تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ
ماڈل: ماہی
ملبوسات: فائزہ امجد اسٹوڈیو، ڈی ایچ اے، لاہور
آرائش: دیوا بیوٹی سیلون
عکّاسی: عرفان نجمی
لے آؤٹ: نوید رشید
رابندرناتھ ٹیگور نے فطرت کے رنگوں اور انسانی اُمید کا باہمی تعلق اجاگر کرتے ہوئے ایک مرتبہ کہا تھا۔ ’’مایوسی رات کے اندھیرے کی طرح ہے،جب کہ اُمید زندگی کو ہزار رنگوں سے بھرنے والی روشنی کی مانند۔‘‘ اِسی طرح آئرش ڈراما نگار اور شاعر آسکروائلڈ کا، جو اپنی ظرافت اور جمالیاتی سوچ کے لیے جانے جاتے ہیں، کہنا ہے کہ ’’زندگی اِس لیے نہیں دی گئی کہ اس کے ساتھ سنجیدہ رہا جائے۔ سو، رنگوں کی یہ قوسِ قزح اس کی سنجیدگی کو خُوب صُورت فن میں بدل دینے کی زبان ہے۔‘‘
جب کہ رومی نے مشکلات اور اُن کے روحانی اثرات کو کوزہ گر کی بھٹّی سے تشبیہ دی ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ ’’تمہیں جو بھی غم پہنچے، وہ اس مٹّی کو پکانے کی بھٹّی ہے تاکہ تمہاری رُوح زندگی کے اصل رنگ دیکھ سکے۔‘‘ درحقیقت ’’رنگ‘‘ ہی جذبات و احساسات، محبّت، عشق، جنون کو فزوں تر کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ اس کائنات کے پھیلاؤ میں جھانکیں، تو ہر سُو رنگوں کا ایک طلسم بکھرا دکھائی دیتا ہے۔
سُرخ رنگ، دل کے کینوس پرمحبّت کے نقوش ابھارتا ہے، تو زرد پتّوں، خزاں کے رنگوں میں ہجرو انتظار کا گہرا فلسفہ پنہاں ہے۔ نیلے آسمان کو تکتی نگاہ سے رُوح پر اُترتے ماورائی رنگ، سیاہ رات کا سحر انگیز تاثر، ملکوتی حُسن، تاریک پرچھائیوں کا رومان، فطرت کے رنگوں سے بُنی اداسی اور آہ کا امتزاج، سفید کی پاکیزگی معصومیت، ابدی حُسن، وقت کی دھوپ سے پھیکے پڑتے رنگ، حقیقت اور تخیّل کےدرمیان بسا محبّت کا شہر اوراس میں خوابوں کے دھندلے دھندلے رنگ۔ کون سا منظرنامہ ہے، جو رنگ ہی رنگ سے مزین نہیں۔
ایسے ہی مظاہرِ فطرت کو من کی موج میں صدا لگاتی شاعر علی اصغر کی نظم ملاحظہ کریں ؎ ’’اے حسیں چاند ستارو… مِری آواز سُنو… کیا تمہیں رات کی تاریکی سے ڈر لگتا ہے… یا تمہیں میرے شبستاں سے کوئی کام نہیں… اتنے خاموش ہو کیوں… کچھ تو کہو… دیکھو مَیں وقت کے تاریک بیابانوں سے… لمحۂ فکر کا اک ہار چُرا لایا ہوں… میری آواز سنو… میرے گیتوں کی مچلتی ہوئی آواز سنو… جھوم کر… گاؤ… اُٹھو… رنگ بھرو… رقص کرو۔‘‘جمالیاتی دنیا تخلیقِ کائنات کے رنگوں سے آہنگ ہوتی زندگی کی چال، مزاج اور طور سمجھنے کا ایک راستہ ہے۔
دنیا کے عظیم ترین مصوروں میں سے ایک، پابلو پکاسو نے یہ بات اپنی مصوری کے مختلف ادوار (جیسے بلیو پیریڈ اور روز پیریڈ) کے تناظر میں کہی تھی کہ ’’رنگ، جذبات کے مطابق اپنی سمت بدلتے ہیں۔‘‘
برازیلی ناول نگار، پائیلو کوہلو نے شہرۂ آفاق ناول ’’The Alchemist‘‘ میں اس پر بحث کی ہے کہ تقدیر کے فیصلے اپنی جگہ، لیکن اصل رنگ انسان کی اپنی لگن سے بھرتے ہیں۔ اور امریکی مصنّف، مارک ٹوین نے زندگی کو ایک خالی کینوس مانا ہے، جس پر انسان اپنے تجربات، خوشیوں اور ہنسی مذاق کے رنگ بھرتا ہے۔ اور پھر رضا علی عابدی کتنی پیاری اور معصومیت بھری خوش کُن دعوت دیتے ہیں۔
؎ ’’بن کے ننھے پنچھی… ہم بھی نیل گگن میں… اُڑتے اُڑتے جائیں… گہرے گہرے ساگر… اونچے اونچے پربت… نیلی نیلی جھیلیں… سب نیچے رہ جائیں… بن کے ننّھے پنچھی… بادلوں میں ہم تیریں… اور دھنک پر جُھولیں… چاند پہ مل کر دوڑیں… تاروں کو ہم چُھو لیں… کھیلیں آنکھ مچولی… کرنوں میں چُھپ جائیں… ہاتھ کبھی نہ آئیں… نفرت کی آبادی… خوں ریزی کی وادی… جھگڑے اور بربادی… سب پیچھے رہ جائیں… بن کے ننّھے پنچھی… بادلوں سے لیں موتی… چاند سے چُن لیں چاندی… رنگ دھنک سے بھر لیں… کہکشاؤں کی جھولی… پھر جو لوٹ کے آئیں… پیار کے پر پھیلائے… نگری نگری جائیں… تارے موتی ٹانکیں… سُکھ کی چاندی بانٹیں… جگ میں رنگ بھر جائیں… اچھے دن آ جائیں… بن کے ننّھے پنچھی… ہم بھی نیل گگن میں… اُڑتے اُڑتے جائیں۔‘‘
تو چلیں بھئی، ہماری آج کی بزم بھی رنگوں کی زبانی بس جیسے اِک کہانی ہی کہہ رہی ہے۔ ذرا آپ بھی سُن لیں۔ سب سے پہلے توبات ہوجائے، پیلے اور نیلے رنگ کے امتزاج میں ٹائی اینڈ ڈائی اسٹائل کی۔ یہ دل موہ لینے والا مِکس شیڈ فلوئی میکسی اسٹائل ڈریس، جس کے گلے، فرنٹ اور بازوؤں پر انتہائی نفیس ہینڈ ایمبرائڈری ہے، منہدی، مایوں یا کسی بھی شام کی تقریب کے لیے ایک پرفیکٹ انتخاب ہے۔ سیاہ رنگ کا اسٹائلش کیپ سوٹ (کفتان) ماڈرن اور ٹریڈیشنل لُک کا ایک شان دار امتزاج ہے۔
پرنٹڈ اسٹریٹ ٹراؤزر کے ساتھ کفتان کے فرنٹ پر سفید اور بادامی رنگ پھولوں کی نازک سی کڑھت اور دامن کی اسٹرائپس نے تو جیسے پہناوے کے حُسن و دل کشی کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ اِسی طرح کسی اہم تہوار، شادی، ولیمے یا فیملی فنکشن کے لیے رائل بلیو غرارہ اسٹائل پلازوسوٹ بھی ایک بہترین اور شاہانہ چوائس ثابت ہوگی، جس کے گلے اور دامن پر سفید اور نیلے دھاگوں کی نفیس کڑھت کے ساتھ سیاہ کٹ ورک کا دوپٹا کیا ہی غضب ڈھا رہا ہے۔
پھر آف وائٹ لباس پرسنہری دھاگے، موتی کا ایسا باریک اور حسین کام ہے کہ نگاہیں ہٹانا مشکل ہو رہا ہے۔ جب کہ ہلکے پیلے سجیلے ٹریڈیشنل لباس کی قمیص اور ٹراؤزر کے بارڈرز پر ملٹی کلرز پٹیوں کے کام اور ساتھ ملٹی کلرز ٹسلز ہی کی آرائش نے ایک سادہ سے پہناوے کو بھی بہت خاص بنا دیا ہے۔