تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ
بچّے: مرحاعبدالواسع، رحماعبدالاحد، ادیان وڑائچ اور زاویار وڑائچ
عکاسی: عرفان نجمی
لے آؤٹ: نوید رشید
یاسیت بھگانے کے لیے ایک معصومانہ مشورہ یوں دیا گیا۔ ’’اگر دل بلاوجہ اداس ہو تو کسی بچّے کو آئس کریم کھاتا دیکھ لیں۔‘‘ اور اتنی چھوٹی سی بات میں کتنی بڑی بات کہہ دی گئی کہ جب دل بلاوجہ اداس ہو تو بڑی بڑی خوشیوں، طویل تسلیوں کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی، جتنی کسی چھوٹے سے، سُچّے لمحے کی ہوتی ہے، جو دماغ کو بےنام الجھنوں سے نکال کر ایک لمحے کے لیے حال میں واپس لے آئے۔
اس کیفیت میں بچّوں کی بے پروا ہنسی، ان جانی بولیاں اور معصوم شرارتیں ایک قدرتی Antidote (تریاق) کا کام کرتی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق اگر انسان کو اپنی زندگی کاریموٹ کنٹرول دے کرری وائنڈ کرنے کو کہا جائے، تو نوے فی صد لوگ اپنے بچپن میں واپس جانا چاہیں گے، جب زندگی پریشانیوں، ذمّے داریوں کے بوجھ سے یک سر آزاد تھی، والدین کی محبت بَھری چھایا میں سکون کی نیند سویا کرتے تھے۔
یہی دیکھیے، ناسٹیلجیا کی سوفی صد درست عکّاسی کرتی جاوید اخترکی یہ صدا کیسے دل چُھوتی ہے ؎ ’’مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں، جو بھی امی کہتی تھیں…جب میرے بچپن کے دن تھے، چاند میں پریاں رہتی تھیں…ایک یہ دن، جب اپنوں نے بھی ہم سے ناتا توڑ لیا…ایک وہ دن ،جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں…ایک یہ دن، جب ساری سڑکیں روٹھی روٹھی لگتی ہیں…ایک وہ دن، جب آؤ کھیلیں، ساری گلیاں کہتی تھیں…ایک یہ دن، جب جاگی راتیں دیواروں کو تکتی ہیں…ایک وہ دن، جب شاموں کی بھی پلکیں بوجھل رہتی تھیں…ایک یہ دن، جب لاکھوں غم اور کال پڑا ہے آنسو کا…ایک وہ دن، جب ایک ذرا سی بات پہ ندیاں بہتی تھیں…ایک یہ گھر، جس گھر میں میرا ساز و ساماں رہتا ہے…ایک وہ گھر، جس گھر میں میری بوڑھی نانی رہتی تھیں۔‘‘
ویسے بچّوں کی اس ننّھی مُنی سی دنیا کو ماہرینِ نفسیات وسماجیات نے باقاعدہ مضمون کی طرح پڑھا، تحقیقات کی ہیں۔ پیاجے کا ماننا تھا کہ ’’بچّے چھوٹے سائنس دان ہوتے ہیں، جو دنیا کو خود دریافت کرتے ہیں۔‘‘ ایلبرٹ بندورا نے ثابت کیا کہ ’’بچّے اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ آپ انہیں کیا کہتے ہیں، وہ وہی کرتے ہیں، جو وہ آپ کو کرتے دیکھتے ہیں۔‘‘ ماریا مونٹیسوری کے مطابق ’’بچّوں کے اندر سیکھنے کی ایک طبعی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
استاد یا والدین کا کام صرف ایسا سازگارماحول فراہم کرنا ہے، جہاں بچہ خود اپنی رفتار سے سیکھ سکے۔‘‘ اور بقول فاروق انجینئر ؎ ’’گل و گلزار، گہر، چاند ستارے بچّے…رنگ و بُو، نُور کے پیکر ہیں یہ سارے بچّے…آئنے ہیں کہ دمکتے ہوئے چہرے ان کے… ایسے شفّاف کہ دریاؤں کے دھارے بچّے…کتنے معصوم کہ یہ سانپ پکڑنا چاہیں…کتنے بھولے ہیں کہ چُھوتے ہیں شرارے بچّے…آنے والوں کو بتا دیتے ہیں گھر کی باتیں…کب سمجھتے ہیں یہ آنکھوں کے اشارے بچّے…گاؤں جاتا ہوں تو چوپال کا اِک بوڑھا درخت…باہیں پھیلا کے یہ کہتا کہ آ رے بچّے۔‘‘
ایک طرف تو یہ ننّھی مخلوق، دنیا کی معصوم ترین کری ایچر لگتی ہے، دوسری طرف، کوئی درویش ہستیاں، جو زندگی کے گہرے سبق سکھانے کی غرض سے بچپن کا لبادہ لپیٹ ہمارے بیچ موجود ہیں۔ جیسے کسی نے کہا۔’’مجھے بچّوں کی تین عادات بہت پسند ہیں۔ وہ مٹّی سے کھیل کے، تکبّر خاک کرنے کا سبق دیتے ہیں۔ جھگڑا کرنے کے بعد جلد بھول جاتے ہیں کہ زندگی سے زیادہ دیر ناراض نہیں رہا جا سکتا۔
روتے ہیں اور روکر اپنی بات منوا لیتے ہیں، گویا دُعا کا فلسفہ سکھاتے ہیں۔‘‘ چوں کہ آج کی برق رفتار، ڈیجیٹل دنیا میں بےفکری، اَن مول آزادی نہ صرف کتابوں کے بوجھ، امتحانات، اچیومنٹس کی دوڑتلے روندی جا رہی ہے بلکہ متعدد معاشرتی وسماجی خوف وخطرات میں بھی گِھری ہوئی ہے، تو اِسی خیال سے آج ہم نے اِن رنگارنگ کلیوں، شگوفوں، گل بوٹوں، پھولوں کے لیے یہ حسین و رنگین، قوسِ قزح سی اِک بزم سجا ڈالی ہے۔ بشیر بدر نے کہا تھا؎ ’’اُڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں…پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے۔‘‘ تو بس، ہماری اس محفل سے جتنے چاہے رنگ وانداز چُرائیں اور خُوب ہنستے گاتے، کودتے پھاندتے، اُڑتے اڑاتے پھریں۔