• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دِنوں دو بین الاقوامی فورمز کے اہم اجلاس ہوئے اور پاکستان ان دونوں ہی کا رُکن ہے۔ ’’شنگھائی تعاون تنظیم‘‘ کا اہم اجلاس کرغیزستان کے شہر، بشکیک میں ہوا، جس میں دو عالمی طاقتوں، چین اور رُوس کے علاوہ پاکستان، بھارت، ایران اور وسطی ایشیا کے ممالک نے شرکت کی۔ یہ ایس سی او کا 23واں سربراہی اجلاس تھا اور اس کی اہمیت دو وجوہ کی بناء پر دوچند ہوگئی۔ امریکا، ایران جنگ اور چند روز قبل یورپ میں ہونے والا نیٹو اجلاس، جس کے فوراً بعد امریکا اور یورپ نے ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کردیں۔

دوسرا اہم اجلاس تُرکیے کے دارالحکومت، انقرہ میں مکّہ دفاعی معاہدے کا ہوا، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جدّہ اس کا ہیڈ کوارٹر ہوگا، جب کہ ’’معاہدۂ اسلام آباد‘‘ کےتحت مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان، تُرکیے اور سعودی عرب جیسے بڑے اور طاقت وَر اسلامی ممالک اب علاقائی معاملات میں فعال کردار ادا کررہے ہیں۔

دوسری جانب ایس سی او کے مشترکہ اعلامیے میں امریکا، ایران جنگ کی مخالفت اور اس ضمن میں امریکی کردار پر شدید تنقید کی گئی، جب کہ ایران کے ساتھ یک جہتی کا اظہارکیا گیا، جو یقیناً قابلِ فہم ہے، کیوں کہ چین اور رُوس دونوں ہی ایران کے حلیف ہیں لیکن محض بیانات اور اعلامیے مسئلے کاحل نہیں۔ 

یاد رہے، ایران، امریکا جنگ کے باعث پاکستان جیسے غریب ممالک پِس کر رہ گئے ہیں اور پاکستان کو تو قیامِ امن کی پُرخلوص کوششوں کے باوجود نہ جانے کس جُرم کی سزا مل رہی ہے، جب کہ دوسری جانب ہمارے جذباتی اہلِ دانش اپنے عوام کی زبوں حالی کا افسوس کرنے کی بجائے دوسروں کی فتح کا جَشن منارہے ہیں۔

بہرکیف، شنگھائی فورم میں وزیرِاعظم، شہباز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب، نریندر مودی کی موجودگی میں سندھ طاس معاہدے کا معاملہ بھی اُٹھایا اور واضح کیا کہ پانی کسی بھی مُلک کی لائف لائن ہے، اس کی بندش پرکسی قسم کا سمجھوتا ممکن نہیں۔

واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ دُنیا کا وہ واحد آبی معاہدہ ہے، جو پاکستان اور بھارت جیسے ایٹمی طاقت کے حامل حریف ممالک کے مابین چار جنگوں اور متعدد خوف ناک جھڑپوں کے باوجود قائم ودائم رہا۔ بعدازاں، پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے یک طرفہ طور پراس معاہدے کو معطّل کردیا اور حال ہی میں ایک چار رُکنی بین الاقوامی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ یک طرفہ بھارتی کارروائی عالمی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا مؤقف دُرست ہے اور دُنیا اسے تسلیم کرتی ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا مشترکہ اعلامیہ 8 نکات پر مشتمل ہے، جن میں سے 3 نکات بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ امریکا، ایران جنگ میں ایران سےاظہارِیک جہتی اور اس پر پابندیوں اور حملوں کی مذمّت، پُرامن مقاصد کے لیے سِول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے استعمال کا حق اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے زیادہ سے زیادہ تعاون۔ یہاں ہم اس معاہدے کا ذکر کریں گے کہ جو حال ہی میں امریکا اور سعودی عرب کے مابین ہوا۔

یہ معاہدہ بھی سِول نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے متعلق ہے اور اس کے تحت امریکا، سعودی عرب کو20فی صد تک یورینیم افزودگی میں مدد فراہم کرے گا۔ مذکورہ اجلاس کے بعد ایس سی او کی چیئرمین شِپ ایک سال کے لیے پاکستان کے پاس آگئی ہے۔ یاد رہے، شنگھائی تعاون تنظیم میں دُنیا کی 40 فی صد آبادی کی نمائندگی موجود ہے، جس کی وجہ سے اس فورم میں ہونے والے فیصلے اہمیت کے حامل ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکا نے بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے اس فورم کے توسّط سے ایران کے ساتھ تنازعات ختم کروانے کی کوشش کی ہوگی اور اس سے قبل ٹرمپ اور شی جِن پِنگ کے مابین ملاقات بھی ہوئی تھی، جس میں آبنائے ہُرمز کے معاملے پر کُھل کر بات چیت کی گئی تھی اور اس موقعے پر ایران کے وزیرِ خارجہ بھی موجود تھے۔

جب دوممالک کےدرمیان جنگ ہوتی ہے، تو اُن ممالک کے عوام اور حمایتی جذباتی ہوجاتے ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دوران فریقین کے بیانات پر آنکھیں بند کرکے یقین کرلیا جائے، کیوں کہ جنگ کے دوران متحارب ریاستوں کی جانب سے زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنے کے لیے پروپیگنڈا بھی کیا جاتا ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جنگ جیتنے والی حکومت تاقیامت قائم رہے، کیوں کہ عوام کے صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔

ہمارے ذرائع ابلاغ میں تواتر سے یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ امریکی شہری ایران کے خلاف جنگ سے اُکتا چُکے ہیں اور امریکا میں ٹرمپ کی مقبولیت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ ان خبروں میں کسی حد تک صداقت ہوسکتی ہے، لیکن کیا ہم گزشتہ 6 ماہ سے جنگ کا سامنا کرنے اور برسوں سے اقتصادی پابندیاں جھیلنے والے ایرانی باشندوں کے خیالات و جذبات سے کماحقہ واقفیت رکھتے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ ہمیں امریکی عوام کے جذبات کاتواحساس ہے لیکن اپنے پڑوسی اور برادر مُلک کے حالات سے نابلد ہیں۔

ہمیں اس معاملے پر سنجیدگی سے غور وفکر کرنا چاہیے۔ یاد رہے، جنگ کے نقصانات کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں، جو اس مرحلے سے گزرے ہوں اور اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہی ایس سی او کے رُکن ممالک نے ایران سے اظہارِ ہم دردی کیا، جب کہ اعلامیے میں یوکرین جنگ کا ذکر تک نہیں۔ اب ایرانی حکومت اور طاقت وَرحلقوں کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ اسلامی ممالک اورایس سی او انہیں اس دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں اور اب انہیں خُود ہی فیصلہ کُن اقدامات کرنا ہوں گے۔

ایران، امریکا اور یوکرین کی جنگوں کے سبب تیل کی قیمتوں میں ناقابلِ برداشت حد تک اضافہ ہوچُکا ہے اور اِسی سبب ہونے والی ہوش رُبا منہگائی نے پاکستانی عوام کی کمر توڑ کررکھ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب جنگ میں فریقین کی فتح وشکست سے زیادہ مُلکی معیشت اہمیت اختیار کر چُکی ہے۔

دوسری جانب مُلکی قرضے نے تمام سابقہ ریکارڈز توڑ ڈالے ہیں اور پاکستان نے امریکا سے، جس سے پاکستانی عوام نفرت کا اظہار اور ہر وقت اُس کی تباہی کی دُعائیں کرتے رہتے ہیں، 10ارب روپے امداد کی درخواست کی ہےتاکہ مُلکی معیشت کو کسی بڑے بحران سے بچایا جاسکے۔ یاد رہے، معیشت صرف بیانات اور نیک خواہشات سے ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ اس مقصد کے لیے دن رات لگاتار محنت کرنی پڑتی ہے۔

ابھی تک کسی غیرجانب دار ماہرِ معیشت نے ہمارے مُلک کی اقتصادی حالت تسلّی بخش قرار نہیں دی اور نہ ہی آئی ایم ایف کےحوصلہ افزا تبصرے اور ورلڈ بینک کی خوش خبریاں عوام کے درد کا درماں ثابت ہو رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب عوام کُھلے عام کہنے لگے ہیں کہ دوسرے ممالک کے تنازعات ختم کرنے کی بجائے اپنا گھردُرست کریں۔ اپنے گردوپیش امن قائم کریں۔ نئے تنازعات میں نہ اُلجھیں بلکہ پرانی دُشمنیاں ختم کریں۔

سچ تو یہ ہے کہ ہم نےاپنی قوم کو جذباتی نعروں، ملّی نغموں اور جنگی ترانوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ دُنیا ہماری سفارت کاری کی معترف ہے لیکن اس کے بدلے ہمیں کیا ملا؟ آج کوئی بھی مُلک اُس وقت تک کوئی بڑا قدم نہیں اُٹھاتا، جب تک اُسے اپنے مفادات پورے ہونے کا یقین نہ ہو۔ ہمارے پالسی سازوں نے بِلا سوچے سمجھے ہر جگہ سینگ پھنسانا اپنا وتیرہ بنا لیا ہے۔ اس ضمن میں افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

ہم 50سال تک افغانوں کے گُن گاتے اور اُن کے لیے لڑتے مَرتے رہے لیکن جب وہ آزاد ہوئے اور انہیں حکومت ملی، تو پتا چلا کہ وہ ہمارے سب سے بڑے دُشمن ہے اور ہمارے ازلی دشمن، بھارت کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ نیز، دہشت گرد اور علیحدگی پسند پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں لیکن کیا کبھی کسی نے یہ سوچا کہ ہمارے جن نام نہاد رہنماؤں اورعالی دماغ افراد نے، قوم کو جہاد کے نام پر افغان جنگوں میں اُلجھا کر مُلکی معیشت برباد اور معاشرہ تقسیم کیا، اُن کا احتساب بھی ہونا چاہیے۔

آج مُلک بَھرمیں نئےصوبوں کی بحث چِھڑچُکی ہے۔ ایک طبقے کا ماننا ہے کہ نئے صوبے نہیں بنیں گے، تو مُلک تباہ ہو جائے گا، جب کہ دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ جان دے دیں گے لیکن نئے انتظامی یونٹس نہیں بننے دیں گے۔ دوسری جانب ہم عظیم پاکستانی قوم کے گُن بھی گاتے ہیں اور متحارب ممالک کے درمیان ثالثی بھی کرواتے پِھر رہے ہیں، حالاں کہ ہم اپنے مُلک میں مخالف نقطۂ نظر سُننے تک کے روادار نہیں۔ کیا ہمارے پڑوسی مُلک، بھارت میں نئے انتظامی یونٹس بنانے پر اخلاق سےحد درجہ گرے ہوئے بحث مباحثے ہوئے؟

کیا دیگر ممالک نئے صوبے وجود میں آنے پر شکست و ریخت کا شکار ہوگئے یا انہوں نے مزید ترقّی کی؟ ہم بھارت کے سندھ طاس معاہدہ معطّل کرنے پر خون کی ندیاں بہانے کی باتیں کرتے ہیں، جب کہ اندرونِ مُلک حال یہ ہے کہ نئے ڈیمز بنانے یا نہریں نکالنے کو ہم زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔

صوبائی حکومت کی غفلت کے سبب کراچی جیسا معاشی حب کھنڈر میں تبدیل ہوگیا اور بم باری کے بغیر ہی غزہ کا منظر پیش کررہا ہے لیکن مجال ہے کہ کسی کے کانوں پر جُوں تک رینگ جائے مگر پاکستانی قوم پھر بھی عظیم قوم ہے۔ ایسے میں اگر مُلک کو درپیش مسائل کا حل بتایا جائے، تو وزراء اور حُکّام اسے خاطر ہی میں نہیں لاتے اور خُود کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں۔

بہرکیف، شنگھائی تعاون تنظیم ہو یا مکّہ معاہدہ، ان دونوں بین الاقوامی پلیٹ فارمز کا مطمحِ نظر امن وترقّی ہے۔ اس ضمن میں ہمیں چین سے سبق سیکھنا چاہیے، جس کے ہم دن رات قصیدے پڑھتے رہتے ہیں۔ چین نے ایس سی او اور بِرکس بینک اس لیے قائم کیےکہ اس کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو عالمی پذیرائی ملے اور اس کے ساتھ ہی مُلک کی جڑیں اقتصادی و دفاعی طور پر مضبوط ہوں۔ دوسری جانب چین کبھی کسی مُلک کے ساتھ جنگ میں نہیں الجھتا۔

گرچہ تائیوان اور انڈو چائنا سی سمیت دیگر معاملات پراس کی جاپان، امریکا اور دیگر ممالک سے چپقلش قائم ہے، لیکن کسی بھی مشترکہ اعلامیے میں ان تنازعات کا ذکر تک نہیں ملتا۔ چین صرف اقتصادی برتری پر یقین رکھتا ہے لیکن ہمارے بعض تجزیہ کار اور ماہرین اسے زبردستی ایک جارح مزاج فوجی طاقت بنانے پرتُلے ہیں۔ آخر لاعلمی اور خوش فہمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ کیا ہم نے سانحۂ مشرقی پاکستان فراموش کر دیا ہے؟

بلاشُبہ آج چین جدید جنگی ہتھیار اور دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کررہا ہے لیکن یہ سب کسی سے لڑنےکے لیے نہیں بلکہ اپنا تحفّظ یقینی اور اپنا عالمی مقام پائے دار بنانے کے لیے ہے۔ علاوہ ازیں، چین کے پاس ایٹم بم بھی ہے۔ اس کا خلائی پروگرام مریخ تک پہنچ چُکاہے۔ انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت پر اسے مثالی مہارت حاصل ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آج بھی وہ برآمدات کی دُنیا پر راج کرتا ہے۔

چین نے سی پیک منصوبے کے تحت ہماری خاصی مدد کی ہے۔ اس نے ہمارا انفرااسٹرکچر بہتر بنانے کے لیے اربوں ڈالرزکی سرمایہ کاری کی لیکن کیا کوئی یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ ہم نے اس سے اس قدر فائدہ اٹھایا، جتنا اُٹھانا چاہیے تھا؟ کیا آج عالمی اقتصادی مارکیٹ میں ہمارا کوئی قابلِ ذکر مقام ہے؟

ہماری تو یہ حالت ہے کہ اگر ایران جیسا پابندیوں میں جکڑا مُلک آبنائے ہُرمز بند کر دے، تو ہم ایک ماہ بھی تیل کی قیمتیں مستحکم نہیں رکھ سکتے۔ کہنے کو ہم برادر مُلک ہیں لیکن کیا کبھی کسی نے ایران سے یہ پوچھا کہ یہ برادرانہ تعلقات ہمارےعوام کےکام کب آئیں گے؟ آج ہمارے چاروں اطراف جنگیں بھی جاری ہیں اور غیر معمولی اقتصادی ترقّی بھی لیکن ہمارے مُلک کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ جو لوگ پہلے تھوڑی بہت بہتری کی امید رکھتے تھے، اب وہ بھی مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔

کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ ہم پانی کے بہاؤ کی مخالف سمت ہی میں کیوں تیرتے ہیں۔ آج حکومت کے پاس کوئی ایسا ویژنری پلان نہیں کہ جس کے ذریعے وہ عوام کوحوصلہ دے سکے۔ اگر نئے صوبے بنانے ہیں، تو ضرور بنائیں۔ یاد رہے، زمین نہیں، لوگ اہم ہیں۔ آج عوام کے پاس بُھوک، افلاس کے سوا کچھ بھی نہیں، جب کہ ہم انہیں جذباتی نعروں سے لبھانے کی کوشش کر رہے ہیں، حالاں کہ اب یہ چال بہت پُرانی ہوچُکی ہے۔

اگر ہم موجودہ چار صوبوں ہی کو ترقّی یافتہ اورخوش حال بناتے، تو کوئی بھی نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بات نہ کرتا۔ اصل ترقّی مُلک و قوم کی خوش حالی ہے۔ انتظامی تبدیلیوں کو زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ اگر بڑے یا چھوٹے یونٹس بنانے سے ترقّی ہو رہی ہے اور شہریوں کا معیارِ زندگی بلند ہورہا ہے، تو پھراشتعال میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

ایک خوش حال وطن سے، جس میں سب ہنسی خوشی رہیں، زیادہ کسی بھی شخص، لیڈر یا ریاست کا کیا مقصد ہوسکتا ہے۔ آج ہمارے چاروں اطراف تبدیلیاں رُونما ہورہی ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ ازلی و ابدی دشمنیوں کو خیرباد کہا جائے۔ ترقّی کے لیے تعاون کا منشور بنایا جائے۔ ذرا لوگوں سے پوچھیں کہ وہ اپنا مُلک چھوڑ کر کون سا خواب پورا کرنے جارہے ہیں۔

اگر انہیں اپنی سرزمین اتنی ہی عزیز ہے، تو پھر وہ اپنا مُلک کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ کیوں سمندروں میں اپنی جانیں گنوا رہے ہیں؟ وہ کون سے خواب ہیں، جو یہاں پورے نہیں ہورہے؟ کیا ہماری حکومت، اہلِ دانش اور ماہرین اُن کے یہ خواب اِسی پاک سرزمین پر پورے نہیں کرسکتے۔ اگر اب بھی ہم نے اپنی زبوں حالی کے ان عوامل پر غور نہیں کیا، تو پھر خاکم بدہن، مزید تباہی ہمارا مقدّر ٹھہرے گی۔

سنڈے میگزین سے مزید