وہ کوئی نام وَر ادیب نہیں تھا، بس چھوٹے چھوٹے مضامین مختلف رسائل و جرائد میں لکھ کر بھیجتا رہتا اور وہ شائع بھی ہوجاتے، مگر اب اُس نے کئی سال کی محنت کے بعد ایک ناول لکھا تھا اور چاہتا تھا کہ اُس کا یہ اولین ناول لوگوں میں اتنی مقبولیت حاصل کرلے کہ وہ گم نامیوں کے اندھیروں سے نکل کر شہرت کے بامِ عروج تک پہنچ جائے، اس کا شمار مُلک کے نامی گرامی ناول نگاروں، ادیبوں میں ہونے لگے۔ ناول مکمل ہوچُکا تھا، اصل مسئلہ اُس کی اشاعت کا تھا۔ وہ کئی پبلشرز کے پاس اپنا مسوّدہ لے کر گیا، مگر کسی نے بھی درخورِ اعتنار نہ جانا۔
کوئی بھی اُس جیسے غیر معروف ادیب کا ناول چھاپنے کو تیار نہ تھا، حتیٰ کہ کسی نے مسوّدہ پڑھنے تک کی زحمت نہ کی، اتنی ناقدر شناسی نے اُسے دل برداشتہ کردیا تھا۔ ناول پر کی گئی ساری محنت اکارت جانے کا خدشہ تھا۔ بالآخر اُس نے ایک ایسے پبلشر کے پاس جانے کا فیصلہ کیا، جو خُود بھی اُس کی طرح غیرمعروف تھا۔ غیر متوقع طور پر پبلشر نے اُس سے یہ کہہ کر مسوّدہ لے لیا کہ وہ چند روز میں اُسے بتائے گا کہ یہ ناول چَھپ سکتا ہے یا نہیں۔
اُسے ناول کا مسوّدہ دیئے کافی روز ہوچُکے تھے، مگر بار بار پوچھنے پر ایک ہی جواب ملتا کہ ابھی پڑھا نہیں۔ آج وہ خُود چل کے پبلشر کے پاس گیا، مگر مایوسی ہی ہوئی، وہ واپسی پر ایک بُک اسٹال کے پاس سے گزر رہا تھا کہ اچانک اُس کی نگاہ سامنے ہی ریک پر رکھے ایک خُوب صُورت کور والے ناول پر پڑی۔ اُس کا ٹائٹل اتنا دل کش تھا کہ اُس نے بے اختیار لپک کے اُٹھالیا۔ صفحات پلٹے تو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔
وہ تو اُسی کا ناول تھا۔ اُس کا ناول چھپ چُکا تھا۔ ’’تو پھر پبلشر نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا، ایسا مذاق کیوں کیا؟‘‘ وہ خُود ہی سے گویا تھا۔ وہ تیزی سے ناول کے صفحات پلٹ رہا تھا، اپنی تحریر کو لفظ بہ لفظ یوں جگمگاتا دیکھ کر وہ اس قدر خوش تھا کہ ٹائٹل پر نمایاں نام تک پر غور نہ کیا اور پھر اچانک جیسے اُس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا، پیروں تلے زمین نکلتی محسوس ہوئی، کیوں کہ ناول پر مصنف کا جو نام درج نہ تھا، وہ اُس کا نہیں، مُلک کے ایک مشہور و معروف ادیب کا تھا۔ (ڈاکٹر اطہر رانا، فیصل آباد)