نادیہ احمد
؎ ہاتھ پاؤں بھی بتاتے ہیں کہ مزدور ہوں مَیں… اور ملبوس بھی کہتا ہے کہ مجبور ہوں مَیں…سارا سال میرا کٹ جاتا ہے گُم نامی میں… بس یکم مئی کو لگتا ہے کہ مشہور ہوں مَیں۔ ہر سال کی طرح اِمسال بھی یکم مئی کو پاکستان سمیت دُنیا بَھر میں مزدوروں کا یوم منایا گیا۔
تاہم، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایک مزدور، جو کسی مُلک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، صدیوں سے ناانصافی اور استحصال کی چکّی میں پستا چلا آرہا ہے اور اِسی ناانصافی ہی کے خلاف آج سے 140 برس قبل یکم مئی 1886ء میں امریکی شہر، شکاگو کی سڑکوں پر مزدوروں نے ایک عظیم الشّان جلوس کی صُورت میں اپنے حقوق کے لیے پُرامن مظاہرہ کیا۔
تاہم، سرمایہ دارانہ ریاست اور نظام کے رکھوالوں نے ان نہتّے، پُرامن مظاہرین پر گولیاں برسائیں، جس کے نتیجے میں شکاگو کی سڑک لہولہان ہوگئی۔ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے والے سیکڑوں مزدور لقمۂ اجل بن گئے۔ بعد ازاں، باقی بچ جانے والے محنت کَشوں نے سڑک پر بہتے خُون میں اپنا سفید پرچم ڈبو کر اُسے سُرخ عَلم میں تبدیل کر دیا اور اس قتلِ عام کے بعد سے ہر سال یکم مئی کا دن مزدوروں کے عالمی یوم کے طور پر منایا جانے لگا۔ اس موقعے پر محنت کَشوں سے اظہارِ یک جہتی کے لیے جلسے، جلوسوں کے انعقاد کے ساتھ ریلیاں بھی نکالی جاتی ہیں،جن میں مزدوروں کے حقوق کے تناظر میں تقاریر کی جاتی ، قراردادیں پاس ہوتی ہیں۔
واضح رہے، آج سے140برس قبل شکاگو میں ہونے والا مزدوروں کا قتلِ عام ایک تاریخ ساز واقعہ اور ہزاروں سال پر محیط انسان کے ارتقائی مراحل کی اہم نشانِ منزل ہے، لیکن کیا کوئی جانتا ہے کہ محنت کشوں کی ان قربانیوں کے بعد اُن کے حقوق کے حصول کے لیے شروع ہونے والا سفر کہاں تک پہنچا ہے؟ اپنے اردگرد نظر دوڑائی جائے، تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ معیشت سے وابستہ یہ محنت کَش آج بھی غُربت کےجال میں بُری طرح جکڑے ہوئے ہیں اور ان کا استحصال کوئی ڈھکی چُھپی بات نہیں۔
ہر چند کہ دُنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال عالمی یومِ مزدورمنایا جاتا ہے اور اس موقعے پر مختلف مزدور تنظیمیں اور ٹریڈ یونینز محنت کَشوں کے حقوق کے لیے آوازیں بھی بلند کرتی ہیں، لیکن اس کے باوجود مُلک کی بیش تر صنعتوں اور دیگر اداروں میں آج بھی مزدوروں کے اوقاتِ کار اور کم از کم اُجرت کے قانون پرعمل درآمد نہیں ہورہا۔
دوسری جانب مختلف مزدور تنظیموں کی کوششوں کے نتیجے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ مزدوروں کے حقوق اور ان کی انجمن سازی کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی، لیکن آج کوئی اس موضوع پر بات کرنے کی بھی جرأت نہیں کرتا۔ مزدوروں کے حقوق کے ضمن میں پاکستان جیسا ترقّی پزیر مُلک تو ایک طرف، مغرب کے ترقّی یافتہ، انسانی حقوق کے عَلم بردار اور ان کے احترام کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ممالک کا بھی یہی حال ہے۔
اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ برطانیہ جیسے ترقّی یافتہ مُلک میں کم ازکم اُجرت کا قانون تو منظور ہوچُکا ہے، لیکن اس پرعمل درآمد کا یہ حال ہے کہ مزدور ایک سو کلو آٹے کی بوری، اُٹھا توسکتا ہے، لیکن خریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔
اصولاً تو ہمیں ان محنت کَشوں، مزدوروں کا احسان مند ہونا چاہیے کہ جو مُلکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے انتہائی کم اُجرتوں پر نہایت نامساعد حالات میں بھی خدمات انجام دیتے ہیں، جب کہ ہوش رُبا منہگائی کے ہاتھوں روز جیتے، روز مَرتے بھی ہیں۔
واضح رہے، ایک گدھا گاڑی چلانے والا، اینٹیں ڈھونے، ہوٹل پر کام کرنے والا، ’’چھوٹا‘‘ اور ہمارے گھروں، دفاتر، صنعتوں اور تجارتی مراکز کے باہر بیٹھے سکیوریٹی گارڈز یہ سب وہ مزدور ہیں، جو روزمرّہ زندگی میں ہماری معاونت کرتے ہیں، لیکن کیا ہم میں سے کوئی بھی اُنہیں اُن کے وہ حقوق دیتا ہے، جن کے وہ بجا طور پرحق دار ہیں۔ ؎ روٹی امیرِ شہر کے کُتوں نے چھین لی… فاقہ غریبِ شہر کے بچّوں میں بٹ گیا… چہرہ بتا رہا تھا کہ اسے مارا ہے بُھوک نے …حاکم نے یہ کہا کہ کچھ کھا کے مر گیا۔
منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والوں کو اس بات کی کیا خبر کہ بمشکل دو وقت کی روٹی کمانےوالےکس طرح زندگی کی قید کاٹ رہے ہیں۔ وہ کس طرح نسل در نسل اس اُمید پر جیتے چلے آرہے ہیں کہ کبھی تو کوئی مسیحا آئے گا کہ جو ان کے ٹوٹے خوابوں کی کِرچیاں، ان کے زخمی و پارہ پارہ دِلوں سے نکال کر ان کے چھالے بَھرے قدموں تلے قالین بچھائے گا، مگر یہاں قالین تو کیا، قدموں تلے سے زمین بھی کھینچی جا رہی ہے۔ تب ہی روزانہ اَن گنت محنت کش حالات سے لڑتے لڑتے زندگیوں کی بازی ہاررہے ہیں۔ ؎ یہاں مزدور کو مرنے کی جلدی یوں بھی ہے محسنؔ… کہ زندگی کی کشمکش میں کفن منہگا نہ ہو جائے۔
اس عالم میں دِل سےایک آہ سی اُٹھتی ہے۔ ایک آنسو چشمِ نم سے ٹپکتا ہے اور زمیں بوس ہوجاتا ہے، مگر ایک قوم کا فرد ہونے کی حیثیت سے یہ جان لینا ضروری ہے کہ مزدور ہویا محنت کَش، کسی کے درد کے علاج کے لیے محض بیانات دینا اور قراردادیں منظور کرنا کافی ہیں، کیوں کہ وہ الفاظ، جن کی تائید کے لیے زندگی متحرک نہ ہو، کسی کی تقدیر نہیں بدل سکتے۔
اگر ہمیں مزدوروں کے حالات بدلنے اوران کا معیارِ زندگی بہتر کرنا ہے، تو میدانِ عمل میں آنا ہوگا۔ اس طبقے کے جائز حقوق کے لیے سب کو مِل جُل کرجدوجہد کرنا ہوگی۔