جنوب مغربی یورپ کا خشکی سے گِھرا ایک خُود مختار ملک ’’انڈورا‘‘ جس کی سرحدیں فرانس اور اسپین سے ملتی ہیں۔ اگرچہ یہ ریاست اپنے 468 مربع کلومیٹر کے رقبے کے ساتھ عالمی نقشے پر دنیا کی چھوٹی ترین ریاستوں میں سے ایک ہے، لیکن مائکرو اسٹیٹس کی دنیا میں یہ یورپ کی سب سے بڑی ریاست ہونے کا منفرد اعزاز اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔
اس کے بالمقابل، محض 0.44مربع کلومیٹر پر محیط ویٹیکن سٹی دنیا کی سب سے چھوٹی مائکرو اسٹیٹ مانی جاتی ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے انڈورا کی پہچان اس کے بلند و بالا اور پرپیچ پہاڑی سلسلے ہیں، جن کی چوٹیاں 2942 میٹر کی بلندی تک آسمان کو چُھوتی ہیں۔
فرانس اورا سپین کے درمیان ایک طویل کوہستانی سلسلے وادی پائرینیز کے درمیان انتہائی بلندی پر واقع یہ خُوب صُورت ریاست، اپنے دیو مالائی اور سحر انگیز حُسن کی وجہ سے سارا سال دنیا بھر سے آئے سیّاحوں کی توجّہ کا مرکز بنی رہتی ہے۔ فطرت کے اس دل فریب کینوس پر بکھرے حسین مناظر کسی طلسماتی داستان کا حصّہ معلوم ہوتے ہیں، جو سیّاحوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں، اور سیّاحت کی یہی صنعت، اس دیومالائی ریاست کا سب سے بڑا اور واحد معاشی ذریعہ بھی ہے۔
سیّاحت کی دنیا میں یہ خطّہ اس قدر مقبول ہے کہ سالانہ ایک کروڑ سے زائد سیّاح اس کے حُسن کے سحر میں گرفتار ہوکر یہاں کا رُخ ہیں۔ کم ترین شرحِ ٹیکس کی بدولت یہاں کے مالیاتی ادارے ملکی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
تاہم، سیّاحت کے فروغ کی غرض سے یہاں کسی بھی قسم کا کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔ جغرافیائی اعتبار سے یہاں زراعت کے لیے کُل رقبے کا محض دو سے تین فی صد حصّہ ہی قابلِ کاشت ہے، جس کے باعث بیش تر غذائی اجناس کے لیے پڑوسی ممالک پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
البتہ، مقامی طور پر تمباکو کی کاشت کی جاتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ تمباکو سے تیار کردہ سگار اور لکڑی کا فرنیچر یہاں کی واحد برآمدات (ایکسپورٹس) ہیں۔ مزید برآں، اس خطّے کے قدرتی وسائل میں منرل واٹر، پن بجلی، لکڑی، لوہا اور سیسہ نمایاں ترین ہیں۔ انڈورا ایک انوکھا مُلک ہے، جہاں کوئی ایئرپورٹ، بندرگاہ یا ریلوے اسٹیشن موجود نہیں۔ سیّاح فرانس اور اسپین کے ہوائی اڈوں سے تین گھنٹے کا زمینی سفر طے کر کے یہاں پہنچتے ہیں۔
خشکی سے گِھرے خود مختار ملک انڈورا کادارالحکومت ’’لاویلا‘‘ ہے اور اس چھوٹے سے مُلک کی کُل آبادی88,883افراد پر مشتمل ہے۔ سطحِ سمندر سے 1,023میٹر کی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ یورپ کا بلند ترین دارالحکومت اور اقوام ِمتحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں کا باقاعدہ رکن بھی ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے یورپ میں واقع اس ریاست کی سرکاری کرنسی یورو اور قومی زبان کاتالان (قیطونی) ہے، جب کہ کثیراللسانی ماحول کے باعث یہاں ہسپانوی، فرانسیسی اور پُرتگالی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔
ریاستی امور اور انتظامی سطح پر کاتالان زبان کو فوقیت دی جاتی ہے۔ حکومت کی جانب سے تارکینِ وطن کو کاتالان زبان مفت سکھانے کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جب کہ انگریزی کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم تاریخی پس منظر کے باعث عوام ہسپانوی، فرانسیسی اور پُرتگالی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔اگرچہ یہاں کا کوئی سرکاری مذہب تو نہیں، لیکن کُل آبادی کے 90فی صد رومن کیتھولک، اور باقی 10فی صدمسلمان، ہندو اور بہائیوں پر مشتمل قومیت کے لوگ ہیں۔
1278 ء میں قائم ہونے والی اس ریاست کو بہ لحاظِ حُکم رانی یہ انفرادیت حاصل ہے کہ اس پر دو شریک شہزادے حکم رانی کرتے ہیں۔ ایک اسپین کے بشپ آف آرگیل، جو دنیا کے واحد بشپ شہزادے ہیں اور دوسرے فرانس کے صدر ایمانوئیل میکروں، جنہیں ریاست کا قانونی جاں نشیں سمجھا جاتا ہے۔ چناں چہ ایک معاہدے کے تحت انڈورا کے دفاع کی ذمّے داری فرانس اور اسپین دونوں کے ذمّے ہے۔
پہلی جنگِ عظیم میں انڈورا نے جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ تو کیا، لیکن حملہ کرنے سے گریز کیا۔ بعدازاں، 1933ء میں انتخابات سے قبل ہونے والی بے چینی کے سبب فرانس نے اسے کسی مشکل سے بچانے کے لیے اس پر قبضہ کرلیا۔ 1957ء تک انڈورا اتحادی ممالک کا حصّہ رہا، لیکن مجموعی طور پر اس نے خودکو غیر جانب دار رکھا۔ چناں چہ فرانس، جرمنی اور اسپین کے علاوہ اس کے تعلقات کم ہی مُمالک سے رہے۔
بالآخر، دنیا کی بڑھتی ہوئی ترقی کے پیشِ نظر اس نے اپنی پالیسیز کا ازسر جائزہ لینے کے بعد اپنی سیّاحت کو منظم کرنا شروع کیا اور یوں تاریخ میں پہلی مرتبہ اُس کے دیگر مُمالک سے روابط قائم ہونا شروع ہوئے۔ اور1993ء میں باقاعدہ طور پر یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کی کاؤنسل میں شمولیت اختیارکرنے کے بعد وہ جدید سیاسی نظام کا حصّہ بن گیا۔ انڈورا کا پارلیمانی نظام بھی کچھ مختلف اور دل چسپ ہے کہ فرانس کا منتخب صدر انتخابات کے بعد خود بخود انڈورا کا شہزادہ بھی بن جاتا ہے، حالاں کہ انڈورا کے عوام اس انتخاب میں سرے سے حصّہ ہی نہیں لیتے۔
ریاست میں کاؤنسلرز پر مشتمل پارلیمانی نظام قائم ہے، جسے جنرل کاؤنسل کہا جاتا ہے۔ یہ کاؤنسل28سے 42کاؤنسلر پر مشتمل ہوتی ہے۔ کاؤنسلر کا انتخاب چار سال کے لیے ہوتا ہے، جو پچھلی کاؤنسل کے تحلیل ہونے کے دو ہفتے کے اندر منتخب ہوتی ہے۔ کاؤنسلرز کے انتخاب کے بعد تیس دن کے اندر وزیر اعظم کا انتخاب اکثریت کی بنیاد پر کاؤنسلرز کرتے ہیں۔
سالانہ بجٹ اور نئے قانون کی منظوری کاؤنسلرز اکثریت سے کرتے ہیں، تاہم بجٹ اور نئے قوانین کی منظوری شہزادوں کی منظوری سے مشروط ہوتی ہے۔ اگر وزیرِ اعظم کاؤنسل سے مطمئن نہ ہو، تو وہ شہزادوں سے درخواست کرکے کاؤنسل تحلیل کرواسکتا ہے، اسی طرح اگر کاؤنسل وزیرِ اعظم سے مطمئن نہ ہو، تو وہ شہزادوں سے درخواست کر کے وزیر اعظم کو برطرف کرواسکتی ہے، جس کے لیے اسے رائے شماری کے ذریعے اپنی اکثریت ظاہر کرنا پڑتی ہے۔