• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خرابی صحت کے باوجود شبانہ نے طلبہ کے احتجاج میں شرکت کی، مجھے ان پر فخر ہے، جاوید اختر

معروف بھارتی اسکرین رائٹر، شاعر و گیت نگار جاوید اختر نے کہا کہ صحت کے حوالے سے خدشات کے باوجود شبانہ اعظمی نے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شرکت کی، انھوں نے  شبانہ کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا مجھے ان پر فخر ہے۔

ہندی فلموں میں طویل کیریئر اور کام کے حوالے سے مشہور 81 سالہ جاوید اختر نے 76 سالہ شبانہ اعظمی کی گزشتہ ماہ احتجاج میں شرکت پر کہا کہ پرانی شبانہ دوبارہ جاگ اٹھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ شبانہ کا یہ فیصلہ ان کے لیے حیران کن نہیں تھا۔ انھوں نے نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ جنتر منتر پر مظاہرے میں شرکت کی، جبکہ بالی ووڈ کی صرف چند شخصیات ہی احتجاج میں عملی طور پر شامل ہوئیں۔

ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جاوید اختر نے شبانہ کی طویل سماجی و سیاسی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف معاملات کے حق میں آواز اٹھانا ان کی زندگی کا حصہ رہا ہے، حتیٰ کہ اس وقت سے بھی جب ہم دونوں ایک دوسرے کے قریب آئے تھے۔ 

انھوں نے کہا  کہ میں لندن میں تھا تو شبانہ نے مجھے فون کرکے بتایا کہ وہ احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی جانے والی ہیں۔ میں جانتا تھا کہ وہ ضرور جائیں گی۔ یہ ضمیر کی آواز ہوتی ہے۔ میں نے ایک بار بھی انھیں جانے سے منع نہیں کیا اور نہ ہی انھیں دوبارہ سوچنے کا کہا۔ 

احتجاج کے دوران 20 جولائی کو دہلی پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکےجس سے شبانہ اعظمی کو دمے کا دورہ پڑا، جس کے باعث وہ چند روز بعد ممبئی میں ہونے والے ایک اور طلبہ احتجاج میں شرکت نہ کر سکیں۔ 

جاوید اختر نے کہا کہ احتجاج اور سماجی سرگرمیوں میں شبانہ کی شرکت کوئی نئی بات نہیں، جب 1970 کی دہائی کے آخر میں ہمارے تعلقات پروان چڑھ رہے تھے، اس وقت بھی سماجی سرگرمیاں شبانہ کی زندگی کا ایک اہم حصہ تھیں۔

ان واقعات میں 1993 میں ممبئی کے کف پریڈ میں ہونے والا احتجاج بھی شامل ہے، جہاں شبانہ نے جھونپڑیوں میں رہنے والے افراد کے گھروں کو مسمار کیے جانے کے خلاف مظاہرے میں حصہ لیا تھا۔ انہیں 16 دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا اور ضمانت طلب کرنے یا الزامات قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

حراست کے دوران شبانہ کو ٹاٹا تھیٹر میں تمہاری امرتا پیش کرنا تھا۔ ان کی والدہ نے پولیس کو قائل کیا کہ انہیں تھیٹر تک لے جایا جائے۔ شبانہ نے بالآخر انہی گرد آلود کپڑوں میں پرفارم کیا۔ بعد میں جاوید اختر نے انہیں ضمانت پر رہا کرایا۔

شبانہ کے دہلی کے احتجاج میں شامل ہونے سے قبل انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے اور جاوید اختر نے سب سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر درخواست کی تھی کہ وہ احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات کریں۔ تین دن تک خط کی وصولی کی تصدیق کے علاوہ کوئی مزید جواب نہ ملنے کے بعد شبانہ نے احتجاج میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید