• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر رضا کیس: احمد بھردے کے میڈیا انٹرویوز کمیشن کارروائی سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار

میر رضا : فائل فوٹو
میر رضا : فائل فوٹو 

 میر رضا کیس میں  کمیشن نے آج کی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا، جس میں کہا گیا کہ احمد بھردے کے میڈیا انٹرویوز کمیشن کارروائی سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔

 حکمنامے میں کہا گیا کہ عمیر، علی شاز، کاظم حسین، احمد حسن اور ڈی جی ہیلتھ سروسز پرویز شیخ کے بیانات ریکارڈ ہوئے، ڈی جی ہیلتھ سروسز نے میڈیکل بورڈ کی تبدیلی اور تشکیل کی دستاویزات پیش کیں، احمد بھردے کو میر رضا کی فیملی کے سوالات کا جواب اور معلومات دینے کا موقع دیا، احمد بھردے کمیشن کے سامنے دیے گئے بیانات سے زیادہ کچھ نہیں بتا سکے، احمد بھردے کو مستقبل کے حوالے سے تنبیہ کی جاتی ہے۔

کمیشن کے حکمنامہ میں کہا گیا کہ احمد نے حلف نامے کے ذریعے کمیشن کو معلومات فراہمی کا موقع بھی استعمال نہیں کیا۔

میر رضا کے پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے، صحافی سے موبائل فون چھیننے والے وکیل نے معذرت کی جسے صحافی نے قبول کیا، ڈاکٹر اسامہ نے وضاحت دی کہ وہ میر رضا کی موت کو خودکشی قرار دینا نہیں چاہتے تھے، ڈاکٹر اسامہ کے مطابق وہ گولی سینے میں لگنے کے موقف کی وضاحت کرنا چاہتے تھے، محسوس کیا کہ ڈاکٹر اسامہ کے مزید بیان کا مقصد پولیس سرجن اور سی ایم پر الزام تراشی ہے، کمیشن کو الزام تراشی کا فورم نہیں بننے دیا جائے، کمیشن کے پاس کیس کے حقائق، غفلت کا تعین کرنے کیلئے کافی معلومات موجود ہیں۔

حکمنامے میں کہا گیا کہ میر رضا کی منگیتر نے موبائل فون لیے جانے اور تفتیشی افسر کی جانب سے ڈیٹا منتقل کیے جانے سے آگاہ کیا، کمیشن ڈی ایس پی سراج لاشاری کے بیان کے دوران ان سے سوال کرے گا۔

کمیشن نے اے ایس پی ندا، آصف، عابد، فیض الرحمان اور صارم کو 22 ستمبر کیلئے نوٹس جاری کر دیے۔

کیس کا پس منظر:۔

خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔

مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔

میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی 4 اگست کو جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں کی گئی تھی۔

پروگرام میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میر رضا علی کے والد کے سامنے دوبارہ پوسٹ مارٹم کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ پروگرام میں بات کرتے ہوئے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میر رضا علی کے والد، دونوں نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

بعد ازاں عدالتی حکم کے بعد میر رضا کی 8 اگست کو قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد اسی دن دوبارہ تدفین کردی گئی۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی، جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے، میر رضا علی کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، سر اور چہرے پر زخموں کے متعدد نشانات پائے گئے، جسم پر کالے دھبے بھی تھے۔

رپورٹ کے مطابق میر رضا کے پاؤں پر بھی زخم کے نشان ہیں، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر بھی خون کے دھبے ہیں، رپورٹ میں میر رضا کی دائیں ران پر تقریباً 12 سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم کی نشاندہی ہوئی ہے۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جبڑے کے حصے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد ملے ہیں، ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں پائی گئیں۔

قومی خبریں سے مزید