• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر سال 3مئی کو منایا جانے والا ’’عالمی یومِ آزادیٔ صحافت‘‘ سچ، شعور اور جمہوریت کے تسلسل کی علامت ہے۔ پاکستان کے تناظر میں یہ یوم خُود احتسابی کے تقاضے کے ساتھ یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ کیا صحافت واقعی آزاد ہے یا بیش تر صحافی دباؤ، خطرات اور غیریقینی کے سائے میں اپنی ذمّےداریاں نبھا رہے ہیں۔

امسال ’’عالمی یومِ آزادیٔ صحافت‘‘ کا موضوع ’’امن کی تشکیل‘‘ رکھا گیا ہے، جو اس حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ پائےدار امن کے لیے معلومات تک رسائی، شفّافیت، مکالمہ اور باہمی اعتماد بنیادی عناصر ہیں، لیکن پاکستان جیسے مُلک میں کہ جہاں صحافیوں کو خبر دینے سے پہلے اپنی سلامتی سے متعلق خدشات لاحق ہوں، سچ بولنے پر دھمکیوں، مقدّمات یا معاشی دباؤ کا سامنا ہو، وہاں قیامِ امن کے خواب کی تعبیر ادھوری ہی دکھائی دیتی ہے۔

یہاں صحافت صرف عوام کو آگاہ کرنے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ ایک ایسی جدوجہد بھی ہے کہ جس میں بقا اور سچ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ یہاں صحافیوں کو خبر حاصل کرنے، تصدیق کرنے اور اس کی نشر و اشاعت سمیت ہر ہر مرحلے پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہی بندشیں آزادیٔ اظہار کو محدود کردیتی ہیں۔

جمہوریت اور صحافت: جمہوریت کی بقا کے لیے آزاد صحافت ناگزیر ہے، کیوں کہ یہی وہ ذریعہ ہے جو ریاستی اداروں کو جواب دہ بناتا اور عوام کو باخبر رکھتا ہے۔پاکستان میں بھی صحافت یہ کردار ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرتی ہے، مگر اسے اکثر طاقت وَر حلقوں کے دباؤ، سیاسی مداخلت اور سماجی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ڈیجیٹل دَور اور نئے چیلنجز: ڈیجیٹل دَور نے معلومات کی ترسیل کو بےحد تیز کردیا ہے، مگر اس کے ساتھ نئے چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کے ذریعے غلط معلومات، افواہوں اور پراپیگنڈے کا پھیلاؤ ایک سنگین مسئلہ بن چُکا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ مواد نے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور اس صورتِ حال میں صحافیوں کی ذمّے داری بھی بڑھ گئی ہے، مگر ساتھ ہی وہ آن لائن ہراسانی، ٹرولنگ اور کردار کُشی کے بھی شکار ہورہے ہیں۔ اور اس ضمن میں بالخصوص خواتین صحافیوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔

معاشی دباؤ: پاکستانی صحافت کے لیے معاشی دباؤ بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس وقت کئی خبررساں ادارے مالی بُحران کا شکار ہیں کہ اُن کی اشتہارات کی آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے، جب کہ صحافیوں کو تن خواہوں کی ادائی میں تاخیر یا بے روزگاری کا سامنا ہے۔

پاکستان میں سرکاری اشتہارات کو بطور دباؤ استعمال کیا جانا ایک ایسی حقیقت ہے، جو صحافتی آزادی کو متاثر کرتی ہے اور جب میڈیا کی مالی خودمختاری خطرات کی زد میں ہو، تو اس کی آواز بھی لامحالہ کم زور ہوجاتی ہے۔

صحافیوں کا تحفّظ: اس وقت پاکستان میں صحافیوں کی عدم سلامتی ایک سنگین مسئلہ بن چُکی ہے۔ پیشہ ورانہ ذمّےداریوں کی انجام دہی کے دوران دھمکیوں، تشدّد اور جبری گُم شدگی جیسے واقعات عام ہوچُکے ہیں، جب کہ کئی صحافیوں کو اپنی فرائض کی تکمیل میں جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔

آزاد صحافت کے لیے ان غیرموافق حالات میں بالخصوص علاقائی صحافی زیادہ خطرات سے دوچار ہیں، کیوں کہ اُن کے پاس وسائل اور تحفّظ کے مناسب انتظامات نہیں، جب کہ مزید تشویش ناک اَمر یہ ہے کہ ان جرائم کے مرتکب اکثر افراد کو سزا بھی نہیں ملتی، جس کے نتیجے میں صحافی خُود کو ہمہ وقت عدم تحفّظ کا شکار محسوس کرتے ہیں۔

سینسر شپ: قانونی سطح پر بھی پاکستانی صحافت کو مختلف رُکاوٹوں کا سامنا ہے۔ سائبر کرائم سے متعلق قوانین اور دیگر ضوابط بعض اوقات صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ نشریاتی اداروں پر پابندیاں، مواد کی نگرانی اور لائسینسنگ کے مسائل بھی آزادیٔ صحافت کو متاثر کرتے ہیں اور ایسے حالات میں غیرجانب دارانہ اور آزادانہ رپورٹنگ ایک مشکل عمل بن جاتا ہے۔

سیاسی تقسیم: سیاسی تقسیم نے بھی پاکستانی صحافت کومتاثر کیا ہے۔ اکثر خبررساں اداروں کو مختلف سیاسی جماعتوں یا نظریات سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے، جس سے صحافیوں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ اس ماحول میں سچ کی تلاش مزید مشکل ہوجاتی ہے، کیوں کہ ہر خبر کو کسی نہ کسی سیاسی تناظر میں پرکھا جاتا ہے۔

نتیجتاً صحافی دباؤ کا شکار ہو کر محتاط رویّہ اختیار کرتے ہیں یا بعض اوقات مکمل خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں۔ دوسری جانب بعض صحافیوں نے مخصوص سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستگی کواپنی صحافتی ذمّےداریوں سے زیادہ اہمیت دینا شروع کردی ہے اور ان کا کام صرف کسی مخصوص سیاسی جماعت سے ہم دردی اور مخالف سیاسی جماعتوں کے خلاف پراپیگنڈا کرنا ہی رہ گیا ہے۔

قربانیاں اور عزم: خوش آئند بات یہ ہے کہ ان تر تمام چیلنجز کے باوجود پاکستانی صحافی اپنی ذمّےداریاں نبھانے میں مصروف ہیں۔ وہ محدود وسائل، خطرناک حالات اور شدید دباؤ کے باوجود سچ سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں اوران کی یہ جدوجہد اس بات کی عکّاسی کرتی ہے کہ صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مِشن ہے۔

اصلاحات کی ضرورت: دُنیا بَھر میں صحافت کے لیے مطلوبہ تعلیم کو لازم قراردیا جاتا ہے، مگر افسوس ناک اَمر یہ ہے کہ پاکستان میں شعبۂ صحافت کےلیےتعلیم کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کی صحافتی برادری میں ایسے افراد باآسانی مل جاتے ہیں، جن کی تعلیم میٹرک یا اس سے بھی کم ہے۔پاکستان میں صحافت کے شعبے کو باوقار بنانے کے لیے ڈاکٹرز، انجینئرز اور وکلاء کی طرح صحافیوں کے لیے بھی کم ازکم تعلیم کا معیار مقرر کرنا ہوگا۔

دوسری جانب صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قوانین نافذ کیے جائیں اوران پرعمل درآمدیقینی بنایا جائے۔ نیز، نظامِ انصاف کو مضبوط کیا جائے تاکہ صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوّث افرادکو سزامل سکے اورخوف کی فضا کا خاتمہ ہو۔

معاشی خودمختاری: صحافت اورصحافیوں کی بہتری کے لیے خبر رساں اداروں کی معاشی خودمختاری کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے اشتہارات کے نظام کو شفّاف بنایا جائے اور میڈیا آئوٹ لیٹس کو متبادل مالی ذرائع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ کسی دباؤ کے بغیر اپنی پالیسی تشکیل دے سکیں۔ اس کے ساتھ ہی صحافیوں کو ملازمت کے بہتر حالات اور پیشہ ورانہ تحفّظ فراہم کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔

ڈیجیٹل تحفّظ: ڈیجیٹل دَور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائبر سکیوریٹی کو بہتر بنایا جائےاورآن لائن ہراسانی کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔ نیزصحافیوں کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور خطرات سے نمٹنے کی تربیت دی جائے تاکہ وہ محفوظ انداز میں اپنی ذمّےداریاں ادا کرسکیں۔ علاوہ ازیں، عوام میں میڈیا لٹریسی کو فروغ دینا بھی نہایت اہم ہے تاکہ وہ معلومات کی تصدیق کر سکیں اور پراپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔

عالمی یومِ آزادیٔ صحافت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ سچ کی آواز کو دبانا دراصل معاشرے کی ترقّی روکنا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں یہ پیغام اور بھی اہم ہوجاتا ہے، کیوں کہ یہاں صحافت کئی محاذوں پر جدوجہد کر رہی ہے۔

اگر ہم ایک پُرامن، مستحکم اور باشعور معاشرہ چاہتے ہیں، تو ہمیں آزادیٔ صحافت کو یقینی بنانا ہوگا، کیوں کہ جہاں سچ بولنے کی آزادی ہوتی ہے، وہیں انصاف جنم لیتا ہے اور جہاں انصاف قائم ہو، وہیں حقیقی امن پروان چڑھتا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید