رابعہ فاطمہ
’’فنِ تعمیر‘‘ کسی بھی تہذیب کی فنی مہارت، سائنسی شعور اور ماحول سے ہم آہنگی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ عظیم تہذیبیں صرف مضبوط عمارات تعمیر نہیں کرتیں، بلکہ ایسے تعمیراتی اصول بھی وضع کرتی ہیں، جو مقامی جغرافیے، موسمی حالات، دست یاب وسائل اور سماجی ضروریات کے مطابق ہوں۔ برّ ِعظیم میں مغلیہ دَور (1526ء-1857ء) اِسی تعمیراتی بصیرت کی ایک نمایاں مثال ہے۔
مغل معماروں نے محض جمالیاتی حُسن پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ بارش، گرمی، نمی، سیلاب، ہوا کی گردش اور پانی کی نکاسی جیسے ماحولیاتی عوامل کو بھی تعمیراتی منصوبہ بندی کا لازمی حصّہ بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ مغلیہ دَور کی متعدّد عمارات چار سے پانچ صدیوں بعد بھی اپنی اصل ساخت اور مضبوطی کے ساتھ موجود ہیں، جب کہ جدید دَور کی کئی عمارتیں چند دہائیوں ہی میں مرمّت کی محتاج ہو جاتی ہیں۔
برّ ِعظیم کی آب و ہوا، بالخصوص مون سون کا نظام ہمیشہ تعمیراتی منصوبہ بندی کے لیے ایک اہم چیلنج رہا ہے۔ جون سے ستمبر تک ہونے والی موسلا دھار بارشیں، نمی کی بلند شرح، دریاؤں کی طغیانی اور زیرِ زمین پانی کی تبدیلیاں ایسی حقیقتیں تھیں، جنہیں نظر انداز کرکے پائے دار تعمیر ممکن نہیں تھی۔ مغل معماروں نے اِس حقیقت کو بخوبی سمجھا اور ایسی تعمیراتی حکمتِ عملی اختیار کی، جس میں بلند چبوترے، ڈھلوانی فرش، کشادہ صحن، نکاسیٔ آب کے زیرِ زمین نظام، مضبوط بنیادیں، موٹی دیواریں، چھجے، برآمدے اور مناسب ہوا داری کو بنیادی اہمیت دی گئی۔ یہ تمام عناصر اِس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ مغلیہ فنِ تعمیر صرف جمالیات نہیں، موسمیاتی موافقت (Climate Adaptation) کی بھی ایک کام یاب مثال تھا۔
جدید دَور میں جب موسمیاتی تبدیلی، شہری سیلاب، غیر معمولی بارشیں اور درجۂ حرارت میں اضافہ دنیا کے بڑے شہروں کے لیے سنگین چیلنج بن چُکے ہیں، تو تاریخی تعمیراتی دانش کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ آج دنیا بھر میں پائے دار تعمیرات، موسمیاتی لچک اور ماحول دوست شہری منصوبہ بندی پر تحقیق ہو رہی ہے، جب کہ مغلیہ تعمیرات کئی صدیوں قبل اِنہی اصولوں کے عملی نمونے پیش کر چُکی تھیں۔
اِس تناظر میں مغلیہ فنِ تعمیر کا مطالعہ صرف تاریخی یا ثقافتی اہمیت ہی کا حامل نہیں، جدید تعمیراتی سائنس اور شہری منصوبہ بندی کے لیے بھی قابلِ قدر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
مغلیہ فن تعمیر کے بنیادی اصول اور موسمیاتی موافقت
مغلیہ فنِ تعمیر کو عموماً اس کی شان و شوکت، جمالیاتی حُسن، سنگِ مرمر کے استعمال، خوب صُورت خطّاطی، گنبدوں اور میناروں کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے، تاہم اس کا ایک اہم، مگر نسبتاً کم زیرِ بحث پہلو اس کی موسمیاتی موافقت ہے۔ مغل معمار محض دل کش عمارات تعمیر کرنے پر اکتفا نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ مقامی جغرافیے، موسمی حالات، بارشوں کی شدّت، ہوا کی سمت، درجۂ حرارت اور آبی وسائل کا باریک بینی سے جائزہ لے کر عمارتوں کی منصوبہ بندی کرتے۔
یہی وجہ ہے کہ مغلیہ عہد کی بیش تر عمارتیں چار سے پانچ صدیوں بعد بھی موسمی اثرات کا مؤثر طور پر مقابلہ کرتی نظر آتی ہیں۔ جدید تعمیراتی سائنس، جسے آج ’’Climate Responsive Architecture‘‘ یا’’Environmental Architecture‘‘ کے نام سے بیان کیا جاتا ہے، اس کے کئی عملی اصول مغلیہ تعمیرات میں نمایاں طور پر موجود تھے۔
مغلیہ تعمیرات کا ایک بنیادی اصول بلند چبوترے تعمیر کرنا تھا۔ برِّعظیم میں مون سون کی شدید بارشوں اور دریائی طغیانی کے پیشِ نظر اہم عمارات کو زمین کی سطح سے خاصی بلندی پر تعمیر کیا جاتا تھا تاکہ بارش یا سیلاب کا پانی براہِ راست عمارت کی بنیادوں تک نہ پہنچ سکے۔
اس کی نمایاں مثال بادشاہی مسجد ہے، جسے ایک بلند چبوترے پر تعمیر کیا گیا۔ اِسی طرح لاہور قلعے کے مختلف حصّوں کی بنیادیں بھی اِس انداز میں تعمیر کی گئیں کہ بارش کا پانی فوری طور پر اطراف میں بہہ جائے۔ یہ طریقۂ تعمیر آج بھی سیلاب زدہ علاقوں میں محفوظ عمارتوں کے لیے ایک مؤثر اصول سمجھا جاتا ہے۔
بارشوں سے تحفّظ کے لیے مغلیہ معماروں نے چھجوں، برآمدوں اور کشادہ راہ داریوں کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ عمارتوں کے گرد بنائے گئے چوڑے چھجے بارش کے پانی کو دیواروں سے دُور گراتے تھے، جس سے دیواروں میں نمی کے جذب ہونے کا امکان کم ہو جاتا تھا اور عمارت کی عُمر میں اضافہ ہوتا تھا۔
اِسی طرح گہرے برآمدے گرمیوں میں سایہ فراہم کرتے اور بارش کے دَوران اندرونی حصّوں کو محفوظ رکھتے تھے۔ جہانگیر اور اعتماد الدولہ کے مقابر میں یہ تعمیراتی خصوصیات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ جدید ماحول دوست تعمیرات میں بھی سن شیڈز، اوور ہینگ اور برآمدوں کا استعمال اِنہی مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے، جو اِس بات کا ثبوت ہے کہ مغلیہ معمار موسمی حالات کے مطابق تعمیر کے سائنسی اصولوں سے بخوبی واقف تھے۔
مغلیہ فنِ تعمیر میں نکاسیٔ آب کو بھی بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ عمارتوں کی چھتوں کو معمولی ڈھلوان دی جاتی تھی تاکہ بارش کا پانی مخصوص راستوں سے بہہ کر پتھریلی نالیوں یا زیرِ زمین ڈرینیج تک پہنچ جائے۔ صحنوں اور باغات کی سطح بھی اِس انداز میں ترتیب دی جاتی کہ پانی جمع نہ ہو، بلکہ قدرتی بہاؤ کے ساتھ آگے بڑھتا رہے۔ شالیمار باغ میں نہروں، حوضوں، آبی گزرگاہوں اور نکاسیٔ آب کا مربوط نظام اِس تعمیراتی مہارت کی بہترین مثال ہے۔
دل چسپ امر یہ ہے کہ یہ نظام نہ صرف باغات کی خُوب صُورتی میں اضافہ کرتا تھا، بلکہ اضافی بارش کے پانی کو منظّم انداز میں خارج کرنے کا بھی ذریعہ تھا۔ آج کے شہری منصوبہ ساز بھی’’Storm Water Management‘‘ کے تحت ایسے ہی مربوط نظام وضع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تعمیراتی مواد کا انتخاب بھی موسمیاتی موافقت کا ایک اہم جزو تھا۔ مغلیہ دَور میں سُرخ پتھر، سنگِ مرمر، پکّی اینٹ، چُونے کا گارا اور قدرتی پتھروں کا استعمال کیا جاتا تھا، جو نمی برداشت کرنے، درجۂ حرارت متوازن رکھنے اور طویل عرصے تک مضبوط رہنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ خصوصاً چُونے کا گارا وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہو جاتا تھا اور معمولی دراڑوں کو جزوی طور پر خود بھرنے کی خاصیت بھی رکھتا تھا، جسے آج کے ماہرین’’ Self-healing Properties of Lime‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مغلیہ دَور کی بے شمار عمارات شدید بارشوں، موسم کی تبدیلی اور صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی اپنی اصل ساخت کے ساتھ موجود ہیں۔ اِس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ مغلیہ فنِ تعمیر محض جمالیاتی اظہار نہیں، انجینئرنگ، ماحولیاتی سائنس اور موسمیاتی دانش کا ایک مربوط و عملی نمونہ بھی تھا۔
مغلیہ باغات، آبی نظام اور بارش کے پانی کا انتظام:
مغلیہ فنِ تعمیر کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ عمارتوں اور باغات کو ایک دوسرے سے الگ نہیں سمجھا جاتا تھا، بلکہ دونوں کو ایک مربوط ماحولیاتی نظام کا حصّہ تصوّر کیا جاتا۔ مغل معماروں کے نزدیک پانی صرف آرائش یا تفریح کا ذریعہ نہیں تھا، وہ تعمیراتی استحکام، درجۂ حرارت میں توازن، نکاسیٔ آب اور ماحولیاتی پائے داری کا بنیادی عُنصر بھی تھا۔ اِسی تصوّر کے تحت محلّات، مساجد، مقابر اور باغات کو نہروں، حوضوں، آب شاروں اور زیرِ زمین آبی گزرگاہوں کے ساتھ مربوط کیا جاتا تھا۔
اِس منصوبہ بندی سے ایک طرف بارش کے پانی کا مؤثر انتظام ممکن ہوتا، تو دوسری طرف عمارتوں کے گرد معتدل آب و ہوا پیدا کی جاتی، جس سے شدید گرمی اور نمی کے اثرات میں نمایاں کمی آتی۔ اُس دَور میں چہار باغ کا تصوّر صرف جمالیاتی حُسن تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے گہری سائنسی اور ماحولیاتی حکمت پوشیدہ تھی۔ چہار باغ کی ترتیب میں باغ چار حصّوں میں تقسیم کیا جاتا اور درمیان سے گزرنے والی نہریں پانی کی منظّم تقسیم کے ساتھ نکاسیٔ آب کا بھی مؤثر ذریعہ بنتیں۔
اس کی بہترین مثال شالامار باغ، لاہور ہے، جہاں نہروں، آب شاروں، حوضوں اور سیکڑوں فواروں کا ایسا مربوط نظام قائم کیا گیا، جس میں پانی قدرتی ڈھلوان کے ذریعے ایک سے دوسرے حصّے میں منتقل ہوتا۔ یہی اصول نشاط باغ اور شالیمار باغ، کشمیر میں بھی اختیار کیا گیا، جہاں پہاڑی ڈھلوانوں سے آنے والے پانی کو نہ صرف باغات کی آب پاشی کے لیے استعمال کیا گیا بلکہ اضافی پانی کی محفوظ نکاسی کا بھی انتظام موجود تھا۔
اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغل معمار پانی کے بہاؤ، زمین کی ساخت اور کششِ ثقل کے اصولوں سے بخوبی آگاہ تھے۔ مغلیہ تعمیرات میں بارش کے پانی کو ضائع کرنے کی بجائے اِس سے فائدہ اُٹھانے کا تصوّر بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ مختلف محلّات، قلعوں اور باغات میں بارش کا پانی مخصوص نالیوں کے ذریعے حوضوں یا ذخیرہ گاہوں تک پہنچایا جاتا، جہاں سے اُسے باغ بانی، صفائی اور دیگر ضروریات کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔
اگرچہ اُس دور میں رین واٹر ہارویسٹنگ(Rainwater Harvesting) کی اصطلاح رائج نہیں تھی، لیکن عملی طور پر اس کے بنیادی اصول مغلیہ تعمیرات میں موجود تھے۔ مثال کے طور پر لاہور اور آگرہ کے قلعے میں پانی کی فراہمی و نکاسی کے لیے زیرِ زمین آبی گزرگاہوں، کنووں اور ذخیرہ گاہوں کا مربوط نظام تعمیر کیا گیا تھا، جس نے عمارتوں کو موسمی تغیّرات کے باوجود فعال رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مغل معماروں نے باغات میں درختوں اور سبزے کے انتخاب کو بھی سائنسی بنیادوں پر ترتیب دیا۔
سایہ دار درخت، خوش بُودار پودے اور پانی کے ذخائر مل کر اردگرد کے ماحول کا درجۂ حرارت کم کرتے، ہوا میں نمی کا توازن برقرار رکھتے اور بارش کے پانی کو زمین میں جذب ہونے کا موقع فراہم کرتے۔ آج ماہرینِ ماحولیات جس تصوّر کو’’ Green Infrastructure ‘‘ اور’’ Nature-based Solutions ‘‘کے نام سے بیان کرتے ہیں، اس کی عملی جھلک مغلیہ باغات میں دیکھی جا سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان باغات میں شدید گرمی کے موسم میں بھی نسبتاً معتدل ماحول محسوس ہوتا، جو اُس دَور کی تعمیراتی بصیرت اور ماحول سے ہم آہنگ منصوبہ بندی کا ثبوت ہے۔ مغلیہ باغات اور آبی نظام محض شاہی ذوق یا جمالیاتی اظہار کا نتیجہ نہیں تھے، بلکہ وہ ایک جامع ماحولیاتی حکمتِ عملی کا حصّہ تھے۔
پانی کے بہاؤ، بارش کی شدّت، زمینی ڈھلوان، سبزہ، ہوا کی گردش اور تعمیراتی ڈھانچے کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھنا مغلیہ معماروں کی غیر معمولی بصیرت کی علامت ہے۔ آج جب پاکستان اور جنوبی ایشیا کے بڑے شہر شہری سیلاب، ناقص نکاسیٔ آب، درجۂ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی آلودگی جیسے مسائل سے دوچار ہیں، تو مغلیہ دَور کی یہ تعمیراتی دانش جدید شہری منصوبہ بندی کے لیے اہم رہنمائی فراہم کر سکتی ہے۔
مغلیہ تعمیراتی مواد، انجینئرنگ مہارت اور عمارتوں کی پائے داری
مغلیہ فنِ تعمیر کی پائے داری کا راز صرف اُس کی عظمت یا جمالیاتی حُسن میں نہیں، بلکہ اُس سائنسی فہم میں پوشیدہ ہے، جس کے تحت ہر عمارت کو مقامی جغرافیے، موسمی حالات، زمینی ساخت اور دست یاب تعمیراتی وسائل کے مطابق ڈیزائن کیا جاتا تھا۔ مغل معماروں کے لیے عمارت کی خُوب صُورتی اور مضبوطی ایک دوسرے سے جُدا تصوّرات نہیں تھے، بلکہ دونوں ایک ہی تعمیراتی فلسفے کا حصّہ تھے۔
یہی وجہ ہے کہ سولہویں اور سترہویں صدی میں تعمیر ہونے والی کئی عمارات آج بھی شدید بارشوں، نمی، درجۂ حرارت میں تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کے باوجود اپنی اصل شناخت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ برطانوی مؤرخ، Percy Brown نے اپنی معروف تصنیف’’ Indian Architecture (Islamic Period) میں لکھا ہے کہ مغلیہ تعمیرات کی اصل طاقت اُن کے متوازن انجینئرنگ نظام، مضبوط بنیادوں اور معیاری تعمیراتی مواد میں مضمر تھی، نہ کہ صرف اُن کی ظاہری شان و شوکت میں۔ مغلیہ معمار تعمیراتی مواد کے انتخاب میں غیر معمولی احتیاط برتتے۔
شہنشاہ اکبر کے دور میں تعمیر ہونے والے آگرہ اور فتح پور سیکری کے قلعوں میں مقامی سُرخ پتھر استعمال کیا گیا، جو نہ صرف مضبوط تھا، بلکہ بارش اور نمی کے مقابلے میں بھی زیادہ مزاحمت رکھتا تھا۔ بعدازاں، شاہ جہاں نے سنگِ مرمر کو ترجیح دی، لیکن بنیادی ڈھانچوں میں پکّی اینٹ، چُونے کا گارا اور پتھریلی بَھرائی ہی استعمال ہوتی رہی۔ چُونے کا گارا مغلیہ تعمیرات کی سب سے بڑی تیکنیکی خصوصیت تھا۔
اس میں چُونا، سُرخی، گڑ، بیل کا گودا اور بعض اوقات دالوں یا قدرتی ریشوں کا آمیزہ شامل کیا جاتا، جس سے اس کی مضبوطی اور لچک میں اضافہ ہوتا۔ آج تحفّظِ آثارِ قدیمہ کے ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ روایتی گارا جدید سیمنٹ کے مقابلے میں نمی برداشت کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے، اِسی لیے تاریخی عمارات کی بحالی میں چُونے کا گارا استعمال کیا جاتا ہے۔ مغلیہ انجینئرنگ کی ایک شان دار مثال تاج محل ہے، جس کی تعمیر 1632ء میں شروع ہوئی۔
چوں کہ یہ عمارت دریائے جمنا کے کنارے واقع ہے، اِس لیے زمین میں نمی کا تناسب زیادہ تھا۔ مغل انجینئرز نے اس مسئلے کے حل کے لیے گہری کنویں نُما بنیادیں (Well Foundations) تعمیر کیں، جن میں مضبوط لکڑی، پتھر اور چُونے کی بَھرائی کی گئی۔ تاریخ دان Ebba Koch کے مطابق، تاج محل کا بلند سنگِ مرمر کا چبوترا صرف حُسنِ تعمیر کے لیے نہیں، سیلابی پانی اور مون سون کی شدید بارشوں سے مرکزی عمارت کو محفوظ رکھنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ تقریباً ساڑھے چھے میٹر بلند اِس پلیٹ فارم نے گزشتہ چار صدیوں میں متعدّد موسمی تغیّرات کے باوجود عمارت محفوظ رکھی، جو مغلیہ انجینئرنگ کی دُور اندیشی کا واضح ثبوت ہے۔
اِسی طرح لاہور قلعے میں شاہ جہانی محلّات، دیوانِ خاص اور دیگر عمارات کی چھتوں کے نیچے تراشیدہ پتھروں سے بنی نالیاں آج بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ نالیاں بارش کے پانی کو مخصوص راستوں سے زیرِ زمین ڈرینیج تک منتقل کرتی تھیں تاکہ پانی دیواروں یا بنیادوں میں جذب نہ ہو۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق قلعے کی بیرونی دیواروں میں معمولی ڈھلوان اور مخصوص آبی اخراجی سوراخ (Weep Holes) بھی رکھے گئے تھے، جن کا مقصد دیواروں کے اندر جمع ہونے والی نمی کو خارج کرنا تھا۔
یہی انجینئرنگ اصول بعد ازاں بادشاہی مسجد میں بھی اختیار کیے گئے، جہاں وسیع صحن، بلند چبوترا اور ڈھلوانی فرش بارش کے پانی کو چند ہی لمحوں میں نکاسی کے نظام تک پہنچا دیتے ہیں۔ مغلیہ دَور کے سیّاحوں کی تحریریں بھی اس تعمیراتی مہارت کی تصدیق کرتی ہیں۔ فرانسیسی سیّاح François Bernier اور اطالوی سیّاح Niccolao Manucci نے سترہویں صدی میں ہندوستان کے سفرناموں میں لکھا کہ مغل شہروں میں شاہی عمارتوں اور باغات کی دیکھ بھال اِس انداز سے کی جاتی تھی کہ بارشوں کے بعد بھی پانی زیادہ دیر کھڑا نہیں رہتا تھا۔
ان مشاہدات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مغلیہ تعمیرات کی مضبوطی محض اعلیٰ معیار کے پتھروں کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے انجینئرنگ نظام کا ثمر تھی، جس میں بنیاد، نکاسیٔ آب، تعمیراتی مواد، زمینی ڈھلوان اور موسمی حالات کو ایک دوسرے سے مربوط کرکے دیکھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی مغلیہ فنِ تعمیر کو دنیا کی پائے دار تاریخی تعمیرات میں نمایاں مقام حاصل ہے اور جدید ماہرینِ تعمیرات اسے ماحول سے ہم آہنگ انجینئرنگ کی کام یاب مثال قرار دیتے ہیں۔
مون سون، شہری منصوبہ بندی اور مغلیہ تعمیراتی دانش
مغلیہ دَور میں شہر صرف آبادیوں کے مجموعے نہیں تھے بلکہ انہیں ایک مربوط شہری نظام کے طور پر تعمیر کیا جاتا، جہاں شاہی عمارات، بازار، باغات، سڑکیں، نہریں اور نکاسیٔ آب کا نظام ایک دوسرے سے مربوط ہوتے۔ مغل حُکم رانوں کو بخوبی علم تھا کہ برّ ِعظیم کی معیشت اور شہری زندگی مون سون کے نظام سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اگر بارش کے پانی کی بروقت نکاسی نہ ہو، تو بازار، رہائشی علاقے اور شاہی عمارتیں سب متاثر ہو سکتے ہیں۔
اِسی لیے شہر کی منصوبہ بندی کے آغاز ہی سے پانی کے بہاؤ، زمینی ڈھلوان، دریاؤں کی سمت اور قدرتی نالوں کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا۔ یہ اصول جدید شہری منصوبہ بندی سے حیرت انگیز مماثلت رکھتے ہیں، جہاں تعمیر سے پہلے ہائیڈرولوجیکل اور جیوٹیکنیکل مطالعات کیے جاتے ہیں۔ اس کی ایک نمایاں مثال شاہ جہان آباد ہے، جس کی بنیاد 1639ء میں شہنشاہ شاہ جہاں نے رکھی۔
مؤرخ Stephen P. Blake کے مطابق شہر کی منصوبہ بندی میں دریائے جمنا، قدرتی ڈھلوان اور بارش کے پانی کی نکاسی کو بنیادی اہمیت دی گئی۔ مرکزی شاہ راہیں اِس انداز سے تعمیر کی گئیں کہ بارش کا پانی دونوں اطراف بنی پتھریلی نالیوں میں بہہ جائے اور رہائشی علاقوں میں جمع نہ ہو۔ اس زمانے کے یورپی سیّاحوں نے بھی لکھا ہے کہ شدید بارشوں کے باوجود شاہ جہان آباد کے مرکزی بازار نسبتاً جلد معمول پر آ جاتے تھے، کیوں کہ نکاسیٔ آب کا نظام پہلے سے موجود تھا۔
مغلیہ دَور میں قلعوں کی تعمیر بھی محض دفاعی ضرورت نہیں، بلکہ موسمیاتی حکمتِ عملی کا حصّہ تھی اور آگرے کا قلعہ اس کی بہترین مثال ہے۔ اگرچہ یہ قلعہ، دریائے جمنا کے کنارے واقع ہے، لیکن اس کی بیرونی دیواریں اس انداز سے تعمیر کی گئیں کہ بارش یا دریا کے پانی کا دباؤ براہِ راست بنیادوں پر اثر انداز نہ ہو۔ قلعے کے اندر مختلف سطحوں پر واقع صحن، باغات اور رہائشی حصّے قدرتی ڈھلوان کے مطابق ترتیب دیئے گئے تھے۔
برطانوی معمار اور مؤرخ Percy Brown لکھتے ہیں کہ مغل معمار پانی کا قدرتی بہاؤ روکنے کی بجائے اس کی سمت منظّم کرتے اور یہی ان کی انجینئرنگ مہارت کا بنیادی اصول تھا۔ لاہور میں واقع، شالیمار باغ مغلیہ آبی انجینئرنگ کا ایک شاہ کار ہے۔ یہ باغ 1641ء میں تعمیر ہوا اور اس کی منصوبہ بندی میں پانی کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ مؤرخین کے مطابق، شاہ جہان نے نہرِ علی مردان کے ذریعے باغ تک پانی پہنچانے کا انتظام کیا، جو اُس دَور کا ایک غیر معمولی انجینئرنگ منصوبہ تھا۔
باغ کی تین مختلف سطحوں پر تقریباً 410 فوارے، متعدّد آب شاریں، سنگِ مرمر کے حوض اور زیرِ زمین آبی گزرگاہیں تعمیر کی گئیں۔ یہ صرف تفریح یا زیبائش کے لیے نہیں تھے بلکہ بارش کے اضافی پانی کو منظّم انداز میں خارج کرنے، زمین میں جذب کرنے اور باغ کے مختلف حصّوں میں تقسیم کرنے کا ذریعہ بھی تھے۔ جدید ماہرینِ تعمیر اس نظام کو’’Passive Water Management System‘‘ کی ایک تاریخی مثال قرار دیتے ہیں۔ مغلیہ دَور میں شہری منصوبہ بندی کا ایک اور اہم اصول قدرتی آبی گزرگاہیں ختم کرنے کی بجائے اُن کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔
اس کے برعکس، جدید دور میں جنوبی ایشیا کے بہت سے شہروں میں قدرتی نالوں پر تعمیرات، غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیمز اور ناقص ڈرینیج سسٹم، شہری سیلاب کی بڑی وجوہ بن چُکے ہیں۔ مثال کے طور پر لاہور، کراچی اور ڈھاکا میں حالیہ برسوں کے مون سون سے واضح ہوا کہ بارش کا پانی اُس وقت تباہی کا سبب بنتا ہے، جب قدرتی بہاؤ کے راستے مسدود کر دیئے جائیں، جب کہ مغلیہ معمار یہ حقیقت چار سو سال پہلے سمجھ چُکے تھے۔
اُن کے نزدیک کام یاب تعمیر وہی تھی، جو فطرت سے مقابلے کی بجائے اُس کے ساتھ مطابقت پیدا کرے۔ یہی فلسفہ آج موسمیاتی تبدیلی کے دَور میں پائے دار شہری منصوبہ بندی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے اور مغلیہ تعمیراتی دانش کو ایک بار پھر جدید تحقیق کا موضوع بنا رہا ہے۔
مغلیہ تعمیراتی دانش اور جدید پاکستان
تاریخ کا مطالعہ صرف ماضی کے واقعات جاننے کے لیے نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کا اصل مقصد حال کے مسائل سمجھنا اور مستقبل کے لیے رہنمائی حاصل کرنا ہے۔ مغلیہ فنِ تعمیر بھی اِس اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان ہر سال مون سون کی شدید بارشوں، شہری سیلاب، ناقص نکاسیٔ آب اور غیر منصوبہ بند شہری توسیع جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ 2022ء کے تباہ کُن سیلاب نے نہ صرف دیہات، بلکہ شہری انفرا اسٹرکچر کی کم زوری کو بھی نمایاں کیا۔
لاکھوں مکانات، سڑکیں، پُل اور عوامی عمارتیں متاثر ہوئیں، جس سے اندازہ ہوا کہ جدید تعمیرات میں اکثر مقامی جغرافیے، آبی بہاؤ اور موسمی تغیّرات کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ اس کے برعکس، مغلیہ دَور کی بہت سی عمارتیں چار سو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود شدید بارشوں اور موسمی تبدیلیوں کا مقابلہ کر رہی ہیں، جو اُن کے تعمیراتی اصولوں کی مؤثریت کا واضح ثبوت ہے۔اس تناظر میں لاہور ایک اہم مثال پیش کرتا ہے۔
مغلیہ دور میں یہ شہر متعدّد باغات، نہروں اور قدرتی نالوں پر مشتمل ایک مربوط شہری نظام رکھتا تھا۔ شالیمار باغ ، لال قلعہ اور ان کے اطراف کے علاقے اِس انداز سے تعمیر کیے گئے کہ بارش کا پانی قدرتی ڈھلوان کے ساتھ بہہ کر نہروں اور آبی گزرگاہوں میں شامل ہو جاتا۔ لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں شہری آبادی کے بے ہنگم پھیلاؤ، قدرتی نالوں پر تجاوزات اور سبزہ زاروں میں کمی کے باعث لاہور کو معمول کی بارشوں میں بھی شہری سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ صُورتِ حال اِس امر کی غمّاز ہے کہ جدید شہری منصوبہ بندی نے کئی مقامات پر وہ اصول نظر انداز کر دیئے، جنہیں مغل معمار صدیوں پہلے اختیار کر چُکے تھے۔ اِسی طرح کراچی کا مسئلہ بھی قابلِ توجّہ ہے۔ تاریخی طور پر شہر کے اطراف قدرتی برساتی گزرگاہیں موجود تھیں، جو بارش کا پانی سمندر تک پہنچاتیں۔
تاہم، تیز رفتار شہری توسیع، غیر قانونی تعمیرات اور نکاسیٔ آب کے قدرتی راستوں کی بندش نے مون سون کی بارشوں کو شہری بحران میں تبدیل کر دیا۔ اگرچہ کراچی مغلیہ دَور کا منصوبہ بند شہر نہیں، لیکن مغلیہ تعمیراتی فلسفہ ایک اہم سبق ضرور دیتا ہے کہ قدرتی آبی راستے ختم کرنے کی بجائے اُنہیں شہری منصوبہ بندی کا حصّہ بنایا جائے۔
یہی اصول آج دنیا کے ترقّی یافتہ ممالک میں’’ Blue-Green Infrastructure‘‘ اور’’ Nature-based Urban Planning ‘‘کے نام سے دوبارہ اختیار کیے جا رہے ہیں۔ یونیسکو تاریخی عمارات کو ثقافتی وَرثہ ہی نہیں، روایتی انجینئرنگ اور ماحول دوست تعمیرات کا اہم ذریعہ بھی قرار دیتا ہے۔ اِسی طرح ICOMOS اپنی مختلف تحقیقی رپورٹس میں زور دیتا ہے کہ تاریخی تعمیرات میں استعمال ہونے والے مقامی مواد، بارش کے پانی کے انتظام، قدرتی ہواداری اور ماحول سے مطابقت رکھنے والے اصول جدید پائے دار تعمیرات کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔
مغلیہ فنِ تعمیر اِس ضمن میں جنوبی ایشیا کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں خُوب صُورتی، انجینئرنگ اور ماحولیاتی حکمتِ عملی ایک دوسرے سے جُدا نہیں، بلکہ ایک ہی تعمیراتی فلسفے کے مختلف پہلو ہیں۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی اور شہری سیلاب جیسے بڑھتے مسائل کا حل صرف جدید ٹیکنالوجی میں نہیں، بلکہ مقامی تاریخی تجربات سے استفادہ کرنے میں بھی پوشیدہ ہے۔
مغلیہ معماروں نے تعمیرات کو قدرتی ماحول کے ساتھ ہم آہنگ کرکے پائے داری حاصل کی۔ اگر آج کی شہری منصوبہ بندی میں بلند بنیادوں، مؤثر نکاسیٔ آب، بارش کے پانی کے ذخیرے، کُھلے سبز مقامات، مقامی تعمیراتی مواد اور قدرتی آبی گزرگاہوں کے تحفّظ جیسے اصول دوبارہ اپنائے جائیں، تو پاکستان کے شہروں کو مون سون کے بڑھتے خطرات سے زیادہ مؤثر انداز میں محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
اِس اعتبار سے مغلیہ تعمیراتی دانش صرف ایک تاریخی وَرثہ ہی نہیں، مستقبل کی موسمیاتی منصوبہ بندی کے لیے ایک قابلِ عمل علمی سرمایہ بھی ہے۔ مغلیہ فن تعمیر کو صرف جمالیاتی یا ثقافتی ورثے کے طور پر دیکھنا اِس کی اصل اہمیت کو محدود کر دیتا ہے۔ مغلیہ معماروں نے تعمیرات کو مقامی جغرافیے، موسمی حالات، آبی وسائل، زمینی ساخت اور انسانی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک ایسا تعمیراتی فلسفہ تشکیل دیا، جس میں حُسن اور افادیت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
برّ ِعظیم کے مون سون نظام، شدید بارشوں، دریائی سیلاب اور بلند درجۂ حرارت کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے بلند چبوترے، کشادہ صحن، گہرے چھجے، ڈھلوانی فرش، زیرِ زمین نکاسیٔ آب، چُونے کے گارے اور قدرتی ہواداری جیسے عناصر کو عمارات کا لازمی حصّہ بنایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ تاج محل، بادشاہی مسجد اور شالیمار باغ جیسی عمارتیں صدیوں بعد بھی انجینئرنگ کی کام یاب مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔
مغل حُکم رانوں نے تعمیرات کو محض شاہی وقار کے اظہار کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ انہیں شہری نظم و نسق، آبی انتظام، عوامی سہولت اور ماحولیاتی توازن سے جوڑا۔ شہنشاہ اکبر کے دَور میں فتح پور سیکری کی تعمیر ہو یا شاہ جہاں کے عہد میں شاہ جہان آباد، تاج محل اور شالیمار باغ کی منصوبہ بندی، ہر جگہ پانی کے بہاؤ، زمین کی ڈھلوان اور موسمی تغیّرات کو بنیادی حیثیت دی گئی۔ مؤرخین Percy Brown، Ebba Koch اور Catherine B. Asher اس امر پر متفّق ہیں کہ مغلیہ تعمیرات کی پائے داری کا راز صرف عُمدہ تعمیراتی مواد نہیں، جامع منصوبہ بندی، انجینئرنگ مہارت اور ماحول سے مطابقت رکھنے والے اصولوں میں پوشیدہ ہے۔
مغلیہ فنِ تعمیر ماضی کا ایک خاموش وَرثہ نہیں، بلکہ ایک زندہ علمی سرمایہ ہے۔ اگر اس کا مطالعہ صرف تاریخی عمارتوں کی خُوب صُورتی تک محدود رکھا جائے، تو اس کی اصل افادیت ہماری نظروں سے اوجھل رہ جائے گی، لیکن اگر اسے ماحولیاتی انجینئرنگ، شہری منصوبہ بندی، آبی انتظام اور پائے دار تعمیرات کے تناظر میں دیکھا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ مغلیہ معمار اپنے عہد سے کہیں آگے کی سوچ رکھتے تھے۔
آج جب پاکستان موسمیاتی تبدیلی اور شہری بحرانوں کے ایک نئے دَور میں داخل ہو چُکا ہے، تو ماضی کی یہی تعمیراتی دانش، مستقبل کے لیے رہنمائی فراہم کر سکتی ہے۔ چناں چہ مغلیہ فنِ تعمیر کا ازسرِنو مطالعہ صرف تاریخی تحقیق کی ضرورت نہیں بلکہ قومی تعمیراتی پالیسی، شہری منصوبہ بندی اور ماحولیاتی تحفّظ کے لیے بھی ایک ناگزیر علمی تقاضا ہے۔