بنگال طویل المدّتی اقتدار کی ایک دل چسپ مثال ہے۔ ممتا بنرجی سے پہلے یہاں 1977ء میں کمیونسٹ پارٹی برسرِ اقتدار آئی اور مسلسل چونتیس سال تک اقتدار میں رہی۔ ممتا بنرجی کی’’ترنمول پارٹی‘‘ نے مسلسل تین بار انتخابات جیتے اور وہ وزیرِ اعلیٰ بنیں۔ بنگال مجموعی طور پر ایک پُرامن صوبہ رہا ہے۔
اس کی تقریباً دس کروڑ آبادی میں سے ستائیس فی صد، یعنی ڈھائی کروڑ مسلمان ہیں۔ بھارتی الیکشن کمیشن نے جب لاکھوں مسلمانوں، دَلتوں اور عیسائیوں کو مکروہ تیکنیکی چالوں سے ووٹ کے حق سے محروم کیا، تو صاف نظر آ رہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے اِس بار طے کر رکھا ہے کہ ہر جائز، ناجائز طریقے سے بی جے پی کو جتوانا ہے اور ہر سُو اُس کی انتخابی فتح کے جھنڈے لہرانے ہیں۔
اِس الیکشن نے بھارت کے سیکولر آئین اور اس کے اوّلین معماروں کے نظریات خلیجِ بنگال کی نذر کر دیئے۔ الیکشن کمیشن کے اِس کردار کی وجہ سے انتخابی نتائج کا باقاعدہ اعلان ہونے سے پہلے ہی مودی جی نے اپنی پارٹی کی فتح کا اعلان کر دیا تھا اور بی جے پی نے جشن منانا بھی شروع کر دیا۔
ممتا بنر جی نے انتخابی نتائج قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا، تو نتائج کا اعلان ہوتے ہی ممتا کے گھر کے باہر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں اور آنے، جانے کے راستے بند کر دیئے گئے۔ الیکشن کمیشن کے نتائج کی رُو سے بی جے پی نے294میں سے 207نشستیں حاصل کیں، جب کہ ممتا بنرجی کی جماعت 90سے بھی کم نشستیں حاصل کرسکی۔
ایک ریاستی انتخابی نتیجے پر امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی جی کو مبارک باد دی اور بنگلا دیش کے وزیرِ اعظم، طارق رحمان نے بھی خوشی کا اظہار کیا، لیکن جمہوری دنیا میں سے کسی لیڈر نے اِس امر کا نوٹس نہیں لیا کہ الیکشن سے پہلے مختلف حیلوں بہانوں سے لاکھوں مسلمانوں کے علاوہ دَلتوں اور عیسائیوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیئے گئے تھے،جس کی تفصیل سب سے پہلے الجزیرہ نیٹ ورک پر آنا شروع ہوئی۔France-24اورProgressive International نے بھی بنگالی مسلمانوں کی یہ شکایت نشر کی کہ اُنہیں خاص طور پر نشانہ بنایا گیا اور لاکھوں مسلمان ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کر دیئے گئے۔
برِّ عظیم پاک و ہند کی تقسیم سے پہلے پنجاب اور بنگال، مُلک کے سب سے بڑے صوبے تھے۔ بنگال رقبے اور آبادی، دونوں لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ تھا۔ اس کی ایک اور خصوصیت یہ تھی کہ اس کے مشرقی حصّے میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ تھی اور مغربی حصّے میں ہندو زیادہ تھے۔ گویا، بنگال مذہبی لحاظ سے قدرتی طور پر تقسیم تھا۔ کلکتہ اس کا انتظامی دارالحکومت تھا۔ ایک بڑے مُلک کے برابر اِس صوبے کا انتظام کوئی آسان کام نہیں تھا۔
اُس وقت لارڈ کرزن وائسرائے ہند تھا، جس کی انتظامیہ ہندو اکثریت والے حصّے ہی کو پیشِ نظر رکھ کر فیصلے کرتی تھی۔ مشرقی حصّے کے مسلمان تعلیم، سرکاری ملازمتوں اور تجارت کے شعبوں میں ہندوؤں کے مقابلے میں بہت پس ماندہ تھے۔ پاک و ہند کے سیاسی میدان میں پیش قدمی کا انحصار تعلیمی، معاشی اور سماجی برتری پر ہوتا ہے، لیکن اِس میدان میں مسلمان بہت پیچھے تھے۔
اِس پس منظر میں مسلمان چاہتے تھے کہ بنگال کو تقسیم کر کے دو صوبے بنا دیئے جائیں تاکہ مشرقی حصّے کے انتظام و انصرام کے لیے الگ انتظامیہ ہو، جو مسائل بہتر طور پر حل کرے اور ایک بہتر انتظامی ڈھانچا وجود میں آئے، لیکن ہندوئوں کو یہ منظور نہیں تھا۔
تاہم، لارڈ کرزن نے مسلمانوں کے مطالبے پر کان دھرے اور16 اکتوبر 1905ء کو تقسیمِ بنگال کا فیصلہ کر دیا، جس پر ہندوئوں میں شدید ردّ ِ عمل پیدا ہوا۔ اُنہوں نے احتجاجی مظاہرے اور وسیع پیمانے پر جلسے جلوس شروع کر دیئے۔ کانگریس نے اِس تقسیم کے خلاف سودیشی تحریک چلائی، جس کا مقصد انگریزوں کے مال کا بائیکاٹ کرنا تھا۔
رابندر ناتھ ٹیگور جیسے عالمی شہرت یافتہ شاعر اور دانش وَر بھی اِس موقعے پر تعصّب سے محفوظ نہ رہ سکے۔ دراصل، ہندو ہر اُس بات کی مخالفت کرتے تھے، جس میں مسلمانوں کا کوئی فائدہ ہوتا۔ ہندوؤں کی اِس تحریک کے دباؤ میں آکر1911 ء میں شاہ جارج پنجم کی منظوری سے وائسرائے، لارڈ ہارڈنگ نے مسلمانوں کے مفادات کے خلاف فیصلہ کیا اور بنگال کی تقسیم منسوخ کر دی۔
ہندوؤں نے اِسے اپنی فتح قرار دیا، جب کہ مسلمانوں میں اِس فیصلے سے سخت مایوسی پھیلی۔ اِس اقدام سے ہندو، مسلم اتحاد پر بھی سخت ضرب لگی۔ اِسی پس منظر میں30 دسمبر 1906ء کو ڈھاکا میں نواب سلیم اللہ کے گھر مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے’’مسلم لیگ‘‘ کے نام سے ایک الگ جماعت وجود میں آئی۔
تقسیمِ ہند کے بعد تقریباً چالیس، پچاس لاکھ بنگالی مسلمان مغربی بنگال میں مقیم رہے۔ انگریزوں کے دَور کے چار، پانچ عشرے بعد تک بھی پیدائش اور اموات کا ریکارڈ محفوظ کرنے کا کوئی جدید سائنسی نظام نہیں تھا۔ گاؤں یا قصبے کے نمبردار وغیرہ پیدائش اور اموات کی تفصیل ایک کچّے رجسٹر میں درج کرتے اور تحصیل دار کے دفتر میں پہنچا دیا کرتے تھے۔ یہ امر یقینی نہیں ہوتا تھا کہ پیدائش اور اموات کی ٹھیک ٹھیک تاریخیں درج ہوئی ہیں۔
نیز، بنگال کی عام آبادی میں بنگالی کیلنڈر مقبول ہے، جو پانچ سو ترانوے، چورانوے میں وہاں کے بادشاہ، شاشنکر نے وضع کیا اور اکبر بادشاہ نے اپنے عہد میں اسے بنگال کے مالی امور کے لیے رائج کیا تھا۔ بنگالی اکثر اسی تقویم کو استعمال کرتے اور اپنے کوائف درج کرواتے تھے، جیسے پنجاب میں دیسی بکرمی کیلنڈر کے حساب سے چلتے ہیں۔
گزشتہ تقریباً پندرہ سال میں اُبھرنے والی ممتا بنرجی، جنہیں عوام عقیدت و محبّت سے’’دیدی‘‘ یعنی بڑی بہن کہتے ہیں، 2011ء سے اِس صوبے کی مقبول و ممتاز خاتون لیڈر ہیں اور اگر اُن کی پارٹی حالیہ انتخابات جیت جاتی، تو وہ چوتھی بار وزیرِ اعلیٰ کا عُہدہ سنبھالتیں۔ وہ قانون دان بھی ہیں اور قانون ساز بھی۔ اُنہوں نے 1998ء میں آل انڈیا ترنمول کانگریس کی بنیاد رکھی۔ یہ بھارت کی چوتھی بڑی پارٹی ہے۔ ممتا غیر متعصّب اور عوام دوست لیڈر ہیں۔ ہندو، مسلم، سِکھ اور عیسائی، اُن کی نظر میں سب برابر ہیں، اِسی لیے اُنہیں سب پسند کرتے اور ووٹ دیتے ہیں۔
وہ بی جے پی کو کافی عرصے سے کھٹک رہی تھیں، لیکن عوامی مقبولیت کی وجہ سے مودی سرکار اُن کا کچھ بگاڑ نہیں سکی تھی۔ بی جے پی سیاست کے راستے مُلک کو سیکولر ازم سے نکال کر’’ہندو توا‘‘ کے زرد زعفرانی رنگ میں رنگنا چاہتی ہے۔ مودی جی پورے بھارت میں’’مودی راج‘‘ کا جو خواب دیکھ رہے ہیں، ممتا بنر جی کم از کم بنگال کی حد تک اُس کے راستے میں رکاوٹ تھیں۔
حالیہ الیکشن 23 اور 29اپریل 2026ء کو دو مراحل میں ہوئے۔6مئی کو ان کے جو سرکاری نتائج جاری ہوئے، اُن کے مطابق مودی کی بی جے پی بنگال میں بھاری اکثریت سے جیت گئی۔ ووٹ سے تو ممتا کو شکست دینے کا کوئی امکان نہیں تھا، اِسی لیے بی جے پی نے اُنھیں شکست دینے کے لیے بڑی شاطرانہ چال چلی۔ الیکشن کمیشن، مودی جی کا مُرغِ دست آموز ہے۔
اُس نے’’ Special Intensive revision‘‘کے نام سے ووٹرز کے لیے جو معیار مقرّر کیا، اُس کے مطابق لاکھوں مسلمان مختلف بہانوں سے ووٹ کے حق سے محروم کر دیئے گئے۔ ایسے ووٹرز، جنہوں نے پچھلے کئی انتخابات میں ووٹ ڈالے، اِس بار اُن کے اصل نام اورعُرفی نام، تاریخ پیدائش میں مہینے کی تاریخ میں فرق اور دیگر درجنوں بہانے تراش کر اُن کے ووٹ منسوخ کر دیئے گئے۔
ایسا فرق شاید ترقّی یافتہ، جمہوری مغربی ممالک میں بھی ووٹرز کے ناموں اور پتوں میں ہوسکتا ہے کہ پتے بدلنا ایک عام سی بات ہے۔ یہاں تو نام کے ہجّوں، تلفّظ اور نام کی ادائی میں معمولی سے فرق کو بہانہ بناکر ووٹ منسوخ قرار دے دیا گیا۔
تہتّر سالہ ایک خاتون، نبی جان منڈل پچھلے تمام انتخابات میں ووٹ ڈالتی رہی ہیں، لیکن اِس مرتبہ اُنہیں صرف اِس بنا پر ووٹ کے حق سے محروم کر دیا گیا کہ حکومت کے ریکارڈ میں اُن کا نام مختصر انداز میں نبیرل درج تھا اور ووٹر لسٹ میں وہ نبی جان ہیں۔ میر جعفر کا باپ سیّد احمد نجفی 1740ء سے 1750ء کے درمیان نجف یعنی عراق سے آکر بنگال میں آباد ہوا تھا۔
اُس کی پندرھویں، سولھویں نسل کے لوگ اب بھی مرشد آباد میں مقیم ہیں۔ یہ وہی میر جعفر ہے، جس نے انگریزوں کے ساتھ مل کر پلاسی کی جنگ میں نواب سراج الدولہ سے غدّاری کر کے مسلمان فوج کو شکست دِلوائی تھی اور اسی غدّاری کی وجہ سے علّامہ اقبالؒ نے کہا تھا؎’’جعفر از بنگال صادق از دکن…ننگِ دِین، ننگِ دُنیا، ننگِ وطن۔‘‘
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، لگ بھگ تین سو سال سے بنگال میں آباد اور بنگال، بہار اور اڑیسہ پر حُکم رانی کرنے والے میر جعفر کی نسل سے تین سو چھیالیس افراد ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کر دیئے گئے، حالاں کہ وہ خود بھی معروف ہیں اور اُن کے پتے بھی سب جانتے ہیں۔ یاد رہے، ہمارے ہاں1956 ء میں خالص جمہوری اور متفّقہ آئین منسوخ کر کے پہلا مارشل لاء لگانے والے اسکندر مرزا اُسی میر جعفر کی نسل سے تھے۔
لاکھوں مسلمان ووٹس کی منسوخی کے لیے جو وجوہ گھڑی گئیں، اُن میں رہائشی پتے، خاندانی اور آبائی نام، عورتوں کے ناموں کے ساتھ شادی کے بعد والد کی جگہ شوہر کا نام آ جانا، ناموں کے ہجّوں میں معمولی سا فرق، گھر کی تبدیلی اور ایک شہر سے دوسرے شہر نقل مکانی، تعلیمی ادارے اور عام ریکارڈ میں نام کا فرق وغیرہ جیسے معاملات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، بہت سے نام بغیر کسی وجہ اور دلیل کے ووٹرز لسٹ سے حذف کر دیئے گئے۔ بنگلا دیش کے وہ سرحدی علاقے، جو مغربی بنگال کے ساتھ ملتے ہیں، وہاں کے ووٹرز کی بڑی تعداد الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں نہیں تھی، جب کہ ان لوگوں نے اس سے پہلے ہر انتخابات میں ووٹ ڈالے تھے۔
نندی گرام ایک ایسا انتخابی حلقہ ہے، جس میں پچیس فی صد مسلمان بستے ہیں۔ اِس حلقے میں پچانویں فی صد مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹ سے غائب کر دئیے گئے۔ بھابانی پور کے حلقے میں بیس فی صد مسلمان ہیں اور اُن میں سے چالیس فی صد ووٹ کے حق سے محروم کردئیے گئے۔ جن سات کروڑ ووٹرز کو مختلف حیلوں بہانوں سے ووٹ کے حق سے محروم کیا گیا، اُن میں بھاری اکثریت تو مسلمانوں ہی کی ہے، البتہ عیسائی اور دَلِت برادری کے افراد کی خاصی تعداد بھی متاثر ہوئی۔
الجزیرہ نے مغربی بنگال کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر تیکنیکی دھاندلی کی تفصیل شائع کی اور ایک، ایک ضلعے کی تفصیل بتائی کہ لاکھوں ووٹرز نے ماضی میں ووٹ دیئے، مگر اِس بار اُنہیں بڑے مکر و فریب کے ذریعے ووٹ کے حق سے محروم کیا گیا۔ مغربی میڈیا میں سے بی بی سی نے مغربی بنگال کے انتخابات پر تھوڑی سی توجّہ دی اور بتایا کہ جس طرح کی دھاندلی کی گئی، اُس کی وجہ سے ووٹرز ہی میں نہیں، ہر طبقے میں اضطراب اور بے چینی پائی جاتی ہے، کیوں کہ جو روایت ڈالی گئی ہے، وہ مستقل ہو گئی، تو بھارت کے قومی انتخابات بھی داغ دار ہو جائیں گے۔
الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا کہ حالیہ انتخابات بہت پُرامن ماحول میں ہوئے۔ پُرامن سے مُراد یہ ہے کہ انتخابات مکمل قاعدے، ضابطے، دستور اور قانون کے مطابق ہوئے، لیکن اگر لاکھوں افراد سے ووٹ دینے کا حق ہی چھین لیا جائے، تو اُسے’’ پُرامن الیکشن‘‘ ہرگز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بی جے پی نے مُلک کے مشرقی حصّے میں بہت ہی غلط طریقے سے اپنا راستہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ممتا اور بی جے پی کی نشستوں میں انیس، بیس کا فرق ہو سکتا تھا۔ بی جے پی نصف نشستیں لے سکتی تھی، لیکن جس مارجن سے اُسے’’کام یابی‘‘ ملی، شاید اِس کی اُسے خود بھی توقّع نہیں ہوگی۔
لاکھوں مسلمانوں کے علاوہ عیسائیوں اور دلتوں کے ووٹ منسوخ کرنے کا معاملہ اگر عدالت میں جائے، تو بھارتی عدالتیں بھی ہندو توا فلسفے کے تابع ہیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ عدالتیں بی جے پی ہی کے حق میں فیصلہ دیں گی۔ بنگال میں میر جعفر کی نسل تو موجود ہے، لیکن کوئی نواب سراج الدّولہ نہیں ہے، جو اِس ظلم کے خلاف آزادی کی جنگ لڑے، جیسے نواب سراج الدّولہ نے برطانوی استعمار کا راستہ روکنے کے لیے لڑی تھی۔
بنگال کے علاوہ آسام میں بھی بی جے پی نے تیسری بار بھاری اکثریت سے انتخاب جیتا ہے۔ آسام میں بی جے پی کا مذہبی، سماجی اور سیاسی وجود مسلمانوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ آسام کے وزیرِ اعلیٰ، ہمنتا بسوا سرما (Himanta Biswa Sarma)نے ممتا بنرجی پر الزام لگایا تھا کہ وہ ریاستی خزانہ بنگلا دیش کے مسلمانوں پر خرچ کرتی رہی ہیں۔ وہ ایسا کرتی تھیں یا نہیں، لیکن یہ الزام حالیہ الیکشن میں مغربی بنگال کے ہندوؤں کو متنفّر کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر ضرور استعمال ہوا۔
یہی تاثر پھیلا کر بی جے پی نے بنگال میں الیکشن جیت کر مسلمانوں کے گھروں، دُکانوں، مساجد اور مختلف اداروں پر حملے شروع کر دیئے۔ آسام میں بھی مسلمانوں کے لیے بہت اذیّت ناک ماحول ہے۔ وہاں بھی اُن پر ’’گُھس بیٹھیے‘‘ اور ’’غیر مُلکی درانداز‘‘ ہونے کی پھبتیاں کَسی جاتی ہیں اور اُن کی طرح طرح سے تذلیل کی جاتی ہے۔
تامل ناڈو میں اگرچہ بی جے پی کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی، لیکن اُس نے جتنی پیش قدمی کی ہے، وہ مسلمانوں کے لیے تشویش کا موجب ضرور ہے۔ شمال کے بعد اب جنوب اور مشرق میں بی جے پی کے قدم جم گئے ہیں۔ تامل ناڈو کے اصل فاتح ایک معروف فلمی اداکار، سی جوزف وجے(تھلاپتی وجے) ہیں، جن کی بالکل نئی پارٹی’’تملگا ویٹری کزگم‘‘ نے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔
وہ مذہباً عیسائی ہیں، لیکن سیاسی اور سماجی طور پر سیکولر ہیں۔ ان کی وجہ سے آریاؤں کے جبر سے بھاگ کر جنوبی ہند میں پناہ لینے والی داوڑی نسل کی یاد تازہ ہوگئی کہ جوزف ویجے، نظریاتی طور پر نریندر مودی اور بی جے پی کے مخالف، سماجی عدل و انصاف کے حامی ہیں۔ (مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)