میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ، سربراہ میڈیکل بورڈ پروفیسر نسیم کو پیشی کے نوٹس جاری کردیے، آج کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔
کمیشن کے آج کی سماعت کے تحریری حکم کے مطابق حیثم، رازق، ایس ایچ او کامران قریشی کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، ابتدائی گواہوں کے بیانات کمیشن کو فراہم نہیں کیے گئے۔
تحریری حکمنامے کے مطابق پہلی سماعت پر پولیس کو ضابطہ فوجداری کے تحت گواہوں کے بیانات کی ہدایت کی تھی، کمیشن کی ہدایات کے باوجود عملدرآمد نہیں کیا گیا، یکم ستمبر کو ریکارڈ کیے گئے رازق اور حیثم کے 161 کے بیانات آج جمع کروائے گئے، پولیس کے مطابق بیانات کے سوا ریکارڈ میں کوئی دستاویز نہیں جو فراہم کی جا سکیں۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے یقین دہانی کروائی کہ تمام ریکارڈ فراہم کیا جاچکا ہے، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ انکوائری کریں کہ کوئی رپورٹ رہ تو نہیں گئی، اگر ایسی رپورٹس ہیں تو سیل شدہ حالت میں پیش کی جائیں، ایس ایچ او عدیل افضال اور ہیڈ محرر ذیشان آئندہ سماعت پر لازمی پیش ہوں۔
جوڈیشل کمیشن کی آئندہ کارروائی 8 ستمبر کو ہوگی۔
خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔
مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔
میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی 4 اگست کو جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں کی گئی تھی۔
پروگرام میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میر رضا علی کے والد کے سامنے دوبارہ پوسٹ مارٹم کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ پروگرام میں بات کرتے ہوئے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میر رضا علی کے والد، دونوں نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
بعد ازاں عدالتی حکم کے بعد میر رضا کی 8 اگست کو قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد اسی دن دوبارہ تدفین کردی گئی۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی، جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے، میر رضا علی کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، سر اور چہرے پر زخموں کے متعدد نشانات پائے گئے، جسم پر کالے دھبے بھی تھے۔
رپورٹ کے مطابق میر رضا کے پاؤں پر بھی زخم کے نشان ہیں، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر بھی خون کے دھبے ہیں، رپورٹ میں میر رضا کی دائیں ران پر تقریباً 12 سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم کی نشاندہی ہوئی ہے۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جبڑے کے حصے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد ملے ہیں، ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں پائی گئیں۔