھی سارے عالمی نشریاتی اداروں کی ’’خالہ‘‘ہے اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ اس نے خبر رسانی کے معیار و آداب قائم کیے ،برتے، پھیلائے اور مخالف ہواؤں سے بچا کر انہیں پالا پوسا بلکہ اگر گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو اسی نے برصغیر میں ہونے والے بیشتر واقعات کی پہلے سے نشاندہی کر دی تھی، یہ اعتراف کر لینے کے بعد اگر میں بی بی سی پر انگلی اٹھاؤں تو میری یہ انگلی ملزم پر اٹھنے والی مدعی کی انگلی نہیں ہوگی۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں مادری، پدری اور صوبائی وعلاقائی نسبت سے اردو بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد دنیا کے ہر خطے سے زیادہ ہے سب سے بڑے صوبے اور سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پنجابی اور صوبہ پنجاب کے عوام بھی اردو سمجھتے اور بولتے ہیں۔ بی بی سی پروگراموں کو شوق سے سننے والے اورپرکھنے والے بھی گنتی اور معیار کے لحاظ سے یہیں زیادہ بستے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ بی بی سی کا اردو سیکشن اردو پروگرام کا فوکس بھارت پر رکھتا ہے؟ جب کہ ہم سب جانتے ہیں دریائے راوی کے اس پار یعنی پاکستان میں اردو میں بھی کسی قدر فرق آیا ہے پاکستان میں جو اردو بولی پڑھی یا لکھی جاتی ہے وہ بھارتی اردو سے مختلف اور الگ ہے پھر کیا وجہ ہے کہ بی بی سی اردو سیکشن پاکستان میں مروجہ اردو کی جگہ سرحد سے اس پار گنگا جمنا میں دھلی ہوئی اردو تھوپنا چاہتا ہے؟

یہاں مجھے روسی ادیب مراد مرزائیف کی وہ کتاب یاد آرہی ہے جو انہوں نے اردو کے بارے میں لکھی تھی اور جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ بھارتی اور پاکستانی اردو میں کہاں کہاں فاصلہ اور فرق نمودار ہو گیا ہے اور ہو رہا ہے۔ قوموں تہذیبوں کی تقدیر کا حال کسی پر کھلا ہوا نہیں لیکن قیاس کہتاہے کہ ایشیا کی قدیم تہذیبوں اور سلطنتوں کے یہ تینوں وارث (پاکستان، بھارت ،بنگلہ دیش) مل جل کر جینا نہ سیکھ سکے تو ان کا جینا بھی دشوار ہو جائے گا ،چاہے یہ کشمیر کے مسئلے پر ہو، بابری مسجد یا رام جنم بھومی کے تنازعات پر۔ دنیا کی تمام ترقی یافتہ اور زبردست ہتھیاروں سے لیس طاقتیں بہت دنوں سے نقشے جمائے ہوئے ہیں کہ اگر عالمی جنگ کو روئے زمین پر نازل ہونا ہی ہے اور جنگ سے بچنے کی کوئی بھی تدبیر کار گر نہ ہو سکی تو اگلی تباہ کاری ایشیا کے اس حصے کی طرف دھکیل دی جائے گی جس میں چین اور ایران سمیت مندرجہ بالا تینوں ملک بستے ہیں۔ دیوانگی تپش اور لو کی طرح سب کے جسم جھلس رہی ہے خمار ٹوٹے گا تو زبانوں کے قریب تر آنے کا عام فہم بنانے کا ایک دوسرے کے الفاظ، استعارے اپنانے کا سلسلہ بھی زور و شور سے اٹھے گا۔ بی بی سی کے ہوشمند ذی علم اور وسیع النظر اور قابل قدر یہ نقطہ ضرور جانتے ہیں ۔

قاتل کے طرفدار کا کہنا ہے کہ اس نے

مقتول کی گردن پہ کبھی سر نہیں دیکھا

تازہ ترین