گزشتہ دنوں دنیا کے جدید ترین دارالحکومت اسلام آباد میں بچوں کے جھلسنے اور جلنے کا جو افسوسناک واقعہ پیش آیا وہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ہمارے پورے نظامِ صحت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر ہم کب تک ایسے سانحات کو صرف ایک خبر، ایک انکوائری کمیٹی یا چند افسران کے تبادلے تک محدود رکھتے رہیں گے؟یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اور بھی ایسے بے شمار سانحات ہمارے سامنے آ چکے ہیں جو پاکستان کے نظامِ صحت کی زبوں حالی کی گواہی دیتے ہیں۔ سندھ کے اسپتالوں میں خون کی منتقلی اور گندی سرنجوں کے ذریعے ایڈز وائرس کی منتقلی کے واقعات، نشتر اسپتال کی چھتوں پر لاشوں کا ملنا، تھر اور سندھ میں غذائی قلت کے باعث معصوم بچوں کی اموات، شدید گرمی میں اسپتالوں کا ایئر کنڈیشننگ نظام ناکام ہو جانا، گندے پانی کی فراہمی، بنیادی طبی سہولیات کا فقدان اور ڈھائی لاکھ بچوں کا نمونیا اور ڈائریا جیسی قابلِ علاج بیماریوں کے باعث ہر سال جان سے چلے جانا۔یہ ایک ایسے نظام کی علامات ہیں جو اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مسلسل ناکام ہو رہا ہے۔ آخر اس ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟کیا کسی ایک افسر کو معطل کر دینا، کسی وزیر سے استعفیٰ لے لینا، بجٹ میں وقتی اضافہ کر دینا یا چند نمائشی اقدامات کر دینا اس بحران کا حل ہے؟ یقیناً نہیں۔
نظامِ صحت کی سب سے بڑی خرابی اہم انتظامی عہدوں پر میرٹ، اہلیت اور قابلیت کے بجائے سفارش، سیاسی اقربا پروری و کرپشن اور ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر تعیناتی ہے ۔ جب کسی ادارے کی باگ ڈور ایسے شخص کے ہاتھ میں دے دی جائے جو اس منصب کا اہل ہی نہ ہو تو پھر اس ادارے سے بہترین کارکردگی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ ایک مرتبہ ایک سابق وزیراعلیٰ جو بعد میں وزیراعظم بھی بنے راولپنڈی میڈیکل کالج کے دورے پر تشریف لائے۔ وہاں انہوں نے ڈاکٹروں کو اسپتالوں کے ناقص نظام کا ذمہ دار قرار دینا شروع کیا۔ اس موقع پر ایک سینئر پروفیسر، جو اپنی بے باکی اور کلمہ حق کہنے کے حوالے سے مشہور ہیں، نے جواباً کہا کہ نظام کے فیل ہونے کے ذمہ دار ڈاکٹر نہیں بلکہ حکومت ہے ۔انہوں نے وضاحت دی کہ حکومت یونیورسٹی کے وائس چانسلر ، میڈیکل کالج کے پرنسپل، ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، ڈائریکٹر، ڈویژنل ہیڈ، ہیلتھ کمیشن، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور دیگر اہم اداروں پر اگر اہل، قابل اور دیانت دار افراد کے بجائے من پسند یا نااہل افراد کو تعینات کرے گی تو نظام کا ناکام ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں۔نااہل انتظام کے ہاتھ میں بہترین وسائل بھی ناکام ہو جاتے ہیں۔اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان میں صحت کے شعبے کیلئے مختص سرکاری بجٹ طویل عرصے سے انتہائی کم رہا اور پچھلے کئی برسوں میں یہ جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم رہا ہے۔ بنیادی صحت، اسپتالوں، ادویات، طبی آلات اور انسانی وسائل کی ضروریات پوری کرنے کیلئےصحت کے بجٹ میں فوری اور خاطر خواہ اضافہ ناگزیر ہے،لیکن صرف بجٹ بڑھانا کافی نہیں۔
بجٹ کے ساتھ ترجیحات، نگرانی اور جواب دہی بھی ضروری ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صحت محض ایک سرکاری محکمہ نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایک مہذب اور فلاحی معاشرے کی پہچان یہ ہے کہ وہاں ایک غریب انسان بھی بیماری کی حالت میںبا عزت، بروقت علاج اور محفوظ طبی سہولت حاصل کر سکے۔صحت کا نظام عمارتوں، مشینوں اور فائلوں سے نہیں، انسانوں سے چلتا ہے۔ ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر تربیت یافتہ طبی عملہ اس نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ایک طرف ملک میں ضرورت کے مطابق نئے اسپتال اور طبی مراکز تعمیر نہیں ہو رہے، دوسری طرف موجودہ طبی عملے کو ڈاؤن سائزنگ کے تحت کم کیا جا رہا ہے۔
افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے تقریباً آٹھ دہائیوں کے دوران بھی ہم ایسا جامع اور اعلیٰ معیار کا سرکاری طبی مرکز یا اسپتالوں کا ایسا مربوط نظام مکمل طور پر قائم نہیں کر سکے جہاں ملک کے اعلیٰ عہدیداران اور عام شہری، دونوں، یکساں معیار کی جدید طبی سہولیات حاصل کر سکیں۔مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات کے نام پر بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) اور رورل ہیلتھ سینٹرز (RHCs) کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔بنیادی صحت کا نظام معمولی بیماریوں کے علاج کیساتھ حفاظتی ٹیکہ جات، غذائیت، صاف پانی، ماں اور بچے کی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور صحت سے متعلق آگاہی جیسے بنیادی پروگراموں کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔مضبوط بنیادی صحت، مضبوط قومی صحت کے نظام کی پہلی شرط ہے۔بدقسمتی سے مختلف حکومتیں یہ دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ سرکاری اسپتالوں اور ایمرجنسیز میں مریضوں کو ضروری ادویات مفت فراہم کی جا رہی ہیں ۔ لیکن زمینی سطح پر متعدد سرکاری اسپتالوں میں ضروری ادویات کی عدم دستیابی یا ان کی فراہمی میں تعطل کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں، طبی آلات کے خراب ہونے یا بروقت مرمت نہ ہونے کی شکایات بھی عام ہیں کیونکہ خریداری کے عمل میں کرپشن، کمیشن یا کِک بیک جیسے عناصر شامل ہیں۔اسکے علاوہ آبادی میں تیزی سے اضافہ،آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا بیماریوں کے حوالے سے استعمال نہ ہونا ۔ شہری اور دیہی صحت میں عدم مساوات ، بیورو کریسی کی فیصلہ سازی میں تاخیر اور قدرتی آفات اور سیلاب کے خلاف بروقت اقدام نہ ہونے سے بھی صحت کے نظام پرسوالیہ نشان ہے۔ صحت کا نظام بجٹ، مشینوں اور ادویات کے علاوہ باصلاحیت لوگوں سے ہوتا ہے ۔پاکستان میں صحت کے نظام کا بنیادی مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ دستیاب وسائل کا موثر ، شفاف اور ترجیحی بنیادوں پر استعمال نہ ہونا بھی ہے۔