صاحبو! محبت عجیب کومل، نرمل، شیتل کونپل ہے۔ پُھوٹ نکلے تو پھیلتی ہی چلی جاتی ہے۔ چٹانوں میں درزیں بناتی، پہاڑوں میں دراڑیں ڈالتی اور چٹانوں سے چشمے نکالتی پھیلتی ہی چلی جاتی ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ کی من موہنی شخصیت ایک ایسی ہی کونپل ہے۔ سوچیے تو! خُود کو پسِ منظر میں رکھ کر دوستوں کو اُجاگر کرنے اور اپنی لَو دھیمی مدھم رکھ کر احباب کو چمکانے کا جگر آج کل کتنوں میں ہے؟ بہت ہُوئے تو ہوں گے کُل ملا کے یہی کوئی دو چار۔
ڈاکٹر عبداللہ کہ جنہیں ہم عبداللہ بھائی پُکارتے ہیں، بلاشُبہ انہی میں سے ایک ہیں۔ پینتالیس چھیالیس برس قبل اُنہوں نے ایسی ہی بے لوث قُربانی کی قندیل جلائی اور اُسے نام دیا،’’علی گڑھ ایلومنائی ایسوسی ایشن‘‘۔ تمام عُمر دامے درمے سخنے قدمے اس خدمت کو حاضر وموجود رہے، اُن کو جب بھی شعر وسخن نے پکارا، ان کے ہاں نہیں نُکڑ کی گنجائش نہ نکلی۔
وہی محفلِ ستارہ و ماہتاب اتنے برسوں مشاعرے کی راہ پر خوشبوؤں کےقرابے لُنڈھاتی، اینڈتی اِٹھلاتی پِھرتی آج تقریباً پچاس برس بعد بھی موجود ہے۔ کوئی بھی دن ہوں، میٹھی عید ہو یا سلونی، عبداللہ بھائی کے ہاں آٹھ دنوں میں نو میلے ٹھیلے کبھی نہ تھمے۔ سیلانی شاعر ’’سیل‘‘ کو نکلیں تو انہی میلوں ٹھیلوں کی اللہ آمین کرتے ہیں۔ ان کے ہاں علی گڑھ ایلومنائی کے مشاعروں کا منظرہی الگ ہے۔ لکھنؤ یاد آتا ہے۔ ہم نے ایسے ہی ایک مشاعرے میں پڑھتے ہوئے خود کو چتاؤنی دی تھی کہ ؎
فارس! سنبھل کے پڑھنا، یہ سب پڑھ کے آئے ہیں
لڑکے مشاعرے میں علی گڑھ کے آئے ہیں
ان کی بزم کا قصّہ سُن لیجے۔ اِدھر مشاعرے کی سبھا جمی، شاعرِاوّل نے پیش کار شروع کیا اور زبانِ اُردو کی بی چھمیا نے گت بھری۔ تا تھئی تت تت۔ غزل نے ہولے سے وہ نین بھاؤ دکھائے، جو سامعین کے سان گمان میں نہ تھے۔ داد وتحسین کے ڈونگرے برسے اور اسی افراتفری اور بیرا کھیری میں اگلے شاعر بین کار اور کلاونت کے مانند نمودار ہوئے۔ شاعر بھی ایسے کہ بڑے بڑے سخن کاراُن کے نام پر کان پکڑیں، اُنہوں نے نظم کی تان تلوار کو تیر بنایا، سامعین کے دل کو دھڑی دھڑی کرکے لُوٹا اور مشاعرے کی دِلّی کھک ہوگئی۔
خیر، ہماری عبداللہ بھائی سے یاد اللہ اور نیازمندی کی داستان کا آغاز یُوں ہوتا ہےکہ2016ء میں ہمیں علی گڑھ ایلومنائی ایسوسی ایشن کی جانب سے امریکا میں مشاعروں کی ایک یادگار سیریز کا دعوت نامہ موصول ہُوا۔ واشنگٹن ہی میں پہلی بار ڈاکٹر عبداللہ سے ملاقات ہوئی۔ مُسکراتا چہرہ، لانبا قد، قامتِ قیامت سے ڈھائی تین بالشت اوپر نکلتا ہُوا۔ کیکری کٹاؤ کا کُرتا، چوڑی دار پاجاما۔ بال سر پر سلیقے قرینے سے بنےجمے ہوئے۔ بولے تو لگا، جیسے امیتابھ بچن بول رہے ہیں کہ وہی کھڑی بولی والے بول اِن کے ہاں بھی، اُن کے ہاں بھی۔ لباس میں رِیت روایت کی جھلک اور برتاؤ میں رچاؤ کا سُبھاؤ۔
ذمّےداری کا احساس یہ ہے کہ ہر مہمان شاعر سے فرداً فرداً اور بار باراحوال بھی پوچھ رہے ہیں، قیام و طعام کی فکرِ مسلسل کے ساتھ ساتھ مشاعرے کی کام یابی کی مستقل لگن۔ واشنگٹن کا وہ مشاعرہ ہماری زندگی کے یادگار ترین مشاعروں میں سے ایک تھا۔ عبداللہ بھائی ہی کی نظامت میں خُوب رنگ جما اور اُن کے رنگ میں ہمیں وہ ڈھنگ مل گیا کہ جس کی امنگ ترنگ ست رنگ تھی۔ ٹھیک سے تعارف ہوا تو اُن کے جوہر ایک ایک کرکے ہم پر کُھلے۔ ڈاکٹر عبداللہ امریکا میں مقیم اردو شاعر، سائنس دان اور فیڈریشن آف علی گڑھ ایلومنائی ایسوسی ایشنز (FAAA) کے بانی صدر ہیں۔
ہندوستان کے شہر اعظم گڑھ میں ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے، جس کےعلمی روابط برعظیم کےممتاز اہلِ علم، مثلاً مولانا حمید الدین فراہی اورعلامہ شبلی نعمانی جیسے جلیل القدرعلماء سے جا ملتے ہیں۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی (AMU) سے شماریات میں بی۔ ایس اور ایم۔ایس کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بعد ازاں، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ہی میں ریاضی اور شماریات کے لیکچرر کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔
پھر امریکا منتقل ہوگئے، جہاں اسٹیٹ یونی ورسٹی آف نیویارک، بفیلو سے شماریات میں ایم۔ایس کی ڈگری حاصل کی، اورپھرجارج واشنگٹن یونی ورسٹی سے Biostatistics میں پی۔ایچ۔ڈی کی سند حاصل کی۔ ادبی حوالے سے ڈاکٹر عبداللہ اپنی پُراثراوردل میں اتر جانے والی اردو نظموں کے لیے معروف ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ ’’ریت کی لہریں‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور خُوب شہرت حاصل کی۔ شمالی امریکا میں اردو زبان، اردو ادب اور اردو سے وابستہ ثقافتی تقریبات کےفروغ کے حوالے سے انھیں بڑی قدر و منزلت حاصل ہے۔
اس خدمت میں ان کا ایک مرکزی کردار علی گڑھ ایلومنائی ایسوسی ایشن کے زیرِاہتمام منعقد ہونے والے سالانہ یومِ سرسید مشاعروں کے انتظام وانعقاد میں رہا ہے۔ موصوفِ گرامی قدر نے شمالی امریکا کے جنوب ایشیائی ثقافتی منظرنامے کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ایک طرف وہ ادبی مصنف اور شاعر کی حیثیت سے سرگرم رہے، تو دوسری طرف ایک سرکردۂ برادری ومعاشرتی منتظم کے طور پر بھی ان کی خدمات نے اس تہذیبی منظرنامے پر گہرا اثر ڈالا۔
’’ریت کی لہریں‘‘ ڈاکٹر عبداللہ کی بنیادی اردو شعری تصنیف ہے۔ اس کتاب میں ایسی غوروفکر پر مبنی، لطیف اور نپی تلی نظمیں شامل ہیں، جو چند ہی لفظوں میں گہرے، معنی خیز خیالات کو گرفت میں لینے کے لیے معروف ہیں۔ ’’ستیہ پال آنند کی نظم نگاری‘‘ ایک تنقیدی کتاب ہے، جسے ڈاکٹر عبداللہ نے مرتب اور تدوین کیاہے۔ اس میں معروف اردو ادیب ستیہ پال آنند کی شاعری کا تجزیاتی اور تنقیدی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔
’’گونگی آوازیں‘‘ ایک منفرد ملٹی میڈیا منصوبہ ہے، جسے ڈاکٹر عبداللہ نے نزیرہ اعظم صاحبہ کے ساتھ مل کر تیار کیا، جس میں شعری قرأتیں شامل ہیں، اور اس کی خصوصی نسبت ان خواتین اردو شاعرات سے ہے، جو امریکا اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ’’علی گڑھ تحریک‘‘ کو شمالی امریکا میں متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ واشنگٹن ڈی۔ سی۔کے علی گڑھ ایلومنائی چیپٹر کو ایک نمونے اور نقشۂ راہ کے طور پراستعمال کرتے ہوئے امریکا اورکینیڈا کے بڑے شہروں میں اسی نوعیت کی علی گڑھ ایلومنائی انجمنیں قائم کرنے کی کوششوں میں مدد دی۔
سالانہ یومِ سرسید مشاعرے اعلیٰ سطح کی شعری نشستیں اور ادبی اجتماعات ہیں، جوعلی گڑھ ایلومنائی ایسوسی ایشن،واشنگٹن ڈی۔سی۔ (AAA-DC) کی ایک نمایاں شناخت بن چُکے ہیں۔ ان تقریبات میں ڈاکٹر عبداللہ اکثرناظمِ مشاعرہ یعنی کمپیئریا نظامت کارکی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کی نظامت میں مزاح اور ادبی بصیرت دونوں کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ یہ ادبی پلیٹ فارم برِعظیم کے مستند اور معروف شعراء کوشمالی امریکا میں ابھرنے والی نئی اور نوجوان شعری آوازوں کے ساتھ ایک ہی جگہ پر لاتا ہے۔
ڈاکٹر عبداللہ مشترکہ یومِ آزادی مشاعروں اور کوی سمیلن کے انعقاد میں بھی بدستور نہایت سرگرم ہیں۔ ان شعری تقریبات کا مقصد ہندی اور اردو کی ادبی روایات کو ایک ہی چھت کے نیچے جمع کرنا ہے۔ مطلب ؎ یہ نصف صدی کا قصّہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔ اور یہ مصرعہ لکھتے لکھتے مصرعہ ہوگیا کہ ؎ یہ صرف اُنہی کا حصّہ ہے، ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ آج ڈاکٹر عبداللہ کے توسّط سےعلی گڑھ ایلومنائی ایسوسی ایشن دُنیا بھرمیں جانی پہچانی اور مانی جاتی ہے۔
ایک اورمزے کا قصّہ یہ ہے کہ ہمیں خبر ہوئی، وہ لاہور تشریف لارہےہیں توسوچا، ایسےبےلوث انسان کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہماری ذمّے داری ہے اور اُن کا بھرپور حق۔ شامِ رنگ و خوشبو سجی اور کیا خُوب سجی۔ جم خانہ کلب کی پُرسکون فضا میں صاحبِ شام کے سُہانے سجیلے سنگھاسن پر متمکن ہوئے ڈاکٹر عبداللہ، کُرسئ صدارت پر جلوہ افروز ہوئے شاعرِ بےمثل جناب امجد اسلام امجد، مہمانانِ اعزاز تھے، مشہور و معروف سُخن ور زاہد فخری اور آبروئے غزل عباس تابش۔
ایک کہکشاں تھی، سُخن وَروں کی، جو عبداللہ بھائی کے اعزاز میں اس شام کو دمکانے چمکانے اُمڈ آئی تھی۔ آج بھی یاد ہے کہ مشاعرے کے آخر میں عبداللہ بھائی کی کومل نظموں نے بھرپور سماں باندھ دیا تھا۔ ایک بارموصوف ہمیں گاڑی میں بٹھال’’وائس آف امریکا‘‘ واشنگٹن ڈی سی ہمارا انٹرویو کروانےلےکرگئے۔ جس راہ پہ ہم رفتار کی رتھ پر رواں دواں تھے، اُس کے دو رویہ گھنے سرسبز درخت سڑک کے عین اوپر آپس میں مل جاتے تھے۔ ہم نے اس پرانہیں اپنا شعر سنایا کہ ؎
کھڑے ہیں دونوں طرف پیڑ چھتریاں بن کر
کہ راستہ نہ کہیں بھیگ جائے بارش میں
انہوں نے خُوب داد دی۔ عبداللہ بھائی کی معصوم اور سچی سُچّی ادا یہ ہےکہ وہ اچھے شعر کی تحسین کیے بغیر نہیں رہتے۔ شعر و ادب کی ترویج اُن کا واحد مقصد ہے، جس کے لیے انہوں نے اپنا لڑکپن، نوجوانی، جوانی حتیٰ کہ بڑھاپا تک وقف کر رکھا ہے۔ ایسی مثال کم ازکم ہماری نظر سے تو نہیں گزری۔’’وائس آف امریکا‘‘ پہنچے تو اپنے وقتوں کے معروف ٹی وی نیوز کاسٹر خالد حمید سے بھی ملاقات ہوئی اور یارِدل پذیر’’جنگ‘‘ میں ’’سو لفظوں کی کہانی‘‘ لکھنے والے مبشر زیدی سے بھی۔
اُسی سفر میں ہم نے عبداللہ بھائی کی زبانی شاعرِ بےمثال ولازوال یعنی احمد فرازکی کہانیاں سُنیں،جودل چسپ بھی ہیں،حیران کُن بھی۔ ویسے فرازکےساتھ ساتھ کون سا ایسا بڑا شاعر ہے، جس کے دل چسپ ترین واقعات عبداللہ بھائی کی یادداشت کی زنبیل میں موجود نہیں۔
بھارت اور پاکستان کی تمام بڑے نام کسی نہ کسی دَور میں ان کے مہمان رہ چُکے ہیں۔ پچھلے دنوں احمد فراز کی برسی پر ہم نے ان سے گزارش کی کہ پاکستان ٹیلی ویژن ایک یادگاری پروگرام میں احمد فراز کے حوالے سے آپ کی گفتگو شامل کرنے کا اعزازِ دل نواز لینا چاہتا ہے۔ اس درخواست پر انہوں نے کمال مہربانی سے ہمیں ایک ویڈیو بھجوائی۔
اُن کامن موہنا لہجہ، تیکھے تیور والا تلفّظ اور جُملوں کے بیچ ٹھہراؤ سُن کر پاکستان ٹیلی ویژن کے ایک براڈ کاسٹر ہم سے پوچھنے لگے کہ ’’فارس میاں! کیا یہ صاحب براڈ کاسٹر رہے ہیں؟ کیوں کہ اِن کا لہجہ بالکل بےعیب اور پڑھنت حد درجہ شان دار ہے۔‘‘ ہم نے عرض کیا کہ ’’ان کی زندگانی کی کہانی ہی شعر خوانی، شیریں بیانی اور مصرعوں کی روانی پر مشتمل ہے۔‘‘ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ دو ہزار سولہ سے آج تک جب بھی انہیں بطور منتظم و مہتمم کسی مشاعرے میں مشغول یا محفلِ سخن میں محو و مصروف دیکھا، ہمیشہ دل و جان سے یک سُو پایا۔ کامل ارتکاز، مکمل توجّہ اور خالص کھرا دھیان ان کی طبیعت کا خاصّہ ہے۔
اِن کے ہاں جُزئیات نگاری کا عالم یہ ہے کہ شاعر کے مقامِ قیام سے اجزائے طعام اور شامِ کلام تک ہر پہلو پرگہری نظررکھتے ہیں۔ بلکہ فراز صاحب کو تو اہتمامِ جام سے حد درجہ باز رکھنے کی ذمّے داری بھی نبھاتے تھے۔ پی ٹی وی کے انٹرویو ہی میں فراز سے پہلی ملاقات کے حوالے سے فرمایا کہ ’’ہماری یہ ذمّے داری تھی کہ بزم میں اس امر پر مامور رہیں کہ کہیں احباب فراز صاحب کی زیادہ خدمت نہ کردیں۔‘‘
جملہ بہت نکھار سنوار کے اور سنبھال کے کہتے ہیں، جو شُستہ بھی ہوتا ہے، شائستہ بھی اور شگفتہ بھی۔ ان کے خانۂ شاد وآباد اور اہلِ خانہ کی بات کی جائے تو آج بھی سربراہِ معززہیں۔ یاد پڑتا ہےکہ ان کی شادی کی پچاسویں سال گرہ پر ناچیز نے ایک نظم لکھ نذرانۂ عقیدت ومحبت کے طور پر بھجوائی تھی، جسے انہوں نےبہت داد وتحسین سے نوازا تھا۔ سُخن فہم، سُخن شناس قارئین کی خدمت میں بھی پیش کیے دیتے ہیں ؎
عبداللہ بھائی کے گھر میں کب چاہت کی بہتات نہیں
صد شُکر کہ اس کاشانے میں کوئی قحطِ جذبات نہیں
کب ایسا کوئی لمحہ ہے جب صوفیہ آپا ساتھ نہیں
یہ نصف صدی کا قِصّہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں
یہ گھر گہوارہ نظم کا ہے، یہ صحن غزل کا گُل دستہ
عامر اور فیصل کے دَم سے آباد ہے اس کا ہر رستہ
فرحین کے نرم قرینے سے یہ گلشن ہے ہنستا بستا
دو نام علی اور رافع ہیں، دونوں ہی نمک پارے خستہ
کب کوئی شرارت ہے، جس میں معصوم کبیر کا ہاتھ نہیں
یہ نصف صدی کا قِصّہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں
کاشانۂ رنگ و شعر و سخن، تاعُمر یُونہی آباد رہے
یہ سبز چراغ رہیں روشن، یہ صحن سُنہرا شاد رہے
اس گھر میں رہنے والوں کو الفت کا سلیقہ یاد رہے
سب دردوں سے، سب رنجوں سے تا حشر یہ گھر آزاد رہے
یہ نظم دُعا ہے فارس کی، بس رسمی احساسات نہیں
یہ نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں!
پھر ایک وہ لمحۂ غم و اندوہ بھی آیا کہ جب نصف صدی سے زیادہ کی ساتھی،ان کی شریکِ حیات صوفیہ عبداللہ صاحبہ، جنہیں ہمیں صوفیہ آپا کہا کرتے تھے، اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئیں۔ عبداللہ بھائی کی زندگی کے ہر قرینے میں اُن کا حصّہ اور ہرسلیقے میں اُن کا ہاتھ تھا۔
انسان ایسے ساتھی کو الوداع کہتے ہوئے تڑخ کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار تو ہوتا ہے، مگر قانونِ قدرت یہی ہے کہ ایسی قیامت کو بھی سہا جائے۔ سو، عبداللہ بھائی نے تمام اہلِ خانہ کے ساتھ مل کر یہ غم سہا اور اسے اپنے آئندہ کے لیےمشعلِ راہ بنایا۔ صوفیہ آپا کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے جو نظم ناچیز نے کہی تھی وہ بھی پیشِ خدمت ہے ؎
سمجھ میں آتا نہیں عُقدۂ حیات و ممات
پرے ہے عقل کی سرحد سے رازِ سود و زیاں
بس ایک لمحے میں موجود سے ہُوا معدوم
پچاس سال کا ہمراہئ زمان و مکاں
کہاں کا حرفِ تسلی؟ کہاں کا پُرسۂ غم؟
کہ ایسے درد کا ممکن نہیں کوئی درماں
پلک جھپکتے ہی کُل کائنات کا جانا
عجیب غم ہے شریکِ حیات کا جانا
مگر نہاں ہے اسی رنج و غم میں دل کا سکوں
چھپا ہُوا ہے اسی دُکھ میں عافیت کا سُراغ
رہے گی دل میں سدا یادِ رفتگاں روشن
یہ بے بسی ہی سہارا ہے، بے کسی ہی چراغ
کِھلیں گے آنکھ کے آنگن میں پھول اشکوں کے
ہمیشہ دل میں مہکتا رہے گا یادوں کا باغ
خدا کرے کہ کوئی غم نہ اب ستائے تُجھے
بچھڑنے والے! سدا میٹھی نیند آئے تُجھے
عبداللہ بھائی سرتاپامجسّم محبت، سراپا مروت ومتانت اور سربسر عجزوعقیدت ہیں۔ میدانِ شعر وادب میں ایسی دوسری مثال ہے ہی نہیں کہ کسی شاعر نے اپنا کمال کلام کامل ترک کرکے دنیا بھر کے شاعروں کو اظہارِ سخن کے مواقع فراہم کیے ہوں اور وہ بھی محض ایک دوبار نہیں، پچاس برس سے بھی زیادہ۔
نہ جانے کیوں ہمارا دل کہتا ہے کہ اردو زبان و ادب کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، تو اُس بےلوث، مخلص اور محبتی کردار پر ایک مکمل باب الگ ہوگا کہ جو سب سے الگ تھلگ، اسٹیج کے پیچھے، روشنیوں سے دُور اور مرکز سے ہٹ کر، شہرہ و شہرت یا داد و تحسین کےلالچ کے بغیر ہمہ وقت شعر و سخن کی خدمت میں مصروف رہتا تھا۔
ہمیں یقین ہے کہ آئندہ بھی ایسی کسی شان دار محفل میں جب داد وتحسین کے ڈونگرے برس رہے ہوں گے اور نسلِ نَوکا کوئی سامع پوچھے گا کہ’’وہ دُورکھڑے بالا و بلند قامت صاحب کون ہیں کہ جو مشاعرے میں سب سے زیادہ مستعد نظر آرہے ہیں ؟‘‘ تو تمام شاعروں کےاشعار اور تمام سامعین کی گفتار پکار اُٹھے گی کہ ’’وہ ہیں، ہم سب کے ڈاکٹر عبداللہ‘‘۔
(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں)