• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جبل الملائکہ ... جہاں ریگِ صحرا پر آسمان نے نصرت کی داستان لکھی

مہوش عروج

عُمرے کے دوران دیارِ مقدّس میں گزرا ہوا وقت گویا میری زندگی کا حاصل ہے، جس نے میرے دل و دماغ کو ایک نئی تازگی بخشی۔ مکّہ مکرّمہ میں بیت اللہ کے طواف کے مناظر آج بھی جذبات و احساسات کا محور ہیں۔ حجرِ اسود کی طرف بڑھتے ہاتھ، ملتزم کے سامنے عجز و انکساری سے مانگی گئی دُعائیں، صفا و مروہ کے مقام پر حضرت ہاجرہؑ کے صبر و استقامت کی یادگار سعی، آبِ زم ز م کا فرحت بخش احساس اور مسجدِ حرام کی ایمان افروز ساعتیں، دل و دماغ پر گہرے نقوش چھوڑ گئیں۔

پھر وہ مقدّس شہر، مدینہ منورہ، جہاں کی ہر گلی عقیدت و احترام کا استعارہ ہے، فضاؤں میں درودِ پاک کی ایسی روحانی مہک رچی بسی ہے کہ یہاں ٹھہر جانے کی دلی آرزو ہر زائر کا مستقل احساس بن جاتی ہے۔ عُمرے کے لیے مکّہ مکرّمہ اور مدینہ منورہ حاضری کے بعد اپنی ٹیم کے ساتھ مدینہ منورہ سےتقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع اُس تاریخی مقام ’’بدر‘‘ کی جانب سفر کا آغاز کیا، جہاں بپا ہونے والے معرکے کو اسلامی تاریخ میں ’’یوم الفرقان‘‘ (حق و باطل کے درمیان فیصلہ کُن دن) کے طور پر ایک منفرد اور نمایاں مقام حاصل ہے۔

پہلے ہی سے تیاربس تمام زائرین کے بیٹھتے ہی فوراً روانہ ہوگئی اور مدینے کی کشادہ سڑکیں، منظّم انفرااسٹرکچر اور کھجور کے لہلہاتےباغات آہستہ آہستہ نگاہوں سے اوجھل ہوتے گئے، اور کچھ ہی دیر میں برق رفتار بس، حجاز کے وسیع و عریض اور پُراسرار صحرا میں داخل ہوگئی۔ صحرا کے اس سفر کا مقصد اُس پہلے اسلامی جنگی معرکے کی سرزمین کا مشاہدہ کرنا تھا، جس نے تاریخِ اسلام کا دھارا موڑ کر رکھ دیا۔

تاریخ، خاموشی اور ایمان کے نقوش: صحرا کا تصوّر ذہن میں ابھرتا ہے، تو حدِ نگاہ پھیلی ریت کا ایک ہی رُوپ سامنے آتا ہے۔ تاہم، حجازِ مقدّس کے صحرا کی کیفیت اس سے بالکل مختلف اور رنگ و بُو کا ایک انوکھا امتزاج ہے۔ یہاں دُور تک پھیلے سیاہ آتش فشانی پہاڑ اپنی پوری ہیبت کے ساتھ اِستادہ ہیں، جن کی چٹانیں ایسی گہری سیاہی لیے ہوئے ہیں، جیسے کسی ماہر مصوّر نے اُنھیں کوئلے سے تراشا ہو۔

ان سیاہ پہاڑوں کے دامن میں سنہری ریت کا منظر انتہائی دل کش معلوم ہوتا ہے، جیسے کسی نے سیاہ مخمل پر سونے کی چادر بچھا دی ہو۔ کہیں دُور کھجوروں کے چھوٹے چھوٹے جُھنڈ کو جب ہوا کے جھونکے چُھو کر گزرتے ہیں، تو یوں گمان ہوتا ہے، جیسے پورا صحرا حالت ِذکر میں ہو۔ یہاں کی خاموشی بھی اپنے اندر ایک سحر رکھتی ہے۔ حجاز کے دشت میں سنّاٹے کی ایک ایسی گہری ہیبت ہے، جو انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کردیتی ہے۔ میں انہی مسحور کُن خیالات میں گُم تھی کہ بس میں موجود گائیڈ کی آواز نے فکری تسلسل توڑ دیا۔

’’معزز زائرینِ کرام! اب ہم میدانِ بدر کی حدود میں داخل ہورہے ہیں۔‘‘ گائیڈ کے یہ الفاظ سنتے ہی بس میں یکایک مکمل سکوت چھا گیا۔ سبھی کی عقیدت مندانہ نظریں بس کی کھڑکیوں سے باہر اُس تاریخی وادی پر مرکوز ہوگئیں۔ شاید ہر مسافر کے دل میں ایک ہی مشترکہ احساس موجزن تھا کہ یہ وہی مقدّس سرزمین، میدانِ بدر ہے، جہاں تاریخ نے محض تلواروں کی جھنکار نہیں سُنی، بلکہ دُعاؤں کو عرش تک پہنچتے دیکھا۔ یہ وہ مقامِ مقدّس ہے، جہاں صحابہ کرامؓ کے پختہ ایمان اور استقامت نے حق و باطل کے درمیان ایک ایسی لکیر کھینچی، جس نے رہتی دنیا تک کے لیے تاریخ رقم کردی۔

یہ محض ایک جنگ نہیں تھی، بلکہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے یقینِ کامل کا ایک ایسا چراغ روشن کیا گیا تھا، جو آج بھی تابندہ ہے۔ زمانہ ٔ قدیم میں شام اور مکّے کے درمیان تجارتی راستے پر واقع بدر کے مقام پر میٹھے پانی کے کئی کنویں موجود تھے، اسی لیے قافلے یہاں قیام کیا کرتے تھے اور غزوۂ بدر میں پانی کے ان کنووں کی اہمیت بھی غیرمعمولی تھی۔

تھوڑی دیر بعد بس ایک موڑ کاٹ کر آگے بڑھی، بےاختیار باہر دیکھا، تو سانس جیسے رُک گئی۔ دُور افق پر سورج کی روشنی میں نہائی ہوئی ایک سنہری پہاڑی آہستہ آہستہ نمایاں ہورہی تھی۔ گرچہ بہت اونچی نہیں تھی، مگر نہ جانے کیوں دُور ہی سے دل کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ جُوں جُوں بس قریب پہنچتی گئی، اس کی ڈھلوانیں واضح ہوتی گئیں۔

سورج ابھی پورا سر پر نہیں آیا تھا۔ اس کی ترچھی کرنیں پہاڑی کے سینے پر اس طرح پھسل رہی تھیں، جیسے کوئی ماں اپنے سوتے ہوئے بچّے کے سر پر محبّت سے ہاتھ پھیر رہی ہو۔ پہاڑی کا ہر ذرّہ اپنے اندر روشنی سمیٹ کر واپس آسمان کی طرف لوٹ رہا تھا۔ دل میں ایک عجیب سا سوال اُبھرا۔ ’’آخر یہ مٹّی اتنی روشن کیوں محسوس ہورہی ہے؟‘‘ ہم ابھی تک اس کے قریب نہیں پہنچے تھے، لیکن دل و دماغ میں ایک ایسی کیفیت موجزن تھی، جسے بیان کرنا آسان نہیں۔

ایسا لگ رہا تھا، جیسے یہ خاموش پہاڑ ہمیں اپنی طرف بلا رہا ہو، اس کی سنہری ڈھلوانوں میں صدیوں سے محفوظ ایک داستان ہمارا انتظار کررہی ہے۔ میری نظریں مسلسل اُسی سنہری پہاڑی پر جمی ہوئی تھیں۔ جیسے جیسے فاصلہ کم ہوتا جا رہا تھا، اُس کی خاموش عظمت مزید نمایاں ہورہی تھی۔ یہ اُن پہاڑوں میں سے نہیں تھا، جو اپنی بلندی سے مرعوب کرتے ہیں، بلکہ اُن میں سے تھا جو اپنی نسبت سے دل جیت لیتے ہیں۔

یہ پہاڑی بدر کے تاریخی میدان کے شمال مغربی حصّے کے قریب واقع ہے۔ اس کی بلندی بہت زیادہ نہیں، مگر اس کا محلِ وقوع اُسے ایک منفرد شناخت دیتا ہے۔ بدر کی پوری وادی پر نگاہ رکھنے والی یہ پہاڑی صدیوں سے خاموش کھڑی ہے، گویا وقت اس کے دامن میں آکر ٹھہر گیا ہو۔

تھوڑی دیر بعد بس رُکی اور دروازہ کھلا، تو جون کی گرم دھوپ نے ہمارا استقبال کیا، مگر حجاز کی گرمی میں بھی ایک عجیب خشکی ہے۔ یہاں پسینہ کم آتا ہے، ہوا جسم کو جُھلساتی ضرور ہے، مگر گُھٹن پیدا نہیں کرتی۔ مَیں نے آہستہ سے زمین پر قدم رکھا، سامنے ’’جبل الملائکہ‘‘ تھا۔ چند لمحے یونہی کھڑی اُسے دیکھتی رہی کہ یہ ملاقات اچانک نہیں ہونی چاہیے تھی۔ پندرہ سو برس کی تاریخ سے، ملاقات سے قبل دل کو بھی تو تیار ہونا چاہیے تھا۔

فرطِ عقیدت سے آگے بڑھی تو سامنے لکڑی کی خُوب صُورت باڑ آگئی، جس نے پہاڑی کے دامن کو نہایت سلیقے سے گھیر رکھا تھا۔ ایک جانب گلابی پھولوں سے آراستہ ایک خُوب صُورت جھولا نصب تھا۔ صحرا کی سنہری وسعت میں وہ گلابی رنگ ایسا لگ رہا تھا، جیسے کسی نے دُعا کے صفحے پر محبّت کا ایک پھول رکھ دیا ہو۔ اِردگرد دیکھا۔ دنیا کے مختلف ممالک سے آئے زائرین خاموشی سے چل رہے تھے۔ مَیں بھی آہستہ آہستہ چلتی ہوئی پہاڑی کے بالکل قریب پہنچ گئی۔ پھر نہ جانے کس جذبے کے تحت گُھٹنوں کے بَل بیٹھ گئی۔

میرے سامنے سنہری مٹّی بچھی ہوئی تھی۔ ہتھیلی میں کچھ مٹّی اُٹھاکر دیکھا، تو ساکت رہ گئی۔ یہ ریگستان کی مٹّی نہیں تھی۔ یہ تو جیسے ریشم کا لمس تھا۔ انتہائی نرم، باریک اور لطیف۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے سنہری ریشم کو پیس کر باریک سفوف کی شکل میں زمین پر بکھیر دیا ہو۔ مَیں نے اپنی ہتھیلی سورج کی طرف کی۔ روشنی اس مٹّی کے ذرّوں پر پڑی تو ہر ذرّہ ننّھے ستارے کی طرح چمکنے دمکنے لگا۔

گائیڈ نے اس مٹّی کی خصوصیت بتاتے ہوئے کہا کہ یہاں کی ریت اپنی ساخت کی وجہ سے تیز ہواؤں میں بھی نسبتاً کم منتشر ہوتی ہے۔ مَیں نے اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کیا، تو دل بے اختیار ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ اُٹھا۔ دیر تک اس مٹّی کو دیکھتی رہی۔ دل میں ایک خیال اُبھرا۔ کیا اِن ہی ذرّوں پر کبھی صحابۂ کرامؓ کے قدم پڑے ہوں گے؟

کیا اسی فضا میں کبھی رسولِ اکرم ﷺ کی دعاؤں کی بازگشت گونجی ہوگی؟ کیا اسی آسمان کے نیچے وہ تاریخی لمحہ آیا ہوگا، جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ: ’’اور جب تم اپنے ربّ سے فریاد کر رہے تھے تو اُس نے تمہاری دُعا قبول فرمائی کہ مَیں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا، جو یکے بعد دیگرے آئیں گے۔‘‘(سورۂ الانفال9)۔

سرزمینِ بدر: میدانِ بدر اور جبل الملائکہ کی زیارت، تاریخِ اسلام کے عظیم ترین معرکے کی یاد تازہ کرتی ہے۔ یہ مقام جہاں حق و باطل کا پہلا فیصلہ کن معرکہ بپا ہوا، زائرین کے دلوں میں جذبہِ ایمانی، صبر، توکل اور اللہ کی نصرت پر یقین کی شمعیں روشن کرتا ہے۔ اسی جگہ تاریخِ اسلام نے نیا موڑ لیا۔ سفرِ حجاز کے دوران مدینے سے تقریباً 150کلومیٹر کی دوری پر واقع وادیٔ بدر کی زیارت ایک ایسا روحانی تجربہ ہے، جو انسان کو پندرہ سو سال پیچھے عہدِ نبویؐ میں لے جاتا ہے۔

یہ وہ مقدّس سرزمین ہے، جہاں17رمضان المبارک 2 ہجری کو کفر و اسلام کا پہلا باقاعدہ معرکہ پیش آیا۔ یہیں نزولِ رحمت کا گواہ، میدانِ بدر میں واقع ’’جبل الملائکہ‘‘ (فرشتوں کا پہاڑ) جسے ’’جبلِ اضخر‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کوہِ عتیق کے دامن میں واقع ہے۔ یہ وہی تاریخی مقام ہے، جہاں غزوۂ بدر کے انتہائی کٹھن اور فیصلہ کُن لمحات میں اللہ ربّ العزت نے اپنے فرشتوں کی فوجِ عظیم نازل فرمائی تھی۔

اس پہاڑی کی خاموش چوٹیاں اور پتھر آج بھی اس قرآنی صداقت کے گواہ ہیں کہ کس طرح تین سو تیرہ (313) نہتّے صحابہؓ کی مدد کے لیے غیب سے نصرت اُتری۔ اس مقام پر کھڑے ہو کر انسان پر ایک سکتہ سا طاری ہو جاتا ہے، آنکھیں بے اختیار ہی نم ہو جاتی ہیں۔

غزوۂ بدر کے تاریخی پس منظرپر غور کریں، تو یہ محض ایک جنگ نہیں، بلکہ حق و باطل، کفر و ایمان اور عدل و ظلم کے درمیان ایک واضح لکیر تھی۔ ایک طرف قریشِ مکّہ کا لشکرِ جرّار تھا، جو ساز و سامان سے لیس تھا، تو دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کے جاں نثار صحابہؓ تھے، جن کے پاس جنگی ہتھیاروں کی کمی، مگر جذبہِ شہادت کوہِ گراں سے مضبوط تر تھا۔

یہ معرکہ اس حقیقت کا مظہر تھاکہ فتح و شکست کا دارومدار مادّی وسائل پر نہیں، بلکہ اللہ کی ذات پر کامل یقین اور استقامت پر ہوتا ہے۔ میدانِ بدر کی تپتی ریت، جبل الملائکہ کی پُرسکون فضا زائرین کو ایک گہرا فکری اور روحانی پیغام دیتی ہے۔ یہ مقام توکّل اور استقامت سِکھاتا ہے کہ جب انسان اللہ کی راہ میں کھڑا ہوجائے اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرے، تو اللہ کی مدد ضرور شاملِ حال ہوتی ہے۔

جب کہ شہدائے بدر کی عظیم قربانیاں ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ آج ہمیں جو دین کی نعمت حاصل ہے، اس کے لیے ہمارے اسلاف نے کتنا کٹھن وقت گزارا۔یہاں گزرا وقت انسان کے اندر یہ شعور بے دار کرتا ہے کہ مادّی مفادات سے بالاتر ہوکر حق کا ساتھ دینا ہی اصل کام یابی ہے۔ زیارتِ بدر اور جبل الملائکہ محض ایک تاریخی مقام پر حاضری نہیں، یہ ایمان کو تازہ کرنے، تقویٰ کو جِلا بخشنے اور اللہ کی کبریائی کے سامنے سرِ تسلیمِ خم کرنے کا ایک ایسا روحانی سفر ہے، جس کی تاثیر زائر کے دل میں تادیر باقی رہتی ہے۔

جبلُ الملائکہ کی زیارت جہاں ریگِ صحرا پر آسمان نے نصرت کی داستان لکھی، صرف ایک تاریخی مقام کی زیارت نہیں تھی، یہ اپنے ایمان کو نئے سرے سے دریافت کرنے کا سفر تھا۔ یہ اس یقین کو دوبارہ زندہ کرنے کا سفر تھا کہ اگر بدر کے میدان میں تین سو تیرہ بے سر و سامان افراد کے لیے آسمان سے نصرت آسکتی ہے، تو آج بھی اللہ کی رحمت کسی مایوس دل سے دُور نہیں۔

مَیں نے اس مقدّس سرزمین سے رخصت ہوتے ہوئے دُعا مانگی۔ ’’اے اللہ! جس طرح تُونے بدر میں اپنے بندوں کے دِلوں کو یقین سے بھر دیا تھا، ہمارے دِلوں کو بھی ایسا ہی یقین عطا فرما۔ ہماری کم زوریوں کو اپنی رحمت سے طاقت میں بدل دے، اور جب کبھی زندگی کا کوئی بدر ہمارے سامنے آئے، تو ہمیں بھی اپنے اوپر کامل بھروسا کرنے والوں میں شامل فرما۔ آمین۔‘‘

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور ان کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’ناقابلِ فراموش‘‘

٭ تین مختصر واقعات (ڈاکٹر رانا محمد اطہر رضا، فیصل آباد) ٭اختیارات کا ناجائز استعمال (مظفرشفیق اظہر، شارب میڈیکل کمپلیکس روڈ، لاہور) ٭لاعلاج مریض+بیت المال سے ادھار (ظہیر انجم تبسّم، جی پی او، خوشاب)٭کتّے بلّے (بشیراحمد بھٹّی ، فوجی بستی غربی، بہاول پور)٭ممانی کے بچپن کا واقعہ (مصباح طیّب، سرگودھا)٭ حیرت انگیز معجزہ، جو میرے سامنے رُونما ہوا (شوکت محمود، گلشنِ راوی، ملتان روڈ، لاہور)٭ پھر بنیں گے آشنا (روزینہ خورشید، کراچی)۔

برائے صفحہ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘

٭ میرے ابّو۔ پروفیسر ڈاکٹر سیّد وسیم الدین (پروفیسر ڈاکٹر سیّد عاکف الدین، نذیر حسین یونی ورسٹی، کراچی)۔

برائےصفحہ ’’متفرق‘‘

٭کثیف فضا اور انسانی صحت (انجینئر سیّد سرفراز علی ، گلشن اقبال، کراچی) ٭28مئی ، پاکستان کے لیے انتہائی اہم دن (راجا عمر فاروق طالب، سوہاوہ، جہلم) ٭منشیات، نوجوان نسل کے مستقبل پر منڈلاتے خطرات (محمد ریاض ایڈووکیٹ) ٭لسان الامت، نواب بہادر یار جنگ (پروفیسر ڈاکٹرسیّد وسیم الدین)٭ سندھ کی جامعات، مالی بحران اور ڈوبتا ہوا تعلیمی مستقبل (ڈاکٹر نظیر احمد ابڑو، ٹنڈو جام) ٭شادی ، بیاہ کی فضول رسومات اور روایات (دانیال حسن چغتائی ) ٭زندگی میں توازن کی اہمیت و افادیت (ہومیو ڈاکٹر، ایم شمیم نوید، گلشن اقبال، کراچی)٭ اعلیٰ تعلیمی سطح پر سائنسی قابلیت کی غلط جانچ (نصرت عباس داسو)۔