• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ ہیں سیّد شمعون اشرف ہاشمی۔ اِن کے نام کے اوّلین تین حروف ہی میں شمع روشن ہے۔ اور اس شمع کی پھڑپھڑاتی لَو کہیں شامِ غریباں پر مرثیہ خواں ہے، کہیں جلتے شامیانوں پر شور کُناں، اور ہاں، کہیں شام کے دربار میں زبانِ زینب کی طرح شمشیر زن۔ ہم ابتدا ہی میں بتلائے دیتے ہیں کہ صاحبانِ محبّت ان کے معصوم مُکھڑے کی اکلوتی پرت سے ہرگز دھوکا مت کھائیں۔

موصوف یک فنے ہرگز نہیں، فن میں دو آتشہ بھی ہیں، ہُنرمیں سہ پہلو بھی، چہارسمت بہار بھی دِکھلاتے ہیں کہ پنجتن کے غلام ہیں، شش جہت پر نظر بھی رکھتے ہیں کہ ہفت زبان ہیں۔ ہاں، انہیں ہم ہشت پہلو کہیں گے تو ہمیں ’’ہشت ہشت‘‘ کر کے دُور پرے ہنکاردیویں گے۔ یہی صاحب انجنیئرنگ سکھلانے والی معروف جامعہ یعنی یُو ای ٹی سے فارغ التحصیل وسند یافتہ انجنیئربھی ہیں، اسپیشل سیکرٹری قومی اسمبلی بھی، نقیب و ناظمِ محافل بھی ہیں، پاکستان ٹیلی ویژن کےاینکر بھی، مجلس میں گریہ کُناں بھی ہیں، بزم میں مرکزِ داستاں بھی، کالم نگار بھی ہیں، یاروں کے یار بھی اور محبوبِ اغیار بھی۔

شمعون کو بولتے سُنیے تو ایک قدیمی تہذیب کی خاموش گونج سُنائی دے گی۔ سرگوشی سے سسکی اور سسکی سے سرگرانی تک۔ ویسے صاحبو! یہ صاحب دھوکے باز ہیں، علم کو قہقہے اور حلم کو لطیفے میں چُھپائے پھرتے ہیں، مبادا صاحبانِ حال انہیں پہچان کر ہم راہ لے جائیں اور حالتیانِ حال کی حُکم رانی پر مامور فرمائیں۔ ہرچند کہ مقام تو موصوف کا تخت ہی پر بنتا ہے لیکن آج کل تخت سے بالشت بھر دُوری پر متمکّن ہیں۔ یہ الگ بات کہ ان کے آس پڑوس کا دُنیاوی تخت کبھی اُن کی توجّہ نہ کھینچ پایا۔

انہوں نے اہلیانِ اقتدار و اختیار کو اپنے دل پر اقتدار و اختیار نہیں دیا۔ اِن کی ذات کی جمہوریہ میں محض ایک ’’بچّہ جمہورا‘‘ کا راج ہے اور وہ ان کا دل ہے۔ اِسی لیے شمعون دُنیا سے مرعوب ہوتے ہیں، نہ مغلوب، ہاں ذات کے محبوب ضرور ہوتے ہیں مگر وہ بھی محض چیدہ و چُنیدہ کے لیے۔ ہمیں اُن چند خلوت مند رُوحوں میں سے ایک ہونے کا شرف حاصل ہے۔ شمعون نے احتیاطاً محبوبیت پر ہاشمیت کا چھڑکاؤ کر رکھا ہے، مگر وہ بھی ہم جیسے متجسّس بھنوروں کے لیے اُلٹا مزید تحیّر کا سامان کر ڈالتا ہے۔

ان کا گھرانہ گھر ضرور ہے، مگر انا کے بغیر۔ ہمہ وقت بچھے رہتے ہیں، کشادہ و مہربان دسترخوان کی مانند۔ اپنی تعریف میں ڈوبتے نہیں۔ اس سے اوبتے ہیں۔ سلطنت روحانی ہو یا پاکستانی، شمعون اُن رازوں سے بھی واقف ہیں، جن رازوں سے واقف ہونا خطرناک ہے۔ تاہم کامل امانت دار اور مکمل باوفا ہونا اِنہوں نے اپنے ابّا میاں سے سیکھا، جو تاعُمر اپنی نظرمیں ایک ہی نظریہ، ادراک میں ایک ہی آدرش اور کیف میں ایک ہی کیفیت بسائے رہے۔

جذب و مستی کا یہ عالم تھا کہ حلقۂ سیاست میں مقامِ کُن پر فائز ہوکر بھی کارکن کہلوانے پر مُصر رہے۔ وفا یُوں کی، جیسے ہما شُما سانس لیتے ہیں، یعنی مسلسل اور غیر مشروط۔ ان کے خاندان سے قوی روایت ہے کہ شمعون پیدا ہوئے تو اِن کی زبان تالُو تلے جُڑی تھی۔ حیاتیات یعنی بائیولوجی نے مستقبل کے رواں ترین متکلم کو چھیڑنے کی ناکام کوشش کی تھی۔’’اللہ میاں!‘‘ اُن کی امّاں نے سوچا، ’’اب یہ تالا کیوں کرکُھلے؟‘‘ ظاہر ہے تالُو کا تالا کُھلتا تو میاں صاحب زادے کلام کی تال سے تال میل بناتے اور تالی بجاتے۔ اب کیا کریں۔

اماں نُطقِ زینبؓ کی ماننے والی اور ناممکنات میں پوشیدہ امکانات جاننےوالی تھیں۔ اُنہی کے عقیدے کی پُختگی نےنَومولودیت ہی میں شمعون کی لُکنت پر روانی کا پانی چھڑکنا شروع کیا۔ علم الابدان نے جو گرہ لگائی، ماں کی ممتا نے اُس کی گرہ کُشائی کروادی۔ بچّے نے رفتہ رفتہ حرف سے لفظ، لفظ سے جملہ بنایا اور چٹرپٹر بولنا شروع کردیا۔ پھرتو رہے نام اللہ کا، بولنا شروع کیا تو کمالِ فنِ تقریر پر صدارتی تمغہ برائے حُسنِ کارکردگی لے کر ہی ٹلے۔

شمعون کو مَیں نے پہلی بار پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام ’’رات گئے‘‘ میں بولتے سُنا۔ سُنتے ہی لگا کہ میری سماعت کی اُردوانہ آب یاری تو آج ہوئی ہے، اس سے قبل شاید مَیں جھک ہی مار رہا تھا۔ یہ حسد نہیں تھا، کیوں کہ حسد پُرشور ہوتا ہے۔ یہ تو ایک خاموش عِجز بھرا اعتراف تھا، اُس دستِ صبا کے لیے کہ جس نے ایک کھڑکی کھول کر آپ کو احساس دلوایا کہ آپ ابھی تک باسی ہوا میں سانس لے رہے تھے۔

برجستگی کا یہ عالم، گویا صُبح کے ناشتے سے قبل عروسِ اُردو سے وصل یاب ہو کر آئے ہوں اور وہ بھی گرامر کی نرم گرم سیج پر۔ شمعون زبان کی وہ مشین ہیں کہ جن سے جُملے محض دُھلے دُھلائے نہیں بلکہ استری شُدہ، تہہ لگے، کلف یافتہ اور مُعطّر ہوکر نکلتے ہیں۔ شمعون کے ہاں ’’ناسٹلجیا‘‘ فراواں ہے۔ موصوف ماضی کو یُوں ہمہ وقت دل میں چُھپائے پھرتے ہیں، جیسے ہما شُما پتلون میں بٹوا۔ ہاں شمعون ماضی گزیدہ نہیں ہیں مگر ماضی کو محبوب ضرور بنا رکھا ہے۔

ان کی یادوں کو مجسّم کرکے انسانی شکل دی جائے تو ان کے امّاں ابّا ہی کی صُورت سامنے آئے گی۔ ان سےجب بھی ملاقات ہوتی ہے، ہم دونوں یک سر بھول جاتے ہیں کہ اسلام آباد میں ہیں یا لاہور میں۔ دائیں جانب پائیں باغ کی سمت کھڑکی کھلتی ہے اور سالم کا سالم لکھنؤ خوشبو بھرے جھونکے کی مانند کمرے میں آتا اور سمپورن راگنی بھیرویں کی مانند رچ بس جاتا ہے۔ دھیان میں تازہ ہے کہ ایک بار ان کے دفتر جانا ہوا۔

نیشنل اسمبلی کی گھنی گُھمن گھیریوں، رواں راہ داریوں اور دبنگ دربانوں سے گزر کر ہم پہنچے۔ پہنچتے ہی شمعون ہی کی زبانی ماں جی مرحومہ خلد مکانی پر لکھا ان کا مضمون۔ ذکر اُس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا۔ آنسوؤں کی ایسی جھڑی لگی کہ گھڑی گھڑی رومال بھی تر ہوتا رہا حال بھی۔ دو تین معزز اراکینِ اسمبلی بشمول ایک خاتون رکنِ اسمبلی موجود تھے۔ سب باجماعت روئے۔ مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں، صاحبو!

شمعون نَوعُمری ہی میں افسر شاہی کی معراج یعنی گریڈ بائیس تک جا پہنچے، شاید اسی وجہ سے کچھ حاسدین ان پر یُوں منڈلاتے ہیں، جیسے بَھرے پُرے دسترخوان پر مکھیاں۔ شمعون کا جواب؟ مزید بہتر کارکردگی۔ تحریر کی بات کیجے تو ان کی نثر پر نثار ہونے کو دل چاہتا ہے۔ روزنامہ ’’مشرق‘‘ میں کالم نگاری کی تو مغرب تک گونج سُنی گئی، جس سے جنوب و شُمال بھی دھمال ڈالتے دیکھے گئے۔ شُنید ہے کہ شمعون اپنی نرم گفتاری کے سبب خواتین پارلیمنٹرینز میں حددرجہ مقبول بلکہ چہیتے ہیں۔

اس بات کہ ہم عینی شاہد ہیں کہ جتنا ادب و احترام یہ عصرِ حاضر میں خواتین کو دیتے ہیں وہ ملکہ ایلزبتھ دوئم کے بعد نہ کہیں دیکھا گیا، نہ سُنا گیا۔ اس لحاظ سے ہماری بھابھی یعنی مسز شمعون خاصی خوش قسمت ہیں۔ ان شان دار انسانوں کی جوڑی کے دو ہی لختِ جگر ہیں، جن کی تربیت گود ہی سے اخلاقیات کی ہورہی ہے۔ شمعون سے مل کر جو کیفیت طاری ہوتی ہے، وہ جاری و ساری رہتی ہے۔ موصوف وجد کی ابجد سے بھی واقف ہیں، اب و جد سے بھی۔ ان کے خان وادے سے ترقی پسند تحریک کے پودے کی کافی آب یاری ہوئی۔

جبر کے دَور کو صبر کے طور سے سنبھالنے والے گھرانے میں شمعون نے بچپن ہی سے یہ دیکھا کہ ابّا میاں کو روز اپنی حق گو صحافت کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں۔ امّاں اس سوچ میں گم ہیں کہ چار بچیوں اور اُن کے اکلوتے بھائی کو پڑھانا لکھانا ہے۔ کوئی خاص شعبہ نظر میں نہ تھا۔ انجینئرنگ محض اس باعث کرنا پڑی کہ امّاں رشتہ لے کر جائیں تو فخر سے بتا سکیں کہ لڑکا انجینئر ہے۔

اُن دِنوں اُردو کا بہت معروف نام ڈاکٹر آغا سہیل ایف سی کالج سے شعبۂ اردو کے صدر کے طور پر وابستہ تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے فرزندِ ارجمند، جو شمعون کے انجینئرنگ یونی ورسٹی کےہم سفر تھے، ایک جملہ تخلیق کرکے امر ہوگئے کہ ’’اصل میں شمعون کا داخلہ ڈیبیٹنگ سوسائٹی میں ہوا ہے۔ یہ محض تبدیلئ آب و ہوا کے لیے کلاس میں آتے ہیں۔‘‘

تب کے بعد کہ کہانی یُوں ہے کہ تحریر میں جمال اور تقریر میں کمال ہونے کے سبب ڈاکٹر عبدالقدیر کی نظر شمعون پر پڑی اور اُنہوں نے اپنی لکھت پڑھت کی نوک پلک سنوارنے اور مضامین کا شین قاف نکھارنے کے لیے انہیں اپنی ٹیم میں شمولیت کی دعوت دے ڈالی۔ تب تک موصوف مُقابلے کا اعلیٰ ترین امتحان یعنی سی ایس ایس بھی پاس کرچُکے تھے، مگر سول سروس میں شمولیت کے حوالے سے قدرے گومگو اور شش و پنچ کی کیفیت کا شکار تھے۔

پاکستان ٹیلی ویژن پر دُخترِ فیض، معروف شخصیت یعنی ہماری اور آپ سب کی مُنیزہ ہاشمی کی باقاعدہ شاگردی میں متعدد پروگرامز سے منسلک تھے۔ مُنیزہ آپا کو اُستادِ گرامی قدر گردانتے اور مُرشدِ فن مانتے ہیں۔ ڈاکٹر عبد القدیر نے ایک دن شمعون سے کہا کہ بیٹا! اگر تم سول سروس جوائن کرلو گے تو وہ تمہیں ٹیلی ویژن نہیں کرنے دیں گے، جب کہ مَیں ایسی کوئی پابندی نہیں لگاؤں گا۔ شمعون نے تُرنت ہاں کردی۔ کچھ عرصہ وہیں رہےاور اپنی صلاحیتوں کا لوہا، چاندی، سونا وغیرہ منوایا۔

اسی اثناء یعنی 2008 ء کے آس پاس پاکستان کی پارلیمان نے اولین مرتبہ ایک خاتون یعنی محترمہ فہمیدہ مرزا کو اسپیکر قومی اسمبلی منتخب کیا اور اُنہوں نے شمعون کا انٹرویو کیا تو انہیں لائق فائق پایا اوریُوں ہمارے ہاشمی کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز سے ڈیپوٹیشن پر قومی اسمبلی میں ڈپٹی سیکرٹری تعینات ہوئے۔ فرماتے ہیں کہ انٹرویو میں کام یابی محترمہ مُنیزہ ہاشمی کی تربیت ہی کا ثمر و ثمرہ تھا۔ اِسی تسلسل میں شمعون آگے بڑھتے چلے گئے۔ تاریخ میں کسی بھی اسمبلی کا خواتین کا پہلا Caucus یعنی مشاورتی اجتماع تشکیل دیا۔

کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن دولتِ مشترکہ کے چھیالیس ممالک کی پارلیمانوں کی ایک تنظیم ہے۔ چار سال اس کے ایشیا ریجن کے سیکرٹری، ڈرافٹنگ کمیٹی کے رُکن رہےاورآج کل اس کے ایشیا گروپ کے سیکرٹریٹ کے سربراہ بھی ہیں (اس میں بنگلا دیش، سری لنکا، مالدیپ، سینیٹ آف پاکستان، پاکستانی قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیاں شامل ہیں)۔

انٹر پارلیمنٹری یونین کے ارکان میں (جسے دنیا بھر کی پارلیمانوں کی اقوامِ متحدہ کہنا بےجا نہ ہوگا) ایک سو اٹھاسی پارلیمنٹس شامل ہیں۔ سینتالیس ممالک پر مبنی اس کا ایشیا پیسیفک گروپ ہے اور شمعون دو بار اس کے فوکل پرسن یا منتظمِ ومہتممِ اعلیٰ رہ چُکے ہیں۔ اِسی حوالے سے تربیتی سیمینارز، ورکشاپس اور کانفرنسز کے لیے دُنیا بھر میں سفر کا موقع بھی ملا۔ یعنی موصوف کسی گھربند نہیں ہیں۔

ہم ہر ملاقات میں ان سے گزارش کرتے ہیں کہ مہلت پہلے تو پہلی فرصت میں سفرنامے لکھ ڈالیے۔ آپ کے اندازِ نگارش میں مستنصر نُما لذیذ سفری معاملات کا تڑکا لگے گا تو ہم جیسے شائقینِ سخن کو کئی شاہ کارِادب میسّر آجائیں گے، مگر شمعون چوں کہ فطرتاً شرمیلے ہیں، لہذا یہ کہہ کر کہ ’’اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں‘‘ اور ایسے ہی دو ڈھائی مزید مصرعے سُنا کر بات کا رُخ پلٹ دیتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے ساتھ تسلسل سے مُنسلک ہیں۔

معروف ادبی پروگرام ’’رات گئے‘‘ کو ایک بالکل نئی، انوکھی، نرالی اور جداگانہ جہت دی۔ ادب سے شغف کا یہ عالم ہے کہ ایوان میں بھی دیوان لے کر بیٹھتے ہیں (چاہے میر کا ہو یا غالب کا)، دورانِ تقاریر جب نوٹس لینے کی ذمّے داری تفویض نہ ہوئی ہو تو مُطالعے میں محو ومشغول رہتے ہیں، دفتر کی جانب ڈرائیو ہو کہ کوئی طویل سفر درپیش ہو، کتاب سدا ہم سفر رہتی ہے۔ کتاب کو اس قدر محبوب سمجھتے ہیں کہ اس کے بغیر سو نہیں پاتے۔ آٹھ ہزار سے زائد نادر کتابوں اور مخطوطوں پر مشتمل ان کا کتُب خانہ بھی دیکھنے کی چیز ہے۔

ناچیز کو بارہا وہاں جانےکی سعادت نصیب ہوچُکی ہے۔ ہم بسلسلۂ روزگار جس کوچۂ کوہ سار میں ’’حال مقیم‘‘ ہیں، اُسی سےآٹھ دس گھروں کی دُوری و مہجوری پر اُن کا دولت کدہ ہے، سو ہم کبھی کبھار بوقتِ شام پیدل ہی اُدھر جا نکلتے ہیں۔ شمعون بھائی بعد از شام کے لباس میں نصف ملبوس لائبریری میں بیٹھے، ناک کی پھننگ پر عینک جمائے، انگلیوں کے درمیان سگریٹ سلگائے، دھونی رمائےدرویشِ خدامست کےمانند اپنے آرام دہ صوفے میں دھنسے کسی کتاب کےنُقطۂ تحیّر میں پھنسے ہوتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغۂ برائےحُسنِ کارکردگی ان کے متعدد اعزازات میں سے ایک ہے اور موصوف کو ابھی بہت آگے جانا ہے، ان شااللہ۔

شمعون ہماری سگھڑ بھابھی اور اپنے دو ذہین و فطین بیٹوں کے ساتھ اسلام آباد ہی میں مقیم ہیں۔ بھابھی جو ناچیز کی منہ بولی بہن بھی ہیں، نہایت سلیقہ شعار میزبان ہیں۔ ناچیز چوں کہ اسلام آباد میں تنِ تنہا، چھڑا چھانٹ موجود ہے اور اہلِ خانہ لاہور ہیں، تو جب کبھی گھر کا بنا، بہترین کھانا کھانے کو مَن مچلے تو ہم بِن بُلائے بھی بہنا کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔

بھنڈی سے بنی نادر و نایاب سوغات انتہائی لذیذ بناتی ہیں۔ یاد رہے کہ اس کی ترکیب بھابھی نے اپنی ساسُو ماں یعنی والدۂ شمعون سے سیکھی۔ کباب بھی ایسے خستہ اور کرارے کہ حیدرآباد دکن کے کبابیے بھی چکھ پاویں تو داد دیویں۔ مولا اس گھرانے کے دسترخوان کو مزید کشادگی، وُسعت اور فراخی عطا کریں اور ان کے رزقِ حلال میں بے بہا اضافہ ہو۔

عُمرِعزیز کے ستاونویں برس میں رواں دواں سیّد شمعون اشرف ہاشمی تین دہائیوں سے زائد عرصے پر مُحیط کارِعلم و ہُنر کے وارث ہیں۔ ریڈیو پاکستان ہو کہ پی ٹی وی، قومی اخبارات ہوں کہ سوشل میڈیا، پاکستانی ادب و ثقافت، شعروسخن، حقوقِ نسواں اور معاشرتی رکھ رکھاؤ کی ترویج میں شمعون کا نام سرِفہرست ہے۔

دو ہزار چار میں پی ٹی وی سے بہترین کمپئیر کے ایوارڈ سے لے کر دو ہزار چھے میں زلزلہ زدگان کی بے لوث خدمت کے لیے صدرِ پاکستان کی جانب سے ’’تمغۂ ایثار‘‘ تک اور2001، 2010 ء اور 2011 ء کےسیلاب زدگان کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے سےلےکر 2005 ء میں پہلی بین الاقوامی اردو کانفرنس کے انعقاد تک اور خواتین پارلیممٹرینز کی جدوجہد کے حوالے سے اپنی پہلی کتاب پر ملنے والی داد و تحسین سے صدارتی تمغہ برائے حُسنِ کارکردگی تک شمعون شمعِ نُورجلائے ہر طرف روشن رہے ہیں۔

نہ جانے کیوں، ہمیں یقین ہے کہ جب بھی لُکنت سے روانی، خاموشی سے شعلہ بیانی اور سکوت سے غزل خوانی کا ذکر آئے گا، تو ہر کم گو زبانِ حال سے پکار اُٹھے گا کہ ربِ اظہار کی مدد شاملِ حال ہو تو تحریر و تقریر کی نعمتیں عطا ہو جاتی ہیں اور اس کا چلتا پھرتا ثبوت، سیّد شمعون اشرف ہاشمی ہیں۔ ؎

شہکارِ پُرجمال ہیں شمعون ہاشمی

جو کچھ بھی ہیں کمال ہیں شمعون ہاشمی

(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید