• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعودی عرب، حوثی جھڑپیں: پاکستان اور اسلامی دنیا کی نئی آزمائش

سعودی عرب اور یمنی حوثیوں کے مابین ایک مرتبہ پھر خُوں ریز جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں۔ تاہم، اس مرتبہ یہ جھڑپیں مشرقِ وسطیٰ، اسلامی دُنیا اور پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش ثابت ہورہی ہیں اور ایک بارپھر شدّت کے ساتھ یہ سوال اُٹھایا جا رہا ہے کہ اُمّتِ مسلمہ کے اتحاد کا شوروغوغا تو بہت ہوتا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے باہمی تنازعات اور جنگیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔

اس صُورتِ حال میں دُنیا ہم پر ہنستی، ہمارا تمسخر اُڑاتی ہے کہ مسلمانانِ عالم آپس میں لڑ جھگڑ کر اپنی دُنیا وعاقبت تباہ کررہے ہیں اوراُن کےنام نہاد دانش وَر اُنہیں افسانوی قصّے کہانیاں اور اغیار کی سازشوں کی رُودادیں سُنا کر جنگوں میں جھونک رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سات سو سال سے جاری اُمّتِ مسلمہ کے زوال کا سفر ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ اگرسازشی تھیوریز کوپیشِ نظر رکھا جائے، تو بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی تباہی سے امریکا، یورپ یا جنوب مشرقی ایشیا کو کیا فرق پڑے گا؟ وہ تو ہزاروں مِیل دُور بیٹھے محض تماشا دیکھ رہے ہیں۔

ہرچند کہ سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے مابین حالیہ جھڑپیں بظاہر یمن کی طویل اور خُوں ریز جنگ کا ایک نیا باب یا توسیع دکھائی دیتی ہیں، لیکن اس مرتبہ حوثیوں نے مختلف حربوں سے سعودی عرب پرمسلسل دبائو ڈال کرمقامی تنازعے کو ایک ایسے بُحران میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس کے اثرات خلیجی ممالک، پاکستان اور کسی حد تک عالمی معیشت پر بھی مرتّب ہوسکتے ہیں۔ عام طور پر حوثی باغیوں کو بھی حزبُ اللہ، حماس اور عراقی ملیشیا کی مانند ایران کی ایک پراکسی تصوّر کیا جاتا ہے اور ان میں سے ابتدائی تین ملیشیاز کو اسرائیل نے اُن کی ٹاپ لیڈر شپ کا صفایا کر کے غیر مؤثر کردیا ہے۔

گرچہ حوثی باغی یمن کے معاملات میں خاصے خُود مختار ہیں، لیکن اُنہیں ایران کی فوجی و مالی معاونت بھی پوری طرح حاصل ہے اور اسی لیے اکثر فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ آبنائے ہُرمز کی بندش اور امریکا کی جانب سے ایران پرعائد معاشی پابندیوں کے بعد حوثیوں کےسعودی عرب پرحملے اور باب المندب کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کا مقصد امریکی دباؤ کو کم کرنا ہے۔

حوثیوں کی ان کارروائیوں پرایران اُنہیں مبارک باد بھی دے چُکا ہے، حالاں کہ وہ او آئی سی کا رُکن ہے اور سعودی عرب سے سفارتی تعلقات بھی رکھتا ہے، جب کہ حوثی باغی ہیں۔ یاد رہے، امریکا کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیوں نے ایران کو سخت مشکلات سے دوچار کردیا ہے اور عراقی ملیشیا کے سعودی آئل پائپ لائنز پر حملے بھی اِسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

لیکن اس ساری صُورتِ حال میں ہمارے نام نہاد دانش وَر اور تجزیہ کار اس تلخ حقیقت سے صرفِ نظر کر رہے ہیں کہ آج ہر بڑے تنازعے، کشمکش اورجنگ کا مرکز وہ علاقے ہیں، جہاں اسلامی ممالک واقع ہیں اوراگر جنگ و جدل کے باعث ایران کی معیشت تباہ حال ہے، تو یہ کس کا نقصان ہے؟ اگر عرب ممالک غیرمحفوظ ہیں، تو یہ کس کی کم زوری ہے؟ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ شام کی 11 سالہ خانہ جنگی سے بھی ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔

حتیٰ کہ غزہ کی تباہ حالی پر ہمارے بعض طبقات محض اس لیےخوشیاں منارہے ہیں کہ اب دُنیا بَھر میں امریکا و اسرائیل پر تنقید ہورہی ہے اورہرجگہ غزہ کے انسانی المیے کا رونا رویا جارہا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آج اسلامی ممالک کے شہر کھنڈرات بنتےجارہے ہیں اور یہ ریاستیں مزید پس ماندگی کا شکارہورہی ہیں۔

اس ضمن میں پاکستان کی حالتِ زاربھی ہمارے سامنے ہے۔ محض آبنائے ہُرمز کی بندش کے باعث پیٹرولیم قیمتوں میں ہوش رُبا اضافےسےہونے والی منہگائی نے پاکستانی عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور اب باب المندب کی بندش مزید مشکلات کا سبب بنے گی۔ علاوہ ازیں، مشرقِ وسطیٰ میں جاری بُحران کے پس منظر میں دو اہم دفاعی معاہدے بھی ہو چُکے ہیں۔ مکّہ معاہدہ، جس میں پاکستان، تُرکیہ اور سعودی عرب شامل ہیں اورپاکستان اور سعودی عرب کے مابین دو طرفہ دفاعی معاہدہ۔

اگر مذکورہ معاہدوں کوپیشِ نظر رکھیں، تو یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ حوثیوں کا یہ قدم کس کو آزمائش میں ڈال رہا ہے؟ اگرعرب ممالک کم زور یا غیرمحفوظ ہوتے ہیں اور نتیجتاً اسرائیل کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، تو پھر کیا ہو گا؟ تب نئے سازشی نظریات سامنے آئیں گے، جنہیں سُن کر اُمّتِ مسلمہ عمل کی بجائے خوابِ غفلت کی نیند سوجائے گی۔

تاہم، ہم امید کرتے ہیں کہ موجودہ صُورتِ حال میں جذباتی دانش وَران کو یہ اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اس وقت آبنائے ہُرمز اور باب المندب کوکس طرح جیو اسٹرٹیجی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ عمل کم زور ممالک کے لیے کس قدر خطرناک ہے۔ قبل ازیں، ہمیں افغان جنگ کی وجہ سے تباہی و بربادی کا سامنا کرنا پڑا اور اب مشرقِ وسطیٰ کا بُحران ہمارے سَروں پر خطرے کی شکل میں منڈلا رہا ہے۔ موجودہ بُحران کا مرکز، باب المندب نامی ایک تنگ سمندری گزرگاہ ہے، جو بحرِ احمر (ریڈ سی) کو خلیجِ عدن سے ملاتی ہے۔

باب المندب، جس کا مطلب ’’آہوں کا دروازہ‘‘ ہے، دُنیا کی اہم آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور جو عالمی طاقت اس پرکنڑول حاصل کرلے، وہ ایشیا اور یورپ کے درمیان ہونے والی تجارت خطرے میں ڈالنے کے علاوہ خلیجی تیل کی برآمدات متاثراوردیگر بڑی طاقتوں کو بھی اس معاملے میں شامل ہونے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اسی لیے حوثیوں کی یہ پیش قدمی اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ انہوں نے ایک ملیشیا سے بڑی طاقت بننے کی کوشش کی ہے اور اس کا ثبوت بحرِ احمر کے بعض جزائر پر اُن کا بڑھتا ہوا کنٹرول ہے۔

یمنی حوثیوں کی ملیشیا کا اصل نام ’’انصار اللہ‘‘ ہے۔ یہ تحریک زیدی شیعہ کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہے اور اس نے یمن کے سیاسی نظام کی مخالفت کرکے اس قدر طاقت حاصل کر لی ہے کہ اب یہ مُلک کی طاقت وَر ترین عسکری قوّت شمار ہوتی ہے۔

دوسری جانب حوثیوں کو ایران کی پراکسی بھی کہا جاتا ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ ایران اور اس کی دیگر پراکسیز کو کُھل کر سپورٹ کرتے رہے ہیں، جب کہ ایران انہیں مالی، عسکری اورسیاسی سپورٹ بھی فراہم کرتا ہے۔ اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ حوثی باغی اُس ایرانی ملیشیا نیٹ ورک کا حصّہ ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی جارحانہ خارجہ پالیسی کو آگے بڑھاتا ہے۔

واضح رہے، حوثیوں کی اس تحریک کے معمار ایران کے جنرل سلیمانی تھے، جو چند برس قبل ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے، لیکن حوثی باغی مکمل طور ایرانی پالیسی کے تابع نہیں، کیوں کہ انہیں یمن میں اپنے زیرِ اثر علاقوں میں اپنے مفادات کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے 2014ء میں حوثیوں نے یمنی دارالحکومت، صنعا پر قبضہ کیا، جس کے نتیجے میں خانہ جنگی شروع ہوئی اور علاقائی طاقتیں بالخصوص خلیجی ممالک بھی اس میں شامل ہوگئے۔ اس دوران یمن میں حوثیوں نے وہی انداز اپنایا، جو حزبُ اللہ نے لبنان میں اختیارکیا تھا۔

حزبُ اللہ کی مانند انصار اللہ کا نعرہ بھی امریکا اور اسرائیل دُشمنی ہے اور اسی کے ذریعے وہ اپنی کارروائیوں کا اخلاقی جواز پیش کر کے اسلامی دُنیا سے ہم دردیاں حاصل کرتی ہے۔ حوثی باغیوں کی کارروائیوں کے ردِ عمل میں 2015ء میں سعودی عرب نے ایک فوجی اتحاد تشکیل دیا اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں جوابی کارروائیاں شروع کیں اور اس جنگ میں مجموعی طور پر لگ بھگ پچاس ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

تاہم، 2022ء تک جاری رہنے والی اس جنگ میں کوئی بھی فریق مکمل طور پر بالادستی حاصل نہ کرسکا۔ بعدازاں سیز فائر ہوا اور پھر جنگ کی شدّت میں نمایاں کمی آئی لیکن یمن کے بنیادی سیاسی تنازعے کا کوئی سیاسی حل نہ نکل سکا۔ اس دوران غزہ کی جنگ شروع ہوگئی اور حوثیوں نے اسرائیل اور اس کے حمایتی ممالک کے مفادات کو نقصانات کو پہنچانا شروع کر دیا۔ اُن کی کوشش تھی کہ وہ ثابت کریں کہ وہ یمن سے باہر بھی اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس موقعے پر انہیں ایران نے بیلسٹک میزائلز، ڈرون طیّارے اور دیگر ہتھیار فراہم کیے، جن کے ذریعے وہ سمندر سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

تاہم، مشرقِ وسطیٰ کا حالیہ بُحران سمجھنے کے لیے تین عوامل پیشِ نظر رکھنا ضروری ہیں۔ باب المندب، سعودی تیل اور حوثی ایران تعلق۔ جیسا کہ ہم نےذکر کیا کہ باب المندب وہ آبی گزرگاہ ہے،جو بحرِاحمر کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے اور ایشیا سے یورپ جانے والے بحری جہاز بحرِاحمر اور نہرِ سوئز کا راستہ استعمال کرسکتے ہیں، جس سے انہیں افریقا کے جنوب میں سفر سے نجات مل جاتی ہے۔

یہ گزرگاہ اہم عالمی ’’تجارتی شریانوں‘‘ میں سے ایک ہے اور اگر یہ راستہ بند ہوجائے یا اسے خطرناک بنا دیا جائے، تو پھر تجارتی سفر انتہائی طویل ہو جائے گا اور بحری جہاز ’’کیپ آف گُڈ ہوپ‘‘ سے گزرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں سمندری تجارت اور جہازرانی کے تمام امور پر منفی اثرات مرتّب ہوں گے اور یہ عمل نہ صرف مزید منہگا ہوگابلکہ سفر کا دورانیہ بھی بڑھ جائے گا۔

اس تجارتی سفر کا سہل اور سستا راستہ آبنائے ہُرمز ہے، جو آج کل بند اور سفر کے لیے خاصا خطرناک ہے، جب کہ تیل کی منتقلی کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اسے سعودی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے پہلے ریڈ سی تک اور پھر وہاں سے اپنی منزل تک تیل پہنچایا جائے لیکن اگر یہ دونوں راستے ہی پُرخطر ہوجائیں، تو پھر سعودی عرب، جو دُنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، مشکلات سے دوچار ہوجائے گا اور موجودہ صُورتِ حال بھی کچھ اسی قسم کی ہے کہ حوثی باغی ایران کی خاطر یہ قدم اُٹھاچُکے ہیں اوراسی لیے سعودی تیل کی ترسیل میں رُکاوٹیں درپیش ہیں۔

ایران نے حوثیوں کو مسلّح کر کے دو مقاصد حاصل کر لیے۔ اوّل یہ کہ اب اُسے اپنی فوج سعودی عرب کے قریب بھیجنے کی ضرورت نہیں اور دوم یہ کہ دُنیا کی اہم آبی گزر گاہ، جس سے سعودی تیل گزرتا ہے، اُس کی پراکسی کے زیرِ اثر ہے۔

دوسری جانب اس وقت امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی طاقت کے ساتھ موجود ہے۔ اُس نے آبنائے ہُرمز بند کی اور ساتھ ہی ایران پر اقتصادی پابندیاں بھی سخت کر دیں۔ نتیجتاً، آج ایرانی کرنسی گراوٹ کی انتہا پر ہے۔ ایک امریکی ڈالر 23لاکھ 50ہزار ایرانی ریال کے برابر پہنچ چُکا ہے۔ ایسے میں ایرانی باشندوں پر کیا گزر رہی ہوگی، یہ تو وہی بخوبی جانتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سعودی درخواست کے باوجود ایران نے تاحال حوثیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، جب کہ امریکی صدر، ٹرمپ کے مطابق حوثیوں نے یقین دلایا ہے کہ صرف سعودی جہازوں کے گزرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس صُورتِ حال میں امریکا خاموش تماشائی بنا رہے گا۔ پھر یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ حوثیوں کی اس کارروائی سے چین، جنوب مشرقی ایشیا اور یورپی ممالک بھی شدید متاثر ہوئے ہیں اور تیل کی قیمت عالمی منڈی میں ایک سو ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

پھر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب حوثی باغی اسرائیل کی آڑ میں دیگر ممالک کے تجارتی جہازوں پر حملے کررہے تھے، تو امریکا، برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ممالک نے بھی جوابی حملے کیے۔ عسکری ماہرین کے مطابق ایک حد تک تو یورپ، برطانیہ اور امریکا حوثیوں کو حملوں کا موقع دیں گے لیکن اگر بین الاقوامی جہاز رانی اور تیل کی آمدورفت کو براہِ راست کوئی بڑا خطرہ لاحق ہوا، تو پھر ان کی طرف سے بھی جوابی کارروئی کی جائے گی تاکہ ان آبی گزرگاہوں کو کُھلا رکھا جائے اور کوئی غیر معمولی واقعہ رُونما نہ ہو۔

دوسری جانب اس سارے منظرنامے میں امریکا کا مفاد یہ ہے کہ وہ سعودی عرب کو ’’ابراہام اکارڈز‘‘ میں شامل ہونے کا کہتا رہا ہے، لیکن سعودی عرب نے اسلامی دُنیا کی خاطر اس تجویز کو ہمیشہ مسترد کیا لیکن اگر حوثیوں کے حملے ریڈ لائن کراس کرتے ہیں اور دو دفاعی معاہدے بےاثر اور امریکا خاموش رہتا ہے، تو پھر سعودی عرب اس حوالے سے سوچنے پرمجبور ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ ایران نے بھی تو رُوس سے دوستی کی، جو ہمیشہ اسلامی دُنیا کا دُشمن رہا۔

اس حقیقت سے حوثی باغی بھی اچّھی طرح واقف ہیں۔ اگر فوجی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے، تو حوثی کوئی بڑی طاقت نہیں اور ان کی سپلائی لائن بھی ایران سے آتی ہے، جو خود اس وقت شدید مشکلات سے دوچار ہے اور اُس کی پراکسی حزبُ اللہ، جس کےذریعے وہ فوجی سازوسامان حوثیوں کو سپلائی کرتا تھا، غیر مؤثر ہوچُکی ہے۔

اس لیے سعودی عرب پر فوری دباؤ ڈالنے کے لیے حوثیوں کا یہ اقدام بظاہر تو کام یاب نظر آتا ہے لیکن طویل مدّت تک ایسا کرنا مشکل ہوگا، کیوں کہ اسرائیل اور مصر دونوں ہی سوئز کینال سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں اور دونوں کے سفارتی تعلقات بھی ہیں اور اگر اسرائیل حوثیوں کے خلاف جنگ میں کُود پڑتا ہے، تو پھر ان کے لیے خاصی مشکل ہو جائے گی، کیوں کہ پھر ایک طرف سعودی اتحاد ہوگا، تو دوسری جانب اسرائیل۔ یہی وجہ ہے کہ حوثیوں کی اس کارروائی کے فوراً بعد پاکستان نے ایران سے کہاکہ وہ حوثیوں کو ایک حد سے آگے نہ بڑھنے دے اور اس کی وجہ وہ دو دفاعی معاہدے ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

یہاں یہ اَمر بھی قابلِ ذکر ہے کہ شام کی خانہ جنگی کے علاوہ دوسری عالمی جنگ کے بعد تُرکیہ کا کردار مشرقِ وسطیٰ میں محدود رہا ہے اور اس کے اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد ہی سے اُس کے ساتھ تعلقات ہیں۔ علاوہ ازیں، تُرکیہ نیٹو کا رُکن ہی نہیں بلکہ اس کا ’’شمالی قلعہ‘‘ بھی تصوّر کیا جاتا ہے، جب کہ نہرِ سوئز کا بھی اس سے براہِ راست تعلق ہے کہ وہ بحرِ روم کے ساحل پر واقع ہے۔ شام میں گیارہ سال تک خانہ جنگی جاری رہی، جس میں ایران، اس کی پراکسیز اور رُوس براہِ راست ملوّث تھے۔

اس دوران پانچ لاکھ شامی شہری ہلاک ہوئے اور ایک موقعے پر تو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اپنے حلیف بشارالاسد کو فتح دلوانے میں کام یاب ہوگئے ہیں لیکن بالآخر بشارالاسد فرارہوکرماسکو میں پناہ لینے پر مجبور ہوا۔ یاد رہے، اس دوران عرب ممالک اور تُرکیہ، شامی اپوزیشن کی حمایت کرتے رہے، جس سے تعلق رکھنے والے احمد الشراع آج شام کے صدر ہیں۔

حوثی باغی جب تک یمن میں تھے، وہ ایک مجتمع قوّت تھے، لیکن اب انہیں پھیلا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اُن کی طاقت منتشر ہوگئی ہے۔ اب یمنی جزائر اور ساحلی شہر تو ان کے قبضے میں ہیں، لیکن وہ قوّت، جو انہیں اپنے دُشمن پر برتری دلا رہی تھی، خاصی حد تک منقسم ہوگئی ہے اور پھر اگر کوئی ملیشیا کسی مُلک پر قبضہ کربھی لے، اُس پر حکومت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور اس کے لیے بہترین راستہ یہی ہوتا ہے کہ وہ مقامی آبادی کے ساتھ مل کر حملے کرکے ایک خطرہ بنی رہے، مگرحوثی اس فضا کو کب تک برقرار رکھ سکتے ہیں، یہ بہت اہم سوال ہے، کیوں کہ اس کی وجہ سے دُنیا کے بیش تر ممالک کی تجارت متاثر ہوسکتی ہے اور کون سا مُلک یہ چاہے گا کہ وہ کسی ملیشیا کے کنٹرول میں ہو اور اُس کی تجارت اور توانائی کے ذرائع سب خطرے میں رہیں۔

پھر ایران، جو حوثیوں کا سب سے بڑا حمایتی ہے، انہیں سعودی عرب اور خلیجی ممالک پر دبائو ڈالنےکے لیےعارضی طور پر تواستعمال کر سکتا ہے مگر یمن کی اندرونی صُورتِ حال کے بھی بہت سے تقاضے ہیں اور حوثیوں کےاپنے مُلک سے وابستہ مفادات انہیں مجبور کریں گے کہ وہ ان کو بھی پیشِ نظر رکھیں اوراسی لیےانہوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے بحری جہازوں کے علاوہ کسی بھی جہاز کو باب المندب سے گزرنے سے نہیں روکا جائے گا۔

پاکستان کےسعودی عرب کےساتھ دفاعی معاہدوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صُورتِ حال اس کے لیے خاصی چیلنجنگ ہو گئی ہے۔ پاکستان اُس وقت تک تو کسی بھی قسم کی جنگی کارروائی سے باز رہ سکتا ہے کہ جب تک سعودی سرزمین پر حملہ نہں ہوتا، لیکن اگرسعودی تیل کی تنصیبات براہِ راست حملوں کی زد میں آئیں، تو پھرصُورتِ حال مختلف ہو سکتی ہے، نیز یہ بھی یاد رہے کہ سعودی عرب میں 40لاکھ پاکستانی تارکینِ وطن ملازمت کرتے ہیں اور ہر سال لاکھوں افراد ادائیگیٔ عُمرہ و حج کے لیے بھی وہاں جاتے ہیں، جب کہ تُرکیہ کے دفاع کی ضرورت شاید فوری طور پر پیش نہ آئے۔

تاہم، معاہدے میں شامل باقی دونوں ممالک سعودی عرب کو ہرقسم کی انٹیلی جینس اور سیاسی معاونت فراہم کرنے میں آگے ہی رہیں گے۔ ایران بھی اس ساری صُورتِ حال کو بخوبی سمجھتا ہے اور اس لیے ایرانی صدر، پزشکیان بھارت میں منعقدہ ’’برکس کانفرنس‘‘ میں نہ صرف شریک ہوئے بلکہ انہوں نے ’’انڈیا ٹو ڈے‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے بھارت کی تعریف بھی کی۔

انہوں نے ایران اور بھارت کی قریبی دوستی کا ذکر کیا اور بھارت کو چابہار بندرگاہ کی تعمیر اور ایک سیکولر مُلک ہونے کا کریڈٹ دیا۔ یاد رہے، تیل کے بُحران کی صُورت میں ایران، بھارت کو اسمگلنگ کے ذریعے سستا تیل فراہم کرتاہے، جب کہ اس دوران اسلامی ممالک گھاٹے میں رہتے ہیں۔

دوسری جانب اسلامی ممالک بالخصوص ایران اگر تنازعات ہی میں الجھا رہا، تو رہی سہی معیشت بھی جنگوں کی نذرہوجائے گی۔ اس لیے سب سے بہتر راستہ یہی ہے کہ اسلامی دُنیا فوری طور پراپنےتمام ترتنازعات کو خیرباد کہے اوردُنیا کی بڑی طاقتوں کا آلۂ کاربننےکی بجائے خُود کو اقتصادی طور پر اتنا مضبوط کرے کہ دُنیا میں اُس کا اپنا ایک مقام ہو۔

علاوہ ازیں، اُمّتِ مسلمہ ایسی کسی خوش فہمی میں نہ رہے کہ بہت جلد پوری دُنیا ان کے آگے جُھک جائے گی۔ واضح رہے، باب المندب، آبنائے ہُرمز، آبنائے ملاکا، کیپ آف گُڈ ہوپ، پناما کینال اور سوئز کینال جیسی آبی گزرگاہیں مغربی فوجی حکمتِ عملی کے نفاذ کے لیے بنائی گئی ہیں اور انہیں کوئی اتنی آسانی سے اپنے ہاتھ سے نکلنےنہیں دے گا۔

رُوس پانچ سال بعد اور اپنے تمام تر وسائل جھونکنے کے باوجود بھی یوکرین جیسے ایک چھوٹے سے مُلک پر قبضہ نہ کرسکا اور نہ ہی شام میں قدم جما سکا، جب کہ چین بھی ابھی تک صرف اقتصادی میدان ہی پر اپنی توجّہ مرکوز رکھے ہوئے ہے، اُسے مُلکوں پر قبضہ کرنے میں کوئی دِل چسپی نہیں اور نہ ہی اُس نے مغرب اور امریکا سے براہِ راست تصادم کی پالیسی اپنائی ہے، نیز یہی طریقہ بھارت کا ہے، تو پھر کون سے ممالک اس اسلامی دُنیا کا ساتھ دیں گے کہ جو پوری دُنیا پر راج کرنے کےخواب دیکھ رہی ہے۔ جب کہ اسلامی ممالک کے پاس اتنے وسائل ہیں اور نہ ٹیکنالوجی۔ لہٰذا، یہ ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ممالک آنکھیں کھولیں اور جلد ازجلد جنگ وجدل کو خیرباد کہہ کر اجتماعی ترقّی کی خاطر متّحد ہوجائیں۔