• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندگی کا ہر مرحلہ اپنی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، لیکن اگر انسانی زندگی میں کسی ایک عرصے کو سب سے فیصلہ کُن قرار دیا جائے، تو وہ بچّے کی زندگی کے پہلے ایک ہزار دن ہیں۔ یہ وہ مدّت ہے، جو حمل کے آغاز سے بچّے کی دوسری سال گرہ تک محیط ہے۔ اِس میں حمل کے تقریباً270 اور پیدائش کے بعد کے730 دن شامل ہیں۔

یہی وہ مختصر، مگر انتہائی حسّاس دَور ہے، جس میں ایک ننّھے وجود کی جسمانی ساخت، دماغی صلاحیت، قوّتِ مدافعت، شخصیت، سیکھنے کی استعداد اور مستقبل کی صحت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اِسی لیے عالمی ادارۂ صحت (WHO)، یونیسف (UNICEF)، عالمی بینک اور دنیا بھر کے ماہرینِ صحت اسے’’Window of Opportunity‘‘ یعنی زندگی کا سنہری موقع قرار دیتے ہیں۔

سائنسی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ اگر اِس عرصے میں ماں اور بچّے کو مناسب غذائیت، معیاری طبّی سہولتیں، ذہنی سکون، محبّت، تحفّظ اور موزوں ماحول فراہم کیا جائے، تو اس کے مثبت اثرات پوری زندگی برقرار رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر اس عرصے میں غذائی کمی، بیماری، ذہنی دباؤ، غربت یا غفلت کا سامنا ہو، تو اس کے منفی اثرات نہ صرف بچّے بلکہ آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جدید صحتِ عامّہ میں پہلے ایک ہزار دنوں کو صرف طبّی موضوع نہیں، انسانی ترقّی، معاشی استحکام اور قومی خوش حالی کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔ انسانی سرمائے (Human Capital) پر ہونے والی جدید تحقیق واضح کرتی ہے کہ کسی بھی مُلک کی حقیقی دولت صرف اُس کے قدرتی وسائل نہیں، بلکہ اُس کے صحت مند، ذہین، پیداواری ذہن اور جسم رکھنے والے شہری ہوتے ہیں اور ایسے افراد اچانک تیار نہیں ہوتے بلکہ اُن کی بنیاد زندگی کے اِنہی ابتدائی ایک ہزار دنوں میں رکھی جاتی ہے۔

اِس لیے آج دنیا بَھر میں صحت کی پالیسیز، بیماری کے علاج سے زیادہ، بیماری کی روک تھام اور زندگی کے ابتدائی مرحلے میں سرمایہ کاری پر مرکوز ہو رہی ہیں۔ سائنس اِس تصوّر کو’’Developmental Programming‘‘ کا نام دیتی ہے۔ اِس نظریے کے مطابق، حمل اور ابتدائی دو سال کے دوران بچّے کو ملنے والی غذا، ماحول، جذباتی تعلق اور طبّی دیکھ بھال اس کے جسم کے مختلف نظام کی نشوونما کا مستقل نقشہ تیار کرتے ہیں۔

دل چسپ امر یہ ہے کہ اِس دوران صرف جسم ہی نہیں بنتا، جینز کے اظہار (Gene Expression) پر بھی اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ یعنی یہی ماحول بعض جینز کو فعال اور بعض کو غیر فعال کر دیتا ہے، جس کے اثرات پوری زندگی باقی رہتے ہیں۔ اِسی عرصے میں بچّے کا دماغ حیرت انگیز رفتار سے ترقّی کرتا ہے۔ زندگی کے ابتدائی دو برسوں میں دماغ اپنی بالغ جسامت کا تقریباً اَسّی فی صد حاصل کر لیتا ہے۔ ہر سیکنڈ میں لاکھوں نئے عصبی رابطے (Neural Connections) بنتے ہیں۔

یہ رابطے بچّے کی زبان، یادداشت، سیکھنے، جذباتی توازن، تخلیقی صلاحیت اور فیصلہ سازی کی بنیاد بنتے ہیں۔ اگر اِس دوران مناسب غذائیت، پیار، کھیل اور مثبت ماحول میسّر آئے، تو دماغ مضبوط بنیادوں پر استوار ہوتا ہے، لیکن اگر یہی موقع ضائع ہو جائے، تو بعد میں یہ کمی مکمل طور پر پوری کرنی تقریباً ناممکن ہوتی ہے۔ یہ ایک ہزار دن دراصل تین اہم مراحل پر مشتمل ہوتے ہیں، جن میں ہر مرحلہ اپنی منفرد اہمیت رکھتا ہے۔

پہلا مرحلہ: حمل کے 270 دن، زندگی کی بنیاد کا سفر

حمل کے دَوران ماں کی صحت کو بچّے کی صحت سے الگ سمجھا جاتا رہا، لیکن جدید طبّی سائنس نے اب یہ تصوّر بدل دیا ہے۔ یہ حقیقت پوری طرح ثابت ہو چُکی کہ رحمِ مادر میں موجود بچّہ صرف ماں کی خوراک ہی نہیں، اُس کے جسمانی، ذہنی اور جذباتی ماحول سے بھی مسلسل متاثر ہوتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حمل کے نو ماہ کو انسانی زندگی کی تعمیر کا پہلا اور سب سے اہم مرحلہ قرار دیا جاتا ہے۔

بچّے کے دل کی دھڑکن حمل کے ابتدائی ہفتوں میں شروع ہو جاتی ہے، دماغ کے بنیادی خلیات وجود میں آتے ہیں، اعصابی نظام تشکیل پاتا ہے، ہڈیاں مضبوط ہونا شروع ہوتی ہیں اور تمام اہم اعضاء اپنی ساخت اختیار کرتے ہیں۔ اگر اِس دوران کسی ضروری غذائی جُز کی کمی ہو جائے، تو اس کے اثرات بعض اوقات پوری زندگی برقرار رہتے ہیں۔ اِسی لیے ماہرین، حمل کی منصوبہ بندی (Preconception Care) پر بھی زور دیتے ہیں۔

یعنی صحت مند بچّے کی بنیاد دراصل حمل سے پہلے ہی رکھی جاتی ہے۔ اگر عورت کا وزن مناسب ہو، خون کی کمی نہ ہو، ذیابطیس یا ہائی بلڈپریشر قابو میں ہو، حفاظتی ٹیکے مکمل ہوں اور فولک ایسڈ حمل سے پہلے شروع کر دیا جائے، تو پیدائشی نقائص اور پیچیدگیوں کے امکانات نمایاں حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر خواتین اُس وقت طبّی معائنہ کرواتی ہیں، جب حمل کے آغاز کو کئی ماہ گزر چُکے ہوتے ہیں، حالاں کہ ابتدائی ہفتے ہی بچّے کی تشکیل کے لیے سب سے زیادہ حسّاس ہوتے ہیں۔

حمل کے دوران متوازن غذا بنیادی ضرورت ہے۔ صرف زیادہ کھانا کافی نہیں، بلکہ بہتر اور متنوّع غذا ضروری ہے۔ روزمرّہ خوراک میں دودھ، دہی، انڈے، دالیں، گوشت، مچھلی، سبز پتوں والی سبزیاں، تازہ پھل، خشک میوہ جات اور مناسب مقدار میں صاف پانی شامل ہونا چاہیے۔ آئرن، فولک ایسڈ، کیلشیم، وٹامن ڈی، آئیوڈین اور زنک جیسے غذائی اجزا بچّے کی دماغی اور جسمانی نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

پاکستان میں خون کی کمی حاملہ خواتین کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ خون کی کمی نہ صرف ماں کو کم زور کرتی ہے، بلکہ کم وزن بچّوں، قبل از وقت پیدائش اور زچگی کے دَوران پیچیدگیوں کے خطرات بھی بڑھا دیتی ہے۔ اِسی لیے حمل کے دوران آئرن اور فولک ایسڈ کی گولیاں معمول کے مطابق استعمال کرنا عالمی طبّی رہنما اصولوں کا حصّہ ہے۔ غذا کے ساتھ، ماں کی ذہنی صحت بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ مسلسل گھریلو تنازعات، مالی پریشانیاں، تشدّد، خوف، تنہائی یا شدید ذہنی دباؤ جسم میں ایسے ہارمونز پیدا کرتے ہیں، جو نال (Placenta) کے ذریعے بچّے تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

متعدّد تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حمل کے دوران شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنے والے بچّوں میں بعد کی زندگی میں بے چینی، توجّہ کی کمی، سیکھنے میں مشکلات اور بعض رویّہ جاتی مسائل نسبتاً زیادہ دیکھے گئے ہیں۔ اِس لیے حاملہ خاتون کو صرف دوا نہیں، بلکہ سکون، محبّت، عزّت اور خاندانی تعاون بھی درکار ہوتا ہے۔ یہاں باپ کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں حمل کو صرف عورت کی ذمّے داری سمجھ لیا جاتا ہے، حالاں کہ ایک صحت مند حمل پورے خاندان کی مشترکہ ذمّے داری ہے۔

شوہر اگر متوازن غذا کی فراہمی، بروقت طبّی معائنوں، ذہنی آسودگی، گھریلو کاموں میں تعاون وغیرہ کا خیال رکھے، تو نہ صرف ماں کی صحت بہتر رہتی ہے، بلکہ بچّے کی نشوونما پر بھی اُس کے مثبت اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ حمل کے دوران باقاعدہ قبل از پیدائش طبّی معائنہ (Antenatal Care) بھی بے حد ضروری ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کم از کم آٹھ معیاری طبّی معائنوں کی سفارش کرتا ہے تاکہ بلڈ پریشر، خون کی کمی، ذیابطیس، بچّے کی نشوونما، ماں کے وزن اور دیگر ممکنہ پیچیدگیوں کی بروقت تشخیص ممکن ہو سکے۔

بروقت تشخیص کئی جان لیوا مسائل کو جنم لینے سے پہلے ہی روک سکتی ہے۔ اِس مرحلے کا خلاصہ یہی ہے کہ رحمِ مادر صرف بچّے کی عارضی رہائش گاہ نہیں، بلکہ اُس کی زندگی کا پہلا مدرسہ، پہلی غذا، پہلی حفاظت اور پہلی تجربہ گاہ ہے۔ اگر اِس مرحلے میں ماں کو بہترین دیکھ بھال فراہم کر دی جائے، تو درحقیقت ایک صحت مند نسل کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔

دوسرا مرحلہ : پیدائش سے چھے ماہ

پیدائش کے بعد بچّے کی زندگی کا دوسرا اور نہایت اہم مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اگر حمل کے نو ماہ بچّے کی جسمانی تشکیل کا زمانہ تھا، تو پیدائش کے بعد کے ابتدائی چھے ماہ اُس کی بقا، قوّتِ مدافعت، دماغی نشوونما اور جذباتی تعلق کی مضبوطی کا دَور ہوتا ہے۔ اِسی لیے ماہرین اِس عرصے کو پہلے ایک ہزار دنوں کا سب سے قیمتی حصّہ قرار دیتے ہیں۔ بچّے کی پیدائش کے فوراً بعد پہلا گھنٹہ طبّی لحاظ سے’’Golden Hour‘‘ کہلاتا ہے۔

اِس دوران بچّے کو ماں کے سینے سے لگانا اور جلد از جلد دودھ پلانا نہ صرف ماں اور بچّے کے درمیان جذباتی تعلق مضبوط کرتا ہے، بلکہ بچّے کی جان بچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پیدائش کے پہلے گھنٹے میں دودھ پلانے سے نومولود اموات میں نمایاں کمی آتی ہے، کیوں کہ اس سے بچّے کو فوری حرارت، غذائیت اور قوّتِ مدافعت حاصل ہوتی ہے۔ اس وقت ماں کا دودھ، جسے کولسٹرم (Colostrum) کہا جاتا ہے، قدرت کا ایک بے مثال تحفہ ہے۔

بعض معاشروں میں لاعلمی کی وجہ سے اسے ضائع کر دیا جاتا ہے، حالاں کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ کولسٹرم کو بچّے کی پہلی ویکسین کہا جاتا ہے، کیوں کہ اس میں اینٹی باڈیز، سفید خون کے خلیات، پروٹین، وٹامن اے اور ایسے حفاظتی عوامل موجود ہوتے ہیں، جو بچّے کو نمونیا، اسہال، آنتوں کے انفیکشن اور متعدّد دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

یہ بچّے کی ناپختہ آنتوں کو بھی مضبوط بناتا ہے اور مفید جراثیم کی افزائش میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت اور یونیسف، دونوں متفّق ہیں کہ ہر بچّے کو زندگی کے پہلے چھے ماہ تک صرف اور صرف ماں کا دودھ دیا جانا چاہیے۔ 

اس عرصے میں نہ پانی، نہ شہد، نہ گھٹی، نہ گلوکوز اور نہ ہی کوئی دوسری غذا یا مشروب دینا ضروری ہے۔ بہت سے والدین سمجھتے ہیں کہ گرمیوں میں بچّے کو پانی دینا لازمی ہے، لیکن سائنسی حقیقت یہ ہے کہ ماں کے دودھ میں تقریباً88 فی صد پانی موجود ہوتا ہے، جو بچّے کی پیاس بُجھانے کے لیے مکمل طور پر کافی ہے۔

ماں کا دودھ ایک مکمل غذا ہے، جس کی ترکیب وقت، موسم اور بچّے کی ضروریات کے مطابق خود بخود تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اگر بچّہ بیمار ہو جائے، تو ماں کے جسم میں ایسے حفاظتی اجزا پیدا ہونے لگتے ہیں، جو دودھ کے ذریعے بچّے تک پہنچتے ہیں۔ یہ خصوصیت فارمولا دودھ میں موجود نہیں ہوتی۔ اِسی لیے دنیا بَھر کے ماہرین زور دیتے ہیں کہ فارمولا دودھ صرف اُن مخصوص طبّی حالات میں استعمال کیا جائے، جہاں واقعی اُس کی ضرورت ہو۔ ماں کے دودھ کے فوائد صرف بچّے تک محدود نہیں رہتے بلکہ خود ماں بھی اُس سے فائدہ اُٹھاتی ہے۔

دودھ پلانے سے رحم تیزی سے اپنی اصل حالت میں واپس آتا ہے، زچگی کے بعد خون بہنے میں کمی آتی ہے، ماں کے جسم کی اضافی چربی کم ہونے میں مدد ملتی ہے اور مستقبل میں چھاتی اور بیضہ دانی کے سرطان کے خطرات بھی کم ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دودھ پلانے سے ماں اور بچّے کے درمیان جذباتی وابستگی مضبوط ہوتی ہے، جو بچّے کی نفسیاتی نشوونما کے لیے نہایت اہم ہے۔ پہلے چھے ماہ صرف غذائیت کا دَور نہیں، بلکہ دماغی نشوونما کا بھی انتہائی حسّاس مرحلہ ہے۔

اِس عرصے میں بچّہ اپنے اردگرد کی آوازوں کو پہچاننا، چہروں کو دیکھ کر ردّ ِعمل دینا، مُسکرانا، نظریں ملانا اور مختلف آوازوں پر توجّہ دینا شروع کرتا ہے۔ ماں اور باپ کا بچّے سے محبّت سے بات کرنا، اُسے گود میں لینا، مُسکرانا، لوریاں سُنانا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گفتگو کرنا اُس کے دماغ میں نئے عصبی رابطوں کی تشکیل تیز کرتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق، زندگی کے ابتدائی برسوں میں جن بچّوں کو زیادہ بات چیت، پیار اور توجّہ ملتی ہے، اُن کی زبان، یادداشت اور تعلیمی کارکردگی بعد کی زندگی میں نسبتاً بہتر ہوتی ہے۔

اسی عرصے میں حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ بچّے کا مدافعتی نظام ابھی مکمل طور پر پختہ نہیں ہوتا، اِس لیے حفاظتی ٹیکے اُسے پولیو، خسرہ، تشنّج، کالی کھانسی، تپِ دق، نمونیا اور دیگر خطرناک بیماریوں سے بچانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ والدین کی ذمّے داری ہے کہ وہ حفاظتی ٹیکوں کا شیڈول مکمل کریں اور کسی بھی خوراک میں تاخیر نہ ہونے دیں۔

اگر اِس دوران بچّہ اسہال، بخار، دودھ پینے میں کمی، سانس لینے میں دشواری یا غیر معمولی غنودگی جیسی علامات ظاہر کرے، تو گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کی بجائے فوری طور پر مستند طبّی مرکز سے رجوع کرنا چاہیے، کیوں کہ نومولود بچّوں میں معمولی تاخیر بھی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

مختصراً، پیدائش سے چھے ماہ تک کا زمانہ بچّے کی زندگی کا ایسا دَور ہے، جس میں ماں کا دودھ، والدین کی محبّت، حفاظتی ٹیکے، صفائی، بروقت طبّی نگہہ داشت اور محفوظ ماحول مل کر اُس کی آئندہ زندگی کی مضبوط بنیاد رکھتے ہیں۔ یہی بنیاد آگے چل کر ایک صحت مند، ذہین، پُراعتماد اور باصلاحیت انسان کی صُورت سامنے آتی ہے۔

تیسرا مرحلہ : چھے ماہ سے دو سال

جب بچّہ چھے ماہ کی عُمر کو پہنچتا ہے، تو اُس کی غذائی ضروریات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگرچہ ماں کا دودھ بدستور اُس کی بہترین غذا رہتا ہے، لیکن اب صرف دودھ اُس کے جسم اور دماغ کی بڑھتی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔ یہی وہ مرحلہ ہے، جہاں سے تکمیلی غذا (Complementary Feeding) کا آغاز ہوتا ہے اور یہی وہ وقت بھی ہے، جب غذائی غلطیاں مستقبل میں اسٹنٹنگ (Stunting)، ویسٹنگ (Wasting)، خون کی کمی اور دماغی نشوونما میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہیں۔

تکمیلی غذا کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ماں کا دودھ بند کر دیا جائے، بلکہ عالمی ادارۂ صحت کی سفارش ہے کہ دو سال یا اُس سے بھی زیادہ عرصے تک ماں کا دودھ جاری رکھا جائے، جب کہ چھے ماہ کی عُمر سے اُسے نرم، صاف، تازہ اور غذائیت سے بھرپور گھریلو خوراک دی جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض اوقات بچّے کو یا تو بہت دیر سے ٹھوس غذا دی جاتی ہے یا پھر ایسی غذائیں دی جاتی ہیں، جن میں غذائیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، مثلاً صرف پتلی کھچڑی، چائے میں ڈبوئی ہوئی روٹی یا میٹھے مشروبات۔

ایسی خوراک بچّے کا پیٹ تو بَھر دیتی ہے، لیکن اُس کے جسم کو ضروری غذائی اجزا فراہم نہیں کر پاتی۔ اِس عُمر میں بچّے کی خوراک میں دالیں، انڈا، دہی، نرم گوشت، مچھلی، چکن، سبز پتوں والی سبزیاں، موسمی پھل، آلو، شکر قندی، چاول، گندم اور مناسب مقدار میں صحت بخش چکنائی شامل ہونی چاہیے۔ خوراک نرم، اچھی طرح پکی ہوئی ہو اور بچّے کی عُمر کے مطابق اُس کی مقدار اور ساخت میں بتدریج تبدیلی کی جائے۔

جیسے جیسے بچّہ بڑا ہوتا ہے، ویسے ویسے اُسے مختلف ذائقوں اور غذاؤں سے متعارف کروانا بھی ضروری ہے تاکہ وہ متوازن غذا کھانے کی عادت اپنائے۔ اِس عرصے میں جسم کو خاص طور پر آئرن، زنک، وٹامن اے، وٹامن ڈی، کیلشیم، آئیوڈین اور پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ آئرن کی کمی، خون کی کمی کے ساتھ دماغی نشوونما متاثر کر سکتی ہے، جب کہ آئیوڈین کی کمی ذہنی استعداد میں مستقل کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ اِسی لیے بچّوں کو صرف پیٹ بَھرنے والی نہیں، بلکہ جسم بنانے والی غذا دی جائے۔

یہی وہ عُمر ہے، جب بچّہ بیٹھنا، رینگنا، کھڑا ہونا، چلنا، چیزوں کو پکڑنا، آوازیں نکالنا، الفاظ بولنا اور اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنا شروع کرتا ہے۔ اِس لیے اُس کی غذائیت کے ساتھ، اُس کی ذہنی اور جذباتی تربیت بھی ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچّے سے مسلسل بات کریں، تصویری کتابیں دِکھائیں، اُس کے سوالات کا جواب دیں، اُس کے ساتھ کھیلیں، اُس کی حوصلہ افزائی کریں اور اُسے محفوظ ماحول میں نئی چیزیں سیکھنے کے مواقع فراہم کریں۔

جدید نیورو سائنس یہ ثابت کرتی ہے کہ غذا اور محبّت ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں، صرف خوراک یا صرف تعلیم کافی نہیں، بلکہ دونوں مل کر دماغ کی مکمل نشوونما کرتی ہیں۔ اِسی مرحلے میں اسٹنٹنگ کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اسٹنٹنگ صرف قد کا چھوٹا رہ جانا نہیں، بلکہ یہ طویل عرصے تک غذائی کمی اور بار بار ہونے والے انفیکشن کی علامت ہے۔

اسٹنٹڈ بچّے اکثر تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں، اُن کی توجّہ اور یادداشت متاثر ہوتی ہے، جسمانی قوّت کم ہوتی ہے اور بڑے ہو کر اُن کی آمدنی بھی نسبتاً کم رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین، اسٹنٹنگ کو صرف صحت ہی نہیں، انسانی ترقّی اور قومی معیشت کا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔

اِسی طرح ویسٹنگ یعنی عُمر کے لحاظ سے انتہائی کم وزن ایک ہنگامی غذائی کیفیت ہے، جو بچّے کی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ایسے بچّے انفیکشن کا زیادہ شکار ہوتے ہیں اور اُن میں اموات کا خطرہ بھی کئی گُنا بڑھ جاتا ہے۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ ہو، تو معمولی بیماری بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

غذائیت کے ساتھ صفائی بھی ضروری ہے۔ آلودہ پانی، گندے ہاتھ، غیر محفوظ خوراک اور ناقص صفائی بار بار اسہال اور آنتوں کے انفیکشن کا باعث بنتی ہے، جس سے جسم غذا کو صحیح طریقے سے جذب نہیں کر پاتا۔ نتیجتاً بچّہ خوراک کھانے کے باوجود غذائی کمی کا شکار رہتا ہے۔ اِس لیے ہاتھ دھونا، صاف پانی استعمال کرنا، خوراک کو ڈھانپ کر رکھنا اور کھانا تیار کرنے سے پہلے صفائی کا خیال رکھنا بچّوں کی نشوونما کے بنیادی اصول ہیں۔

زندگی کے پہلے دو سالوں میں حفاظتی ٹیکوں کا مکمل کورس، وٹامن اے کی خوراک، معمول کے مطابق وزن اور قد کی نگرانی، بیماری کی صُورت میں فوری علاج اور والدین کی مستقل توجّہ، بچّے کو صحت مند رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ اگر کسی بچّے کا وزن نہیں بڑھ رہا، قد کی رفتار کم ہو گئی ہے یا وہ اپنی عُمر کے مطابق نشوونما کے مراحل طے نہیں کر رہا، تو اِسے معمول سمجھنے کی بجائے فوری طبّی مشورہ لینا چاہیے کہ ابتدائی تشخیص ہی مؤثر علاج کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔

سائنس ایک اور اہم حقیقت بھی بیان کرتی ہے، جسے’’ )Developmental Origins of Health and Disease(DOHaD کہا جاتا ہے۔ اِس نظریے کے مطابق اگر بچّہ ابتدائی ایک ہزار دنوں میں غذائی قلّت کا شکار رہے، تو اس کا جسم بقا کے لیے توانائی ذخیرہ کرنے کی عادت اختیار کر لیتا ہے۔ بعد کی زندگی میں، جب خوراک آسانی سے دست یاب ہوتی ہے، تو یہی جسم موٹاپے، ذیابطیس، ہائی بلڈ پریشر، دل کے امراض اور دیگر غیر متعدّی بیماریوں کا زیادہ شکار ہو سکتا ہے۔

یعنی ابتدائی غذائی کمی صرف بچپن تک محدود نہیں رہتی، بلکہ پوری زندگی کی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اِسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ بچّے کی دوسری سال گرہ، دراصل پہلے ایک ہزار دنوں کی تکمیل نہیں، بلکہ ایک مضبوط مستقبل کی ابتدا ہوتی ہے۔ اگر یہ دو سال صحت، غذائیت، محبّت، صفائی اور مناسب طبّی نگہہ داشت کے ساتھ گزر جائیں، تو بچّے کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صلاحیتوں کی ایسی بنیاد قائم ہوتی ہے، جو اسے پوری زندگی فائدہ پہنچاتی ہے۔

پاکستان کا چیلنج، قومی ترقّی اور اجتماعی ذمّے داری

پہلے ایک ہزار دنوں کی اہمیت صرف طبّی تحقیق تک محدود نہیں رہی، بلکہ آج یہ قومی ترقّی، انسانی وسائل اور معاشی استحکام کا بنیادی موضوع بن چُکی ہے۔ دنیا کے وہ ممالک، جنہوں نے ماں اور بچّے کی صحت، غذائیت اور ابتدائی نشوونما پر مسلسل سرمایہ کاری کی، آج بہتر تعلیمی معیار، زیادہ پیداواری افرادی قوّت اور مضبوط معیشت کے حامل ہیں۔ اس کے برعکس، جن ممالک نے یہ بنیادی مرحلہ نظر انداز کیا، اُنہیں کم زور انسانی سرمائے، بیماریوں کے بڑھتے بوجھ اور معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان بھی اُنہی ممالک میں شامل ہے، جہاں بچّوں کی غذائی کمی عوامی صحت کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مُلک میں پانچ سال سے کم عُمر بچّوں کی ایک بڑی تعداد اسٹنٹنگ، ویسٹنگ، کم وزن اور مائیکرونیوٹرینٹس کی کمی کا شکار ہے۔ 

خون کی کمی، وٹامن اے، آئرن، زنک اور آئیوڈین کی کمی نہ صرف بچّوں بلکہ حاملہ خواتین میں بھی عام ہے، جس کے نتیجے میں کم وزن بچّوں کی پیدائش، قبل از وقت ولادت، بچّوں میں بار بار انفیکشن اور ذہنی و جسمانی نشوونما میں رکاوٹ جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔

دیہات، کچّی آبادیوں، دُور دراز اضلاع اور کم آمدنی والے خاندانوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے، جہاں غربت، غذائی عدم تحفّظ، صاف پانی کی کمی، ناقص نکاسیٔ آب، کم زور بنیادی صحت کی سہولتیں اور والدین میں آگاہی کا فقدان مل کر بچّوں کی صحت پر منفی اثرات مرتّب کرتے ہیں۔ اِسی لیے پہلے ایک ہزار دنوں کا مسئلہ صرف غذائیت ہی نہیں، غربت، تعلیم، پانی، صفائی، خواتین کی صحت اور سماجی ترقّی سے بھی وابستہ ہے۔

پاکستان اِس وقت نوجوان آبادی کے لحاظ سے ایک اہم مرحلے پر کھڑا ہے۔ یہ نوجوان افرادی قوّت سے فائدہ اُٹھانے کا تاریخی موقع ہے، لیکن نوجوانوں کی بڑی تعداد اُسی وقت قومی طاقت بن سکتی ہے، جب وہ جسمانی طور پر صحت مند، ذہنی طور پر باصلاحیت اور تعلیمی لحاظ سے مضبوط ہو۔

اگر آج کے بچّوں کو زندگی کے پہلے ایک ہزار دنوں میں مناسب غذائیت اور نگہہ داشت نہ ملی، تو یہی بچّے مستقبل میں کم زور صحت، محدود تعلیمی صلاحیت اور کم پیداواری استعداد کے حامل بالغ افراد ہوں گے، جس کا براہِ راست اثر قومی معیشت پر پڑے گا۔

اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ غذائی کمی اور اسٹنٹنگ کی وجہ سے ترقّی پذیر ممالک ہر سال اپنی مجموعی قومی پیداوار کا قابلِ ذکر حصّہ کھو دیتے ہیں۔ کم زور صحت کے حامل افراد زیادہ بیمار ہوتے ہیں، کم تعلیم حاصل کرتے ہیں، کم کماتے ہیں اور صحت کی سہولتوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، ابتدائی غذائیت میں سرمایہ کاری مستقبل میں صحت کے اخراجات کم کرتی، تعلیمی نتائج بہتر بناتی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔

اِسی لیے عالمی بینک پہلے ایک ہزار دنوں پر خرچ ہونے والے وسائل کو سب سے زیادہ منافع بخش سماجی سرمایہ کاری قرار دیتا ہے۔ یہ مقصد محکمۂ صحت اکیلے حاصل نہیں کر سکتا۔ اِس کے لیے مختلف شعبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ محکمۂ صحت کو معیاری زچہ و بچّہ خدمات، حفاظتی ٹیکوں، غذائی مشاورت اور بیماریوں کی بروقت تشخیص مضبوط بنانی ہوں گی۔

محکمۂ تعلیم کو اسکولز اور کالجز میں غذائیت اور صحت کی تعلیم شامل کرنی ہوگی۔ زراعت کے شعبے کو غذائیت سے بھرپور خوراک کی دست یابی یقینی بنانی ہوگی، جب کہ صاف پانی، نکاسیٔ آب اور حفظانِ صحت کے منصوبوں کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔

اِس جدوجہد میں میڈیا کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ میڈیا اگر ماں کے دودھ کی افادیت، متوازن غذا، حفاظتی ٹیکوں، حمل کے دوران طبّی معائنے، صفائی، غذائی کمی اور بچّوں کی نشوونما جیسے موضوعات کو مسلسل اجاگر کرے، تو لاکھوں خاندانوں کے رویّوں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

اِسی طرح مذہبی رہنما، اساتذہ، سماجی کارکن، مقامی حکومتیں اور کمیونٹی تنظیمیں بھی آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ خاندان کی ذمّے داری ہے۔ ایک صحت مند بچّہ صرف ماں ہی کی کوششوں سے نہیں، بلکہ پورے خاندان کی مشترکہ توجّہ سے پروان چڑھتا ہے۔

باپ اگر ماں کی غذائی ضروریات پوری کرے، اُسے ذہنی سکون فراہم کرے، طبّی معائنے کے لیے ساتھ جائے اور بچّے کی پرورش میں عملی کردار ادا کرے، تو اُس کے مثبت اثرات بچّے کی پوری زندگی پر مرتّب ہوتے ہیں۔

اِسی طرح دادا، دادی، نانا، نانی اور دیگر افراد کو بھی پرانی، غیر سائنسی روایات کی بجائے مستند طبّی رہنمائی اپنانی چاہیے۔ پہلے ایک ہزار دن دراصل ایک ایسا امتحان ہیں، جس میں صرف ایک خاندان نہیں، بلکہ پوری ریاست شریک ہوتی ہے۔ 

اگر ہم اِس عرصے میں ہر ماں کو محفوظ حمل، ہر نومولود کو ماں کا دودھ، ہر بچّے کو مناسب غذائیت، مکمل حفاظتی ٹیکے، صاف پانی، محبّت بَھرا ماحول اور معیاری طبّی سہولتیں فراہم کر دیں، تو ہم صرف بیماریوں سے نہیں لڑیں گے، بلکہ ایک مضبوط، تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور خوش حال قوم کی بنیاد رکھیں گے۔

ماؤں کے لیے 10 سنہری اصول

پہلے ایک ہزار دنوں کو کام یاب بنانے کے لیے منہگے علاج یا غیر معمولی وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ زیادہ تر ایسے اقدامات ہیں، جو ہر خاندان مناسب آگاہی اور توجّہ کے ساتھ اپنا سکتا ہے۔

پہلا اصول: حمل کی منصوبہ بندی کریں اور حمل ٹھہرتے ہی قریبی صحت مرکز میں رجسٹریشن کروائیں۔ حمل کے دوران باقاعدگی سے طبّی معائنہ کروائیں اور ڈاکٹر یا تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز کی ہدایات پر عمل کریں۔

دوسرا اصول: حمل کے دوران متوازن غذا کھائیں۔ اپنی یومیہ خوراک میں دالیں، انڈا، دودھ، دہی، گوشت، مچھلی، سبز پتّوں والی سبزیاں، موسمی پھل اور مناسب مقدار میں صاف پانی شامل رکھیں۔ آئرن، فولک ایسڈ اور دیگر تجویز کردہ سپلیمینٹس باقاعدگی سے استعمال کریں۔

تیسرا اصول: تمباکو نوشی، نسوار، گٹکا، شراب، منشیات، غیر ضروری ادویہ اور دھوئیں والے ماحول سے مکمل پرہیز کریں، کیوں کہ اُن کے مضر اثرات براہِ راست بچّے تک پہنچتے ہیں۔

چوتھا اصول: پیدائش کے پہلے گھنٹے کے اندر بچّے کو ماں کا دودھ پلانا شروع کریں اور کولسٹرم ہرگز ضائع نہ کریں۔ یہی بچّے کی پہلی قدرتی ویکسین ہے۔ 

پانچواں اصول: زندگی کے پہلے چھے ماہ تک بچّے کو صرف ماں کا دودھ دیں۔ پانی، شہد، گُھٹی، چائے یا کوئی دوسری غذا دینے سے گریز کریں، کیوں کہ ماں کا دودھ ہی اُس کی تمام ضروریات پوری کرتا ہے۔

چھٹا اصول: چھے ماہ مکمل ہونے پر ماں کے دودھ کے ساتھ نرم، تازہ، صاف اور غذائیت سے بھرپور گھریلو غذا شروع کریں، جب کہ دودھ پلانے کا سلسلہ دو سال تک جاری رکھیں۔

ساتواں اصول: بچّے کے تمام حفاظتی ٹیکے قومی پروگرام کے مطابق مقرّرہ وقت پر لگوائیں، اُس کا وزن اور قد باقاعدگی سے چیک کروائیں اور بیماری کی صُورت میں فوری طبّی مشورہ حاصل کریں۔

آٹھواں اصول: ہاتھ دھونے، صاف پانی، محفوظ خوراک اور گھر کی صفائی کو معمول بنائیں۔ اسہال اور نمونیا جیسے امراض کی بڑی تعداد مناسب صفائی سے روکی جا سکتی ہے۔

نواں اصول: بچّے سے روزانہ بات کریں، اُسے گود میں لیں، مُسکرائیں، کھیلیں، کہانیاں سُنائیں اور محبّت کا اظہار کریں۔ یاد رکھیں کہ دماغ صرف خوراک سے نہیں، بلکہ محبّت، توجّہ اور مثبت تعلق سے بھی نشوونما پاتا ہے۔

دسواں اصول: اگر بچّے کا وزن نہ بڑھ رہا ہو، دودھ یا غذا کم کھا رہا ہو، بار بار بیمار ہو رہا ہو یا نشوونما کے مراحل میں پیچھے رہ رہا ہو، تو انتظار نہ کریں بلکہ فوری طور پر مستند طبّی مرکز سے رجوع کریں۔

ایک بچّے میں پوری قوم کا مستقبل پوشیدہ ہے

پہلے ایک ہزار دن دراصل انسانی زندگی کا وہ مختصر، مگر فیصلہ کُن عرصہ ہے، جس میں مستقبل کی صحت، ذہانت، تعلیم، معاشی استعداد اور معیارِ زندگی کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اِس دوران ہونے والی مثبت سرمایہ کاری صرف ایک بچّے کو نہیں، بلکہ پورے خاندان، معاشرے اور معیشت کو فائدہ پہنچاتی ہے، جب کہ اس عرصے کی غفلت کا نقصان کئی دہائیوں تک محسوس کیا جاتا ہے۔

آج پاکستان کو بیماریوں کے علاج سے زیادہ صحت مند نسل کی ضرورت ہے اور اس تعمیر کا آغاز اسپتالوں سے نہیں، بلکہ رحمِ مادر سے ہوتا ہے۔ جب ہر حاملہ خاتون کو مناسب غذا، بروقت طبّی نگہہ داشت، ذہنی سکون اور خاندانی تعاون ملے گا، جب ہر نومولود کو ماں کا دودھ، مکمل حفاظتی ٹیکے، متوازن غذائیت اور محبّت بھرا ماحول میسّر ہوگا، تب ہی ہم اسٹنٹنگ، غذائی قلّت اور قابلِ تدارک بیماریوں کا چکر توڑ سکیں گے۔

یہ صرف محکمۂ صحت یا حکومت کی ذمّے داری نہیں، بلکہ ہر باپ، ماں، خاندان، استاد، ڈاکٹر، میڈیا ادارے اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمّے داری ہے، کیوں کہ آج جو بچّہ اپنی زندگی کے پہلے ایک ہزار دن گزار رہا ہے، وہی کل کا ڈاکٹر، انجینئر، استاد، سائنس دان، فوجی، مزدور، کسان، صنعت کار اور قومی رہنما ہے۔ اگر اُس کی بنیاد مضبوط ہوگی، تو قوم مضبوط ہوگی اور اگر اُس کی بنیاد کم زور ہوگی، تو ترقّی کا خواب بھی کم زور پڑ جائے گا۔

یاد رکھیے! پہلے ایک ہزار دن کبھی واپس نہیں آتے۔ یہ زندگی کا وہ واحد موقع ہے، جس میں کی گئی درست سرمایہ کاری نسلوں کو بدل سکتی ہے۔ اگر ہم نے بچّے کے پہلے1000 دن سنوار دیے، تو ہم نے صرف ایک بچّے کا نہیں، بلکہ ایک نسل اور پوری قوم کے مستقبل کا تحفّظ کر لیا۔ مضبوط قومیں، مضبوط بچّوں سے بنتی ہیں اور مضبوط بچّوں کی بنیاد، زندگی کے پہلے ایک ہزار دنوں میں رکھی جاتی ہے۔

پاکستان کے لیے قابلِ عمل سفارشات

اگر پاکستان واقعی اسٹنٹنگ، غذائی قلّت اور بچّوں کی قابلِ تدارک اموات میں نمایاں کمی لانا چاہتا ہے، تو پہلے ایک ہزار دنوں کو قومی ترقّی کی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنانا ہوگا۔ اِس مقصد کے لیے صحت، غذائیت، تعلیم، سماجی تحفّظ، زراعت، پانی اور صفائی کے شعبوں کو مشترکہ منصوبہ بندی کے تحت کام کرنا ہوگا، کیوں کہ یہ مسئلہ کسی ایک ادارے کے بس کی بات نہیں۔ سب سے پہلے بنیادی صحت کے مراکز کو اِس قابل بنایا جائے کہ ہر حاملہ خاتون کو معیاری قبل از پیدائش طبّی معائنہ، غذائی مشاورت، آئرن اور فولک ایسڈ سپلیمنٹس اور محفوظ زچگی کی سہولتیں ایک ہی جگہ دست یاب ہوں۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی استعدادِ کار میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ گھر گھر جا کر ماؤں کو ماں کے دودھ، تکمیلی غذا، حفاظتی ٹیکوں، صفائی اور بچّوں کی نشوونما سے متعلق مؤثر رہنمائی فراہم کر سکیں۔ زچہ و بچّہ کی غذائیت کو سماجی تحفّظ کے پروگرامز سے بھی منسلک کیا جانا چاہیے تاکہ کم آمدنی والے خاندانوں کو غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی حاصل ہو سکے۔

اِسی طرح آٹے، خوردنی تیل اور دیگر بنیادی غذائی اشیا میں ضروری وٹامنز اور معدنیات کی فوڈ فورٹیفیکیشن کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ مائیکرونیوٹرینٹس کی کمی پر قابو پایا جا سکے۔ کام کرنے والی ماؤں کے لیے ایسے قوانین پر مؤثر عمل درآمد ضروری ہے، جو اُنہیں زچگی کی مناسب رخصت، دودھ پلانے کے لیے موزوں ماحول اور بچّوں کی دیکھ بھال کی سہولت فراہم کریں۔ سرکاری اور نجی اداروں میں بریسٹ فیڈنگ کارنرز اور بچّوں کی نگہہ داشت کی سہولتیں فراہم کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

میڈیا، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں اور سماجی تنظیموں کو مل کر ایسا قومی آگاہی پروگرام تشکیل دینا چاہیے، جس کے ذریعے ہر خاندان تک یہ پیغام پہنچے کہ پہلے ایک ہزار دن صرف صحت ہی نہیں، بلکہ تعلیم، معیشت، انسانی ترقّی اور قومی خوش حالی کا مسئلہ ہیں۔ پاکستان کے پاس نوجوان آبادی کی صُورت ایک قیمتی سرمایہ موجود ہے۔

اگر آج ہم اپنے بچّوں کی زندگی کے پہلے ایک ہزار دن محفوظ، صحت مند اور غذائیت سے بھرپور بنا دیں، تو آنے والے برسوں میں یہی بچّے مُلک کی معاشی ترقّی، سائنسی جدّت، سماجی استحکام اور قومی خوش حالی کے ضامن بنیں گے۔ حقیقت یہی ہے کہ کسی بھی قوم کا روشن مستقبل بڑے منصوبوں سے پہلے ایک صحت مند ماں، محفوظ حمل اور تن درست بچّے سے شروع ہوتا ہے۔

(مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، محکمۂ صحت، سندھ ہیں)