• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نظام الملک طوسی: ایک عظیم مدبر، مفکر اور منتظم

پروفیسر ڈاکٹر محمد سہیل شفیق

عالمِ اسلام کو متحد کرنے اور تاریخ میں ایک خاص مقام رکھنے والے سلجوقیوں کے علمی و عسکری کارنامے اسلامی و فکری تاریخ کا تاب ناک باب ہیں۔ اِسی عہد کی شخصیات میں ایک نام بہترین منتظم اور علم و فن و تحقیق کے میدان میں شہرت رکھنے والے خواجہ حسن بن علی المعروف نظام الملک طوسی کا بھی ہے۔

وہ نہ صرف مدبّر و مفکّر تھے، بلکہ اسلامی تاریخ کے سب سے مؤثر تعلیمی و انتظامی معمار بھی کہلائے۔ اُن کی شخصی عظمت، علمی وسعت، سیاسی فہم اور رفاہی خدمات نے اُنھیں تاریخ کے ’’معمارِ سلطنت‘‘ کے طور پر زندہ رکھا ہوا ہے۔

408ہجری بمطابق 10اپریل 1017ء میں طوس (ایران) کے ایک زمین دارگھرانے میں پیدا ہونے والے نظام الملک بچپن ہی سے انتہائی ذہین اور بیش بہا خوبیوں کے مالک تھے۔ انھوں نے اپنی ذہانت سے کم عمری ہی میں کئی علوم پر عبور حاصل کیا۔ سلجوقی عہد میں وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے۔

سچ تو یہ ہے کہ اس عہد کے بیش تر کارہائے نمایاں نظام الملک کے تیس سالہ دورِ وزارت کے مرہونِ منّت ہیں۔ سلجوقی سلطنت کا درخشاں عہدِ زرّیں، خصوصاً الپ ارسلان اور ملک شاہ کے دَورکی عظیم الشان عمارت اُن ہی کی دانش و فراست کے سہارے کھڑی ہوئی۔ طوس کے ایک باوقار، مگر متوسّط دہقان خاندان سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان بختِ بلند لے کر پیدا ہوا اور علم و حکمت، سیاست اور نظمِ مملکت کے ایسے ایسے کمالات کا مظہر بنا کہ تاریخ میں امَر ہوگیا۔

نظام الملک طوسی نے ابتدائی تعلیم مشہور فقیہہ عبدالصمد قندوجی کی نگرانی میں حاصل کرنے کے بعد مزید تحصیلِ علم کے لیے نیشاپور کا سفر اختیار کیا۔ نیشا پور میں نام وَر عالم امام موفق کے دروس میں چار برس تک شریک رہے۔ اُسی زمانے میں عمرخیّام اور حسن بن صباح بھی امام صاحب کی شاگردی میں داخل ہوئے۔ یہ دونوں فہیم اور ذکی الطبع تھے۔ حلقۂ درس کے بعد نظام الملک طوسی اِن ہی رفیقوں کے ساتھ سبق کی تکرار کیا کرتے۔ نیشاپور سے فارغ التحصیل ہونے کے بعدنظام الملک واپس طوس آئے اور کچھ ہی عرصے بعداپنے والد سے اجازت لے کر بخارا کے لیے رختِ سفر باندھ لیا۔

راستے میں اپنے زمانے کے نہایت مشہور صوفی، شیخ ابو سعید ابو الخیر کی مجلس میں حاضر ہوئے۔ شیخ ابو سعید نے اُن پر اپنی شفقت کا اظہار فرمایا اور مژدہ سنایا کہ ’’تم عن قریب بڑے مرتبے کو پہنچو گے۔ جب تک تمہاری دولت سے مستحقین فیض یاب ہوتے رہیں گے، اُس وقت تک تمہاری دولت اور امارت قائم رہے گی، جب نیکی کے دروازے بند کردو گے اور حق دار تمہاری مہربانی سے محروم ہوجائیں گے، تو وہی زمانہ تمہاری امارت کے زوال کا ہوگا۔‘‘ اس نصیحت کے بعد شیخ ابو سعید نے اُنھیں رخصت کردیا۔

وہاں سے رخصت ہوکر خواجہ نے بخارا کا رُخ کیا۔بخارا سے اکتسابِ فنون اور تکمیلِ علوم میں فضیلت کی سَند حاصل کرکے مرو کا سفر اختیار کیا اور ماوراء النہر ہوتے ہوئے غزنین پہنچے۔وہ عبدالرشید ابن محمود غزنوی کی حکومت کا دَور تھا۔ دارالسلطنت ہونے کی وجہ سے تمام بڑے دفاتر اور شاہی محکمے اسی شہر میں تھے۔ طوسی نے ایک عرصے تک غزنین میں قیام کیا اور ایک دفتر میں ملازمت اختیار کرلی۔ کچھ عرصہ یہاں علمِ حساب اور انشاء میں کامل مہارت حاصل کرنے کے بعد پہلے خراسان پھر بلخ کا رُخ کرلیا۔ اُس زمانے میں چغربیگ داؤد سلجوقی کی جانب سے ابو علی احمد بن شاذان بلخ کا گورنر تھا۔

یہاں خواجہ نظام الملک طوسی کو کو عمید بلخ کے میر منشی (کاتب) کا عہدہ مل گیا۔ خواجہ کو دنیاوی اشغال میں جو جاہ و منصب ملا، اس کا پہلا زینہ یہی تھا۔ چغری بیگ اور طغرل بیگ کی وفات کے درمیانی عرصے میں خراسان کا نظم و نسق خواجہ نظام الملک طوسی کے ہاتھ میں رہا۔ خراسان میں اُنھیں اس قدر شہرت حاصل ہوئی کہ اس وقت کے حکم ران، الپ ارسلان بھی اُن کا گرویدہ ہوگیااور اُن کی علمیت و قابلیت کے پیشِ نظر جلد ہی اُنھیں سلطنت کا وزیرِ اعظم مقرر کردیا۔

مدرسۂ نظامیہ کا قیام، تاریخی سنگِ میل

نظام الملک کے اوّلین کارناموں میں سے ایک ’’مدرسۂ نظامیہ ‘‘ کا قیام تھا، جو 1065ءمیں، دو برس میں مکمل ہوا۔ اگرچہ مدرسۂ نظامیہ سے پہلے بھی بغداد میں کئی مدرسے موجود تھے، مگر خواجہ نظام الملک نے بادشاہِ وقت کی رضامندی سے اپنے زیرِ اقتدار تمام اسلامی شہروں میں مدارس تعمیر کیے اور اُنھیں ایک نظم (بورڈ یا وفاق) کے ماتحت کردیا۔ ملکی سطح پر اور مملکت کے خرچ پرسلسلۂ مدارس کا قیام اور انھیں ایک نظم کے تحت لانا ایک نئی بات تھی، جس کی اس سے قبل پہلے کوئی مثال نہیں ملتی تھی۔

بلاشبہ، مدرسۂ نظامیہ ، سلطنتِ عباسیہ کی زینت اور بغداد کی آبرو تھا،اُس وقت کے بہترین علماء و فضلا کی خدمات کی وجہ سے اس کا معیار ہمیشہ بلند رہا۔ اُس دور میں مدرسۂ نظامیہ میں مدرّس کے منصب کے لیے کسی عالم کا انتخاب سب سے بڑا اعزاز اور منتہائے ترقی سمجھا جاتا تھا۔ بعد میں نیشاپور، اصفہان، مرو اور دیگر شہروں میں بھی نظامیہ مدارس قائم ہوئے، جنہوں نے علمی نشاۃِ ثانیہ میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔

علمی مقام و اوصاف

نظام الملک طوسی ،سیاست اور نظمِ ریاست کے علاوہ فقہ میں بھی بلند مرتبہ رکھتے تھے۔ ابنِ اثیر لکھتے ہیں کہ اُن کی مجلس ہمیشہ ’’قراء، فقہاء اور صالحین‘‘ سے بھری رہتی تھی۔اسی طرح اگرچہ انھوں نے حدیث میں باضابطہ محدّث کے طور پر شہرت نہیں پائی، مگر اُن کی معلومات اور روایتِ حدیث کا درجہ معتبر سمجھا جاتا ہے۔ فارسی نثر میں اُن کی تحریریں اعلیٰ معیار کی ہیں۔نیز، اپنے بیٹوں موید الملک اور فخرالملک کو لکھے گئے اُن کے تاریخی خطوط انشاء پردازی اور اخلاقی تعلیمات کے عمدہ نمونے ہیں۔

تصانیف

مشہور ِزمانہ کتاب ’’سیاست نامہ‘‘ (سیر الملوک) اور ’’کتاب الوصایا‘‘ ( دستور الوزراء) نظام الملک طوسی کی علمی یادگار ہیں۔علاوہ ازیں، ایک سفر نامہ بھی لکھا، جس میں خراسان سے براستہ ماوراء النہر کابل تک کے سفر کے حالات تحریر کیے۔ تاہم، یہ کتاب اب ناپید ہے۔ حکومت کے انتظامی امور اور رموزِ مملکت پر اُن کی ایک مشہور کتاب ’’سیاست نامہ‘‘ تاریخ اور فنِ حکومت اور فنِ نظمیات پر ایک بسیط عالمانہ مقالے کی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ کتاب انھوں نے اپنے انتقال سے ایک سال قبل 1092ء میں مکمل کی۔ کتاب کی وجہ تصنیف بیان کرتے ہوئے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ ’’484ھ میں سلطان سعید ابو الفتح ملک شاہ نے دربار کے چند دیرینہ اراکینِ سلطنت کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ’’مابدولت کے عہدِ سلطنت پر غور کریں اور سوچیں کہ ہمارے زمانے میں کس صیغہ کا انتظام اعلیٰ درجے کا نہیں، اور وہ کون سے آداب ہیں، جو ہماری مجلس اور دیوان میں نافذ نہیں۔نیز، وہ کیا حالات ہیں کہ مجھ پر مخفی ہیں اور سلاطین سابق کے جو اصول ہمارے زمانے میں چھوڑ دیے گئے ہیں، وہ کیا تھے؟

غرض یہ کہ شاہان سلجوق کے تمام رسوم و رواج اور آئین قلم بند ہو کر حضور میں پیش ہوں، تاکہ غورِ کامل کے بعد ان قوانین کے اجراء کا حکم دیا جائے، جس سے دین و دنیا کے سب کام درست اور تمام خرابیاں دُور ہوں۔ جب کہ خدائے برتر نے مجھے عظیم الشّان سلطنت مرحمت فرمائی ، تمام نعمتیں بخشیں، میرے دشمنوں کو پامال کیا، تو پھر کوئی انتظام مابدولت کا ناقص نہیں ہونا چاہیے اور نہ مجھ سے کچھ چُھپایا جائے۔ ‘‘ سلطان کا روئے سخن نظام الملک ، شرف الملک ، مجد الملک وغیرہ کی طرف تھا۔

چناں چہ ان امراء میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی استعداد اور خیالات کے مطابق ایک ایک دستور العمل لکھ کر ملک شاہ کے حضور پیش کیا، مگر ملک شاہ کو صرف میرا مسودہ پسند آیا، جس کی نسبت سلطان نے فرمایا کہ ’’یہ کتاب نہایت جامع ہے اور آئندہ یہی میرا دستور العمل ہوگا۔‘‘ طوسی کی کتاب، ’’سیاست نامہ‘‘ دنیا کی پہلی کتاب ہے، جس میں سفیر کے خفیہ کاموں سے متعلق مکمل اور کھلی بحث کی گئی ہے۔

سلجوقی سفارتی پالیسی اور دستور وضع کرنے میں جن پیچیدہ مخفی عوامل کا لحاظ رکھنا پڑتا تھا، انھیں سمجھنے میں اس کتاب سے بہت مدد ملتی ہے۔ نظام الملک طوسی، سفارت کو بین المملکتی تعلقات میں مصلحت جُوئی اور صلح پسندی اور ترغیب و تحریص کا فن گردانتے ہوئے کہتے ہیں کہ شاہی رسوم اور بادشاہ کے ذاتی اخلاق سے پیدا ہونے والے تاثر سے بڑی مدد ملتی ہے۔ نظام الملک کی دوسری تصنیف’’ کتاب الوصایا‘‘کو ’’دستور الوزراء‘‘ بھی کہا جاتا ہے، یہ کتاب کثیر الفوائد مضامین کا مجموعہ ہے۔

رفاہی خدمات

خواجہ نظام الملک نے اپنے انتیس سالہ دورِ وزارت میں رفاہِ عامّہ کے کاموںپر بھرپور توجّہ دی۔ حکومت کی طرف سے بھی ہمیشہ بڑے پیمانے پر کام جاری رکھا اور بحیثیت وزیراعظم، اپنی جاگیر سے بھی اس مد میں لاکھوں دینار صرف کیے۔ ممالک محروسہ کے بڑے بڑے شہروں اور قصبوں میں مساجد اور شفاخانے تعمیر کروائے۔ اُس دور میں اُن کی تعمیر کردہ سرائے بغداد اور شفاخانہ، نیشاپور کی بڑی شہرت تھی۔

علاوہ ازیں، انھوں نے تمام بڑے شہروں میں مدارس کی بنیادرکھنے کے علاوہ مکّہ معظمہ کے راستوں کے خطرات اور دشواریاں دُورکرکے ان راستوں کو پُرامن اور آسان بنایا۔ حجاج اور زائرین کی سہولت کے لیے متعدد انتظاما ت کیے۔ اُن کے قیام کے لیے مکانات تعمیر کروائے اور مصارف کے لیے اوقاف جاری کیے۔

سیاسی اختلافات

نظام الملک کو اپنے دورِ وزارت میں متعدد سیاسی جنگیں لڑنی پڑیں۔ اُن کے اقتدار پر نہ صرف حسن بن صباح نے متصرف ہونے کی کوشش کی، بلکہ بعد میں تاج الملک، شرف الملک، مجد الملک اور سلطان ملک شاہ سلجوقی کی پہلی اور محبوب بیوی ترکن خاتون نے بھی اُن کے اقتدار کو چیلنج کیا۔ یہی وجہ ہے کہ نظام الملک کی زندگی کے آخری سال پُرازملال تھے۔

ابو الغنائم ابن دارست، جو پہلے ترکن خاتون کا محض معتمدِ خاص تھا، تاج الملک کے خطاب سے سرفراز ہونے کے بعد وزارتِ عظمیٰ کا خواب دیکھنے لگا تھا، جب کہ ترکن خاتون اپنے بیٹے محمود کو ولی عہد بنانا چاہتی تھی، مگرنظام الملک طوسی کی اعانت کے بغیر یہ امر محال تھا۔ نظام الملک طوسی، ملک شاہ کے بڑے بیٹے برکیارق کے حامی تھے، کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ برکیارق میں عقل و دانش اور جہاں داری کے آثار موجود ہیں۔

لہٰذا انھوں نے ملک شاہ سے محمود کی ولی عہدی کی سفارش سے انکار کردیا۔ چناں چہ ترکن خاتون، طوسی سے سخت ناراض ہوگئی۔ اس سیاسی کشمکش نے سلطان کے دل میں بھی بدگمانی پیدا کی، جس کا نظام الملک طوسی نے اپنی کتاب ’’الوصایا‘‘ میں بھی اشارہ دیا ہے کہ’’اِن شاء اللہ، عاقبت محمود و بخیر بگزرد۔‘‘ یعنی، ’’اِن شاء اللہ انجام اچھا اور بخیر گزرے گا۔‘‘

شہادت

رمضان المبارک 485ھ بمطابق1092ء میں ملک شاہ نے اصفہان سے بغداد کا سفر کیا، تو خواجہ نظام الملک طوسی بھی ان کے ساتھ تھے۔ نصف مسافت طے کرنے کے بعد ملک شاہ نے چند روز کے لیے نہاوند میں قیام کا فیصلہ کیا۔طبقات الشافعیہ الکبریٰ کی روایت ہے کہ10رمضان المبارک485ھ بمطابق 14اکتوبر 1092ء کو نظام الملک طوسی نے روزہ افطار کرنے کے بعد مغرب کی نماز پڑھی اور پھر تراویح کے بعد حرم سرا کو روانہ ہوئے۔

جب قیام گاہ پہنچے، تواسی اثناء ایک دیلمی نوجوان ، صوفی کا بھیس بدل کر بظاہر ایک مستغیث کی حیثیت سے آیا اور نظام الملک طوسی کے قلب میں چُھرا گھونپ کرشہید کردیا۔ اس دیلمی نوجوان کا نام ابو طاہر ارانی تھا،جسے نظام الملک کے غلاموں نے موقعے پر گرفتار کر کے قتل کردیا۔

خواجہ نظام الملک کا قتل راسخ الاعتقادی پر حسن بن صباح کے حشاشین کا پہلا کُھلا وار تھا۔ اُن پر حملہ ہوتے ہی لشکر میں کہرام مچ گیا اور جب یہ خبر ملک شاہ تک پہنچی، تو وہ بھی غم و غصّے سے نڈھال روتا ہوا آیا اور خواجہ کے سرہانے آ کر بیٹھ گیا۔ بعد ازاں، اُنھیں اہلِ اصفہان نے محلہ کراں کے قبرستان میں سپردخاک کردیا۔ زمانہ دراز تک یہ مقام ’’تربتِ نظام‘‘ کے نا م سے مشہور رہا۔

وہ شان و شوکت جو پہلے تین سلجوقی سلاطین کی حکم رانی سے وابستہ تھی، نظام الملک طوسی کی شہادت کے ساتھ ہی ختم ہوگئی۔ اُن کے قتل کے ایک ماہ بعد ملک شاہ کا بھی انتقال ہو گیا اور خواجہ کا یہ قول صادق آیا کہ ’’جب میرے سامنے سے دوات اٹھا لی جائے گی، تو ملک شاہ کے سر سے تاج بھی اٹھ جائے گا ۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید