کوئٹہ سے اندازاً ایک سو بیس کلومیٹر کے فاصلے پر بلوچستان کا ایک اہم اور سیّاحتی علاقہ، زیارت واقع ہے، جو بیک وقت کئی امتیازات کا حامل ہے۔ یہاں حال ہی میں مقامی نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفّظ کے لیے ایک ایسی تحریک شروع کی ہے، جس میں مقامی کمیونٹی جُوق درجُوق شامل ہو رہی ہے۔ یہ علاقہ نہ صرف سیّاحوں کے لیے کشش کا باعث ہے، بلکہ قدرتی وَرثے کے ضمن میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
یہاں کے صنوبر کے جنگلات، جو ہزاروں سال پرانے درختوں پر مشتمل ہیں، خطّے کی اصل شناخت سمجھے جاتے ہیں۔ محکمۂ جنگلات و جنگلی حیات، حکومتِ بلوچستان کے حکّام کے مطابق یہ ایک لاکھ، 68 ہزار 880 ایکڑ پر مشتمل ایشیا کا دوسرا بڑا جنگل ہے۔ ماہرین کے مطابق اِن درختوں میں سے بعض کی عُمر پانچ سے سات ہزار سال تک ہے اور یہ سال میں محض چند سینٹی میٹر بڑھتے ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اِن کا تحفّظ کس قدر ضروری ہے۔
یہی جنگلات مختلف اقسام کے نایاب پرندوں اور جانوروں، خصوصاً مارخور، چکور اور خرگوشوں کا بھی مسکن ہیں، جو اِس علاقے کا ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، اِس تمام تر قدرتی حُسن کے باوجود زیارت کے جنگلات اور وہاں کی جنگلی حیات سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سیرو تفریح کے لیے آنے والوں سے جنگلی حیات کو خطرات لاحق ہیں کہ بہت سے سیّاح پرندوں کو شکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دوسری طرف، گیس اور بجلی کی عدم دست یابی کے باعث بھی ان جنگلات کی بے دریغ کٹائی ہو رہی ہے کہ گیس، بجلی کی شدید قلّت نے عوام کو اس حد تک مجبور کر دیا ہے کہ اُن کے پاس زندہ رہنے کے لیے جنگلات کا سہارا لینے کے سِوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا۔ سردیوں کے طویل اور سخت موسم میں، جب درجۂ حرارت منفی 15 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے، گھروں کو گرم رکھنے کا کوئی موثر ذریعہ ہوتا ہے اور نہ ہی کھانا پکانے کے لیے ایندھن میسّر آتا ہے، تو ایسے میں لوگ صدیوں پرانے درخت کاٹ کر جلانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور یوں ایک ناگزیر ضرورت پوری کرنے کی خاطر ایک ناقابلِ تلافی نقصان کی سمت قدم اُٹھا لیا جاتا ہے، جس کا ازالہ شاید صدیوں میں بھی ممکن نہ ہو۔
دو، تین عشرے قبل عوام میں اِس ضمن میں کوئی زیادہ شعور وآگاہی نہیں تھی، مگر چوں کہ اب علاقے میں تعلیم کی شرح بڑھی ہے، تو لوگوں میں جنگلات اور جنگلی حیات سے متعلق کافی شعور بھی اجاگر ہوا ہے، اِسی لیے اب مقامی سطح پر جنگلات کے تحفّظ کی سرگرمیاں بھی بڑھ رہی ہیں۔ حال ہی میں زیارت کے مختلف دیہات سے تعلق رکھنے والے باشعور نوجوانوں نے ایک مثبت اور اُمید افزا قدم اُٹھاتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت ایک’’اولسی کمیٹی‘‘ قائم کی ہے۔
یہ کمیٹی دراصل ایک عوامی پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد نہ صرف جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفّظ کے لیے شعور بے دار کرنا ہے، بلکہ حکّامِ بالا تک مؤثر انداز میں عوام کے مسائل پہنچانا بھی ہے۔ اِس’’اولسی کمیٹی‘‘ کا پہلا اجلاس،’’کان ڈپو‘‘ کے علاقے میں منعقد ہوا، جس میں تحریک کے سربراہ اور صوبے کے معروف معالج، ڈاکٹر عبدالصمد پانیزئی، علمائے کرام، قبائلی عمائدین سمیت نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔
اِس اوّلین اجلاس میں طے پایا کہ کمیٹی کے اراکین علاقے کے ایک، ایک گاؤں میں جا کر جنگلات اور جنگلی حیات سے متعلق شعور اجاگر کریں گے۔ اِس فیصلے کی روشنی میں اب یہ نوجوان گاؤں، گاؤں جا کر عوام کو باور کروا رہے ہیں کہ جنگلات کا تحفّظ محض ایک ماحولیاتی تقاضا نہیں، بلکہ یہ اُن کی اپنی بقا سے وابستہ ایک معاملہ ہے۔
یہ نوجوان اِس ضمن میں عوام کو اِس امر پر بھی آمادہ کر رہے ہیں کہ اگرچہ علاقے میں گیس کی عدم فراہمی کے سبب ایندھن کی کمی ایک حقیقت ہے، مگر اس کا حل درختوں کی بے دریغ کٹائی ہرگز نہیں، بلکہ اِس اہم عوامی مسئلے کے حل کے لیے اجتماعی جدوجہد کے ذریعے حکّام تک رسائی حاصل کرنی ہوگی تاکہ ایندھن کی مسلسل فراہمی کا دیرینہ مسئلہ حل ہوسکے۔ اِسی سلسلے میں مختلف علاقوں میں جرگوں کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے، جہاں مِشران، نوجوان اور عام شہری اکٹھے ہو کر اپنے مسائل پر بات کرتے ہیں، جب کہ اِن جرگوں میں باہمی مشاورت سے مشترکہ لائحۂ عمل بھی طے کیا جاتا ہے۔
کان ڈپو، ہائی اسکول میں منعقد ہونے والا اِسی نوعیت کا ایک اہم جرگہ اِس تحریک میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں زیارت کے باسیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اِس جرگے کے شرکاء نے جنگلات، جنگلی حیات اور عوامی مسائل سے متعلق کوتاہیوں، لاپروائیوں پر حکومت اور ضلعی انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا۔
اِس جرگے سے خطاب کرتے ہوئے مقرّرین نے کہا کہ گیس اور بجلی کی عدم دست یابی نے عوام کو اس نہج پر پہنچا دیا کہ وہ اپنی بقا کے لیے جنگلات کا رُخ کرنے پر مجبور ہیں اور اگر یہی صُورتِ حال برقرار رہی، تو درختوں کی مسلسل کٹائی سے نہ صرف یہ تاریخی جنگلات ختم ہو جائیں گے، بلکہ خُوب صُورت جنگلی حیات بھی ہمیشہ کے لیے ناپید ہو سکتی ہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ زیارت کے جنگلات محض درختوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام ہیں، جہاں ہر جان دار کی اپنی اہمیت ہے اور جنگلی حیات کا تحفّظ، اِس نظام کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر عبدالصمد پانیزئی نے، جو اِس تحریک کے سرگرم رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں، عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جانوروں کے غیر قانونی شکار سے گریز کریں اور اُنہیں اُن کے قدرتی ماحول میں سکون سے جینے دیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ’’ یہ جانور ہماری قدرتی وراثت کا حصّہ ہیں اور ان کا تحفّظ ہم سب کی مشترکہ ذمّے داری ہے۔ اگر ہم نے نظامِ فطرت میں کسی قسم کی دخل اندازی کی یا اس میں کوئی خلل ڈالا، تو اس کا خمیازہ بھی ہم سب کو مشترکہ طور پر بھگتنا پڑے گا۔‘‘ اولسی کمیٹی اور اہالیانِ زیارت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر گیس اور بجلی کی بلا تعطّل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام لکڑیاں جلانے سے باز رہ سکیں، جو مجبوراً ایسا کرتے چلے آ رہے ہیں اور جنگلات کے خاتمے کا سبب بن رہے ہیں۔
اس کے ساتھ، علاقے میں متبادل توانائی کے ذرائع، خصوصاً سولر انرجی کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے تاکہ دیرینہ مسائل کا دیرپا حل نکالا جا سکے۔ مختلف اجلاسوں اور جرگوں میں عوام نے واضح کیا کہ اگر اُن کے مطالبات نظر انداز کیے گئے، تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمّے داری حکومت پر عائد ہوگی۔
زیارت کے نوجوانوں کی یہ تحریک، دراصل اُمید کی ایک کرن ہے، جو پیغام دیتی ہے کہ اگر عوام اپنی ذمّے داریوں کا خُود احساس کر لیں، تو وہ نہ صرف اپنے مسائل کی نشان دہی کر سکتے ہیں، بلکہ اُن کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی اُٹھا سکتے ہیں۔ ’’اولسی کمیٹی‘‘ ایک تنظیم سے بڑھ کر ایک سوچ بن چُکی ہے۔
ایک ایسی سوچ، جو اپنے قدرتی وَرثے کے تحفّظ، اپنی شناخت کی بقا اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے کوشاں ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ حکومت اِس عوامی شعور کو اہمیت دینے کے ساتھ، اِس عوامی بے داری کے نتیجے میں سامنے آنے والے مطالبات پر سنجیدگی سے توجّہ دیتے ہوئے علاقے میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائے۔
چوں کہ نوجوانوں کی یہ تحریک ایک قومی فریضے کی ادائی کے لیے اُبھری ہے، تو حکّام بھی اِس تحریک کا مکمل ساتھ دیں، کیوں کہ اگر آج زیارت کے صدیوں پرانے جنگلات نہ بچائے جاسکے، تو کل ہمارے پاس اپنی نسلوں کے لیے صرف کہانیاں ہی رہ جائیں گی اور یہ ایک ایسا نقصان ہوگا، جس کا ازالہ کسی طور نہیں ہوسکے ہوگا۔
اولسی کمیٹی کے ابتدائی اجلاس میں مقرّرین نے نوجوانوں کی اِس کاوش کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام محض ایک سرگرمی نہیں، بلکہ ایک اجتماعی شعور کی علامت ہے، جسے مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ زیارت کے جنگلات اور جنگلی حیات کا تحفّظ کسی ایک طبقے نہیں، بلکہ پورے معاشرے کا مشترکہ فرض ہے۔
اِسی طرح مقامی سماجی رہنماؤں ملک عبدالحمید یاسین زئی اور محمّد یعقوب کاکڑ نے، جو عرصۂ دراز سے اِس علاقے میں جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفّظ کے لیے نوجوانوں کی رہنمائی کر رہے ہیں، اِس پیش رفت کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔
اِس ضمن میں اُنہوں نے کہا کہ اولسی کمیٹی کا قیام اِس امر کی علامت ہے کہ اب مقامی سطح پر خاموشی ٹوٹ رہی ہے اور لوگ اپنے ماحول کے تحفّظ کے لیے خُود میدان میں آرہے ہیں۔ اُن کے مطابق،’’ یہ قدم نہ صرف زیارت، بلکہ پورے بلوچستان کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے کہ صوبے کے دیگر علاقوں میں موجود جنگلات بھی بقا کے خطرات سے دوچار ہیں۔‘‘ زیارت ہی کے حاجی سعد اللہ دوتانی اور حافظ کفایت اللہ نے بھی اِس تحریک کو سراہتے ہوئے کہا کہ’’یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عوام سردیوں میں مجبوراً لکڑیاں استعمال کرتے ہیں، جس کے لیے اُنھیں نہ چاہتے ہوئے بھی درخت کاٹنے پڑتے ہیں۔
اگر گیس اور متبادل توانائی کی مستقل، منصفانہ فراہمی یقینی بنا دی جائے، تو جنگلات بچائے جا سکتے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ قدرتی وسائل کا تحفّظ صرف اپیلز سے ممکن نہیں، اِس کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔‘‘ کان ڈپو، ورچوم، زندرہ، کو اس اور چینہ کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان’’جنگ‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کافی پُراُمید دِکھائی دیئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ’’یہ محض ایک تحریک نہیں، بلکہ ہمارے مستقبل، شناخت اور آنے والی نسلوں کے تحفّظ کا سوال ہے۔
ڈاکٹر عبدالصمد پانیزئی اور دیگر کی جانب سے زیارت میں جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفّظ کے لیے شروع کی گئی یہ تحریک ہم سب کے لیے اُمید کی ایک روشن کرن ہے۔ ہمارے قیمتی جنگلات بے دریغ شکار اور ماحولیاتی دباؤ کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہیں، جن کا تحفّظ ہم سب کی مشترکہ ذمّے داری ہے۔ زیارت کے مختلف علاقوں میں منعقد ہونے والے جرگوں کا مقصد بھی اِسی اہم مسئلے پر عوام کو یک جا اور منظّم کرنا ہے۔
ہم علاقے کے تمام نوجوانوں، مشران، ملکان اور عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اِن جرگوں میں بھرپور شرکت کریں اور ڈاکٹر عبدالصمد پانیزئی کا ساتھ دے کر اِس تحریک کو کام یاب بنائیں۔‘‘ زیارت کے نوجوانوں کی یہ جدوجہد دراصل یہ ثابت کرتی ہے کہ کسی بھی معاشرے میں تبدیلی باہر سے نہیں، معاشرے کے اندر ہی سے جنم لیتی ہے۔ یقیناً تحفّظِ ماحولیات کی یہ تحریک، صوبے کے دیگر علاقوں اور اضلاع کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔