• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رابعہ فاطمہ

انسان نے جب پہلی بار مٹّی کی تختیوں پر اپنے تجربات کندہ کیے، تو اُس نے دراصل فنا کے مقابل، بقا کا اعلان کیا تھا۔ تحریر، وقت کے خلاف مزاحمت تھی اور کتاب اُسی مزاحمت کا تسلسل ہے۔

یہ محض کاغذ اور سیاہی کا مجموعہ نہیں، انسانی شعور کی تہہ در تہہ تاریخ ہے۔ ہر کتاب اپنے عہد کی گواہ بھی ہوتی ہے اور آئندہ زمانوں کی رہنما بھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا آج کا انسان اِس وراثت کا اہل بھی ہے یا وہ معلومات کے بے ہنگم شور میں فہم کی دھیمی، مگر گہری آواز کھو چُکا ہے؟

ہمارا عہد کتابوں کی قلّت کا نہیں، عدم توجّہی کا عہد ہے۔ کتب خانے آباد ہیں، اشاعتیں جاری ہیں، مگر پڑھنے کا حوصلہ سُکڑ رہا ہے۔ ہم معلومات کے سمندر میں کھڑے ہیں، مگر فہم کی پیاس بُجھنے کی بجائے بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ اسکرین کی چمک نے آنکھیں مصروف رکھی ہوئی ہیں، مگر دل کو وہ سکون میسّر نہیں، جو کسی خاموش گوشۂ مطالعہ میں نصیب ہوتا تھا۔

مطالعہ جو کبھی تامل، تفکّر اور تنہائی کا باوقار عمل تھا، اب سرسری نگاہ، جلد نتیجے اور فوری رائے میں سمٹتا جا رہا ہے۔ انگریزی مفکّر، Francis Bacon نے صدیوں پہلے لکھا تھا کہ’’ مطالعہ انسان کو کامل بناتا ہے‘‘ اور یہ جملہ، محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ انسانی تربیت کا فلسفہ ہے۔ کامل انسان وہ نہیں، جو سب کچھ جانتا ہو، بلکہ وہ ہے، جو جاننے کی طلب رکھتا ہو، سوال اُٹھاتا ہو اور دلیل کے بغیر کوئی بات قبول نہ کرتا ہو۔

آج جب رائے دینا آسان اور سوچنا دشوار ہو چُکا ہے، بیکن کی یہ صدا مزید معنی خیز محسوس ہوتی ہے۔ اِسی تسلسل میں Mortimer J. Adler نے اپنی کتاب’’ How to Read a Book ‘‘میں واضح کیا کہ مطالعہ ایک فعال مکالمہ ہے۔ قاری کو متن کے سامنے سَر جُھکا کر نہیں، ذہن اُٹھا کر بیٹھنا چاہیے۔ اُسے سوال کرنا چاہیے، استدلال کو پرکھنا چاہیے اور جہاں ضرورت ہو، اختلاف کی جرأت بھی دِکھانی چاہیے۔ یہی رویّہ جمہوری ذہن کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر مطالعہ محض معلومات جمع کرنے کا ذریعہ رہ جائے، تو ذہن آزاد نہیں ہوتا، وہ صرف بَھر جاتا ہے۔ ڈیجیٹل عہد نے اِس عمل کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔

امریکی مصنّف، Nicholas Carr نے’’ The Shallows ‘‘میں خبردار کیا کہ انٹرنیٹ ہماری توجّہ منتشر کر رہا ہے۔ منتشر ذہن، گہرائی سے محروم ہو جاتا ہے اور گہرائی کے بغیر فکر، محض ردّ ِعمل بن کر رہ جاتی ہے۔ ہم ایک پیراگراف مکمل نہیں کر پاتے کہ کوئی اطلاع ہماری توجّہ کا تسلسل توڑ دیتی ہے۔ یوں مطالعہ ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے اور ٹکڑوں میں بٹی فکر کبھی مکمل بصیرت پیدا نہیں کر سکتی۔ لیکن مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں، ترجیح کا ہے۔

اسکرین کو رَد کرنا ممکن نہیں، تو کتاب کو تَرک کرنا بھی دانش مندی نہیں ہے۔ ہمیں نئی نسل کو سِکھانا ہوگا کہ تیز رفتار معلومات کے درمیان ٹھہر کر پڑھنا ایک شعوری انتخاب ہے۔ یہ انتخاب شور، سطحیت اور اُس عجلت کے خلاف ہے، جو انسان کو سوچنے سے پہلے بولنے پر آمادہ کرتی ہے۔ ٹھہر کر پڑھنا دراصل خُود کو سُننے کی مشق ہے۔

اگر مطالعہ کم زور پڑ جائے، تو سب سے پہلے سوال کم زور پڑتے ہیں اور جب سوال مر جاتے ہیں، تو جمہوریت رسمی رہ جاتی ہے۔ تخلیق، تقلید میں بدل جاتی ہے اور اخلاق محض نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔ کتاب، انسان کو اختلاف کی تہذیب سِکھاتی، برداشت کی وسعت عطا کرتی اور سب سے بڑھ کر خُود احتسابی کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں، جن پر زندہ تہذیبیں قائم رہتی ہیں۔

مطالعہ اور فکری خُود مختاری

مطالعہ دراصل ذہنی آزادی کی پہلی مشق ہے۔ جو شخص پڑھتا ہے، وہ محض معلومات حاصل نہیں کرتا، اپنی سوچ کا دائرہ وسیع کرتا ہے۔ کتاب، انسان کو سِکھاتی ہے کہ ہر بات کے کئی زاویے، ہر مسئلے کے کئی پہلو اور ہر رائے کے پیچھے کوئی استدلال پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہی شعور، فکری خود مختاری کی بنیاد ہے۔ جو ذہن مختلف آراء سے گزرتا ہے، وہ ایک ہی بیانیے کا اسیر نہیں رہتا۔ برطانوی فلسفی، Bertrand Russell نے اپنی کتاب’’ The Problems of Philosophy ‘‘میں لکھا کہ فلسفہ یقینی جوابات نہیں دیتا، بلکہ ذہن کو وسعت دیتا ہے۔

یہ وسعت، دراصل شکوک کی تربیت ہے۔ شک یہاں انکار نہیں بلکہ دریافت کی خواہش ہے اور مطالعہ اسی خواہش کو زندہ رکھتا ہے۔ جب قاری دلیل کو پرکھتا ہے، تو اپنی رائے بھی جانچنے لگتا ہے اور یہی خود احتسابی اُسے فکری بلوغت عطا کرتی ہے۔ اِسی تناظر میں جرمن نژاد مفکّرہ، Hannah Arendt نے’’ The Life of the Mind ‘‘میں سوچنے کو اخلاقی ذمّے داری قرار دیا۔

اُن کے نزدیک وہ معاشرہ خطرناک ہے، جہاں لوگ سوچنا چھوڑ دیں اور محض ہجوم کی آواز دُہرانے لگیں۔ مطالعہ اس ہجومیت کے خلاف ایک خاموش، مگر مؤثر دفاع ہے۔ یہ فرد کو داخلی مکالمہ سکھاتا ہے اور یہی داخلی مکالمہ، بیرونی مکالمے کو مہذّب بناتا ہے۔ فکری خود مختاری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر بات کی مخالفت کرے، بلکہ مطلوب یہ ہے کہ وہ ہر بات کو دلیل کے کسوٹی پر پرکھے اور کتاب ہمیں یہی سلیقہ سِکھاتی ہے۔

وہ ہمیں بتاتی ہے کہ اختلاف دشمنی اور سوال گستاخی نہیں۔ جس معاشرے میں مطالعے کی روایت مضبوط ہوتی ہے، وہاں مباحثے تلخ نہیں، دلیل کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ مگر جب مطالعہ کم زور پڑ جائے، تو گفتگو نعرے میں بدل جاتی ہے۔ آج کے ڈیجیٹل ماحول میں سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ رائے بہت تیزی سے بنتی اور پھیلتی ہے، مگر اس کے پیچھے مطالعے اور تحقیق کی گہرائی نہیں ہوتی۔

ہم سُرخی پڑھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں، اقتباس دیکھ کر نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں اور مختصر پیغام کو مکمل سچ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یہ جلد بازی، فکری خود مختاری کو محدود کر دیتی ہے اور مطالعہ اِس جلد بازی کے مقابلے میں توقف سِکھاتا ہے اور توقف ہی بصیرت کی پہلی شرط ہے۔

ڈیجیٹل عہد میں گہرے مطالعے کی ضرورت:

موجودہ زمانے کی سب سے نمایاں خصوصیت’’رفتار‘‘ ہے۔ خبر لمحوں میں پھیلتی ہے، رائے سیکنڈز میں بنتی اور ردّ ِعمل فوری طور پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ اِس تیز رفتاری نے زندگی کو سہولت تو دی ہے، مگر ذہن سے ٹھہراؤ چھین لیا ہے۔ توجّہ، جو کبھی مسلسل اور مرتکز ہوا کرتی تھی، اب ٹکڑوں میں تقسیم ہو چُکی ہے۔ انسان ایک ہی وقت میں کئی پیغامات، کئی اسکرینز اور کئی آوازیں سُن رہا ہوتا ہے، مگر کسی ایک پر مکمل توجّہ نہیں دے پاتا۔

امریکی مصنّف، Nicholas Carr نے اپنی کتاب’’ The Shallows ‘‘میں اِس ذہنی انتشار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ انٹرنیٹ ہماری توجّہ کو سطحی بنا رہا ہے۔ جب ذہن مسلسل مختصر معلومات کا عادی ہو جائے، تو وہ طویل استدلال کو برداشت نہیں کر پاتا۔ گہرا مطالعہ صبر چاہتا ہے اور صبر ایک ایسی خُوبی ہے، جو تیز رفتار دنیا میں ناپید ہوتی جا رہی ہے۔

اِسی مسئلے کو علمی سطح پر امریکی نیورو سائنس دان، Maryanne Wolf نے اپنی کتاب’’ Reader, Come Home ‘‘میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اُن کے مطابق، مطالعہ محض الفاظ کی شناخت نہیں، ایک عصبی عمل ہے، جس میں تجزیہ، تنقید اور تخیّل شامل ہوتے ہیں۔ اگر ہم مستقل طور پر سَرسَری مطالعے کے عادی ہو جائیں، تو دماغ کے وہ عصبی راستے کم زور پڑ سکتے ہیں، جو گہرے فہم کے لیے ضروری ہیں۔ ڈیجیٹل ماحول میں سب سے بڑا مسئلہ توجّہ کا انقطاع ہے۔

ایک پیراگراف پڑھتے ہوئے بھی ذہن دیگر امور میں اُلجھا رہتا ہے اور اِس بے چینی کے ساتھ مطالعے کی گہرائی ممکن نہیں۔ مطالعے میں فکر و تدبّر پیدا کرنے کے لیے خاموشی، یک سُوئی اور ذہنی سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے، جس میں انسان متن کے اندر اُترتا ہے، اس کا پس منظر سمجھتا ہے اور اس کے مفہوم کو اپنے تجربے سے جوڑتا ہے۔ لیکن اِس تصویر کا دوسرا رُخ بھی ہے۔

ڈیجیٹل ذرائع خُود دشمن نہیں ہیں، وہ محض اوزار ہیں اور مسئلہ اُن کے استعمال کا ہے۔ اگر قاری شعوری طور پر وقت مقرّر کرے، نوٹیفکیشن بند کرے اور یک سُوئی کے ساتھ مطالعہ کرے، تو یہی ٹیکنالوجی علم تک رسائی کو وسیع بنا سکتی ہے۔ گویا مسئلہ رفتار کا نہیں، بے قابو رفتار کا ہے۔ گہرے مطالعے کی ضرورت آج پہلے سے زیادہ ہے کہ دنیا پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو چُکی ہے اور پیچیدہ مسائل، مختصر نعروں سے حل نہیں کیے جا سکتے۔

ان کے لیے تجزیہ، تحقیق اور صبر درکار ہے۔ یہی صفات کتاب کے ذریعے پروان چڑھتی ہیں۔ جب انسان متن کے ساتھ بیٹھتا ہے، تو وہ جلد نتیجہ اخذ کرنے کی بجائے تدریج سے سوچنا سیکھتا ہے۔ منتشر ذہن معلومات جمع کر سکتا ہے، مگر مرتکز ذہن ہی بصیرت پیدا کرتا ہے اور بصیرت ہی وہ روشنی ہے، جو عہدِ حاضر کے اندھیروں میں راستہ دِکھا سکتی ہے۔

اخلاقی و تہذیبی اقدار کا ضامن:

کتاب محض علم تک رسائی کا ذریعہ نہیں، اخلاقی و تہذیبی شعور کی تربیت کا بنیادی فریم ورک بھی ہے۔ جب انسان کتاب پڑھتا ہے، وہ اپنے تجربات وسیع تر انسانی تناظر میں رکھتا ہے، دوسروں کے دُکھ، اُمیدیں محسوس کرتا ہے اور اپنی رائے کو تنقیدی معیار سے پرکھنا سیکھتا ہے۔ نیل پوسٹ مین اپنی کتاب’’ Amusing Ourselves to Death ‘‘میں واضح کرتے ہیں کہ جب معاشرہ تحریر و مطالعے کی اہمیت کم اور تفریح کو مقدّم رکھتا ہے، تو جمہوری مکالمہ اور اخلاقی رائے کم زور ہو جاتی ہے۔

سطحی مواد انسان کو فوری ردّعمل کا عادی بناتا ہے، جب کہ کتابی مطالعہ دلیل، ترتیب اور فکری تسلسل سِکھاتا ہے۔ مطالعے کی کمی انسانی تہذیب کی یادداشت کو بھی کم زور کر دیتی ہے۔ تاریخ، فلسفہ اور ادب کا مطالعہ انسان کو اپنی ثقافتی اور فکری جڑوں سے جوڑتا ہے۔ جب یہ تعلق کم زور ہو جائے، تو معاشرہ ماضی کے اسباق سے محروم رہ جاتا ہے اور فیصلے محض وقتی رحجانات یا جذبات کے تابع ہو جاتے ہیں۔

یہی وہ صُورتِ حال ہے، جو تہذیبی زوال کی ابتدا کے لیے سازگار ہوتی ہے۔ کتاب انسان کو اختلاف اور برداشت سِکھاتی ہے۔ ناول، سوانح عُمری اور تاریخی متون ہمیں دوسرے انسانوں کے تجربات میں داخل کرتے ہیں اور اِس طرح ہم تنوّع اور مختلف نقطۂ نظر سمجھنے لگتے ہیں۔ کوئی معاشرہ جو کتاب سے دُور ہو جائے، محدود نقطۂ نظر اور سطحی فہم کا عادی بن جاتا ہے اور یہ عادت بعد میں سماجی انتشار اور اخلاقی بے اعتدالی کا سبب بنتی ہے۔ لہٰذا مطالعہ محض علمی مشق نہیں، تہذیبی و اخلاقی ضرورت ہے۔

مؤثر مطالعے کی معنوی بازیافت:

مطالعہ، الفاظ کو نظروں سے گزار دینے کا نام نہیں، یہ ایک تہذیبی عمل ہے، جس میں انسان اپنے شعور کو ترتیب دیتا اور اپنے وجود کو معنی عطا کرتا ہے۔ کتاب سے رشتہ دراصل خُود اپنے باطن سے رشتہ ہے۔ جب قاری کسی گہرے متن میں داخل ہوتا ہے، تو وہ صرف مصنّف کی بات نہیں سُنتا، اپنے اندر پوشیدہ سوالات کی آواز بھی پہچانتا ہے۔

یہی وہ مرحلہ ہے، جہاں مطالعہ معلومات سے بڑھ کر بصیرت میں تبدیل ہوتا ہے۔انگریزی مفکّر، Francis Bacon کے مطابق، کچھ کتابیں چَکھنے کے لیے ہوتی ہیں، کچھ نگلنے کے لیے اور کچھ ایسی ہیں، جنہیں چبا کر ہضم کرنا پڑتا ہے۔ اِس تمثیل میں مطالعے کی تہذیب پوشیدہ ہے۔ بیکن کا اصرار تھا کہ مطالعہ انسان کو مکمل بناتا ہے، گفتگو اُسے تیار کرتی ہے اور تحریر اُسے دقیق بناتی ہے۔ گویا، مطالعہ محض علم کا حصول نہیں، شخصیت کی تعمیر ہے۔ اِسی طرح Mortimer J. Adler نے واضح کیا کہ حقیقی مطالعہ ایک فعال عمل ہے، جس میں سوال، تجزیہ اور مکالمہ شامل ہوتے ہیں۔

ایڈلر کے نزدیک، قاری کو مصنّف کا ہم سفر بننا چاہیے، اس کے استدلال پرکھتے ہوئے اختلاف کی جرأت بھی رکھنی چاہیے۔ رسل کے نزدیک وہ ذہن زندہ ہے، جو ہر بات قبول کرنے سے پہلے اُس پر غور کرتا ہے اور مطالعہ اِسی غور و فکر کی تربیت دیتا ہے۔ اگر کتاب سے رشتہ کم زور ہو جائے، تو سوال کی روایت بھی ماند پڑ جاتی ہے اور معاشرہ تقلید کا اسیر ہو جاتا ہے۔ اِس تناظر میں مطالعے کا زوال، دراصل فکری جمود کی ابتدا ہے۔ جب انسان مطالعہ چھوڑ دیتا ہے، تو وہ سوچنے کی مشق سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ اس طرح مطالعہ انسانی آزادی، اخلاقی شعور اور تہذیبی بقا کا ضامن بن جاتا ہے۔

بہرکیف، مطالعے کے زوال کا نوحہ لکھ دینا آسان، مگر اس کا تدارک تجویز کرنا کہیں زیادہ دشوار ہے۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ڈیجیٹل عہد کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا، البتہ اس کے اندر مطالعے کی نئی معنویت ضرور تلاش کی جا سکتی ہے۔ احیائے مطالعے کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ ہم کتاب کو محض نصابی تقاضا نہ سمجھیں، بلکہ اسے فکری تربیت کا بنیادی وسیلہ تسلیم کریں۔

جب تک تعلیم گاہیں مطالعے کو امتحان سے وابستہ رکھیں گی، تب تک کتاب سے محبّت پیدا نہیں ہو سکے گی۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ مطالعے کو ذوق، مکالمے اور دریافت سے جوڑا جائے تاکہ طالبِ علم اِسے بوجھ نہیں، امکان سمجھیں۔ تعلیمی حکمتِ عملی کے ضمن میں John Dewey نے تجرباتی تعلیم کا تصوّر پیش کیا تھا، جس میں سیکھنا محض معلومات کا حصول نہیں، فعال شرکت کا عمل ہے۔ اگر مطالعے کو مباحثے، تحریری تجزیے اور گروہی مکالمے سے جوڑ دیا جائے، تو طلبہ متن کے ساتھ زندہ تعلق قائم کرتے ہیں۔

اِسی طرح Paulo Freire نے اپنی کتاب’’ Pedagogy of the Oppressed ‘‘میں ’’تنقیدی شعور‘‘ کی اصطلاح استعمال کی اور بتایا کہ تعلیم کا مقصد ذہنوں کو آزاد کرنا ہے، جو گہرے مطالعے کے بغیر ممکن نہیں، کیوں کہ کتاب ہی وہ وسیلہ ہے جو فرد کو اپنی سماجی ساخت پر سوال اُٹھانے کی جرأت دیتی ہے۔ سماجی سطح پر مطالعے کے احیا کے لیے خاندان کا کردار بنیادی ہے۔

وہ گھر جہاں کتاب کو احترام حاصل ہو، وہاں بچّے الفاظ سے مانوس ہو جاتے ہیں۔ ماہرِ تعلیم، Maryanne Wolf اپنی کتاب’’ Reader, Come Home ‘‘میں زور دیتی ہیں کہ بلند آواز میں پڑھنا، مشترکہ مطالعہ اور مکالمہ بچّوں کے دماغ میں گہرے مطالعے کے عصبی راستے مضبوط کرتے ہیں۔

اگر گھروں میں مطالعے کا ماحول بحال ہو جائے، تو اسکول اور جامعات بھی اِس روایت کو آگے بڑھا سکتی ہیں۔ اِس طرح مطالعہ محض تعلیمی سرگرمی نہیں، بلکہ گھریلو تہذیب کا حصہ بن جاتا ہے۔ ڈیجیٹل عہد میں ایک متوازن حکمتِ عملی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو مطالعے کا معاون بنائیں، حریف نہیں۔ آن لائن لائبریریز، تحقیقی جرائد اور کلاسیکی متون کی ڈیجیٹل اشاعت قاری کو سہولت فراہم کرتی ہیں۔

تاہم اس کے ساتھ’’ڈیپ ریڈنگ سیشنز‘‘ اور بغیر مداخلت کے مطالعے کے اوقات مقرّر کرنے بھی ضروری ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ سنجیدہ مکالمے، اخلاقی بصیرت اور تخلیقی ذہانت کا حامل ہو، تو کتاب سے اپنا رشتہ ازسرِنو استوار کرنا ہوگا۔ یہ عمل قانون سازی سے زیادہ ذہنی تربیت کا متقاضی ہے۔

جب فرد مطالعے کو اپنی ذات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھنے لگے، تب ہی اجتماعی سطح پر فکری انقلاب ممکن ہوگا۔ یوں مطالعہ محض ایک عادت نہیں، تہذیبی شعور کی علامت بن جائے گا اور یہی عصرِ حاضر کے بحران کا حقیقی جواب ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید