• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاہد اے خان

دورِحاضر کا انسان خود کو واٹس ایپ، انسٹاگرام، ٹوئٹر، ٹک ٹاک، فیس بُک اور دیگر سوشل میڈیا ایپس کے بغیر نا مکمل محسوس کرتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج لوگوں نے سوشل میڈیا کے ساتھ گہرا سماجی و ثقافتی رشتہ قائم کرلیا ہے۔

بلا شبہ، جدید ایجادات کی مدد سے مشکل سے مشکل کام بآسانی پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن جب ہر دوسرا شخص خواہ وہ گھر میں ہو یا کسی محفل میں ہر وقت ان موبائل ایپلی کیشنز میں گُم نظر آتا ہے ،خصوصاً چھوٹے بچّوں کا ہر وقت موبائل میں مصروف رہنا، کسی سے بات چیت نہ کرنا کافی تشویش ناک امر ہے ۔

آپس کا میل جول، ایک دوسرے کا خیال رکھنا، دکھ درد میں شریک ہونا، ہم دردی کرنا، دلاسا دینا، مشکل وقت میں کام آنا اور کسی کے آنسو پونچھنا، ہماری تہذیب وثقافت، معاشرتی اقدار کے اجزائے ترکیبی ہیں اور ان معاشرتی اچھائیوں کو نئی نسل تک پہنچانا ہماری اولین ذمّے داری ہے۔

یہ سچ ہے کہ آج کی دنیا سوشل میڈیا کی اسیر ہے اور وطنِ عزیز بھی اس معاملے میں کسی سے ہرگز پیچھے نہیں ہے۔ ہمارے یہاں مردوخواتین، بچّے، بوڑھے ،جوان سب ہی اپنا اچھا خاصا وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں، بالخصوص نوجوان نسل کے دل و دماغ پر تو گویا ایک جنون سوارہو چکا ہے۔

ٹک ٹاک، ریلز وغیرہ پر قیمتی وقت بے دریغ ضائع کیا جا تا ہے۔ آن لائن جھوٹے سچے تعلقات، دوستیاں بڑھائی جاتی ہیں، لیکن حقیقی زندگی میں ایک دوسرے سے دُور ہوتے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہمارے اردگرد بہت سے ایسے افراد ہیں، جو سوشل میڈیا پر تو بہت زیادہ متحرک ہوتے ہیں، لیکن حقیقی زندگی میں کسی سے ملنا جلناپسند نہیں کرتے، کسی سے بات چیت میں پہل کرنے کو توہین سمجھتے ہیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ سوشل میڈیا نے انسان کو تنہا اور اپنی اپنی اناؤں کا قیدی بنا دیا ہے، تو غلط نہیں ہوگا۔ آج ہماری زندگیوں میں احساسات کی جگہ ایموجیز نے لے لی ہے۔ ذات کے حصار میں قید لوگ کسی کے غم، خوشی یا دیگر جذبات واحساسات کو لائیک اور کومنٹ کے ترازو میں تولنے لگے ہیں۔ ان باتوں سے یہ نتیجہ ہرگز نہ نکالا جائے کہ سوشل میڈیا کا استعمال سراسر غلط ہے۔

نہیں، کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال درست طور پر کیا جائے۔ یوں تو ہر معاملے ہی میں اعتدال کی راہ اپناناہی بہتر رہتا ہے۔ لیکن خاص طور پر سوشل میڈیا کے ضمن میں یہ احتیاط ناگزیر ہے۔ جیسا کہ عموماً والدین نے اپنے بچّوں کے لیے موبائل فون کو ایک کھلونا بنا کے رکھ دیا ہے۔ بچّہ کھانا نہیں کھا رہا، موبائل دے دو ،زیادہ تنگ کررہا ہے ،کوئی کارٹون لگا دو۔

شرارتیں کررہا ہے ،موبائل دے دو ،کام نمٹانے ہیں، بچّے کو موبائل میں مصروف کردو۔ غر ض یہ کہ اب والدین کو ہر مشکل کا حل موبائل فون نظر آتا ہے اور یہ طرزِعمل انتہائی فکر انگیز ہے۔ 

بے شک سوشل میڈیا کے کچھ مثبت پہلو بھی ہیں، لیکن ہم زیادہ تر منفی استعمال ہی میں دل چسپی رکھتے ہیں، نتیجتاً چھوٹے چھوٹے بچّے اسکرین کے اس قدر عادی ہوگئے ہیں کہ اب بات عادت سے بڑھ کر علّت تک پہنچ چکی ہے۔

لہٰذا سب سے پہلے تو خود والدین کو اپنے رویّوں میں فوری اصلاح کی ضرورت ہے۔ وہ نہ صرف بچّوں کا بلکہ اپناا سکرین ٹائم بھی فوری محدود کریں۔ چوں کہ بچّے، بڑوں ہی سے سیکھتے ہیں۔ اس لیے پہلے خود والدین کو مثا ل بننا ہوگا۔ اگر مثبت استعمال پر فوکس رکھ سکتے ہیں، تو ٹھیک، وگرنہ دوری اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ دیکھا جائے تو، سوشل میڈیا ایک مایا جال ہے۔

سو، کوشش کریں، نہ خود اس جال میں پھنسیں اور نہ ہی اپنے بچّوں کو پھنسنے دیں اور بلا شبہ جو والدین اس مقصد میں کام یاب ہوگئے، وہ اپنے بچّوں کو مستقبل کا اچھا انسان، معاشرے کا بہتر فرد بنانے میں کام یاب ہو جائیں گے۔

سنڈے میگزین سے مزید