اسلامی تعلیمات میں خواتین کے تقدّس، تکریم اور حقوق کی ادائی پر بہت زور دیا گیا ہے۔ تاہم، یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں اُنھیں اُن کا جائز مقام حاصل نہیں۔ خصوصاً رقبے کے لحاظ سے مُلک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کی صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے، جہاں پس ماندگی اور روایتی بندشوں کے باعث خواتین بنیادی حقوق (تعلیم اور صحت) سے بھی محروم ہیں۔
قبائلی روایات اور فرسودہ رسم و رواج نے نصف آبادی کو چار دیواری تک محدود کر رکھا ہے۔ شرح ِخواندگی انتہائی کم ہونے کی وجہ سے خواتین کو شدید سماجی و معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے بلوچستان کے میدانی اضلاع، خصوصاً ضلع اوستا محمد، جعفرآباد، نصیرآباد اور جھل مگسی اپنی تاریخی، ثقافتی اور زرعی اہمیت کے باوجود کئی سنگین سماجی مسائل کا شکار ہیں۔
موجودہ سماجی منظرنامے میں گھریلو تشدّد، غیرت کے نام پر قتل، کم عُمری میں شادیوں کے رجحان، تعلیم سے محرومی، ناقص طبّی سہولتیں، غربت اور ناخواندگی جیسے سنگین مسائل نے معاشرے کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ چیلنجز محض صنفی تفریق کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ مجموعی قومی ترقی اور خوش حالی کی راہ میں ایک بڑی دیوار ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی اُسی وقت ممکن ہوتی ہے، جب مرد و خواتین، دونوں کو تعلیم و صحت اور تحفّظ کے مساوی مواقع میسّر ہوں۔ اگر خواتین عدم تحفّظ، تشدّد اور جہالت کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوں، تو اس معاشرے میں ترقی کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
گھریلو تشدّد.....خاموش، سنگین المیہ: گھریلو تشدد محض جسمانی تشدّد تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ذہنی، نفسیاتی، معاشی اور جذباتی استحصال بھی شامل ہے۔ بلوچستان کے دُور دراز اور دیہی علاقوں میں متعدد خواتین ان خاموش مظالم کا شکار ہونے کے باوجود حالات کے آگے گُھٹنے ٹیکنے اور چُپ رہنے پر مجبور ہیں۔
ان بنیادی وجوہ میں خاندانی دباؤ، مَردوں پر معاشی انحصار، فرسودہ قبائلی روایات، سماجی بدنامی کا خوف اور قانون سے آگاہی کا فقدان سرِفہرست ہیں۔ان گمبھیر حالات کے نتیجے میں خواتین شدید ذہنی دباؤ، ڈیپریشن، اضطراب اور مختلف جسمانی بیماریوں کی لپیٹ میں آرہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ایسے پُرتشدّد ماحول میں پرورش پانے والے بچّے بھی خوف اور عدم اعتماد کا شکار ہوجاتے ہیں، اور وہ تشدّد کو ایک معمول سمجھنے لگتے ہیں۔ اس سنگین صورتِ حال کا سب سے الم ناک پہلو یہ ہے کہ تشدّد کی یہ زہر آلود روایت اگلی نسلوں تک منتقل ہوکر معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہے۔
غیرت کے نام پر قتل.....انسانیت کے خلاف ایک گھناؤنا جرم: خاندانی روایات کی مبیّنہ پاس داری یا انَا کی بھینٹ چڑھتی خواتین، جنہیں غیرت کے نام پر قتل جیسے الَم ناک جرائم کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہمارے معاشرے کے ماتھے پر ایک کلنک ہیں۔ بسا اوقات محض پسند کی شادی، خاندانی تنازعات یا بے بنیاد اور فرضی الزامات کی بنیاد پر عورت کی زندگی کا چراغ گُل کر دیا جاتا ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے قانون اور اخلاقیات کے سراسر منافی ہے۔
شریعتِ اسلامیہ میں کسی بھی بے گناہ انسان کا خون بہانا قطعی طور پر حرام اور کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے، جب کہ ملکی آئین بھی اس سفّاکانہ فعل کو ایک ناقابلِ معافی جرم تصوّرکرتا ہے۔ لہٰذا، ایسے سنگین جرائم کو کسی بھی نام نہاد قبائلی، ثقافتی یا مذہبی جواز کی آڑ میں درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے ریاستی سطح پر قوانین پہ بلاامتیاز اور مؤثر عمل درآمد یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ، میڈیا اور سول سوسائٹی کے ذریعے سماجی شعور بے دار کرنے اور علمائے کرام و سماجی رہنماؤں کے مثبت کردار کو بروئے کار لا کر ہی اس فرسودہ روایت کی بیخ کنی ممکن ہے۔
کم عُمری کی شادی..... متعدد طبّی و سماجی مسائل کا محرک: بلوچستان کے پس ماندہ دیہی علاقوں میں کم عُمری کی شادیوں کا رواج آج بھی ایک ناسور کی صورت برقرار ہے، جو محض ایک سماجی مسئلہ نہیں۔ بچپن میں شادی کے بندھن میں بندھنے والی بچّیاں نہ صرف زیورِ تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں، بلکہ اُن کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی نشوونما کا عمل بھی شدید متاثر ہو جاتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق، کم عمر بچیوں کا جسم حمل اور زچگی کے کٹھن مراحل کے لیے حیاتیاتی طور پر تیار نہیں ہوتا۔ یہ سماجی بدعت، نسل در نسل غربت اورپس ماندگی کو فروغ دے رہی ہے۔ کم عُمری میں ماں بننے والی لڑکیاں اپنی تعلیم اور تربیت اُدھوری چھوڑنے پر مجبور ہوتی ہیں، جس کا براہِ راست نتیجہ معاشی بدحالی، بے روزگاری اور معاشرتی محرومی کے ایک نہ ختم ہونے والے لامتناہی سلسلے کی صُورت نکلتا ہے۔ ضرورت اس امَر کی ہے کہ اس سنگین مسئلے کے تدارک کے لیے ہنگامی بنیادوں پر آگاہی مُہم چلائی جائے اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
ناخواندگی کا بحران: اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تمام سماجی مسائل کی اصل جڑ تعلیم کی عدم دست یابی، شعور و آگہی کا فقدان ہے۔ زیورِ تعلیم سے محرومی ہی کے باعث لوگ انسانی حقوق، قانون کی حکم رانی اور خواتین و بچّوں کے بنیادی حقوق جیسے اہم امور سے لاعلم ہیں۔
ایک تعلیم یافتہ معاشرہ نہ صرف اپنے حقوق کے حوالے سے مکمل بے داری رکھتا ہے، بلکہ خواتین، بچّوں کی بہتر تعلیم و تربیت، حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے اور خاندانی معیشت کے استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے برعکس ناخواندگی ہر طرح کے مسائل کو فروغ دینے کا باعث بنتی ہے۔
بہرکیف، مذکورہ بالا مسائل کے پائے دار حل کے لیے سول سوسائٹی، غیر سرکاری تنظیمیں، سماجی کارکنان اور میڈیا مل کر ایک مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔
نیز، دیہی سطح پر مسلسل آگاہی مہمّات کا انعقاد، خواتین کے حقوق سے متعلق سیمینارز اور فنی تربیتی مراکز کا قیام ریاستی ذمّے داری ہے، جب کہ ہر بچّے، بالخصوص بچیوں کی معیاری تعلیم یقینی بنانا بھی حکومت کی اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔
جب کہ اس سماجی تبدیلی کو تیزتر کرنے کے لیے علمائے کرام، قبائلی عمائدین اور اساتذہ اپنے خطبات اور عوامی اجتماعات کے ذریعے خواتین کی تعلیم، صحت اور حقوق کے حوالے سے مثبت بیانیہ تشکیل دے کر بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔