کسی بھی مہذّب معاشرے میں پولیس ایک مددگار اور قابلِ اعتماد ریاستی و سماجی ادارے کا کردار ادا کرتی ہے۔ معاشرے میں جرائم پر قابو پانا، شہریوں کے جان و مال کا تحفّظ اور قانون کی بالادستی قائم رکھنا محکمۂ پولیس کا بنیادی فریضہ ہے۔ مہذّب اور ترقّی یافتہ اقوام مُلکی قوانین کے احترام کی اہمیت وافادیت سے متعلق کماحقہ شعور رکھتی ہیں اور اسی قانون پسندی کی بنیاد ہی پر انہوں نے دُنیا میں ممتاز مقام حاصل کیا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے مُلک میں پولیس کے معاملات میں بے جا سیاسی مداخلت نے اس اہم ادارے کی کارکردگی کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محکمۂ پولیس میں اصلاحات کے دعوے تو طویل عرصے سے کیے جا رہے ہیں مگر پولیسنگ سسٹم میں بنیادی اور پائے دار تبدیلی کے لیے آج تک کوئی مؤثر اور عملی قدم نہیں اُٹھایا گیا اور اسی سبب جب بھی کوئی ناخوش گوار واقعہ رُونما ہوتا ہے، تو کچھ عرصے تک شور شرابے، تحقیقات اور کارروائیوں کے اعلانات سامنے آنے کے بعد، وقت گزرنے کے ساتھ مکمل خاموشی چھا جاتی ہے۔
صوبۂ بلوچستان سمیت مُلک بَھر کی پولیس کی کارکردگی میں بہتری کے لیے سب سے پہلے حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور محکمۂ پولیس کو مکمل طور پر ’’سیاسی آلودگی‘‘ سے پاک کرنا ہوگا۔ دوسری جانب اب پولیس ڈیپارٹمنٹ میں بھرتیوں اور تربیت کا معیار پاک فوج کی طرز پر استوار کرنا ناگزیر ہوچُکا ہے، کیوں کہ اس وقت بعض مقامات پر براہِ راست اے ایس آئی، سب انسپکٹر، انسپکٹر، پراسیکیوٹنگ انسپکٹر، جب کہ بعض جگہ ڈی ایس پی کی سطح پر بھی براہِ راست بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب سی ایس ایس کے ذریعے پولیس سروس آف پاکستان میں شامل ہونے والے افسران گریڈ17میں براہِ راست اے ایس پی بھرتی ہوتے ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد ڈی آئی جی اور آئی جی پولیس کے عُہدوں تک پہنچتی ہے جب کہ رینکرز عموماً ایس پی یا ایس ایس پی کے عُہدے تک محدود رہ جاتے ہیں۔
مختلف رینکس پر پولیس افسران کی براہِ راست بَھرتی سے نہ صرف تربیتی عمل متاثر ہوتا ہے بلکہ پولیس فورس میں بد دِلی، احساسِ محرومی اور دھڑے بندیوں کا رجحان بھی پیدا ہوتا ہے۔ دوسری جانب محکمۂ پولیس میں آج بھی ’’پی ایس پی‘‘ اور ’’رینکرز‘‘ کی تفریق موجود ہے۔ رینکرز کا مؤقف ہے کہ وہ عملی پولیسنگ کا مؤثرتجربہ رکھتے ہیں۔
برسوں فیلڈ میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں اور پولیس کےمعاملات کو براہِ راست بَھرتی ہونے والے نوجوان اے ایس پیز سے زیادہ جانتے ہیں۔ دوسری جانب اے ایس پیز کا خیال ہوتا ہے کہ اُنہوں نے مُلک کے مشکل ترین مقابلے کے امتحان میں کام یابی حاصل کی ہے اور مستقبل میں انہیں ہی آئی جی اور ڈی آئی جی کے عُہدوں تک پہنچنا ہے۔
اس طرح دونوں کیڈرز کے درمیان ایک غیر محسوس کشمکش جنم لیتی ہے، جو بالآخر پورے ادارے کی کارکردگی پر اثرانداز ہوتی ہے۔ اس تفریق کا فوری خاتمہ ناگزیر ہے اور پورے مُلک میں پولیس کے بھرتی، تربیت اور ترقّی کے نظام پر ازسرِنو غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
فوج میں جس طرح براہِ راست سیکنڈ لیفٹیننٹ کی بھرتی ہوتی ہے اور وہی افسر مختلف مراحل، تربیّتی کورسز اور پیشہ ورانہ تجربے سے گزر کر فور اسٹار جنرل اور آرمی چیف کے منصب تک پہنچ سکتا ہے، اِسی طرح پولیس میں بھی ڈی ایس پی، اے ایس پی اور دیگر رینکس پر براہِ راست بھرتی کی بجائے ایک مربوط کیریئر اسٹرکچر تشکیل دیا جانا چاہیے۔ بنیادی آفیسر کیڈر کے لیے اے ایس آئی کی سطح سے بھرتی کی جائے تاکہ مختلف کورسز، عملی تجربے اور تربیّتی مراحل سے گزرنے کے بعد یہی افسر میرٹ، اہلیت اور سنیارٹی کی بنیاد پر اعلیٰ ترین عُہدے تک پہنچ سکے۔
اس نظام سے نہ صرف پولیسنگ کا عملی تجربہ رکھنے والے افسران کو آگے بڑھنے کے مواقع ملیں گے بلکہ ادارے کے اندر موجود کیڈرز کی باہمی تفریق بھی کم ہو جائے گی۔ البتہ ٹیکنیکل نوعیت کے شعبوں بالخصوص محکمۂ پولیس کے لیگل وِنگ میں انسپکٹر اور ڈی ایس پی سطح کے ماہر افسران براہِ راست بھرتی کیے جا سکتے ہیں تاکہ متعلقہ شعبوں میں پیشہ ورانہ مہارت سے بھرپور فائدہ اُٹھایا جا سکے۔ اسی طرح پولیس کانسٹیبل کے کیریئر کو بھی ایک باقاعدہ اور باوقار سروس اسٹرکچر سے منسلک کرنے کی ضرورت ہے۔
کانسٹیبل کو ہیڈ کانسٹیبل کے عُہدے پر ترقّی دینے کے بعد ریٹائرمنٹ تک اسی پوسٹ پر محدود رکھنے کی بجائے اگر کوئی اہل کار اپنا کیریئر جاری رکھنا چاہے، تو اسے اے ایس آئی کے عُہدے تک پہنچنے کے لیے باقاعدہ محکمانہ امتحان اور کمیشن کے شفاف عمل سے گزارا جائے۔ اس طرح محنت، قابلیت، تجربے اور کارکردگی کی بنیاد پر اہل کاروں کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع پیدا ہوں گے اور ایک عام کانسٹیبل بھی اپنی صلاحیت کے بل بوتے پراعلیٰ پولیس افسر بننے کا خواب دیکھ سکے گا۔ یاد رہے، ایسے مواقع کسی بھی ادارے کے اہل کاروں میں محنت، لگن اور پیشہ ورانہ وابستگی کو فروغ دیتے ہیں۔
پولیس فورس کے افسران اور جوانوں کے جسمانی فٹ نیس کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس ضمن میں محکمۂ پولیس میں جسمانی فٹ نیس کو ملازمت کے پورے عرصے کے دوران لازمی قرار دیا جانا چاہیے اور اس مقصد کے لیے باقاعدہ فٹ نیس ٹیسٹ، جسمانی تربیت اور صحت مند طرززندگی کے پروگرام شروع کیے جانے چاہئیں۔
پولیس افسران و اہل کار چوں کہ براہِ راست عوامی معاملات، جرائم پیشہ عناصر اورہنگامی صُورتِ حال سے نمٹتے ہیں، اس لیے ان کا جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط ہونا انتہائی ضروری ہے۔ آج پولیس کے رویّے پر سب سے زیادہ تنقید کی جاتی ہے لیکن ان بنیادی عوامل سے نظریں چرائی جاتی ہیں، جو پولیس اہل کاروں کے رویّے اور کارکردگی پر براہِ راست اثرانداز ہوتے ہیں۔
دوسری جانب پولیس افسر ہو یا اہل کار سب ہی کے لیے مناسب ڈیوٹی ٹائمنگ کا تصور تقریباً ناپید ہوچُکا ہے۔ گویا محکمۂ پولیس کا ہر ملازم ہی 24 گھنٹے ڈیوٹی پر رہنے کا پابند ہے۔ ہر چند کہ دیگر سرکاری محکموں میں ہفتہ وار تعطیلات اور ڈیوٹی کے مقرّرہ اوقات کا نظام موجود ہے لیکن پولیس میں دو روزہ ہفتہ وار چُھٹّی تو درکنار، ضرورت پڑنے پر چند روز کی رخصت حاصل کرنا ایک کٹھن مرحلہ ثابت ہوتا ہے۔
لہٰذا، پولیس افسران اور اہل کاروں کو ذہنی و جسمانی سکون اور اہل خانہ سے دُور رکھ کر ان سے بہترین کارکردگی کی توقّع کرنا حقیقت پسندانہ سوچ نہیں۔ مسلسل ڈیوٹی، غیرمعمولی اوقاتِ کار اور آرام کے مناسب مواقع نہ ملنے سے پولیس افسران و اہل کار نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہوجاتے ہیں، جس کے اثرات بالآخر ان کے طرزِعمل اور فرائض کی انجام دہی پر مرتّب ہوتے ہیں۔
پاکستان میں عام طور پر موٹر وے پولیس کے افسران اور اہل کاروں کے طرزِعمل کی تعریف کی جاتی ہے اور ان کی اچّھی کارکردگی کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ سابق آئی جی، کمال شاہ کے مطابق موٹر وے پولیس کے لیے باقاعدہ اوقاتِ کار اور ہفتہ وار تعطیل کا نظام متعارف کروایا گیا، جس کے افسران، اہل کاروں کے رویّے اور کارکردگی پر مثبت اثرات مرتّب ہوئے۔
اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ پولیس افسران اور اہل کاروں کے بنیادی مسائل حل کیے بغیرمحض سختی، نگرانی اوراحتساب کے ذریعے فورس کی کارکردگی میں دیرپا بہتری نہیں لائی جا سکتی۔ اگر پولیس کے ملازمین کو ذہنی و جسمانی سکون اور اہلِ خانہ کے ساتھ رفاقت کے لمحات میسّرآئیں گے، تو لامحالہ ان کے رویّوں اورعوام سےبرتاؤمیں بہتری آنے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اگر صوبۂ بلوچستان کی بات کی جائے، تو آج سے چند برس قبل تک صوبےکے تقریباً 5 فی صد علاقے پر پولیس کی عمل داری تھی، جب کہ 95 فی صد علاقے میں قیامِ امن کی ذمّےداری لیویز فورس انجام دے رہی تھی، تاہم اب پورے صوبے میں بتدریج لیویز کو محکمۂ پولیس میں ضم کردیا گیا ہے اور ضم شُدہ اہل کاروں کو پولیس کے تربیّتی کورسز بھی کروائے جا رہے ہیں۔
اس حوالے سے ایک مقامی ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ ’’بِلاشُبہ کمیونٹی پولیسنگ کا نظام ترقّی یافتہ ممالک میں رائج ہے لیکن ’’وَن فورس، وَن کمانڈ‘‘ کے اصول پر عمل کیے بغیر مؤثر انداز میں امن قائم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی جرائم پر قابو پانا ممکن ہے۔‘‘ گرچہ لیویز کے انضمام کے دُوررس نتائج برآمد ہوں گے لیکن اس کے ساتھ ہی فورسز کے دیگر یونٹس کا انضمام بھی ضروری ہے اور ساتھ ہی بلوچستان میں ایک مربوط فورس اور واضح کمانڈ اسٹرکچر کے قیام پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
بلوچستان کانسٹیبلری اور دیگر متعلقہ یونٹس کو ڈسٹرکٹ پولیس کے ساتھ مربوط کیا جائے، جب کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں شولڈر پروموشن اور ایکٹنگ چارج کے رجحان کا خاتمہ کر کے افسران ، اہل کاروں کی بروقت اور قواعد کے مطابق ترقّی کا مؤثر میکنزم بنایا جائے۔ ایک مضبوط پولیس فورس اُسی وقت وجود میں آ سکتی ہے کہ جب اُس کے ہر رُکن کو یہ یقین ہو کہ اس کی ترقّی کسی سفارش، سیاسی دباؤ یا وقتی انتظامی ضرورت کی بجائے اس کی سینیارٹی، اہلیت، کارکردگی اور میرٹ کی بنیاد پر ہوگی۔
آج صُورتِ حال یہ ہے کہ بلوچستان پولیس میں اے ایس پی سے ڈی آئی جی تک پی ایس پی کیڈر کی 40 سے زائد پوسٹس خالی ہیں اور پی ایس پی افسران کی ایک بڑی تعداد ان عُہدوں پر تعیناتی سے گریزاں ہے۔ ایسے میں اگر اہل اور تجربہ کار مقامی ڈی ایس پیز کو ترقّی دے کر ایس پی اور ڈی پی او کی خالی پوسٹس پر تعینات کیا جائے، تو اس سے پولیسنگ کے معاملات میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
طویل عرصے سے پی ایس پی کیڈر کی آسامیاں خالی ہونے کے باعث بڑی تعداد میں ڈی ایس پیز کو سینیارٹی لسٹ کی بجائے دیگر انتظامی بنیادوں پر ڈی پی اوز تعینات کیا گیا ہے، جس سے سینئر اور جونیئر کی تفریق متاثر ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر بعض اضلاع میں سینئر ڈی ایس پیز کو جونیئر افسران کے ماتحت کام کرنا پڑ رہا ہے، جب کہ شولڈر پروموشن کے حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات پر بھی مؤثر طور پر عمل درآمد ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
اگر پولیسنگ کا معیار بہتر بنانا مقصود ہے، تو مقامی افسران کو سینیارٹی، میرٹ اور اہلیت کی بنیاد پر باقاعدہ طور پر ایس پی اور دیگر عُہدوں پر ترقی دی جانی چاہیے۔ اس سے نہ صرف افسران کا مورال بلند ہوگا بلکہ مقامی حالات، مسائل، قبائلی و سماجی ساخت اور جرائم کے رجحانات سے واقف افسران زیادہ مؤثر انداز میں پولیس کی کمانڈ بھی کر سکیں گے۔ کسی ضلعے میں امن و امان کی ذمّے داری ایسے پولیس افسر کے سُپرد کرنا کہ جو مقامی حالات اور زمینی حقائق سے واقف ہو، پولیسنگ کے عمل کو زیادہ مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان پولیس میں لیگل ڈیپارٹمنٹ کو بھی یک سَر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایل ایل بی کی ڈگری رکھنے والا پراسیکیوٹنگ انسپکٹر اپنے پورے کیریئر میں صرف ایک یا دو مراحل کی ترقّی حاصل کرکے ریٹائر ہو جاتا ہے۔ یہ صُورتِ حال نہ صرف ان افسران کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ محکمۂ پولیس کےایک اہم شُعبے کے تجربات، قانونی علم اور پیشہ ورانہ صلاحیت سے بھرپور استفادہ نہ کرنے کے مترادف ہے۔
مقدّمات کی قانونی پیروی، تفتیش کے قانونی تقاضوں اور عدالتوں میں مقدّمات کی مؤثرپیروی کے لیے پولیس کے لیگل وِنگ کا مضبوط ہونا انتہائی ضروری ہے۔ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ لیگل وِنگ سے وابستہ افسران کے سروس اسٹرکچر اور ترقّی کے مسائل کا فوری ازالہ کرے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔
یاد رہے، پولیس اصلاحات صرف نئے قوانین بنانے، چند افسران کے تبادلے یا وقتی طور پر کسی واقعے کے بعد کارروائی کرنے کا نام نہیں۔ حقیقی اصلاحات کے لیے سیاسی مداخلت کا خاتمہ، میرٹ پر بھرتیاں، معیاری تربیت، واضح سروس اسٹرکچر، بروقت ترقّی، جسمانی و ذہنی فٹ نیس، مناسب اوقاتِ کار، ہفتہ وار تعطیل، مؤثر احتساب اور ایک مربوط کمانڈ سسٹم ضروری ہے۔ اس کےساتھ ساتھ پولیس اہل کاروں کی فلاح و بہبود، رہائش، صحت، تربیت اور ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے بھی عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
جب تک کسی پولیس اہل کار کو عزّت، مناسب سہولتیں، پیشہ ورانہ تربیت، کام کے لیے سازگار ماحول اور ترقّی کے مواقع نہیں دیے جاتے، اُس وقت تک اس سے بہترین کارکردگی کی توقّع رکھنا عبث ہے۔ پولیس فورس کے رویّے اور طرزِعمل بہتر بنانے کے لیے صرف اہل کاروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بجائے اس پورے نظام کو پیشِ نظر رکھنا ہوگا کہ جس میں وہ کام کر رہے ہیں۔ ایک تھکا ماندہ، مسلسل ڈیوٹی دینے والا اور اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کا شکار اہل کار اُس معیار کی عوام دوست پولیسنگ شاید ہی فراہم کر سکے کہ جس کی ایک مہذّب معاشرے کو ضرورت ہوتی ہے۔
پولیس کو مضبوط، غیرسیاسی، بااختیار، جواب دہ اورعوام دوست ادارہ بنائے بغیر قانون کی حُکم رانی قائم ہو سکتی ہے اور نہ ہی معاشرے میں پائےدار امن کا قیام ممکن ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پولیس اصلاحات کے نام پرمحض دعووں اور اعلانات سے آگے بڑھ کر ایسا جامع نظام تشکیل دیا جائے کہ جس میں بھرتی سے لےکرتربیت، ترقّی، تعیّناتی، احتساب اورریٹائرمنٹ تک ہر مرحلہ واضح، شفّاف اور میرٹ پر مبنی ہو۔ یہی وہ راستہ ہے کہ جس کے ذریعے محکمۂ پولیس کو حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کا ادارہ بنایا جا سکتا ہے۔