• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عیسائی مذہبی پیشوا امریکی، اسرائیلی جارحیت کے سخت ناقد، امن کے داعی ہیں۔ امریکا اور اسرائیل نے 28فروری 2026ء کو ایران پر حملہ کیا۔ جنگ بندی کے بعد جانی نقصان کا جو تخمینہ لگیا گیا، اُس کے مطابق ساڑھے چار ہزار سے پانچ ہزار افراد تک اس جنگ کا لقمہ بن چُکے ہیں۔ موجودہ دَور کی جنگیں بظاہر تو دو یا دو سے زیادہ ممالک کی فوجوں کے درمیان ہوتی ہیں، لیکن یہ انسانی زندگی کا ہر پہلو متاثر کرتی ہیں۔

پانی، بجلی، سڑکوں، پُلوں، اسپتالوں، تعلیمی اداروں یہاں تک کہ عبادت گاہوں اور خانقاہوں، سب پر تباہی آتی ہے۔ سویلینز اس کی لپیٹ میں آتے ہیں، لیکن اس جنگ میں امریکا اور اسرائیل نے سِول آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔ اسکول، رہائشی عمارتیں، سِول اور سرکاری دفاتر، آب رسانی اور بجلی کا نظام نشانہ بن چُکے ہیں۔

اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز ہی شہر مناب کے ایک گرلز اسکول’’شجرۂ طیّبہ‘‘ پر میزائل برسا کر کیا اور اس حملے میں 170طالبات شہید ہوئیں۔ یہ اِقدام ہلاکو خان، چنگیز خان اور ہٹلر کی سنگ دلی کے مماثل تھا۔ جنگ کے پہلے دو ہفتوں میں ایران اور لبنان میں تین سو بچّے شہید کیے گئے۔ چوں کہ جنگ کے دوران جانی نقصان کی گنتی آسان نہیں ہوتی، اِس لیے یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں۔

اِس صُورتِ حال پر امریکا اور اسرائیل کے پتھر دل حُکم رانوں کے سِوا ساری انسانیت دُکھی ہے۔ پروٹیسٹنٹ مذہب، در اصل یہودیوں کی گہری سازش سے وجود میں آیا تھا۔ یہودی، حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو اللہ کا نبی اور مسیحا نہیں مانتے، جس کی وجہ سے دونوں مذاہب میں چپقلش جاری رہی۔ جب رومی سلطنت عیسائیت کی حلقہ بگوش ہو گئی، تو یہودی تختۂ مشق بنے۔

نوبت یہاں تک پہنچی کہ رومی حُکم رانوں نے یہودیوں کو فلسطین سے نکال دیا اور وہ دنیا میں بے خانماں ہو کر بکھر گئے۔ یورپ میں جہاں پناہ لینے گئے، صدیوں رومن کیتھولک چرچ کی زیادتیوں کا شکار رہے، جس کا بدلہ لینے کے لیے اُنہوں نے رومن کیتھولک چرچ کے مقابلے میں پروٹیسٹنٹ عقیدہ متعارف کروایا، جس کے پیروکار نہ پوپ کو اپنا مذہبی اور روحانی پیشوا مانتے ہیں اور نہ ہی اُن کا اپنا کوئی پوپ ہوتا ہے۔

یہودیوں کا بھی یہی معاملہ ہے کہ اُن کی کوئی مرکزی مذہبی اتھارٹی نہیں ہوتی، کچھ پُراسرار خفیہ تنظیمیں اُن کی پالیسیز بناتی ہیں۔ رومن کیتھولک عیسائیوں کا مرکزی نمائندہ اور روحانی پیشوا، پوپ ہے۔ عام طور پر قیاس کیا جاتا ہے کہ مذہبی پیشوائوں کا دنیا کے امور سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اُن کا کام فقط عبادت و ریاضت، دُعا و مناجات، اصلاح و تزکیہ اور ذکر و فکر ہے۔ وہ آخرت کے امور پر بحث کرتے ہیں اور دنیا کے معاملات سے اُن کو کوئی غرض نہیں ہوتی۔ گرچہ پوپ کا ادارہ ہمیشہ پاک باز اور خدا پرست نہیں رہا کہ پوپ اچھے بھی گزرے اور بُرے بھی۔ اس پر سیاست کا اثر و رسوخ اور دولت کی حرص بھی غالب آتی رہی ہے۔

صلیبی جنگوں کے دو سو سال کے عرصے میں تقریباً چھبیس پوپ گزرے۔ اُنہوں نے جنگ کے فتوے دیئے۔ یروشلم پر قبضہ کر کے’’ہیکلِ سلیمانی‘‘ کی تعمیرِ جدید کے لیے اپنے فتووں سے قتل و غارت کی آگ بھڑکائی۔ اُنہوں نے مسلمانوں ہی پر نہیں، یہودیوں اورعیسائی آرتھوڈکس چرچ پر بھی بڑے ظلم وستم کروائے۔ 1204عیسوی میں چوتھی صلیبی جنگ کے لیے نکلی یورپی فوجوں نے آرتھوڈکس چرچ کا مرکز، قسطنطنیہ چھین لیا تھا۔

اکتوبر 1978ء سے اپریل 2005ء تک طویل عرصہ منصبِ پوپ پر فائز رہنے والے، پوپ جان پال ثانی نے مسلمانوں پر مسلسل صلیبی جنگیں مسلّط کرنے اور آرتھوڈکس عیسائیوں سے اُن کا مرکز، قسطنطنیہ چھین لینے پر باقاعدہ معافی مانگی تھی۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عیسائیوں کے مذہبی رہنمائوں میں انصاف پسند شخصیات بھی آتی رہی ہیں۔ موجودہ پوپ، لیو چہار دہم(رابرٹ فرانسس پریوسٹ) کا تعلق امریکا سے ہے۔ گویا، وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہم وطن ہیں۔

پوپ لیو انسانی المیوں پر سخت دُکھی اورغم گین ہیں۔ وہ حالیہ جنگ میں امریکا اور اسرائیل کے وحشیانہ اقدامات کی سخت مذمّت کر رہے ہیں۔ اسرائیل اور امریکا کی بے رحمی پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ وہ اُن کی بے رحم طاقت اور ظالمانہ سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔ اُن کا صدمہ صرف عیسائیوں کی اموات تک محدود نہیں، بلکہ وہ انسانیت کی بات کرتے ہیں۔ وہ مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں سب کے جانی و مالی نقصان پر مضطرب ہیں۔ حالیہ عرصے میں اسرائیل نے لبنان پر مسلسل حملے کیے۔

ہوائی جہازوں، توپوں سے بم باری اور زمینی حملوں میں لبنان کے ایک بڑے حصّے کو کھنڈر اور قبرستان بنا دیا ہے۔ رواں برس اپریل کے مہینے تک ڈھائی ہزار افراد ہلاک اور لگ بھگ اِتنے ہی شدید زخمی ہو چُکے ہیں۔ پوپ اِس خون ریزی پر مسلسل احتجاج اور مذمّت کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ’’ میرے لبنان کے دورے میں جس بچّی نے بڑی عقیدت سے مجھے گل دستہ پیش کیا تھا، وہ بھی اسرائیلی بم باری میں ہلاک ہوگئی ہے۔ مَیں اُس کی تصویر ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا ہوں۔‘‘

پوپ لیوچہار دہم ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے آغاز ہی سے اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اور اِس ضمن میں کئی بار اُن کے بیانات سامنے آ چُکے ہیں۔ وہ بار بار یہی کہہ رہے ہیں کہ مذاکرات ہی مسائل کا حل ہے۔ ایران اور امریکا مذاکرات کے لیے بیٹھیں اور امن کا راستہ تلاش کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ’’میزیں مہلک ہتھیار بنانے اور آزمانے کے منصوبے تیار کرنے کے لیے نہیں، مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔‘‘

وہ برملا کہتے ہیں کہ یہ جنگ غیر منصفانہ ہے اور اس کے اثرات ایران سے نکل کر مشرقِ وسطیٰ تک پھیل رہے ہیں۔ مفاہمت کی مخلصانہ کوشش نہیں ہو رہی ہے اور نفرت بڑھ رہی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے اِس بیان پر کہ’’ ایران پر حملہ کر کے ہزاروں سال پرانی ایک تہذیب کو مِٹا ڈالیں گے‘‘پوپ نے سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ بیان ناقابلِ قبول ہے۔

اِس طرح ساری انسانیت کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ اُنہوں نے امریکی عوام سے اپیل کی کہ وہ کانگریس میں اپنے نمائندوں پر زور دیں کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے امریکی حکومت کو جنگ روکنے پر مجبور کریں، ورنہ ساری انسانیت بحران اور افراتفری کا شکار ہو جائے گی۔ ایسٹر کی تقریب میں بھی پوپ نے اِسی جنگ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے امن کی اپیل کی اور جنگ کو مسترد کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کی نظر میں یہ جنگ غیر منصفانہ ہے۔

یہ بڑھتی جا رہی ہے اور اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو رہا ہے۔ جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے، جو تہذیب و شائستگی اور ادب آداب کی روایات سے نابلد ہیں، پوپ لیو کے خیالات پر بڑے تلخ اور گستاخانہ لہجے میں کہا کہ’’پوپ کے مشورے ناقابلِ قبول ہیں۔ پوپ ایک کم زور اور خوف ناک آدمی ہیں۔ اُنہیں ایران کے بارے میں امریکی پالیسیز پر تنقید کا کوئی حق حاصل نہیں۔ پوپ لیو سیاست دان بن گئے ہیں۔

اُنہیں اپنی ساری توجّہ ایک عظیم پوپ بننے پر صَرف کرنی چاہیے، سیاست اُن کا کام نہیں۔‘‘ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ’’ پوپ سے متعلق جو کچھ کہا ہے، اُس پر معذرت نہیں چاہوں گا۔‘‘26اپریل کو اپنے’’ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ‘‘ پر ٹرمپ نے بظاہر پوپ کی تضحیک کے لیے ایک کارٹون میں خُود کو(نعوذباللہ) حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی طرح کی شخصیت کے رُوپ میں پیش کیا۔ نتیجتاً اُن کی اِس حرکت پر سخت ردّعمل آیا، یہاں تک کہ اُن کے حامیوں نے بھی اِسے ناپسند کیا۔

یہاں یہ امر بہت دل چسپ ہے کہ کیتھولک عقیدے کے ایک ترجمان اخبار’’ National Catholic Register ‘‘کی دی ہوئی تفصیلات کے مطابق، ٹرمپ کی کابینہ اور انتظامیہ کے اعلیٰ عُہدوں پر فائز ایک تہائی سے زیادہ افراد رومن کیتھولک عقیدے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اُن کا نائب صدر، جے ڈی وینس اِسی عقیدے کا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ امریکا کی موجودہ خاتونِ اوّل، میلانیا ٹرمپ بھی رومن کیتھولک ہیں۔ امریکا کی تاریخ میں جیکولین کینیڈی کے بعد یہ دوسری رومن کیتھولک عقیدے کی خاتونِ اوّل ہیں۔

امریکا کے35 ویں صدر جان ایف کینیڈی رومن کیتھولک عقیدے سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کے بعد اِس عقیدے سے وابستہ دوسرے صدر، ٹرمپ کے پیش رو جوبائیڈن تھے۔ رونالڈ ریگن خود رومن کیتھولک عقیدے سے تعلق نہیں رکھتے تھے، لیکن اُن کی انتظامیہ میں بڑی تعداد اِسی عقیدے سے وابستہ افراد کی تھی۔ جدید مذہبی نفسیات میں رومن کیتھولک ہونے کا مطلب قدامت پسند اور روایت پسند ہونا نہیں کہ امریکا کا نظام کسی مذہبی عقیدے کی بنیاد پر قائم نہیں۔

انفرادیت پسندی، بے روک شخصی اور سماجی آزادی، مذہب کی اجتماعی نظام میں عدم مداخلت اور سرمایہ دارانہ معیشت اس کی بنیادیں ہیں۔ پھر یہ کہ وہاں کے کلچر نے مذہب جیسا تقدّس حاصل کر لیا ہے۔ کوئی صدر خواہ ڈیموکریٹک پارٹی سے ہو یا ری پبلکن پارٹی سے، دونوں کو آزاد امریکی ثقافتی، سماجی اور معاشی روایات پرچلنا ہوتا ہے۔

مُلکی اور قومی مفاد، ہر مُلک کی پالیسیز اور فیصلوں کی بنیاد ہوتا ہے، لیکن امریکا میں یہ اصول سخت گہنایا ہوا ہے۔ امریکی صدور اور انتظامیہ کی نظر میں اسرائیلی تحفّظ، مفادات اور خوش نُودی ترجیحِ اوّل ہے۔ کوئی امریکی اُمیدوار اسرائیل اور امریکا کی یہودی لابی کو خوش کیے بغیر صدر منتخب نہیں ہو سکتا۔ ٹرمپ کا تو یہ معاملہ ہے کہ اُن کی بیٹی نے یہودی مذہب اختیار کر لیا، جس پر وہ فخر کرتے ہیں۔ اُن کا داماد کُشنر کٹّر اسرائیل نواز یہودی ہے اور اس کا امریکی انتظامیہ میں گہرا عمل دخل بھی ہے۔ غزہ میں آزادی کی جدوجہد اور اس کی پاداش میں اسرائیلی مظالم کی ایک طویل لرزہ خیز تاریخ ہے۔

تنظیمِ آزادیٔ فلسطین (PLO)کے سربراہ، یاسر عرفات نے اوسلو معاہدہ کر کے فلسطینیوں کے مفادات کا جو سودا کیا تھا، اس کے ردّ ِعمل میں حماس سیاسی میدان میں اُتری اور 2006ء کے الیکشن میں بھاری اکثریت حاصل کی۔ اسماعیل ہانیہ(شہید) کی سربراہی میں پی ایل او اور حماس کی مشترکہ حکومت بنی، لیکن امریکا، یورپ، مصر، اسرائیل اور خلیجی عرب ریاستوں نے اُسے چلنے نہیں دیا۔ فلسطین کو ملنے والی امداد بند کر دی گئی تھی۔ اوسلو معاہدے کی ناکامی کے بعد اسرائیلی مظالم میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔

اسرائیل نے فلسطینیوں کے گھر اور زمینیں چھین کر نئی یہودی بستیاں آباد کرنے کا سلسلہ تیز کردیا۔ آخر بے شمار بندشوں اور ظلم و ستم سے تنگ آکر حماس نے ایک بڑی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ 7اکتوبر2023ء کواسرائیل پرایک فدائی حملہ کیا گیا، جس میں بارہ سو سے 14سو کے درمیان اسرائیلی ہلاک ہوئے۔ جواب میں اسرائیل نے غزہ پر حملہ کر کے اُس پر قبضہ کر لیا اور قتل و غارت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر دیا۔

ستّر سے اسّی ہزار فلسطینی، اسرائیلی بم باری میں شہید ہوئے۔ کئی ہزار بچّے گولیوں کا نشانہ بن کر یا خوراک کی بندش کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ اسرائیل نے اسپتالوں، اسکولز اور مساجد کو مسمارکیا۔ وحشیانہ دہشت گردی، خاص طور پر بے شمار معصوم بچّوں کی ہلاکت پر پوری دنیا سے شدید ردّ ِعمل آیا اور ہر طرف سے اسرائیل کی مذمّت ہونے لگی، لیکن امریکا اسے بے تحاشا اسلحہ اور مالی امداد دیتا رہا۔

اُس وقت ڈیموکریٹ پارٹی کے رومن کیتھولک، جوبائیڈن امریکی صدر تھے اور پوپ کے منصب پر فرانسس (Francis)فائز تھے۔ پوپ، فرانسس فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کی وجہ سے سخت دل گرفتہ تھے۔ اُنہوں نے بائیڈن سے ملاقاتیں اور دیگر ذرائع سے رابطے کر کے امریکی صدر کو احساس دِلایا کہ یہ ظلم و ستم بند ہونا چاہیے۔

خاص طور پر معصوم بچّوں کی بندوقوں، توپوں، راکٹوں، میزائلوں اور خوراک کی بندش کے سبب ہونے والی ہلاکتیں بہت وحشت ناک عمل ہے، لیکن بائیڈن نے اپنے روحانی پیشوا کے دُکھ کو اہمیت دی اور نہ ہی اُن کی ہدایت پر اسرائیل کی اسلحے اور ڈالرز کی سپلائی روکی۔ وہ تو اپنے آپ کو Zionist(صیہونی) اور اسرائیل کی بقا کو اپنا فرض قرار دیتے رہے۔ بائیڈن کی حکومت میں جتنی امداد اسرائیل کو ملی، وہ ٹرمپ کی امداد سے کم نہیں تھی۔

ٹرمپ دوبارہ صدر بنے تو اسرائیلی ڈریکولا اہلِ غزہ کا خون پی رہا تھا اور اسرائیلی گدھ اُن کی بوٹیاں نوچ رہے تھے۔ ٹرمپ ایک بسیار گو، بڑبولے اور متلون مزاج آدمی ہیں۔ اُن کے بیانات اور پالیسیز گھنٹوں میں پلٹے کھاتی ہیں۔ اُنھوں نے ایک طرف غزہ کی تباہی و بربادی کے لیے اسرائیل کو ہر طرح کی مدد دی، تو دوسری طرف، آئے روز غزہ کے مسئلے کے نت نئے حل تجویز کرتے رہے۔ اِسی دوران رواں سال کے فروری کے مہینے میں اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا اور امریکا، اسرائیل کے حلیف کے طور پر جنگ میں شریک ہو گیا۔ حملے کے آغاز ہی میں ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک سو اسّی کے قریب طالبات شہید ہوئیں۔ ایران پر بے تحاشا میزائل، راکٹ اور بم برسائے گئے۔

اُس کا انفرا اسٹرکچر تباہ کر دیا گیا۔ پوپ فرانسس کی طرح موجودہ پوپ نے بھی اس پر شدید احتجاج کیا اور جنگ بندی کے مسلسل مطالبے کرتے رہے۔ امریکا کے رومن کیتھولک نائب صدر نے پوپ سے ملاقاتیں کیں۔ نیز، وہ میڈیا کے ذریعے امریکا کی سیاسی و حربی برتری کے تصوّر کے تحت امریکی حملوں کا جواز پیش کرتے رہے اور پوپ لیو چہار دہم کو اپنے کام سے کام رکھنے کی گستاخانہ تلقین بھی کی۔ اُنھوں نے کہا کہ پوپ کو اپنی توجّہ اخلاقی اصلاح پر مرکوز رکھنی چاہیے۔

اِس بیان کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی حکومت کی نظر میں بے وجہ جنگ کی تباہ کاری اخلاقی معاملہ نہیں ہے، جب کہ پوپ اپنے منصب اور پندرہ سو سال پہلے کے ایک فلسفے’’عادلانہ جنگ‘‘کی رُو سے یاد دِلاتے ہیں کہ موجودہ جنگ ’’blasphemy of war and unjust war‘‘ ہے، یعنی یہ جنگ غیر عادلانہ بھی ہے اور یسوع مسیح کی تعلیمات کی توہین بھی۔ (مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)