• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاج دارِ کائنات، محسنِ انسانیتﷺ کی ولادتِ باسعادت کا مہینہ

ماہِ ربیع الاوّل اسلامی سال کا تیسرا بابرکت مہینہ ہے، جو حضور اکرم، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری کی یاد دلاتا ہے۔ یہ مہینہ مسلمانوں کے لیے رحمت، برکت اور خوشیوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔اس مہینے کی بارہ تاریخ کو پیارے نبی ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے۔آپ ﷺ کی آمد سے دنیا میں جہالت کا اندھیرا ختم ہوا اور امن کا نور پھیلا۔

رحمتِ عالم، محسنِ انسانیت، تاج دارِ کا ئنات، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا ذکر ہو، یا آپ ﷺ کے شمائل و خصائل، اخلاق و کردار، عبادات و معاملات اور تعلیماتِ مبارکہ کا تذکرہ، ہر پہلو اہلِ ایمان کے لیے سرچشمۂ ہدایت، باعثِ سعادت اور موجبِ برکت ہے۔ یہاں تک کہ وہ اشیاء، مقامات اور آثار بھی، جنہیں آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس سے نسبت حاصل ہے، اہلِ محبت کے لیے عقیدت، احترام اور رُوحانی مسّرت کا سرمایہ بن جاتے ہیں۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہی وہ ہستی ہیں، جن کے نقشِ قدم پر چلنا کام یابی و نجات کی ضمانت اور جن کا نامِ نامی دِلوں کے لیے سکون اور رُوحوں کے لیے سُرور کا باعث ہے۔ آپ ﷺ کی بعثتِ مبارکہ اس عالمِ رنگ و بُو میں ایسی نورانی صبح کے طلوع کے مترادف تھی، جس نے صدیوں سے محیط جہالت، تعصّب، ظلم اورگم راہی کے اندھیروں کو مٹا کر انسانیت کو عِلم، حکمت، عدل، اخوّت اور امن کا راستہ دکھایا۔

ماہِ ربیع الاول کی وہ مبارک ساعتیں، جب سرزمینِ عرب کی خشک اور بے آب و گیاہ فضاؤں میں بہارِ رسالت ﷺ کا پہلا جھونکا چلا، درحقیقت تاریخِ انسانیت کے ایک نئے باب کا آغاز تھا۔ وہ لمحہ صرف ایک عظیم شخصیت کی ولادت کا نہیں، بلکہ ایک ایسی عالم گیر انقلابِ آفریں دعوت کے ظہور کا تھا، جس نے انسان کے فکر و عمل، معاشرت اور تہذیب، حتیٰ کہ تاریخ کے دھارے تک کو نئی سمت عطا کردی۔

نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ہر گوشہ رشد و ہدایت کا مینار ہے۔ آپ ﷺ نے صرف خطبات، ارشادات اور عملی نمونوں ہی کے ذریعے انسانیت کی رہنمائی نہیں فرمائی، بلکہ تحریری ذرائع کو بھی دعوتِ حق، اصلاحِ معاشرہ، اجتماعی نظم و ضبط اور مختلف طبقاتِ انسانی کے درمیان پائے دار تعلقات کے قیام کے لیے مؤثر انداز میں استعمال فرمایا۔

اسی تناظر میں جب آج دنیا بھر میں ریاستوں، اقوام اور مختلف طبقات کے مابین معاہدات، آئینی دستاویزات اور سماجی ہم آہنگی کے اصولوں پر گفتگو کی جاتی ہے تو عہدِ نبوی ﷺ کا وہ تاریخی معاہدہ خصوصی اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جو ہجرتِ مدینہ کے بعد نبی کریم ﷺ اورآپ کے اصحاب مہاجرین و انصار اور یہودی قبائل کے مابین تحریر کیا گیا۔

یہ معاہدہ ،دنیا کے اوّلین تحریری سماجی و ریاستی معاہدات میں بھی شمار کیا جاتا ہے، جو رہتی دنیا تک عدل، اجتماعی نظم اور آئینی اصولوں کی ایک روشن مثال اور تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس تاریخی معاہدے کا مطالعہ اسلامی ریاستی فکر، آئینی اصولوں اور سماجی نظم و نسق کی بنیادوں کو بھی سمجھنے کا ذریعہ ہے۔ میثاقِ مدینہ اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ایک متنوّع معاشرے میں مختلف مذاہب، قبائل اور طبقات کے درمیان امن، انصاف، مذہبی آزادی، باہمی تعاون اور اجتماعی ذمّے داریوں کو ایک تحریری معاہدے کے ذریعے منظّم فرمایا۔

یہی وجہ ہے کہ عصرِ حاضر میں بھی کوئی اسلامی ریاست یا ذمّے دار حکم ران، سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اس تاریخی دستاویز سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اقلیتوں اور مختلف طبقات کے حقوق و فرائض کا تعیّن کرسکتا ہے، قانون کی بالادستی یقینی بناسکتا ہے اور ایسے معاشرے کی تشکیل کر سکتا ہے، جہاں عدل، رواداری، باہمی احترام اور اجتماعی تعاون کو فروغ حاصل ہو۔ ذیل میں میثاقِ مدینہ کی اہم دفعات اور بنیادی نکات کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے، جس سے اس عظیم معاہدے کی اصل رُوح اور اس کے آئینی و سماجی خدوخال بخوبی سمجھے جا سکتے ہیں۔

میثاقِ مدینہ کا آغاز اللہ تعالیٰ کے نام سے کیا گیا اور اسے رسول اللہ، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی جانب سے قریش کے مہاجر مسلمانوں، اہلِ یثرب کے انصار اور ان تمام افراد کے درمیان ایک تحریری معاہدہ قرار دیا گیا، جو اسلام قبول کریں یا مسلمانوں کے ساتھ مل کر ریاست کے دفاع اور اجتماعی ذمّے داریوں میں شریک ہوں۔ اس معاہدے کی بنیاد یہ رکھی گئی کہ تمام مسلمان، خواہ ان کا تعلق کسی بھی قبیلے سے ہو، دیگر اقوام کے مقابلے میں ایک متحد امّت شمار ہوں گے۔

معاہدے میں قدیم معاشرتی روایات کے مطابق دیت اور فدیے کی ادائی کا حق برقرار رکھا گیا۔ تاہم، یہ شرط عائد کی گئی کہ ہر معاملہ عدل و انصاف کے مطابق انجام پائے گا۔ اسی طرح مسلمانوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے کسی ضرورت مند، مقروض یا کم زور بھائی کو تنہا نہ چھوڑیں، بلکہ باہمی تعاون کے ذریعے اس کی مدد کریں۔

یہ بھی طے کیا گیا کہ اہلِ ایمان باہمی اتحاد کو ہر حال میں برقرار رکھیں گے، فتنہ، بغاوت، ظلم اور فساد کا اجتماعی طور پر مقابلہ کریں گے، کسی مجرم یا مفسد کی حمایت نہیں کریں گے اور قانون کے نفاذ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں کریں گے۔میثاق میں قانون کی بالادستی کو بنیادی حیثیت دی گئی اور واضح کیا گیا کہ ناحق قتل کی صُورت میں قصاص یا دیت کے احکام نافذ ہوں گے، کسی مجرم کو محض قبائلی یا ذاتی تعلق کی بنیاد پر تحفّظ حاصل نہیں ہوگا، اور تمام باہمی تنازعات کا آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کیا جائے گا۔ اسی طرح ہر مسلمان کو امان دینے کا مساوی حق دیا گیا اور کسی فرد یا گروہ کو دوسرے پر بلاوجہ فوقیت نہیں دی گئی۔

اس معاہدے کا ایک نہایت اہم پہلو یہ تھا کہ مدینہ میں آباد یہودی قبائل کو بھی اس اجتماعی ریاست کا حصّہ تسلیم کیا گیا۔ انہیں اپنے مذہب پر مکمل آزادی کے ساتھ عمل کرنے کا حق دیا گیا، ان کے جان و مال کے تحفّظ کی ضمانت دی گئی اور انہیں مسلمانوں کے ساتھ مساوی شہری حقوق فراہم کیے گئے، البتہ یہ شرط رکھی گئی کہ وہ ظلم، خیانت یا معاہدے کی خلاف ورزی کے مرتکب نہ ہوں۔ اگر کوئی فریق ظلم یا بدعہدی کرے گا، تو اُس کے نتائج کا ذمّے دار وہ خود ہوگا۔

میثاقِ مدینہ میں مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کو اپنے اپنے مالی اخراجات کا خود ذمّے دار قرار دیا گیا، جب کہ بیرونی حملے یا ریاست کو لاحق کسی خطرے کی صورت میں فریقین ایک دوسرے کے معاون اور مددگار ہوں گے۔ مدینہ منورہ کو ایک پُرامن اور محفوظ شہر قرار دیتے ہوئے وہاں باہمی جنگ و جدال، خوں ریزی اور جارحیت ممنوع قرار دی گئی۔

طے پایا کہ کسی دشمن کو پناہ دینے، معاہدے کے خلاف سازش کرنے یا ریاست کے امن کو نقصان پہنچانے کی اجازت کسی کو نہیں ہوگی، جب کہ ہر فرد اپنے پناہ یافتہ شخص کی حفاظت کا بھی ذمّے دار ہوگا۔معاہدے میں یہ اصول بھی متعین کیا گیا کہ اگر کسی مرحلے پر صلح یا اجتماعی مفاد کا تقاضا سامنے آئے، تو معاہدے کے تمام فریق باہمی مشاورت اور انصاف کے ساتھ اس میں شریک ہوں گے۔ اسی طرح دفاعِ مدینہ، مالی تعاون، خیر خواہی، مظلوم کی حمایت اور عہد کی پاس داری کوسب فریقوں کی مشترکہ ذمّے داری قرار دیا گیا۔

آخر میں واضح کیا گیا کہ اس معاہدے کی حقیقی رُوح امن، عدل، وفائے عہد اور باہمی تعاون ہے، لہٰذا اس کی خلاف ورزی صرف وہی شخص کرے گا جو ظلم، فساد اور بدعہدی کا راستہ اختیار کرے، جب کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید اُن لوگوں کے ساتھ ہوگی، جو سچائی، انصاف اور دیانت کے ساتھ اس معاہدے کی پابندی کریں گے۔اگرچہ میثاقِ مدینہ ساتویں صدی عیسوی میں مرتّب کیا گیا، تاہم اس کے بنیادی اصول آج بھی اُسی طرح مؤثر اور قابلِ عمل ہیں۔

عدل و انصاف، قانون کی بالادستی، مذہبی آزادی، باہمی احترام، شہری ذمّے داری، وفائے عہد اور اجتماعی امن جیسے تصوّرات ہر دَور کے مہذّب معاشرے کی بنیاد رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عصرِ حاضر میں بھی جب ریاستیں داخلی اختلافات، سماجی تقسیم اور بین المذاہب تعلقات جیسے چیلنجز سے دوچار ہوئیں، میثاقِ مدینہ نے ایک متوازن اور منصفانہ اجتماعی نظم کی روشن مثال کے طور پر رہنمائی فراہم کی۔ درحقیقت، اس تاریخی معاہدے کی اصل رُوح سمجھنا، سیرتِ نبوی ﷺ کے عملی اور ریاستی پہلو کو سمجھنے کے مترادف ہے۔

واضح رہے، ماہِ ربیع الاول اُس عظیم ترین انقلاب کی یاد تازہ کرنے کا موسم ہے، جس نے انسانیت کی تقدیر بدل دی۔ آپ ﷺ کی آمد کا مقصد ایسے معاشرے کی تشکیل تھا، جس میں امن و انصاف اور رواداری ہو، اوربنی نوع انسان کی تربیت اس طرح کی جائے کہ ہر شخص اپنے خاندان کے لیے رحمت، پڑوسی کے لیے خیرخواہ، معاشرے کے لیے نافع اور پوری انسانیت کے لیے عدل، امن اور خیر کا پیام بَر ہو۔ بلاشبہ، رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے ہر پہلو میں عدل، مساوات، امانت، مشاورت، رواداری اور حقوق العباد کی ادائی ملتی ہے۔

میثاقِ مدینہ اور دیگر تمام معاہدے اسی نبوی ؐ فکر کا عملی مظہر تھے، جس میں مختلف مذاہب، قبائل اور طبقات کو ایک مشترکہ ریاستی نظم کے تحت اس طرح جوڑا گیا کہ ہر فرد کے حقوق محفوظ رہیں، ہر مظلوم کو انصاف میسّر آئے، ہر معاہدے کی پاس داری کی جائے اور قانون سب پر یک ساں نافذ ہو۔ یہی وہ اصول و ضوابط ہیں، جنہوں نے مدینے کی ریاست کو تاریخِ انسانیت کی ایک مثالی فلاحی ریاست بنا دیا۔

سو، آج اگر ہم ربیع الاول کی حقیقی برکات سے فیض یاب ہونا چاہتے ہیں، تو اس کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم رسول اکرمﷺ کی تعلیمات، آپ ﷺ کے اخلاق،عدل، امانت، دیانت، معاشرتی بصیرت اور آپ ﷺ کے قائم کردہ اجتماعی نظام کو اپنی انفرادی، اجتماعی اور ریاستی زندگی کا حصّہ بنائیں۔ کیوں کہ یہی وہ راستہ ہے، جو اختلاف کو اتحاد، نفرت کو محبت، ظلم کو انصاف، انتشار کو استحکام اورکم زوری کو قوت میں تبدیل کر سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی سب سے عظیم نعمت، بے مثال رحمت ہے۔ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس رہتی دنیا تک حق و صداقت، عدل و انصاف، امن و سلامتی، علم و حکمت اور اخلاقِ حسنہ کا وہ آفتاب ہے، جس کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑ سکتی۔ آج بھی انفرادی اصلاح، معاشرتی استحکام، قومی ترقی اور عالمی امن کا راستہ اسی اسوۂ حسنہ سے ہو کر گزرتا ہے۔

یہی ربیع الاوّل کا اصل پیغام، سیرتِ نبوی ﷺ کا حقیقی تقاضا اور ہر صاحبِ ایمان کی کام یابی کا راستہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو اپنے کردار، معاملات، معاشرت اور اجتماعی زندگی میں عملی طور پر نافذ کریں کہ یہی رسول اللہ ﷺ کی محبت کا عملی تقاضا، اتباعِ سنّت کا حقیقی مفہوم اور عشقِ رسول ﷺ کا سچا اظہار ہے۔