صاحبو! تسلیم ہے کہ عُمر، علم کی راج دھانی ہے اور بزرگی رازِ اندروں تک پہنچنے کی ایک نشانی۔ لیکن کروڑوں میں سے ایک آدھ شخصیت کے ہاں جوانی ہی آگہی، شعور، ٹھہراؤ اور فکرو تدبر کے وہ رنگا رنگ گُلاب اور انوکھے مہتاب و آفتاب کِھلا دیتی ہے کہ اقبال کے اشعار یاد آنے لگتے ہیں۔ ؎
زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے، ساز بدلے گئے
خِرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا اُستاد کر
بلال اظہر کیانی بھی ایسے ہی ایک جوان ہیں کہ جنہیں بچپن ہی سے صداقت، عدالت اور شجاعت کا سبق پڑھایا گیا تاکہ بعد ازاں اُن سے جہانِ تدبیر کی امامت کا کام لیا جاسکے۔ ابھی وہ عُمرِ رواں کے چالیسویں پڑاؤ سے گام دو گام دُور ہیں لیکن خدائے بزرگ و برتر نے اُنہیں رہنمائی کا دمکتا چراغ عطا کردیا ہے کہ کروڑوں آنگنوں میں روشنی کریں۔
بچپن میں ذہین و فطین والد کی تربیت، لڑکپن میں بہترین تعلیم کی کیفیت، نوجوانی میں بیرونِ ملک اعلٰی ترین تدریس کی نعمت، جوانی میں میاں محمّد نواز شریف کی رفاقت اور دورِحاضر میں صاف شفّاف نوجوان سیاست و قیادت: یہ ہیں وہ بنیادی اجزائے ترکیبی، جن کے باہم ملنے سے بنی وہ شخصیت کہ جسے آج لوگ بلال اظہر کیانی کے نام سے جانتے، مانتے، پہچانتے اور رہنما گردانتے ہیں۔
اُن سے ہماری پہلی ملاقات برادرِ عزیز اوریارِ دل پذیر ارشد ملک نے کروائی، جو وزیرِاعظم پاکستان میاں شہباز شریف کے اسپیچ رائٹر، بہترین انسان اور ہمارے بڑے بھائی ہیں۔ ملاقات سے قبل ہم نے اپنے موضوعِ سخن سے متعلق پوچھا تو فرماتے ہیں کہ ’’بلال صاحب سے میری ملاقات اتفاقاً ہوئی اور اس کا وسیلہ محترمہ مریم اورنگ زیب بنیں۔ محترمہ، وفاقی وزیرِ اطلاعات کے منصب پرفائز ہوئیں تو بلال صاحب کی اُس ٹیم میں تشریف آوری شروع ہوئی۔
مریم صاحبہ کی ایک خاص الخاص شخصی پہچان یہ ہے کہ لکھنے لکھانے کا کام ہو یا میڈیا یا الیکشن کمپین، وہ ہمیشہ صلاحیت، قابلیت، لیاقت اور ذہانت کا ساتھ دیتی ہیں، چاہے یہ خوبیاں اُنہیں کسی کم عُمر ہی میں کیوں نہ نظر آجائیں۔ بلال صاحب پہلے بڑے میاں صاحب کے ساتھ لندن میں مُقیم اور اُن کی تمام سیاسی مصروفیات کی تنظیم و ترتیب کے ذمّےدار تھے۔ پھر بتدریج ایک ایسے محنتی ومحبّتی سیاسی ورکر کے طور پر اُبھرے کہ جواعلٰی تعلیم یافتہ بھی تھا، ذہین بھی۔
خوش قسمت اس لحاظ سے ٹھہرے کہ آغاز ہی میں اُن کی سیاسی تربیت بڑے میاں صاحب کے ہاتھوں ہوئی، جس کی وجہ سے اُن کا سیاسی و عملی نظریہ ٹھہراؤ، متانت، برداشت اور بُردباری پر اُستوار ہوگیا۔ لہٰذا اُن کے سیاسی سفر کے آغاز سے اب تک ہمیں اُن میں اِن مثبت اقدار کی جھلک واضح دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان آتے ہی اُن کی زیرک نگاہی، خلوصِ قلب اور ذہنی صلاحیت کا چرچا ہونے لگا۔ وہ اُن چیدہ چُنیدہ لوگوں میں شامل ہیں کہ جو رموزِ سیاست سے بھی بخوبی واقف ہیں اور عوام کی نبض سے بھی آشنا۔
یقیناً اِسی سیاسی اور شخصی تربیت کا واضح اثر ہے کہ بلال اظہر عوام و خواص سے گفتگو، رکھ رکھاؤ اور برتاؤ میں حد درجہ مُشفق بھی ہیں، مشّاق بھی۔ اور شاید اُن کی اِسی دل آویز صلاحیت کے سبب حکومتِ پاکستان نےاُنہیں حال ہی میں شروع ہونے والی ’’چھوٹے دُکان داروں کے لیے ٹیکس کی خاص اسکیم‘‘ کے خیال سے لے کر عملی جامہ پہنانے تک پیش پیش رکھا۔ پاکستان میں صُلحِ کُل کے ساتھ ایسی شان دار پالیسی کا اجراء ایک اَن ہونی روایت ہے۔
بلال اظہر میں ایک صلاحیت بدرجۂ اتم موجود ہے کہ وہ دِلوں اور ذہنوں کو ایک دوسرے سے جوڑتے اور پاکستانیت کی لڑی میں پروتےچلےجاتے ہیں۔ یہ صلاحیت محترمہ بےنظیربھٹو شہید میں بھی پائی جاتی تھی، تب ہی وہ ہیرالڈ میں موجود پاکستان کی صفِ اوّل کی ایڈیٹرخاتون، شیری رحمان کا جوہرِ اصلی، ذہانت اور قابلیت پہچان کراُنہیں پاکستان کے لیے عالمی طور پر قابلِ فخررہنما بنا گئیں۔
اِسی طرح میاں نواز شریف کی تربیت و زیرک نگاہی سے مُشاہد حُسین سیّد جیسا عمیق نگاہ اور شیریں بیاں مقرّر آج چاردانگِ عالم، پاکستان کے لیے قابلِ فخر ہے۔ اور سیاست دانوں کی نسلِ نَو میں بلال اظہر کیانی میں بھی نوجوان ٹیلنٹ پہچاننے اور اُسے درست مقام ومرتبے تک پہنچا کر پاکستان کے لیے فائدہ مند بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔
اس امر میں بلاشبہ اُن کے والد جنرل اظہر کیانی کی گہری نظر اور والدہ کی مسلسل تربیت کا بھی بہت عمل دخل ہے۔ ان کے گھر کا ماحول روایتِ ادب واحترام پر مبنی ہے۔ ہر بچّے کو بچپن ہی سے اپنا جوہرِ اصیل پہچاننے اور اُس میں چمکنے دمکنے کے لیے باقاعدہ رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ بچّوں کو عالی سطح کی اعلٰی تعلیم سے مزیّن کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی روایات سے مستقل بنیادوں پر جوڑ دیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے جنرل اظہر کیانی کسی صنفی امتیاز کے ہرگز قائل نہیں۔ بلال اظہر کی ہم شیرہ عروج اظہر کیانی نیزہ بازی میں مہارت رکھنے والی پاکستان کی پہلی خاتون گُھڑسوار ہیں، یہاں تک کہ اُن کی سربراہی میں قومی سطح کے کئی مقابلے بھی منعقد ہوچُکے ہیں، جب کہ بلال اظہر کے ذاتی برتاؤ اور رویے میں اپنی مٹی سے جُڑت، دھرتی سے نسبت اور جنم بُھومی سے محبت بہت واضح ہے۔
اُن کی شخصیت کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ وفا اُن میں کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ قول کے بےحد پکے ہیں اور کم عُمری ہی میں یہ خوبی اُن کی شخصیت میں رچ بس گئی ہے۔ نفسانفسی کے اس دَور میں بھی اصول و ضوابط کے پاس دار، نظریاتی سمت قائم رکھنے والے اور احساسِ ذمّےداری کے علم بردار ہیں۔ جو کام اُن کے سپرد ہوا، بطریقِ احسن پایۂ تکمیل تک پہنچا۔
عزم و حوصلہ یُوں ہے کہ بڑی بڑی بارگاہوں میں بھی اپنا اصلی ما فی الضمیر اور کھری بات کہنے سے نہیں گھبراتے۔ حقیقت بتاتے ہیں اور عوام کے حقوق کے حوالے سے جو حقیقت کمروں میں بیان نہیں کی جارہی ہوتی، بلال اظہر اُس کا بلاجھجھک، بے دھڑک اظہار کر دیتے ہیں۔ اسمبلی اور حلقے میں ایک جیسا وقت، توجّہ اور دھیان دیتے ہیں۔ جہلم، سوہاوہ اور دینہ کے علاقوں اور ان کے مضافات کے لوگ اس بات کے چشم دید گواہ ہیں۔ یُوں لگتا ہے،اُن کا الیکشن ختم ہی نہیں ہوا۔ مسلسل خدمتِ خلق اُسی تن دہی سے جاری ہے کہ جو الیکشن سے قبل ہوتی ہے۔‘‘
غالب نے کہا تھا کہ ؎
ذکر اُس پری وَش کا اور پھر بیاں اپنا
ہوگیا رقیب آخر جو تھا رازداں اپنا
ارشد بھائی کی زبانی بلال صاحب کا غائبانہ تعارُف سُن کر ہمارے شوقِ ملاقات کو مزید تحریک مِلی۔ اُنہی کے دفتر میں ملاقات ہوئی تو اُنہیں تعارف سے بھی بڑھ کر پایا۔ پہلی کیفیت یہ تھی کہ وہ عجزوانکسار پر یقین رکھتے ہیں۔ یُوں پُرخلوص معانقہ اورگرم جوش مصافحہ کیا کہ ہم اُن کےحلقے میں ہوتے تو لازمی اُنہیں ہی ووٹ دیتے۔ کچھ ہی ثانیوں میں انہوں نے لوازمات کے ساتھ چائے منگوا لی۔ چائے پینے کے ساتھ ساتھ گفتگو میں اُن کی زندگی کی کچھ جھلکیاں جو نظر آئیں، وہ قارئین کے پیشِ خدمت ہیں۔
موصوف خُود کہتے ہیں کہ اُن کے آباء واجداد متوسّط گھرانے سےتعلق رکھتے تھے۔ گاؤں کے ماحول میں پلے پڑھے۔ دادا کے پاس جو کچھ تھا، بیٹے کی تعلیم پرخرچ کیا۔ والد کنگ ایڈرورڈ میڈیکل کالج سے ڈاکٹر بنے، فوج میں شمولیت اختیار کی، ماہرِ امراضِ قلب بنے۔ دادا، والد کی نوجوانی ہی میں اللہ کے پاس چلے گئے، تب سے اُنہوں نے اپنے بہن بھائیوں کے لیے زندگی وقف کردی۔ والد اپنے بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔
خود بلال اظہر اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے، والد ہی کے مقامِ استقامت پر کھڑے یعنی خاندان میں نگینے کی طرح جڑے ہیں۔ والد صاحب کپتانی ہی کے دَور سے اپنی جائے پیدائش، رہتل اور علاقے سے محبّت کی ڈوری سے منسلک رہے۔ مُلتان تعیناتی کے دوران بھی مہینے میں ایک بار جہلم آیا کرتے تھے۔ تبھی بلال اظہر کو اپنے والد کی زیرِنگرانی زندگی میں ایک بہترین انسان بننے کے مواقع میسّر آئے۔ بچپن سارا ملتان میں گزرا، Saint Mary’s اکیڈمی، لالہ زارپنڈی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، اعلٰی تعلیم کے لیے لندن چلےگئے۔
بلال اظہر کے ایک تعلیمی پڑاؤ کا نام یونی ورسٹی کالج، لندن ہے۔ کچھ عرصہ جے پی مورگن جیسے عالمی شہرت یافتہ ادارے میں کام کیا، جس کو چھوڑ کے والدین سے محبّت وعقیدت کی بدولت واپس پاکستان آئے۔ دو ہزار اٹھارہ میں میدانِ سیاست میں قدم رکھا۔ بیس سال کی عُمر میں گریجویشن کرنے اور چھے برس بسلسلۂ روزگاربیرونِ مُلک گزار چُکنے کے بعد چھبیس سالہ نوجوان پاکستان آتا ہے، تو آنکھوں میں اِس مُلکِ خداداد کوعظیم سے عظیم تر بنانے کےخواب، دل میں قوتِ ایمانی اور بازوؤں میں ہمّت ساتھ لاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اُس نوجوان کا کوئی رشتے دار یا خاندان کا کوئی رُکن سیاست میں نہیں تھا۔
اُسی ملاقات کے دوران مَیں نے پوچھا کہ ’’کیا آپ کابینہ میں کم عُمرترین وزیر ہیں؟‘‘ تودل آویز انداز میں مسکرائے اور کہنے لگے کہ ’’شایدعطا تارڑصاحب اور شزا فاطمہ صاحبہ دونوں مجھ سے تھوڑے سے بڑے، جب کہ بیرسٹر عقیل میرے ہم عُمر ہیں۔‘‘ عرض کیا کہ ’’دیکھیے، کیسے اِس صفِ نوجوانانِ پاکستان نے اپنے اپنے محاذ پر افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ دُشمن کو ناکوں چنے چنوائے اور کیسے اب محاذِ معیشت وسفارت پرمسلسل کام یابیاں حاصل کررہے ہیں۔‘‘
بلال اظہر نے پاکستان واپسی پر پہلے ایک ڈیڑھ برس قومی نج کاری کمیشن میں کام کیا۔ میاں نواز شریف کی حکومت میں، نج کاری کے ضمن میں حکومت نے بلال اظہر کے بین الاقوامی تعلیم و تجربے کو بروئےکار لانے کا فیصلہ کیا۔ اُس کے بعد تقریباً ڈیڑھ برس اسحاق ڈار صاحب کے ساتھ فنانس منسٹری میں کام کیا۔ اس دَور کے بعد حلقے میں کافی محنت کی، رفاہِ عامہ اور خدمتِ خلق کا سلسلہ والد صاحب کے دور سےجاری وساری تھا۔ تب ہی سے’’عبد الرزاق ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ کے زیرِ اہتمام جہلم میں سماعت سے محروم بچّوں کے لیے بغیر کسی فیس کے اسکول چل رہا ہے۔
اسی ٹرسٹ کی ہمت و حوصلے سے ایک ایمبولینس سروس رواں دواں ہے، ایک فری اسپتال مریضوں کے لیے اللہ کی عطا کردہ شِفا کا بندوبست کرنے میں محو۔ یہاں مجھے کہنے دیجے کہ یہ مفت اسپتال، جواب صحت و شفا کے حوالے سے ایک چھتناور، گھنیرے شجرِ سایہ دار کی صُورت اختیارکرچُکا ہے، اس کا بیج تب رکھا گیا تھا، جب جنرل اظہرکیانی یہاں مریضوں کے لیے فِری کلینک کیا کرتے تھے۔ نیکی کا بیج بو دیا جائے اور اُسے مسلسل توجّہ اور لگن کا پانی دیا جائے تو وہ لازماً خلقِ خدا کے لیے برگ و بار لاتا ہے۔
کھنہ پُل کے ایک علاقے میں بھی فِری اسکول اسی ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام چل رہا ہے۔ بلال اظہر کیانی اس بات کا واضح الفاظ میں اعتراف کرتے ہیں کہ والد صاحب کے تمام عُمر اپنے علاقے سے مسلسل رابطے نے بلال کو مضبوط ترین سیاسی بُنیاد، خلقِ خدا کی تحسین و داد اور عوامی محبت کی منزلِ مُراد بخشی۔ والد کی رکھی گئی اسی بُنیاد پر نوجوان بیٹے کی سیاست اُستوار ہوئی، جو حلقے اور پارٹی دونوں میں مستعد رہی۔
ان کے پاس پارٹی کے مرکزی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل کا عہدہ بھی ہے۔ پانچ چھے برس پارٹی کی اعلٰی ترین قیادت کے ساتھ تنظیمی معاملات اور الیکشن کمپین میں کام کرکے اپنی زیرک نگاہی و معاملہ فہمی ثابت کرچُکے۔ نیز، معاشیات اور فنانس کا تعلیم وتجربہ ہونے کے باعث پارٹی کی معاشی ٹیم کا بھی بہت فعّال حصّہ ہیں۔
جب مَیں نے بچّوں کے حوالے سے سوال کیا کہ ’’کیا اُن کی سیاست میں کوئی دل چسپی ہے؟‘‘ تو بڑا خُوب صُورت جواب ملا کہ ’’بچّوں کی زندگیوں میں اپنے لیے راستے چُننے کا تمام تر اختیار اُن کا اپنا ہے اور رہے گا۔‘‘ والد جنرل اظہرکیانی کے حوالے سے پوچھا کہ کیا وہ نرم خُو والد ہیں یا سخت گیر؟ اس پر بھی بہت دل چسپ جواب ملا کہ ”بیٹے اور باپ کا رشتہ عُمر کے ہر حصّے میں ارتقاء کے مسلسل مراحل سے گزرتا ہے۔
انہوں نے خُود سختیاں جھیل کر مجھے زندگی میں تمام مواقع فراہم کیے، جو اکثر لوگوں کو نہیں ملتے۔ اُن کی اَن تھک محنت اور صبح و شام کام کی لگن میرے لیے مشعلِ راہ ہے۔ نَو سال مَیں مُلک سے باہر تھا، تب مجھےاپنےوالد کی دُوری بہت محسوس ہوئی۔ ماشااللہ اب وہ اکہتّربرس کے ہیں اور عُمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ میرا اُن سے رشتہ ایک لازوال دوستی کی صُورت بھی اختیار کرچُکا ہے۔ وہ میرے لیے مُشفق و مہربان باپ بھی ہیں، شفقت کا گھنا سایہ بھی، میرے سب سے بڑے سپورٹر بھی اور میرے لیے چراغِ راہ بھی۔
اُن کی موجودگی اوراُن کے دیے گئے حوصلے ہی کے باعث مجھے زندگی میں بہت ساری پریشانیوں کی پروا ہی نہیں۔ مَیں آج بھی اپنے والدین کے ساتھ رہتا ہوں۔‘‘ صاحبو! یقین کیجے کہ یہ جُملہ سُن کر میری آنکھیں بھیگ گئیں کہ لفظ بہ لفظ یہی جُملہ مجھے ہمارے عہد کے بہت بڑے دانش وَر اور شاعر امجد اسلام امجد مرحوم و مغفور نے سکھایا تھا کہ”رحمان فارس بیٹا! کبھی یہ نہیں کہتے کہ میرے والدین میرے ساتھ رہتے ہیں۔ ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ مَیں اپنے والدین کے ساتھ رہتا ہوں۔‘‘
ایک اور ملاقات کی دل چسپ کہانی بھی سُن لیجیے۔ پچھلے دِنوں چھوٹے تاجروں کے لیے حکومتِ پاکستان کی جانب سے ایک شان دار اسکیم کا افتتاح کیا گیا۔ بلاشبہ یہ اسکیم اُن کے تمام جائز مُطالبات تسلیم کر کے انھیںمحصولات کے مُلکی دھارے میں شامل کرنے کا ایک باعزت اور فائدہ مند راستہ ہے، جس کا تمام سہرا یقیناً وزیرِاعظم پاکستان میاں شہباز شریف، محمّد اورنگ زیب (فنانس منسٹر)، بلال اظہرکیانی(منسٹر آف اسٹیٹ فار ریوینیو) اور راشد محمود لنگڑیال (چیئرمین ایف بی آر) کوجاتا ہے۔
اسی تقریبِ افتتاح میں ہماری دوسری ملاقات ہوئی اور مزید خوش گوار تجربہ یہ رہا کہ بلال اظہر نے بقیہ تمام سینئرز کی موجودگی میں نہایت اعتماد و یقین اور غیر متزلزل عزم سے گفتگو کی۔ ایک بڑے ٹیلی ویژن کے معروف اینکر جو میرے ساتھ بیٹھے تھے، کہنے لگے کہ مجھے اس اعتماد ہی سے لگ رہا ہے کہ یہ اسکیم ان شااللہ بھرپور کام یاب ہوگی۔ اقبال یاد آتے ہیں، جو قوموں کی زندگیوں میں نوجوان قیادت کے خدوخال طے کرگئے۔ ؎
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارہ
شباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری
کونپل پھوٹتی ہے تو اُس کی اُٹھان سے آئندہ اُڑان کا نام و نشان ظاہر ہوتا ہے۔ آج کے دن کا اُجالا گواہ ہے کہ کل اور پرسوں اور آئندہ تمام دِنوں میں بلال اظہر کیانی کو ابھی آگے، بہت آگے جانا ہے۔ محنت اُن کا چراغ، محبّت اُن کی تدبیر، دیانت اُن کا زادِ راہ اور مُلکِ پاکستان کی عظمت اُن کی منزل ہے۔
صاحبو! آپ یقین کیجے کہ یہ عناصر اکٹھے ہو جائیں تو کام یابی خود بڑھ کے انسان کے قدم چُومتی ہے۔ ہمیں یقینِ کامل ہے کہ لوحِ سیاست پر جب جب نوجوان قیادت کا ذکرِخیر ہوگا، بلال اظہر کیانی کا نام چند سرِفہرست ناموں میں سے ایک ہوگا۔
(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں)