• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ماڈل: مون
ماڈل: مون

تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ

ماڈل: مون

ملبوسات: جی فاطمہ

آرائش : دیوا بیوٹی سیلون

عکّاسی: عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

مسحور کُن سوچوں، خوش رنگ خیالات کو زباں دیتے انور کیفی کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎ ’’خیال میں بھی کبھی جب وہ خوش لباس آئے… مہکتے پھولوں کی خوشبو بھی آس پاس آئے… وفا محبتوں، ایثار کی کتابوں میں… ہمارے پیار کے قصّوں میں اقتباس آئے۔‘‘ مطلب، تخیّل کے رنگین کینوس پر کسی خوش پوشاک، خوش لباس، خوش اندام مہ جبیں کی آمد کا تصوّر ہی زیب و زینت، حُسن و قرینے اور شادابی و شگفتگی کا مظہر ہے۔ تو اسی طرح کارزارِحیات کا کوئی میدان ہو، درس گاہ کا سنجیدہ ماحول یا اپنوں کی کوئی محفل، ذوقِ جمال اورسلیقے کا دامن تھام کر عمدہ وضع قطع اور نفاست سے سنورنے کا ہنر، شخصیت میں ایک مسحورکُن وقار در لاتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ کسی باوقار، خوش لباس انسان کے کسی محفل میں قدم رکھتے ہی بزم کا رُوپ رنگ، توازن ہی بدل جاتا ہے۔ خوش لباسی کا یہ اثر دل نشین ارتعاش کی مانند اردگرد، مکان و زماں پر اَن مٹ نقوش چھوڑتا ہے۔ پھر زندگی کی جہدِ مسلسل میں اگر تن شکستہ، مَن خستہ حالی کا شکار، خواب خراب، خواہشیں خاموش اور دل کی دنیامیں دھند چھائی رہی ہو تو یہی ظاہری سج دھج، تراش خراش کی نفاست اور سلیقے سے کی گئی سلیکشن اندرونی کھوکھلے پن کے سامنے ایک ڈھال بن جاتی ہے کہ ایک شان دار کوٹ، نفیس شال یا خوش رنگ پیراہن اندر کے ویرانے کو اس خوبی سے چُھپاتا ہے کہ ہنستے مُسکراتے، پُروقار و پُراعتماد سراپے کی اوٹ لیے ذات کےڈرتے لرزتے سائے ناقابل رسائی ہوجاتے ہیں۔

بقول بیدل حیدری ؎ ’’دریا نے کل جو چُپ کا لبادہ پہن لیا … پیاسوں نے اپنے جسم پہ صحرا پہن لیا… وہ ٹاٹ کی قبا تھی کہ کاغذ کا پیرہن… جیسا بھی مل گیا ہمیں، ویسا پہن لیا… فاقوں سے تنگ آئے تو پوشاک بیچ دی …عریاں ہوئے تو شب کا اندھیرا پہن لیا … گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے… سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا… بھونچال میں کفن کی ضرورت نہیں پڑی… ہر لاش نے مکان کا ملبہ پہن لیا… بیدلؔ لباسِ زیست بڑا دیدہ زیب تھا … اور ہم نے اس لباس کو الٹا پہن لیا‘‘۔

قصّہ مختصر، خوش لباسی اور حُسنِ انتخاب کا کمال یہ ہے کہ یہ انسان کو بکھرنے نہیں دیتا۔ آنچل کے کِھلتے رنگ اور وضع قطع کا وقار اداسی کے بادلوں کو خواہ وقتی طور پر ہی سہی، مگر ایک خُوب صُورت نقاب کی اوٹ دے دیتا ہے۔ بقول عمیر نجمی ؎ ’’عجیب قسم کی نعمت ہے، خوش لباسی بھی… یہ خامیاں بھی چُھپاتی ہے اور اداسی بھی۔‘‘

چلیں بھئی، اب آج کی کلیکشن سے مستفید ہولیں، جو متنوّع اسٹائلز کی نمائندگی کررہی ہے تاکہ اِن رنگ وانداز سے سج سنور کر آپ بھی اطراف کی سب تلخیاں، شکایتیں، مسائل نظرانداز کرکےصرف ایک ہی ورد کرتے جائیں ؎ ’’دھنک کے رنگ خوشبوؤں کے پیرہن… بنا رہا ہوں خاک سے نئے بدن… تمہارا دھیان کوئی مشک باربَن… یہ من کلانچے مارتا ہوا ہرن۔‘‘ ذرا یہ شاہانہ کالا انارکلی فراک دیکھیے، کیسے قیامت ڈھا رہا ہے۔

لمبائی اور گھیر پر سنہری گوٹے پٹیوں کا کام اِس کےحُسن و خُوب صُورتی کو چارچاند لگا رہا ہے، تو گلے اور بازوؤں پر طلائی رنگ نگوں کی حسین لیس، لباس کی شان کچھ اور بھی بڑھا رہی ہے۔ اور رائل بلیو اور آتشی گلابی کے کامبی نیشن نے توجیسے دل ہی جیت لیا، شیفون کی شارٹ شرٹ کے گلے پر لیس کی آراستگی کے ساتھ پورے فرنٹ پر نفیس موتی ورک اورفرشی شلوار کے پائنچوں پر باریک دھنک کی ڈیزائننگ نے لباس کو صرف روایتی لُک ہی نہیں دیا، دورِ حاضر کا حسین فیشن بھی بنا دیا ہے۔

جامنی رنگ پہناوے کی سادگی اور کلاسک لُک بھی کمال دلآویز ہے۔ سہیلیوں کی کوئی ڈنر پارٹی ہو یا کوئی روایتی تقریب، یہ ہرمحفل میں جچنے والا لباس ہے۔ اِسی طرح گہرے نیلے رنگ پر سلور دھاگےکی بھاری کڑھت، موتی، سیکوئنس کا کام بھی کیاہی غضب ڈھا رہا ہے۔ یہ لباس تو باقاعدہ شادی، ولیمے کی تقریب یا کسی بڑے فیملی فنکشن کے لیے نہایت موزوں ہے۔ اور لائٹ ٹرکوائز رنگ پہناوا تو دیکھنے ہی میں اتنا کُول ہے، پہن کر تو گرمی کی سخت دوپہر، آپ ہی آپ سُرمئی شام میں ڈھلتی محسوس ہوگی، خصوصاً ملائم کپڑے پر باریک کڑھت کے ساتھ دوپٹے کے کناروں پر لٹکتے ٹسلزنے تو جیسے جی ہی موہ لیا ہے۔