بھارت، پاکستان کے خلاف چار جنگیں لڑ چُکا۔ ابھی ایک سال پہلے(سات تا دس مئی2025 ء) اُس نے مقبوضہ کشمیر میں پہلگام کے دہشت گردانہ واقعے کی تحقیق کیے بغیر ہی پاکستان کو اس کا ذمّے دار ٹھہرایا اور پاکستان پر جارحیت کرتے ہوئے مساجد اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا۔ بہاول پور، مریدکے، نارووال اور سیال کوٹ پر میزائل حملے کیے۔
راول پنڈی میں نور خان ایئر بیس بھی میزائل کا نشانہ بنا۔ جواب میں پاکستانی فضائیہ میدان میں اُتری اور ایسی جوابی کارروائی کی کہ اُس کے کارنامے دنیا بَھر کی ہوائی افواج کے لیے ایک مثال اور’’ Case study‘‘ بن گئے۔ بھارت کے سات طیارے گرائے گئے، جن میں کم از کم تین یا پانچ فرانسیسی ساختہ جدید ترین رافیل طیارے بھی شامل تھے۔
پاکستانی فضائیہ نے دشمن کو ایسی خاک چٹوائی کہ بھارت کو امریکا کے ذریعے جنگ بندی کی درخواست کرنی پڑی، جب کہ اِس مختصر جنگ کے نتیجے میں دنیا بھر پر پاکستان کی عسکری قوّت کی ہیبت اور دھاک بیٹھ گئی۔ مُلک کا وقار بلند ہوا اور ساری دنیا نے پاکستان کی عسکری صلاحیتوں پر تحقیق شروع کردی۔ ہماری تینوں افواج اِس طرح سیسہ پلائی دیوار بن کر لڑیں کہ اُن کی وحدت و اتحاد کو ’’بنیان مرصوص‘‘ کی شناخت مل گئی۔
بھارت، میدانِ جنگ میں خواہ کیسی ہی ذلّت کیوں نہ ُٹھائے، مُودی کا اصل مقصد سماجی و سیاسی زندگی میں مسلمانوں کے لیے دائرہ تنگ سے تنگ تر کرنا ہے۔ بھارت شروع دن سے پاکستان کا مخالف تھا اور اب بھی پاکستان کو مِٹا کر’’اکھنڈ بھارت‘‘ کے قیام کے خواب دیکھ رہا ہے۔ ’’اکھنڈ بھارت‘‘ یا’’مہا بھارت‘‘کا مطلب ناقابلِ تقسیم بھارت ہے۔ یہ فلسفہ یا منصوبہ بالکل یہودیوں کے’’گریٹر اسرائیل‘‘ کی طرح کا ہے۔
اِس منصوبے کی رُو سے بھارت، پاکستان، بنگلا دیش، نیپال، بھوٹان، سری لنکا اور افغانستان دراصل ایک مُلک، بھارت ہے اور اِن سب ممالک کی الگ الگ شناختیں ختم کر کے ایک’’گریٹر انڈیا‘‘ کی تشکیل کرنی ہے۔ مسلمانوں نے چوں کہ بھارت پر تقریباً سات سو سال تک حکومت کی تھی، اِس لیے ہندو نفسیات میں مسلم دشمنی بہت گہری بیٹھی ہوئی ہے۔ وہ مسلمانوں پر حکومت ہی نہیں کرنا چاہتے، بلکہ ان کے وجود، تمدّن اور تہذیبی آثار بھی مِٹا دینا چاہتے ہیں۔
قیامِ پاکستان سے پہلے سیکڑوں ہندو، مسلم فسادات ہوئے، جن میں مسلمانوں کا جانی و مالی نقصان ہمیشہ ہندوئوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا رہا۔ 1923ء سے 1927ء کے دورانیے میں اِس نوعیت کے 91فسادات ہوئے۔ مسلمانوں کو جذباتی اذیّت پہنچانے کے لیے نبی کریمﷺ کی شانِ مبارکہ میں شدید گستاخی اُن کا شیوہ بن گیا تھا۔ ایک دریدہ دہن ہندو سوامی شردھا نند کی گستاخی کی وجہ سے ایک مسلمان نوجوان عبدالرّشید نے23دسمبر1927 ء کو اُسے قتل کر دیا۔
واضح رہے، اس سے پہلے آریا سماج سے وابستہ متعصّب ہندو پنڈت، چموپتی یا کرشن پرشاد پرتاب نے ایک انتہائی گستاخانہ کتاب لکھی، جو 1924ء میں شائع ہوئی۔ اِس بے ہودہ کتاب کو شائع کرنے اور پھیلانے کا کام لاہور کے ایک ناشر، مہاشے راجپال نے اپنے ادارے کے زیرِ اہتمام کیا تھا، جس پر ایک سچّے عاشقِ رسولﷺ اور غیرت مند مسلمان، غازی علم الدّین نے مہاشے کو 6اپریل 1929ء کو اُس کی دکان کے اندر خنجر کا وار کر کے واصلِ جہنّم کردیا۔ اِس کے باوجود، ہندؤوں نے اپنی تقاریر اور تحاریر کے ذریعے مسلمانوں کی مقدّس ترین ہستی، حضرت محمّد مصطفٰی ﷺ کی اہانت کی گھٹیا حرکت جاری رکھی۔
عدالت میں غازی علم الدّینؒ کے کیس کی پیروی قائدِ اعظم محمّد علی جناحؒ نے کی تھی۔ اِن واقعات کی آڑ میں ہندوئوں نے اسلام سے متعلق یہ سوچ پھیلائی کہ یہ مذہب تلوار کے زور پر پھیلا تھا۔ اِسی طرح کی عملی اور فکری شرانگیزیوں کی وجہ سے مولانا محمّد علی جوہرؒ نے جامع مسجد دِلّی میں تقریر کرتے ہوئے بڑی حسرت سے کہا تھا کہ’’کاش…! کوئی مسلمان اُٹھے اور اپنے قلم سے اسلامی جہاد کی حقیقت دنیا پر واضح کرے۔‘‘ مولانا مودودیؒ ،جو مولانا محمّد علی جوہرؒ کی تقریر سُننے والوں میں موجود تھے، اُس وقت چوبیس سال کے نوجوان تھے۔ اُنہوں نے وہیں ایسی کتاب لکھنے کا ارادہ کر لیا اور اُن کی شاہ کار کتاب’’الجہاد فی الاسلام‘‘ کی تصنیف کا یہی پس منظر تھا، جو پہلی بار1930 ء میں شائع ہوئی۔
بہرکیف، نریندر مودی کا تعلق نہ برہمن ذات سے ہے اور نہ ہی وہ کوئی بلند فکر شخص ہے۔ اُس کا تعلق گجرات کی موہدگرانچی ذات سے ہے، جسے برہمن ایک گھٹیا ذات سمجھتے ہیں۔ اُس نے گجرات کا وزیرِ اعلیٰ اور پھر پورے بھارت کا وزیرِ اعظم بن کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایسی ظالمانہ پالیسی اختیار کی کہ برہمن ذات والوں نے اسے’’اعزازی برہمن‘‘ قرار دے دیا۔ اُس نے گجرات کے وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے فروری، مارچ 2002ء میں کم و بیش دو ہزار مسلمان شہید کروائے۔ اِسی سفّاکی پر اُسے’’گجرات کا قصاب‘‘ کا خطاب دیا گیا تھا۔
لال کرشن ایڈوانی، بی جے پی کا سینئیر رہنما اور نریندر مودی کا پیشوا تھا۔ مودی کا سب سے وحشیانہ نظریاتی اور عملی ہتھیار’’ہندو توا‘‘ ہے، جس کا بانی یہی ایڈوانی تھا۔ اُسی نے مودی کا فکری و نظریاتی تعلق ہندو تنظیم، راشٹریا سویم سیوک سنگھ (RSS)سے قائم کیا تھا۔ ایڈوانی بھی برہمن نہیں تھا۔ وہ پارسی کالونی، کراچی میں پیدا ہوا تھا۔ اِس تنظیم کی بنیاد27 ستمبر 1925ء کو بھارت کے شہر، ناگ پورمیں رکھی گئی۔
اس کا بانی کیشو بلی رام ہیڈ گیورام (Keshav Baliram Hedgewar)اسلام اور مسلم دشمن ذہنیت رکھنے والا ایک انتہائی متعصّب ہندو تھا۔ پاکستان کے قیام اور آبادی کی سب سے بڑی نقل مکانی کے باوجود، اب بھی بھارت میں لگ بھگ بائیس کروڑ مسلمان رہتے ہیں، جب کہ اُن کی آبادی میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ ہندوؤں کو خدشہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں مسلمان آبادی اُن کی تعداد سے بڑھ جائے گی اور ہندو ایک بار پھر اُن کے تابع ہو جائیں گے۔ ہندوؤں کی سیاسی، سماجی اور نظریاتی تنظیموں کی رگوں میں یہی خوف بیٹھا ہوا ہے۔
گو کہ کانگریس ایک سیاسی جماعت ہے، لیکن یہ بھی اپنے قیام کے وقت سے اِسی ذہنیت کا مظاہرہ کرتی چلی آ رہی ہے۔ قائدِ اعظم محمّد علی جناحؒ نے 1916ء میں’’معاہدۂ لکھنئو‘‘کے ذریعے ہندو، مسلم اتحاد کی بنیاد رکھی، لیکن ہندو ذہنیت نے اس کی اینٹیں اُکھاڑ پھینکیں۔ مسلم رہنما، ہندوؤں سے اتحاد کی مخلصانہ کوششیں کرتے رہے، لیکن ہندو ذہنیت اُبھر اُبھر کر سامنے آتی رہی اور بار بار ہندو، مسلم فسادات پُھوٹے۔
کانگریس بظاہر روشن خیال، اعتدال پسند، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور گہرے سیاسی شعور کی حامل جماعت بن کر سامنے آئی تھی، جس کی وجہ سے متعدّد مسلمان بھی اس سے وابستہ ہو گئے، لیکن اِس کے رہنماؤں کی ذہنیت پر بھی’’ آر ایس ایس‘‘ کا رنگ صاف جھلکتا رہا۔ تقسیمِ بنگال منسوخ کروانے کی تحریک کانگریس ہی نے چلائی تھی۔
اگست 1928ء میں موتی لال نہرو کی نسبت سے مشہور’’نہرو رپورٹ‘‘ سامنے آئی، تو وہ مسلمانوں کے مفادات کے بالکل منافی تھی اور اس میں جُداگانہ انتخابات کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ جواب میں مارچ 1929ء میں قائدِ اعظم محمّد علی جناح نے اپنے مشہور14 نکات پیش کیے، جنہیں کانگریس نے مسترد کر دیا۔ آخر علّامہ اقبالؒ اور قائدِ اعظم محمّد علی جناحؒ اِس نتیجے پر پہنچے کہ ہندو اور مسلمانوں میں مذہبی و اعتقادی، فکری و نظری اور تاریخی لحاظ سے اِتنا بڑا فرق ہے کہ یہ کبھی ایک قوم نہیں بن سکتے۔
اب ہم دوبارہ نریندرا مودی اور بھارت کی موجودہ صُورتِ حال کی طرف پلٹتے ہیں۔ یہ شخص مسولینی اور ہٹلر سے بڑھ کر فاشسٹ ہے۔ فرانس کے مشہور اخبار’’لی موندے‘‘(Le Monde)نے معروف و ممتاز بھارتی ادیب، دانش وَر اور انسانی حقوق کی عَلم بردار، ارونددھتی رائے سے منسوب یہ بیان شائع کیا کہ’’ مُودی کے قریبی ساتھیوں میں اور پارٹی میں اہم حیثیت رکھنے والے ایسے افراد موجود ہیں، جو مسولینی اور ہٹلر کی عملی طور پر پرستش کرتے ہیں۔‘‘
فسطائی مزاج و فطرت کا انسان خود پسند ہی نہیں، خود پرست بھی ہوتا ہے۔ اپنی رائے اور فیصلوں کو حتمی اور ناقابلِ تنسیخ سمجھتا ہے۔ نفرت ہر فاشسٹ کا ہتھیار ہوتا ہے۔ وہ اپنے مُلک اور معاشرے کے جس گروہ یا طبقے سے نفرت کرتا ہے، اُسے ظلم و ستم کا نشانہ بناتا ہے، قانون سازی سے اُن کا ناطقہ بند کرتا ہے اور جبر و تشدّد سے اُس طبقے کے حقوق چھینتا ہے۔ ہر فاشسٹ ایک ہدف چُن لیتا ہے۔
جرمن فاشسٹ ہٹلر کے لیے یہودیوں کا وجود ناقابلِ برداشت تھا، تو اٹلی کے فاشسٹ مسولینی نے سرکاری طور پر’’بلیک شرٹس‘‘(Black Shirts)کے نام سے ایک دہشت گرد تنظیم قائم کی تھی، جو کمیونزم، سوشلزم، ٹریڈ یونینز اور بے مہار آزادیوں کی عَلم بردار جمہوریت کے حامیوں کو کچلتی تھی۔ وہ اِن چیزوں کو اِٹلی کے لیے خطرناک خیال کرتا تھا۔ بعد میں ہٹلر کی پیروی میں اُس نے بھی یہودیوں کو اٹلی کے لیے ایک خطرہ قرار دیا، جنہوں نے معاشی وسائل پر قابض ہو کر نظام کو اپنا تابع بنا لیا تھا۔
موجودہ صدی کے اِن ڈھائی عشروں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیرِ اعظم، نریندر مودی دو بڑے فاشسٹ ہیں، جن میں مودی کا فاشزم ٹرمپ سے دو ہاتھ آگے ہے۔ ٹرمپ نے خالص گورے امریکیوں کے مقابلے میں ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا سے آ کر آباد ہونے والوں کو نفرت کا ہدف بنا رکھا ہے، جب کہ مودی، آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی مسلمانوں کی بڑھتی آبادی کو بھارت کی معیشت، سلامتی اور ہندوئوں کے حقوق کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اُن سے نفرت و حقارت پروان چڑھا رہے ہیں۔ ’’ہندو توا‘‘ کا نظریہ تو آر ایس ایس نے گھڑا تھا، لیکن اس کا وسیع پیمانے پر اطلاق مودی اور بی جے پی کے ہاتھوں ہو رہا ہے۔
بھارت میں مسلمانوں کے لیے زندگی کے ہر شعبے میں گھٹن، اذیّت اور محرومی بڑھ رہی ہے۔ اُن کے کاروبار تباہ کیے جارہے ہیں۔ گھر غیر قانونی قرار دے کر بلڈوزر سے مسمار کردیئے جاتے ہیں اور انہیں ہندو روایات کی توہین کا مرتکب ٹھہرا کر اجتماعی تشدّد (Lynching)کے سفّاکانہ عمل سے ہلاک کیا جاتا ہے۔ بابری مسجد6 دسمبر1982ء کو شہید کی گئی، جب کہ تیس سے پینتیس ہزار دیگر مساجد ہیں، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ اُن جگہوں پر تعمیر کی گئیں، جہاں کبھی ہندو مندر تھے۔ حکومت، مسلمانوں سے متعلق جتنے ظالمانہ فیصلے کرتی ہے، ہندو انتہاپسندوں میں اُتنی ہی اس کی مقبولیت بڑھتی ہے۔
مودی نے فقط سیاست ہی میں مسلمانوں کو اپنی فسطائیت کا نشانہ نہیں بنایا، بلکہ مُلک کے ہر ادارے، شعبے اور فرد کے ذہن میں مسلمان دشمنی کا زہر بھر دیا ہے۔ فوج اور پولیس تو براہِ راست اُس کے تابع ہیں، لیکن عدلیہ کے جج، وکیل، یونی ورسٹیز کے وائس چانسلرز، پروفیسرز، انتظامیہ کے چھوٹے بڑے افسران، بڑے صنعت کار اور تاجر، غرض ہر شعبے میں مسلم دشمن جذبات کی آگ بھڑکا دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے بنگال میں کم و بیش ایک لاکھ مسلمانوں کے ووٹ یہ کہہ کر منسوخ کر دیئے کہ یہ وہ’’ گھُس بیٹھیے‘‘ ہیں، جو بنگلا دیش سے آ کر مغربی بنگال میں آباد ہوئے۔
عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ کسی مُلک کی فوج میدانِ جنگ میں ہزیمت سے دوچار ہو جائے، تو اُس مُلک کی حکومت مقبولیت کھو بیٹھتی ہے، لیکن ہم نے دیکھا کہ مئی میں پاکستان سے شکست کھانے کے باوجود حالیہ صوبائی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو پہلے سے زیادہ مقبولیت ملی اور ایسی ریاستوں میں بھی وہ حکومت بنانے کے قابل ہو گئی، جہاں اُسے اکثر شکست کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ بنگال کی سابق وزیرِ اعلیٰ، ممتا بنرجی ایک مقبول لیڈر تھیں، لیکن حالیہ انتخابات میں بی جے پی نہ صرف بھاری اکثریت سے جیت گئی، بلکہ اُس کے مقابلے میں ممتا بہت کم نشستیں حاصل کرپائیں۔
عدالتوں کا یہ حال ہے کہ اُن کے ہر فیصلے پر بی جے پی کا رنگ چڑھا ہوا ہوتا ہے۔ ریاست مدھیہ پردیش کے اہم شہر’’دھار‘‘ میں بابری مسجد ہی کی طرح ایک قدیم تاریخی ’’کمال مولا مسجد‘‘کی مثال سامنے ہے۔ 1307عیسوی میں سلطان علاؤ الدّین خلجی کی تعمیر کردہ اِس مسجد سے متعلق چند روز قبل ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ یہ بھی مندر کی جگہ تعمیر کی گئی تھی۔ یاد رہے، یہ مسجد بھارتی حکومت کے اپنے فیصلے کے تحت تاریخی وَرثہ قرار دی گئی تھی۔
بھارت میں تعلیمی اور دیگر اداروں میں کام کرنے والی مسلم خواتین کو تنگ کیا جاتا ہے، اُن سے چھیڑ چھاڑ اور فقرہ بازی کے بڑھتے واقعات پر میڈیا توجّہ دینے پر مجبور ہوگیا۔ مسلمان مَردوں کو بھی کام کے مقامات پر تکلیف دہ صُورتِ حال سے گزرنا پڑتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف تحقیر و تذلیل پر مبنی دل آزار پوسٹس کی بھرمار ہے۔ مسلمانوں کو سیاسی طور پر اچھوت بنا دیا گیا ہے۔ حالیہ ریاستی انتخابات میں کسی بھی جگہ مسلمانوں کو بی جے پی کے ٹکٹ نہیں دیئے گئے۔
اُنھیں گھس بیٹھیے، حرام خور، طفیلی اور مفت خورے جیسے توہین آمیز القابات سے بُلایا جاتا ہے۔ مغربی بنگال میں ریاستی انتخاب جیتنے کے بعد بی جے پی کے کارکنان نے مسلمانوں کے گھروں، دفاتر اور دُکانوں پر حملے شروع کر رکھے ہیں، خصوصاً عید الاضحیٰ کے ایّام میں ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ دہشت گردانہ مہم شروع کر دیتے ہیں۔ گھروں میں گھس گھس کر چیک کیا جاتا ہے کہ فریج میں گائے کا گوشت تو نہیں ہے۔
(مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)