• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’اس دفعہ یوم آزادی نہیں مناؤ گے؟‘‘ عادل نے اپنے دوست ارسلان کو مخاطب کیا۔ دونوں اندرون شہر کے رہائشی تھے۔ گھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے اور دونوں اپنی اپنی چھت پر کھڑے تھے۔ چھتیں تقریباً آپس میں مِلی ہوئی تھیں۔ ارسلان نے اس کی آواز پرپلٹ کر اُسے دیکھا۔

’’کیوں نہیں… ضرور مناؤں گا۔‘‘ ارسلان اپنی چھت کی بیرونی چار دیواری کے پاس آکر رُکا اور عادل کو مُسکرا کر دیکھنے لگا۔

’’مگر کوئی تیاری نظر نہیں آرہی، سوائے تمھاری چھت پر لہراتے سبز ہلالی پرچم کے، اور پرسوں 14 اگست ہے۔‘‘ عادل نے ارسلان کے گھر کی چھت پر لہراتے پرچم کو دیکھ کر کہا۔

’’اس دفعہ میں 14 اگست کو دس نئے پودے لگاؤں گا اور پورا سال اُن کی حفاظت کر کے اُنھیں درخت بناؤں گا۔‘‘ ارسلان نے جواب دیا۔

’’ہیں… وہ کیوں؟‘‘ عادل حیران تھا۔

’’تاکہ ہمارا مُلک گندگی اور آلودگی سے بھی آزاد ی حاصل کر سکے۔‘‘ ارسلان کا اطمینان قابلِ دید تھا۔

اور آزادی کے اس نئے مفہوم سے عادل اتنا متاثر ہوا کہ اُس نے بھی فوراً سے پیش تر باقی ساری تیاریاں چھوڑیں اور قریبی نرسری کا رُخ کیا۔