• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ابراہام اکارڈز‘‘ کے بعد ’’مکہ معاہدہ‘‘: مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندیاں

رابعہ فاطمہ، کراچی

اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچُکی ہے، جہاں پُرانے اتحاد، سلامتی کی نئی ضروریات اور عالمی طاقت کے بدلتے مراکز ایک دوسرے سے تیزی سے منسلک ہو رہے ہیں اور 2020ء کے ’’ابراہام اکارڈز‘‘ (ابراہیمی معاہدوں) نے اس تبدیلی کو ایک نمایاں سفارتی شکل دی۔

متّحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے کے بعد اسرائیل اوربعض عرب ریاستوں کے درمیان ایسے سفارتی، معاشی اور سلامتی پر مبنی روابط قائم ہوئے، جنہیں ماضی میں خاصا مشکل سمجھا جاتا تھا۔ بعدازاں، مراکش اور سوڈان بھی اس وسیع سفارتی عمل سے منسلک ہوئے۔

یاد رہے، ’’ابراہیمی معاہدوں‘‘ کی سرکاری دستاویزات میں امن، معاشی تعاون، مذہبی رواداری اور علاقائی خوش حالی کو بنیادی مقاصد کے طور پر پیش کیا گیا تھا لیکن آج مشرقِ وسطیٰ کی صُورتِ حال 2020ء کی نسبت خاصی تبدیل ہوچُکی ہے۔

خطّے میں ایران، اسرائیل، سعودی عرب، تُرکیے، قطر اور دیگر ریاستوں کے مفادات ایک پیچیدہ تزویراتی ماحول تشکیل دے رہے ہیں۔ غزہ کا بُحران، ایران کی سلامتی سے متعلق خدشات، یمن اور بحیرۂ احمر کی صُورتِ حال، خلیجی ریاستوں کے تحفّظ کے مسائل اور امریکا کے علاقائی کردار سے متعلق بدلتے ہوئے نقطۂ نظر نے عرب اور اسلامی ممالک کو اپنی دفاعی ترجیحات پر نظرِثانی پرمجبور کر دیا ہے۔

اسی دوران 7اگست 2026ء کو سعودی عرب، پاکستان اور تُرکیے نے مکّہ مکرّمہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دست خط کیے، جس کی رُو سے معاہدے میں شامل کسی ایک فریق پر مسلّح حملہ تمام فریقین کے خلاف جارحیت تصوّر کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ’’مکّہ معاہدے‘‘ کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ اس میں تین اہم اسلامی ممالک شامل ہیں بلکہ یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ اور اس کے گرد ونواح میں سلامتی کے ایک ایسے تصوّر کی تشکیل دکھائی دے رہی ہے، جو کسی ایک بیرونی طاقت پر منحصر نہیں۔

معاہدے میں شامل سعودی عرب کےپاس مالی استعداد،توانائی کی طاقت ہے۔ تُرکیے ایک بڑی فوج، نیٹو کے تجربے اور دفاعی صنعت کا حامل مُلک ہے، جب کہ پاکستان جوہری طاقت اور جنگوں کا ایک طویل تجربہ رکھتا ہے۔ ہرچند کہ مذکورہ تینوں ممالک کے مفادات مکمل طور پر یک ساں نہیں لیکن ان کےدرمیان دفاعی تعاون کی ایک طویل تاریخ موجود ہے اور مکّہ معاہدے نے اس تعاون کو ایک زیادہ واضح اور رسمی تزویراتی فریم ورک فراہم کیا ہے۔

’’ابراہیمی معاہدوں‘‘ اور ’’مکّہ معاہدے‘‘ کے درمیان مطابقت و مماثلت کسی طور دُرست نہیں، کیوں کہ اوّل الذکر بنیادی طور پر اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات معمول پر لانے اور معاشی وسیاسی تعاون کا منصوبہ تھا، جب کہ موخر الذّکربنیادی طور پر اجتماعی دفاع اور سلامتی سے متعلق ہے۔

تاہم، دونوں کوایک بڑے تاریخی عمل کے دو مختلف مراحل کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے اور یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی ریاستیں اب پُرانے نظریاتی نعروں کی بجائے اپنے مخصوص قومی مفادات، سلامتی، تجارت، ٹیکنالوجی، توانائی اور علاقائی طاقت کے توازن کو زیادہ اہمیت دے رہی ہیں۔

’’ابراہیمی معاہدے‘‘ اور مشرقِ وسطیٰ کی پہلی بڑی تزویراتی تبدیلی

2020ء کے ’’ابراہیمی معاہدوں‘‘ کو مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ 13اگست 2020ء کو اسرائیل اور متّحدہ عرب امارات کے مابین سفارتی تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا گیا، جب کہ 15ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں اس معاہدے پر دست خط ہوئے۔

اِسی عمل کے تحت بحرین نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے اور ان معاہدوں میں سفارتی تعلقات، معاشی تعاون، براہِ راست روابط اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا، جب کہ امریکی اور اماراتی سرکاری دستاویزات میں اسے خطّے میں امن و استحکام، اقتصادی ترقّی اور باہمی تعاون کے نئے مرحلے کےطور پر پیش کیا گیا۔

’’ابراہام اکارڈز‘‘ کا سب سے بڑا تزویراتی اثر یہ ہوا کہ اب اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کے درمیان تعلقات پوشیدہ یا غیررسمی نہیں رہے۔ گرچہ اس غیرمعمولی تبدیلی کے بعد بھی عرب ریاستوں نے مسئلہ فلسطین کو اپنی خارجہ پالیسی میں برقرار رکھا لیکن ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کیا کہ کئی عرب حکومتیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مسئلہ فلسطین کے حتمی حل سے ہٹ کر اپنے قومی مفادات کے تناظر میں بھی دیکھنے لگی ہیں۔

دوسری جانب اس تبدیلی کا ایک اہم محرّک ایران کے ساتھ جاری علاقائی مسابقت بھی تھی۔ خلیجی ریاستوں خصوصاً سعودی عرب اور متّحدہ عرب امارات کو ایران کے میزائل پروگرام، علاقائی نیٹ ورکس اور یمن، عراق، شام اور لبنان میں اس کے اثرورسوخ سے متعلق خدشات رہے ہیں اور اسرائیل بھی ایران کو اپنی سلامتی کے لیے بنیادی خطرہ سمجھتا رہا ہے۔

نتیجتاً، بعض عرب ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ سلامتی کی سوچ نے جنم لیا۔ گرچہ اس ضمن میں ہر ریاست نے اپنی پالیسی جُدا رکھی لیکن خطّے میں ایک ایسا تزویراتی ماحول پیدا ہوا، جس میں ایران کے مقابلے، میزائل دفاعی سسٹم، انٹیلی جینس اور ٹیکنالوجی کے تعاون کو اہمیت حاصل ہوئی۔

تاہم، ’’ابراہام اکارڈز‘‘ کو مشرقِ وسطیٰ میں مکمل طور پر قیامِ امن کا منصوبہ سمجھنا بھی دُرست نہیں، کیوں کہ اس کے نتیجے میں مسئلہ فلسطین مکمل طور پر حل نہیں ہوا، غزہ میں جاری انسانی بُحران نے عرب عوام اور ریاستوں کے درمیان اسرائیل کے ضمن میں شدید اختلافات پیدا کیے اور خطّے میں طاقت کا مقابلہ جاری رہا۔

یوں ’’ابراہام اکارڈز‘‘ نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو ایک نئی شکل دی۔ ایک طرف اسرائیل اور بعض عرب ریاستوں کے تعلقات مضبوط ہوئے، جب کہ دوسری طرف ایران، تُرکیے، قطر اور دیگر طاقتوں نے اپنی اپنی حکمتِ عملی کو نئے حالات کے مطابق ڈھالا۔ یہ پس منظر 2026ء کے ’’مکّہ معاہدے‘‘ کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

مکّہ معاہدہ 2026ء :ایک نئی دفاعی حقیقت

7 اگست 2026ء کو سعودی عرب، پاکستان اور تُرکیے نے مکّہ مکرّمہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دست خط کیے۔ اس معاہدے کی بنیادی شِق یہ ہے کہ کسی ایک فریق پر مسلّح حملہ تینوں فریقین کے خلاف جارحیت تصوّر ہوگا۔ اس معاہدے کے اگلے روز 8 اگست کو تُرکیے کے وزیرِخارجہ، ہاکان فیدان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گرچہ معاہدے کی یہ شِق عملی طور پر اجتماعی دفاع کےاصول سے مشابہ ہے، تاہم یہ معاہدہ کسی مخصوص مُلک کے خلاف نہیں۔

انہوں نے اسے علاقائی سلامتی اور باہمی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کا ذریعہ قرار دیا مگر اس کے باوجود اس سہہ فریقی اتحاد کو فی الوقت ’’اسلامی نیٹو‘‘ قرار دینا قبل ازوقت ہوگا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق معاہدے میں اجتماعی دفاع کا بنیادی اصول شامل ہے لیکن اس کی عملی فوجی شِقیں، مشترکہ کمان، مستقل افواج، دفاعی بجٹ اور جنگ کی صُورت میں لازمی فوجی کارروائی کی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔

معروف خبررساں ادارے، رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ’’مکّہ معاہدہ ‘‘ایک اہم علامتی،تزویراتی قدم ہے لیکن اس میں مخصوص فوجی ذمّےداریوں کی تفصیل محدود ہے۔ اس لیے اس مرحلے پر اسے مکمل فوجی اتحاد کی بجائے ’’اُبھرتا ہوا علاقائی دفاعی فریم ورک‘‘ قرار دینا زیادہ مناسب ہوگا۔ دوسری جانب ’’مکّہ معاہدے‘‘ کے ضمن میں ایک مستقل سیکریٹریٹ اور وزارتی سطح پر رابطے کا نظام قائم کرنےکی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہےکہ تینوں ممالک کی حکومتیں صرف اعلان تک محدود نہیں رہنا چاہتیں بلکہ باہمی تعاون کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچا قائم کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہیں۔ علاوہ ازیں، تُرکیے کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ مستقبل میں مزید ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہوسکتے ہیں اور تاحال نئے متوقّع فریق کے طور پر مصر کا نام سامنے آیا ہے۔ اگر یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہے، تو ’’مکّہ معاہدہ‘‘ تین ممالک کے باہمی دفاعی انتظام سے نکل کروسیع ترعلاقائی سلامتی کے ڈھانچے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب کی بدلتی ہوئی تزویراتی ترجیحات

’’مکّہ معاہدے‘‘ کوسمجھنے کےلیے سعودی عرب کی گزشتہ چند برسوں کے دوران خارجہ پالیسی میں تبدیل ہونے والی ترجیحات کا مطالعہ ضروری ہے۔ گرچہ ریاض طویل عرصے تک اپنی سلامتی کے لیے امریکا پرخاصا انحصار کرتا رہا ہے لیکن گزشتہ چند برسوں میں سعودی قیادت نےاپنی خارجہ پالیسی زیادہ متوازن بنانے کی کوشش کی ہے اور چین کے ساتھ معاشی وسفارتی تعلقات میں اضافہ، ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوشش، رُوس سے توانائی تعاون اور تُرکیے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی اسی وسیع حکمتِ عملی کا حصّہ ہیں۔

یاد رہے، 2023ء میں چین کی ثالثی ہی سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوئے تھے، جس سے یہ تاثر ملا کہ ریاض صرف تصادم پر مبنی علاقائی سیاست کی بجائے بیک وقت کئی طاقتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی پالیسی اختیار کررہا ہے جب کہ موجودہ علاقائی بُحران نے اس حکمتِ عملی میں سلامتی کا عُنصرمزید نمایاں کردیا ہے۔

سعودی عرب کو ایک طرف ایران سے علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے خدشات لاحق ہیں، تو دوسری طرف یمن اور بحیرۂ احمر کی صورتِ حال نے اس کی سرحدی اور معاشی سلامتی بھی متاثر کی ہے۔ تیل کی تنصیبات، بندرگاہیں، فضائی راستے اور اہم تجارتی مراکز جدید جنگ میں حساس اہداف بن چُکے ہیں۔ سو، سعودی عرب کے لیے صرف کسی بیرونی طاقت کی حفاظتی ضمانت کافی نہیں بلکہ اُسے اپنی اور اپنےشراکت داروں کی دفاعی صلاحیت میں بھی اضافہ کرنا ہوگا اور’’مکّہ معاہدہ‘‘ اسی ضرورت کا ایک ممکنہ جواب ہے۔

مذکورہ تزویراتی تبدیلی کو سعودی عرب کی وسیع تر ’’Hedging Policy‘‘ کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یعنی ریاض کسی ایک ہی عالمی طاقت پر مکمل انحصار کرنے کی بجائے امریکا، چین، تُرکیے، پاکستان، رُوس اور دیگر ریاستوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات برقرار رکھ کر اپنے اختیارات بڑھانا چاہتا ہے اور ’’مکّہ معاہدہ‘‘ اسی حکمتِ عملی کا دفاعی پہلو بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس کا مطلب ہرگز امریکا سے دُوری اختیارکرنا نہیں ہے۔

یہاں ’’ابراہیمی معاہدوں‘‘ اور ’’مکّہ معاہدے‘‘ کے درمیان ایک اہم فرق سامنے آتا ہے۔ اوّل الذّکر کا بنیادی عُنصر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا اور امریکی تعاون سے علاقائی، معاشی و سفارتی انضمام تھا، جب کہ موخر الذّکر میں اسلامی ممالک کی اپنی دفاعی صلاحیت اور باہمی سلامتی نمایاں ہے۔

اس فرق سے پتاچلتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اب صرف ’’اسرائیل بمقابلہ عرب‘‘ کے پرانے فریم میں نہیں سما سکتی بلکہ اب علاقائی ریاستیں بیک وقت ایران، اسرائیل، امریکا، چین، رُوس اور ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو اپنے قومی مفادات کے مطابق ترتیب دے رہی ہیں۔

پاکستان کا کردار :جنوبی ایشیا سے خلیج تک

’’مکّہ معاہدے‘‘ میں پاکستان کی شمولیت اس تزویراتی صف بندی کو مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی حدود سے باہر لے جاتی ہے۔ ہر چند کہ پاکستان عرب دُنیا کا حصّہ نہیں لیکن سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات تاریخی، مذہبی، معاشی اور دفاعی بنیادوں پرقائم ہیں۔ دونوں ممالک کےدرمیان کئی دہائیوں سے فوجی تعاون موجود ہے۔ پاکستانی فوج نے مختلف ادوار میں سعودی عرب میں تربیّتی اور دفاعی ذمّےداریوں میں کردار ادا کیا ہے۔

اس پس منظر میں ’’مکّہ معاہدہ‘‘ کو پہلے سےموجود دفاعی تعاون کو ایک زیادہ رسمی اور وسیع شکل دینے کی کوشش بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس معاہدے کا ایک فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں اسے خلیج کی سلامتی کے معاملات میں زیادہ نمایاں کردار مل جائے۔ واضح رہے، سعودی عرب، پاکستان کا اہم اقتصادی شراکت دار بھی ہے اور پاکستانی معیشت کے لیے خلیجی ممالک میں روزگار، ترسیلاتِ زر اور سرمایہ کاری کی اہمیت خاصی زیادہ ہے۔

چناں چہ خلیج میں سلامتی کا بُحران پاکستان کے اقتصادی مفادات بھی متاثر کر سکتا ہے اور ’’مکّہ معاہدے‘‘ کے ذریعے پاکستان اپنے ان مفادات کے تحفّظ کے لیے ایک زیادہ منظّم علاقائی کردار حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم، دوسری جانب پاکستان کے لیے اس معاہدے میں خطرات بھی موجود ہیں۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ جغرافیائی روابط ہیں اوروہ نہیں چاہے گا کہ کوئی دفاعی اتحاد اسے ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف لے جائے۔

اس لیےمعاہدے کے فریقین کا یہ واضح کرنا اہم ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص مُلک کے خلاف نہیں۔ اس ضمن میں پاکستان کو ایک اور پیچیدہ مسئلہ یہ درپیش ہوگا کہ سعودی عرب اور تُرکیے کے ساتھ قریبی دفاعی تعلقات کو امریکا، چین، ایران اور بھارت کے ساتھ اپنے موجودہ تعلقات کے ساتھ کس طرح متوازن رکھا جائے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کے لیے ’’مکّہ معاہدہ‘‘ صرف دفاعی معاملہ نہیں بلکہ اس کی خارجہ پالیسی کا امتحان بھی ہے۔ اگر پاکستان اسےاسلامی ممالک کے باہمی دفاعی تعاون کے محدود دائرے میں رکھتا ہے، تو اس کے فوائد زیادہ ہوسکتے ہیں لیکن اگر اسے کسی بڑے علاقائی محاذکا حصّہ سمجھا جانے لگے، تو پاکستان کے لیے سفارتی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

نئی اسلامی تزویراتی شراکت داری اور تُرکیے کا کردار

’’مکّہ معاہدے‘‘ میں تُرکیے کی شمولیت اس پورے دفاعی انتظام کی تزویراتی اہمیت دوچند کردیتی ہے۔ تُرکیے صرف ایک بڑی مسلم اکثریتی ریاست ہی نہیں بلکہ نیٹو کا رُکن، یورپ اور ایشیا کے درمیان جغرافیائی پُل، ایک بڑی روایتی فوج رکھنے والا مُلک اور گزشتہ دو دہائیوں میں تیزی سے ترقّی کرنے والی دفاعی صنعت کا حامل مُلک بھی ہے۔

ڈرونز، میزائلز، بحری نظام اور دیگر فوجی ٹیکنالوجی میں تُرکیے کی پیش رفت نے اسے خطّے میں ایک اہم دفاعی شراکت دار بنا دیا ہے۔ سعودی عرب کے مالی وسائل، پاکستان کی عسکری صلاحیت اور تُرکیے کی دفاعی صنعت کو ایک ہی فریم ورک میں لانے سے تینوں ممالک کے درمیان تعاون کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ اس طرح ’’مکّہ معاہدہ‘‘ صرف فوجی تعاون کا معاہدہ نہیں بلکہ مختلف ریاستی صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کی کوشش بھی ہے۔

تُرکیے گزشتہ چند برسوں کےدوران علاقائی سیاست میں خاصا دخیل رہا ہے۔ انقرہ نے شام، عراق، لیبیا، مشرقی بحیرۂ روم، قفقاز اور بحیرۂ احمر کے معاملات میں اپنی سفارتی و دفاعی موجودگی بڑھائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تُرکیے نے سعودی عرب اور متّحدہ عرب امارات کے ساتھ سابقہ اختلافات کم کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔

اس پس منظر میں سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ دفاعی شراکت داری تُرکیے کی اس وسیع تر پالیسی کا حصّہ بن سکتی ہے کہ جس کے ذریعےانقرہ اپنی علاقائی خود مختاری اور تزویراتی اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے، نیز تُرکیے کے لیے یہ معاہدہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اسے عرب دُنیا اور جنوبی ایشیا کی دو اہم ریاستوں کے ساتھ ایک ہی دفاعی ڈھانچے میں کام کرنے کا تجربہ حاصل ہوگا۔

تاہم، تُرکیے کے مفادات کو صرف ایران مخالف زاویے سے دیکھنا مناسب نہیں۔ تُرکیے، ایران کے ساتھ مقابلہ بھی کرتا ہے اور تعاون بھی۔ شام، عراق، توانائی، تجارت اور علاقائی اثر و رسوخ کے معاملات میں دونوں کے مفادات بعض اوقات متصادم ہوتے ہیں لیکن دونوں ممالک براہِ راست جنگ سے بچنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ تُرک وزیرِ خارجہ، ہاکان فیدان نےمعاہدے کوباہمی سلامتی اور دفاعی صلاحیت بڑھانے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کسی مخصوص مُلک کے خلاف نہیں۔ اس بیان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انقرہ دفاعی اتحاد کو خطّے میں طاقت کے توازن کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے لیکن اسے فوری طور پر ایران کے خلاف کُھلے محاذ میں تبدیل کرنے سے گریزاں ہے۔

تُرکیے کے لیے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون بھی اہم ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلےسے سیاسی و عسکری روابط موجود ہیں، جب کہ دفاعی پیداوار، بحری تعاون اور فضائی ٹیکنالوجی میں شراکت داری میں بھی اضافہ ہوا ہےاور’’مکّہ معاہدہ‘‘ ان دو طرفہ تعلقات کوسعودی عرب کے ساتھ سہہ فریقی سطح پر لے جا سکتا ہے۔

اگر اس تعاون کے تحت مشترکہ مشقیں، تربیّتی پروگرامز، انٹیلی جینس تعاون، ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی دفاع اور بحری سلامتی کے منصوبے تشکیل پاتے ہیں، تو اثرات خلیج سے لے کر بحیرۂ عرب تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یوں تُرکیے کی دفاعی صنعت اور پاکستان کی عسکری تربیت و تجربہ سعودی عرب کی مالی استعداد کے ساتھ مل کر روایتی فوجی اتحاد سے زیادہ وسیع پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

ایران اور مکّہ معاہدہ: تصادم یا توازن؟

’’مکّہ معاہدے‘‘ کے ممکنہ اثرات کا سب سے اہم پہلو ایران سے متعلق ہے۔ گرچہ معاہدے میں کسی مشترکہ دشمن کا نام نہیں لیا گیا لیکن علاقائی طاقت کےتوازن کے اعتبار سے ایران اس معاہدے کو نظرانداز نہیں کرسکتا، کیوں کہ اس کے تینوں فریقین ہی خطّے میں خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب، ایران کا روایتی علاقائی حریف رہا ہے۔

تُرکیےکی ایران کےساتھ علاقائی مسابقت ہے، جب کہ پاکستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحد اور برادرانہ تعلقات ہیں۔ اس لیے ایران کے نقطۂ نظر سے یہ معاہدہ ایک ایسا دفاعی بندوبست ہے،جو مستقبل میں خلیج کی سلامتی کے توازن کو تبدیل کرسکتا ہے۔ اس موقعے پر 2023ء میں سعودی عرب اور ایران کے مابین چین کی ثالثی سے ہونے والی سفارتی مفاہمت بھی اہمیت اختیار کرجاتی ہے۔

اس مفاہمت نے دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں سے جاری کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی تھی۔ اگر ’’مکّہ معاہدہ‘‘ ایران کے خلاف ایک علانیہ دفاعی بلاک کے طور پر سامنے آتا ہے، تو سعودی عرب اور ایران میں مفاہمت پر دباؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے لیکن اگر ریاض اسے خالصتاً دفاعی اور علاقائی استحکام تک محدود رکھتا ہے، تو وہ ایک طرف ایران کے ساتھ سفارتی رابطہ برقرار رکھ سکتا ہے، دوسری طرف اپنی دفاعی صلاحیت بھی بڑھا سکتا ہے اور یہی دُہری پالیسی سعودی خارجہ حکمتِ عملی کی ایک اہم خصوصیت بنتی جا رہی ہے۔

ایران کے لیے ایک اور مسئلہ یہ ہےکہ خلیجی ریاستوں کی دفاعی ترجیحات تیزی سے میزائلز، ڈرونز اور فضائی دفاع کی طرف منتقل ہورہی ہیں اور 2026ء کے علاقائی بُحرانوں میں خلیجی انفرااسٹرکچر اور توانائی کے مراکز کی سلامتی ایک اہم مسئلہ بن چُکی ہے۔ امریکی کانگریس ریسرچ سروس نے بھی 2026ء کے اپنےجائزے میں خلیجی ریاستوں کو میزائل اور ڈرون حملوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور آبنائے ہُرمز کی سلامتی سے متعلق سنگین خطرات کی نشان دہی کی ہے۔

اس ماحول میں ’’مکّہ معاہدے‘‘ کو ایران کے خلاف جنگی منصوبے کی بجائے ممکنہ حملہ روکنے کے لیے اجتماعی دفاعی صلاحیت سمجھنا زیادہ مناسب ہے لیکن دفاعی اتحادوں کا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا اعلان ہی طاقت کاتوازن تبدیل کردیتا ہے۔ اگر ایک مُلک یہ سمجھتا ہے کہ اس کے خلاف کسی کارروائی کی صُورت میں تین ممالک مشترکہ طور پر جواب دیں گے، تو وہ اپنےحریف سے متعلق زیادہ محتاط ہوسکتا ہے۔

دوسری طرف حریف ریاست بھی اپنی دفاعی صلاحیت بڑھا سکتی ہے۔ اس طرح طاقت کے توازن کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس ضمن میں ’’مکّہ معاہدہ‘‘ مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کے ایک نئے مخمصے کو جنم دے سکتا ہے۔ یعنی اگر ایک مُلک اپنی سلامتی کے اقدامات کرے گا، تو دوسرا مُلک اسے اپنےخلاف خطرہ سمجھ کر مزید دفاعی اقدامات پر مجبور ہوگا۔

اسرائیل اور ’’ابراہیمی معاہدوں‘‘ کا مستقبل

’’مکّہ معاہدے‘‘ کے بعد ’’ابراہیمی معاہدوں‘‘ کے مستقبل پر ایک نئی بحث شروع ہونا فطری اَمر ہے۔ 2020ء کے بعد اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آئے لیکن غزہ بُحران نے اس عمل کی سیاسی حدود واضح کردیں۔

دوسری جانب 2026ء میں امریکا کی جانب سے’’ابراہام اکارڈز‘‘ کو مزید ممالک تک وسعت دینےکی کوششیں بھی سامنے آئیں۔ امریکی سینیٹ میں مارچ 2026ء میں پیش کیے گئے ایک بِل میں ’’ابراہام اکارڈز‘‘ میں شریک ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے کی تجویز دی گئی، جب کہ جون میں ایک اور قانون سازی میں اسرائیل اور ’’ابراہام اکارڈز‘‘ کے شراکت داروں کے لیے مربوط فضائی و میزائل دفاعی حکمتِ عملی کا نکتہ اٹھایا گیا۔

یہ صُورتِ حال ایک دِل چسپ تزویراتی تضاد پیدا کرتی ہے۔ ایک طرف امریکا، اسرائیل اور عرب ریاستوں کے درمیان دفاعی تعاون کو مضبوط کرنا چاہتا ہے، دوسری طرف سعودی عرب، پاکستان اور تُرکیے نے اپنے الگ اجتماعی دفاعی انتظام کی بنیاد رکھی ہے۔ دونوں نظام یقیناً ایک دوسرے کے متبادل نہیں کہ ان کی ترجیحات مختلف ہیں۔

سیکیوریٹی کے اعتبار سے ’’ابراہام اکارڈز‘‘ بڑی حد تک اسرائیل، عرب ریاستوں اور امریکا کے درمیان تعاون پر انحصار کرتے ہیں، جب کہ ’’مکّہ معاہدہ‘‘ تین اسلامی ممالک کی باہمی دفاعی ضمانت پر مبنی ہے اور مستقبل میں دونوں کے درمیان تعاون، مقابلے یا متوازی وجود کے امکانات موجود ہیں۔

سعودی عرب کا رویّہ اس حوالے سے سب سےاہم ہوگا۔ اگر ریاض ’’ابراہام اکارڈز‘‘ میں شامل ہونے کی بجائے ’’مکّہ معاہدے‘‘ کو اپنی علاقائی سلامتی کا بنیادی فریم ورک بناتا ہے، تو مشرقِ وسطیٰ کی طاقت کی سیاست ایک مختلف سمت اختیار کر سکتی ہے لیکن اگر سعودی عرب دونوں انتظامات کے درمیان توازن قائم رکھتا ہے، تو وہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ اپنے روابط بھی برقرار رکھ سکتا ہے اور اسلامی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بھی بڑھا سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں یہی متوازن راستہ سعودی قیادت کے لیے زیادہ مفید دکھائی دیتا ہے، کیوں کہ ریاض اپنی خارجہ پالیسی میں کسی ایک طاقت یا اتحاد پرمکمل انحصار سے گریزاں دکھائی دیتا ہے۔

’’مسئلہ فلسطین‘‘ اس پورے معاملے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور ’’ابراہام اکارڈز‘‘ کی سب سے بڑی سیاسی کم زوری یہی رہی ہےکہ اسرائیل اوربعض عرب ریاستوں کے تعلقات معمول پر آنے کے باوجود مسئلہ فلسطین کا بنیادی حل سامنے نہیں آیا اور آج بھی یہ مسئلہ’’ ابراہام اکارڈز‘‘ کی مزید توسیع میں اہم رُکاوٹ بنا ہوا ہے۔

اگر ’’مکّہ معاہدہ‘‘ اسلامی دُنیامیں ایک خُودمختار دفاعی تعاون کا مرکز بنتا ہے، تو پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین کو اپنی خارجہ اور سلامتی پالیسی میں کس حد تک شامل کرتا ہے۔

امریکا اور چین کے مابین نئی تزویراتی کشمکش

’’مکّہ معاہدے‘‘ کا ایک اور اہم پہلو امریکا اور چین کے درمیان جاری بین الاقوامی مسابقت سے متعلق ہے۔ سعودی عرب طویل عرصے سے امریکی سلامتی کے نظام کا اہم شراکت دار ہے لیکن اسی دوران چین، سعودی عرب کا بڑا معاشی شراکت دار بھی بن چُکا ہے اور 2023ء میں سعودی عرب، ایران سفارتی مفاہمت میں چین نے اہم کردار ادا کیا۔ اس لیے ریاض کی موجودہ پالیسی کو کسی ایک عالمی طاقت کےکیمپ میں شامل ہونے کی بجائے کثیر الجہتی شراکت داری کےطور پر دیکھا جانا چاہیے۔

دوسری جانب ’’مکّہ معاہدہ‘‘ امریکا کے لیے مکمل طور پر منفی پیش رفت بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر یہ معاہدہ خلیجی ریاستوں کی دفاعی صلاحیت بڑھاتا اور کسی بھی ممکنہ حملے کو روکتا ہے، تو اس سےامریکی اتحادیوں کی دفاعی ذمّےداری میں اضافہ ہوسکتا ہے لیکن اگریہ معاہدہ امریکی سلامتی کے نظام کا متبادل بننے لگے، تو واشنگٹن کے لیے یہ ایک مختلف چیلنج ہوگا۔ اس لیے امریکا ممکنہ طورپراس معاہدے کو اس بنیاد پر پرکھے گا کہ آیا یہ موجودہ علاقائی سلامتی نظام کو مضبوط کرتا ہے یا اس کے متوازی ایک نیا نظام قائم کرتا ہے۔

چین کے لیے بھی یہ معاہدہ اہم ہے۔ چین مشرقِ وسطیٰ میں بنیادی طور پر معاشی، توانائی اورسفارتی مفادات رکھتا ہےاور اگر ’’مکّہ معاہدہ‘‘ خطّےمیں استحکام پیدا کرتا ہے، تو چین کے لیے توانائی کی فراہمی اورتجارتی راستوں کی سلامتی بہتر ہوسکتی ہے لیکن اگر یہ معاہدہ نئی مسابقت کا سبب بنتا ہے، تو چین کے لیے اپنے مختلف علاقائی شراکت داروں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔ اس لحاظ سے بیجنگ کا ممکنہ ردِعمل معاہدے کی عملی سمت پر منحصر ہوگا۔

بحیرۂ احمر، خلیج اور بحیرۂ عرب: نئی جغرافیائی اہمیت

’’مکّہ معاہدے‘‘ کی تزویراتی اہمیت کو صرف سعودی عرب، پاکستان اور تُرکیے کی زمینی سرحدوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔تینوں ممالک کی جغرافیائی پوزیشن انہیں خلیج، بحیرۂ احمر، بحیرۂ عرب اورمشرقی بحیرۂ روم کے بڑے تجارتی راستوں سے جوڑتی ہے۔ تُرکیے آبنائے باسفورس اور بحیرۂ روم کے ذریعے یورپ سے منسلک ہے۔ سعودی عرب بحیرۂ احمراور خلیج دونوں کے درمیان واقع ہے، جب کہ پاکستان بحیرۂ عرب کے شمالی حصّےمیں ہے۔

اس لیے تینوں ممالک کے درمیان بحری سلامتی کا تعاون مستقبل میں معاہدے کا اہم حصّہ بن سکتا ہے۔ تُرکیے نےحالیہ دنوں میں بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کی سلامتی میں کردارادا کرنے میں دِل چسپی ظاہرکی ہے۔ تُرک وزیرِخارجہ نے اس راستے کو تُرکیے کے لیے بھی اہم قرار دیا ہے۔ اگر ’’مکّہ معاہدے‘‘ کے تحت بحری تعاون بڑھتا ہے، تو پاکستان کی بحریہ، تُرکیے کی بحری صلاحیت اورسعودی عرب کے جغرافیائی محلِ وقوع کوایک دوسرے سے جوڑا جا سکتا ہے۔

اس کا مقصد لازماً جنگی کارروائی نہیں ہوگا بلکہ یہ تجارتی راستوں، بندرگاہوں، توانائی کی تنصیبات اور سمندری مواصلات کا تحفّظ بھی ہو سکتا ہے۔ اس پہلو سےدیکھا جائے تو ’’مکّہ معاہدہ‘‘ مستقبل میں صرف دفاعی اتحاد نہیں بلکہ ایک وسیع علاقائی سلامتی کے نیٹ ورک میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

اس میں فضائی دفاع، سائبر سیکیوریٹی، ڈرون مخالف نظام، سمندری نگرانی، انٹیلی جینس تعاون، مشترکہ فوجی مشقیں اور دفاعی پیداوار شامل ہوسکتے ہیں۔ تاہم، یہ تمام امکانات ہیں اور موجودہ معاہدےکی حتمی عملی شکل ابھی سامنے نہیں آئی۔ اس لیے تحقیقی اعتبار سے امکانات اور ثابت شُدہ حقائق کو الگ رکھنا ضروری ہے۔

مصر کی ممکنہ شمولیت اور اتحاد کا مستقبل

’’مکّہ معاہدے‘‘ کےمستقبل کے حوالے سے مصر کا کردار خاص اہمیت کاحامل ہے۔ تُرکیےکےوزیرِخارجہ کےمطابق اگر تیکنیکی اورسیاسی معاملات طے ہوجائیں، تو مصر ممکنہ طور پر مستقبل میں اس اتحاد میں شامل ہو سکتا ہے۔ مصر کی شمولیت اس اتحاد کو جغرافیائی و سیاسی دونوں اعتبار سے مزید اہمیت کا حامل بنا سکتی ہے، کیوں کہ مصرعرب دُنیا کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والی ریاستوں میں سے ایک اور نہرِ سویز کے باعث عالمی تجارت اور بحری سلامتی میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

اگر مصر اتحاد میں شامل ہوتا ہے، تو ’’مکّہ معاہدہ‘‘ ایک زیادہ وسیع سیکیوریٹی پلیٹ فارم میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ تاہم، مصر کے اپنے قومی مفادات، امریکا کے ساتھ اس کے دفاعی تعلقات، خلیجی ریاستوں سے روابط اور اسرائیل سے امن معاہدے کی وجہ سے قاہرہ کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں ہوگا، اس لیے مصر کی ممکنہ شمولیت کو یقینی پیش رفت سمجھنے کی بجائے ایک اہم سفارتی امکان سمجھنا چاہیے۔

2030ء تک ممکنہ تزویراتی منظرنامے

’’مکّہ معاہدے‘‘ کے مستقبل کےضمن میں پہلا ممکنہ منظرنامہ یہ ہے کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے محدود دفاعی تعاون پر محیط ہوگا۔ اس صُورت میں مشترکہ مشقوں، دفاعی صنعت، انٹیلی جینس اورفوجی تربیتی پروگرامز میں اضافہ ہوگا لیکن کوئی مستقل مشترکہ فوج یا وسیع علاقائی اتحاد قائم نہیں ہوگا۔ یہ نسبتاً محتاط اور حقیقت پسندانہ راستہ ہے، کیوں کہ تینوں ممالک کے مفادات مکمل طور پر یکساں نہیں ہیں۔

دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ معاہدہ مزید وسعت اختیار کرے گا اور مصر کی شمولیت کے بعد ممکن ہے، دیگر اسلامی یاعرب ممالک بھی مختلف سطحوں پر اس سے تعاون شروع کردیں۔ اس صُورت میں ایک ایسا علاقائی سلامتی کا ڈھانچا وجود میں آ سکتا ہے، جو گرچہ نیٹو کا مکمل متبادل تو نہ ہو لیکن اجتماعی دفاع کے اصول پر قائم ایک اہم علاقائی ادارہ ضروربن جائے۔ تیسرا اور زیادہ پیچیدہ منظرنامہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دومتوازی سیکیوریٹی نظام بن جائیں۔

ایک ’’ابراہام اکارڈز‘‘ اور امریکی حمایت سے اسرائیل و بعض عرب ریاستوں کے درمیان اور دوسرا ’’مکّہ معاہدے‘‘ کے گرد اسلامی ریاستوں کے درمیان۔ اگر یہ دونوں نظام ایک دوسرے کو مخالف سمجھنے لگیں، تو خطّےمیں دھڑوں کی سیاست مزید مضبوط ہو سکتی ہے لیکن اگر دونوں کے درمیان عملی تعاون قائم رہا، تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک کثیرالجہتی سلامتی کا نظام بھی پوران چڑھا سکتے ہیں۔

چوتھا منظرنامہ یہ ہےکہ’’مکّہ معاہدہ‘‘علاقائی کشیدگی کم کرنے کا ذریعہ بنےگا۔ اگر سعودی عرب اسے ایران کے خلاف محاذ بنانے کی بجائے دفاعی توازن اور مذاکرات کی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرے گا، تو یہ معاہدہ جنگ کی بجائے دفاع کا ذریعہ بن سکتا ہے اور اس صُورت میں ایک مضبوط دفاعی صلاحیت اور متوازی سفارتی رابطے ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں اورمشرقِ وسطیٰ جیسے پیچیدہ خطّے میں قیامِ امن کا شاید یہی زیادہ پائے دار راستہ ہو۔

پاکستان کے لیے مواقع اور چیلنجز

پاکستان کے لیے ’’مکّہ معاہدہ‘‘ ایک طرف سفارتی و دفاعی میدان میں ایک اہم موقع ہے، تو دوسری طرف ذمّےداری بھی۔ موقع اس اعتبار سے کہ اس اتحاد کی صُورت پاکستان کو خلیج کی سلامتی کے معاملات میں ایک باضابطہ کردارمل سکتا ہے اور اس کی دفاعی صنعت اور سفارتی اہمیت بڑھ سکتی ہے، نیز سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی روابط اور تُرکیے سے دفاعی تعاون کو ایک ہی فریم ورک میں لانے سے پاکستان کونئی سرمایہ کاری، مشترکہ دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی میں ترقّی کے مواقع بھی حاصل ہو سکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان کو اس بات کا بھی تعیّن کرنا ہوگا کہ اجتماعی دفاع کی شِق عملی طورپراس پرکس حد تک ذمّےداری عائد کرتی ہے اوراگر مستقبل میں کسی فریق کو مسلّح حملے کا سامنا ہو، تو کیا پاکستان براہِ راست فوجی کارروائی کرے گا؟

کیا اس ضمن میں پارلیمان کی منظوری درکار ہوگی؟ کیا پاکستانی افواج صرف سعودی سرزمین کے دفاع تک محدود رہیں گی یا بیرونی محاذ پربھی جائیں گی؟ یہ سوالات ابھی واضح نہیں ہیں۔ اس لیے معاہدے کے اصل قانونی متن اور اس کے بعد بننے والے عملی طریقۂ کار کا مطالعہ پاکستان کی پالیسی سازی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے لیے ایران سے تعلقات بھی خاصی اہمیت کےحامل ہیں۔ ایران، پاکستان کا ہم سایہ مُلک ہے اور پاکستان اپنی مغربی سرحد پر مستقل کشیدگی برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اس لیے اسلام آباد کو ’’مکّہ معاہدے‘‘ کو ایران مخالف اتحاد بننے سے روکنے میں دِل چسپی ہوگی۔

اگر پاکستان، سعودی عرب اور تُرکیے کے ساتھ دفاعی تعاون برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ سفارتی روابط بھی مضبوط کرتا ہے، تووہ ایک منفرد ثالث کا کردارادا کرسکتا ہے اور یہ کردار پاکستان کو صرف عسکری شراکت دار نہیں، ایک بڑی اور مؤثرعلاقائی سفارتی قوّت بھی بنا سکتا ہے۔

’’ابراہام اکارڈز‘‘ کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک ایسے مرحلےمیں داخل ہوچُکی ہے، جہاں پُرانےاتحادوں کی جگہ متعدد اور ایک دوسرے سے جُزوی طور پر متداخل شراکت داریاں لے رہی ہیں۔ 2020ء کے ابراہام اکارڈز نے اسرائیل اور بعض عرب ریاستوں کے تعلقات معمول پر لا کر خطّے کی سفارت کاری میں بڑی تبدیلی پیدا کی، جب کہ 2026ء کا ’’مکّہ معاہدہ‘‘ اسلامی ریاستوں کےدرمیان اجتماعی دفاع کا ایک نیا تصوّرسامنے لاتا ہے۔

گرچہ دونوں کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھنا دُرست نہیں لیکن دونوں معاہدے ظاہر کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ اب کسی ایک طاقت کے زیرِاثرخطّہ نہیں رہا۔ تاہم، ’’مکّہ معاہدے‘‘ کی حقیقی اہمیت اس کی ممکنہ عملی سمت ہی سے واضح ہوگی۔

اگر تینوں ممالک مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی، فضائی ومیزائل دفاع، بحری سلامتی، انٹیلی جینس، دفاعی صنعت اور فوجی تربیت میں تعاون کرتے ہیں، تو یہ معاہدہ خطّے کی سلامتی پر دیرپا اثرات مرتّب کر سکتا ہے لیکن اگر یہ صرف سیاسی اعلان تک محدود رہا، تو اس کا اثر علامتی ہی ہوگا اور اس مرحلے پر دونوں امکانات موجود ہیں۔