• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گونا گوں بحرانوں سے نبردآزما بےبس اقوامِ متحدہ

اقوامِ متّحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا کہ جب دُنیا مختلف نوعیت کے بُحرانوں کا سامنا کررہی ہے۔ اس مرتبہ بھی اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ امریکا، ایران جنگ اور سعودی عرب، حوثی کشیدگی کے باعث توجّہ کا مرکز رہا، کیوں کہ ان تنازعات کے سبب سعودی تیل اور قطری گیس کی سپلائی کو پچھلے چھے ماہ سے مسلسل رُکاوٹوں کا سامنا ہے، جب کہ اہم ترین تجارتی آبی گزرگاہیں، آبنائے ہُرمز اور باب المندب شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ 

گزشتہ پانچ برس کے دوران ایران، امریکا جنگ، حوثیوں کے جزائر پر قبضے اور یوکرین جنگ کی شدّت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ رُوس اور یوکرین دونوں ہی ایک دوسرے کے بنیادی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس کی وجہ سے تیل، گیس اور اجناس کی رسد بار بار تعطّل کا شکار ہورہی ہے اور نتیجتاً دُنیا بَھر میں منہگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔ جب اقوامِ عالم کو درپیش گوناگوں بُحرانوں کا خاتمہ ہوتا ہے اور نہ ان کے حل کے لیے سلامتی کاؤنسل کی کوئی پیش رفت موثر ثابت ہوتی ہے، تو یہ سوال اہمیت کر جاتا ہے کہ کیا یہ عالمی ادارہ اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہے؟

اقوامِ متّحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا موضوع ’’اعتماد کی بحالی اور تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونا‘‘ تھا۔ دَورِ حاضر میں تیزی سے رُونما ہونے والی تبدیلیوں میں سب سے اہم مصنوعی ذہانت ہے، جس کے عالمِ انسانیت پر نہایت گہرے اثرات مرتّب ہو رہے ہیں اور یہ سوالات عام ہوتے جا رہے ہیں کہ کیا اے آئی انسانوں پر غلبہ حاصل کر لے گی؟ کیا دُنیا میں بے روزگاری عام ہوجائے گی؟ اور کیا لوگ سوچنا چھوڑ دیں گے؟ جنگوں اور عالمی تجارت پر ان کے تباہ کُن اثرات کے باوجود امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کے چینی ہم منصب، شی جن پِنگ کے درمیان بات چیت کا مرکزی نکتہ یہی تھا۔

اجلاس میں 130ممالک کے سربراہانِ مملکت وحکومت نے شرکت کی۔ چوں کہ ہر لیڈر کے لیے اپنا مُلک، اپنا خطّہ اور اپنے مفادات اہمیت رکھتے ہیں، لہٰذا انہوں نے اسی انداز سے اپنا مؤقف پیش کیا۔ پاکستان کے وزیرِاعظم، شہباز شریف نے اسلامی دُنیا کو درپیش خطرات بالخصوص امریکا، ایران جنگ، فلسطین، مقبوضہ کشمیر اور پاکستان میں دہشت گردی پر قابو پانے کے معاملات پر کُھل کر اظہارِ خیال کیا۔ اپنی تمام تر کم زوریوں کے باوجود اقوامِ متّحدہ دُنیا کا وہ سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے کہ جہاں ہر مُلک کی نمائندگی موجود ہے اور ہر مُلک کا سربراہ اپنا مؤقف پیش کرنے نیویارک آتا ہے۔

امریکا، اسرائیل اور ایران دُشمنی اپنی جگہ لیکن ان کے لیڈرز جنرل اسمبلی کے اجلاس میں موجود تھے۔ اِسی طرح یوکرین جنگ کے منفی اثرات نمایاں کرنے کے لیے فرانس، برطانیہ اور رُوس کی لیڈرشپ اس پلیٹ فارم پر لابنگ کرتی رہی۔ مصنوعی ذہانت اور عالمی تجارت کو درپیش چیلنجز کے ضمن میں چین اور امریکا کے صدور کے مابین ملاقاتیں ہوئیں۔ یوں نہ صرف دُنیا بَھر کے ممالک کی جانب سے مختلف معاملات پر متنوّع مؤقف سامنے آئے بلکہ سائیڈ لائنز پر بھی مخالف ممالک کے رہنماؤں نے ایک دوسرے سے کُھل کر بات چیت کی، جو ایک حوصلہ افزا پہلو ہے۔

تاہم، ایک عام آدمی اقوامِ متّحدہ سے متعلق یہ سوچ رکھتا ہے کہ اس عالمی ادارے کواتنا طاقت وَر ہونا چاہیے کہ اگر کوئی جنگ، تنازع یا بُحران جنم لے، تو یہ اُسےفوراً ختم کروائے، نیز سلامتی کاؤنسل کی منظور کردہ قراردادوں پر فوری عمل ہو۔ اور جب یہ توقّعات پوری نہیں ہوتیں، تو وہ اس عالمی ادارے سے مایوس ہو جاتا ہے اور اِسے صرف ایک ’’ڈبیٹنگ کلب‘‘ قرار دیتا ہے لیکن ہمیں اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے کہ یو این او ایک ایسا پلیٹ فارم ہے کہ جہاں 192 اقوام کے نمائندے اپنا مؤقف پیش کرنے آتے ہیں۔

وہ ایک دوسرے سے ملتے، گفتگو کرتے اور اُن مسائل کی جانب دُنیا کی توجّہ دلاتے ہیں کہ جو وہ سامنے لانا چاہتے ہیں۔ پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ اقوامِ متّحدہ کی وجہ سے دُنیا کی توجّہ دیرینہ تنازعات کی طرف کسی نہ کسی شکل میں مبذول رہتی ہے۔ گرچہ آج امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی عروج پر ہے لیکن اس کے باوجود ایرانی صدر، مسعود پزشکیان نیویارک آئےاورانہوں نے اپنا مؤقف پیش کیا، جب کہ دوسری جانب آبنائے ہُرمز بند ہے اور وہاں ایرانی اور امریکی افواج ایک دوسرے پر گولہ باری کر رہی ہیں۔

اسی طرح 2013ء میں کم و بیش ایسی ہی شدید کشیدگی کے ماحول میں اُس وقت کے ایرانی صدر، حسن روحانی نے یو این کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ اُس زمانے میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان نیوکلیئر ڈِیل اہم ترین معاملہ تھا، جو بظاہر ناممکن نظر آرہی تھی لیکن پھر حسن روحانی کی نیویارک آمد سے برف پگھلی اور امریکا اور ایران کے مابین اعتماد کا رشتہ بحال ہوا۔

بعد ازاں، 2015ء میں عالمی طاقتوں اورایران کے درمیان نیوکلیئر ڈِیل ہوگئی، جس پر یورپ، امریکا اور ایران میں جَشن منایا گیا۔ اسی کو ’’انٹرنیشنل ڈپلومیسی‘‘ کہتے ہیں۔ یعنی ’’کچھ دو اور کچھ لو۔‘‘ مذکورہ جوہری معاہدے کے نتیجے میں ایران نے یورینیم افزودگی پانچ فی صد تک محدود کردی اور اس کے بدلے امریکا نے اس کے اکاؤنٹس غیرمنجمد کردیے۔ اس ضمن میں اقوامِ متّحدہ نے اہم کردار ادا کیا۔

رُوسی صدر، پیوٹن نے پانچ سال قبل یوکرین پر حملہ کیا اور آج تک یہ جنگ جاری ہے، تو اس کی بازگشت اقوامِ متّحدہ میں ہونے والی تقریباً ہر تقریر میں سُنائی دی۔ ہم امریکا کے ظلم و ستم کا ذکر تو بڑے زور وشور سے کرتے ہیں لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ رُوس کے یوکرین پر حملوں میں اب تک لاکھوں افراد ہلاک اور زخمی ہو چُکے ہیں۔

یاد رہے، وہ بھی ہماری طرح انسان ہی ہیں اور جب ہم غیر مسلموں سے اس بات کی توقّع کرتے ہیں کہ وہ غزہ میں جاری انسانیت سوز مظالم پر آواز اُٹھائیں، تو اسی طرح مسلمانوں کو بھی یوکرین جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں پر احتجاج کرنا چاہیے۔ دونوں جگہ ہی بے قصور شہری مارے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب رُوس دُنیا کو تو امن کا درس دیتا ہے لیکن خود یوکرین میں قیامِ امن کی کوئی قرارداد منظور نہیں ہونے دیتا۔ گزشتہ دنوں انٹارکٹیکا میں ٹرمپ، پیوٹن ملاقات ہوئی، لیکن رُوس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ رُوس نے گزشتہ پانچ برسوں میں تمام تر طاقت آزما لی لیکن وہ یوکرین کے چار کروڑ عوام کو نہیں جُھکاسکا۔

تاہم، یہ واضح رہے، چاہےایران کی جنگ ہویا یوکرین کی، دونوں ہی نے دُنیا کی کم زور معیشتوں کو بدحال کردیا ہے، جب کہ آبنائے ہُرمز اور باب المندب کی بندش سے آنے والے منہگائی کے طوفان نے توپاکستانی عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔ گرچہ وزیرِاعظم، شہبازشریف تقریباً روز ہی عوام سے ریلیف فراہم کرنے کے وعدے کرتے ہیں، مگر جب خزانہ خالی اور تیل کی قیمتیں آسمان چُھو رہی ہوں، تو پھر بیانات اور سُہانے خواب دکھانے کے علاوہ اور کیا بھی جا سکتا ہے؟

دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ منہگائی کا یہ طوفان متحارب ممالک کے درمیان صلح نہ ہونے کا نتیجہ ہے، جو دُنیا کی بڑی طاقتیں اور مہذّب اقوام کہلاتی ہیں۔

دو عالمی جنگوں کے دوران کئی ممالک اور سلطنتیں بکھریں۔ کروڑوں لوگ ہلاک ہوئے اورپورے پورے مُلک کھنڈر میں تبدیل ہو گئے۔ تب کہا گیا کہ دُنیا نے اس تاریخی تباہی سے سبق سیکھ لیا ہے اور پھر ایک نیا نظام وجود میں آیا۔ اقوامِ متّحدہ اور سلامتی کاؤنسل قائم ہوئی اور پھر دو عالمی طاقتیں امریکا اور سوویت یونین دُنیا کے سامنے اُبھریں۔ ہر طرف بحالی، اقتصادی ترقّی اور اعلیٰ معیارِزندگی کا شورمچا۔

یہ عالمی جنگیں واقعی عالمی جنگیں ہی تھیں، کیوں کہ جاپان سے لے کر افریقا تک ان کی زد میں آئے اور دُنیا نے ایٹم بم کی تباہی بھی دیکھی، جب کہ ایسے میں اقوامِ متّحدہ کا ادارہ ایک روشن مینار کی مانند نظر آیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نئے نظام کے تحت قائم ہونے والی قومی ریاستوں نے انفرادی طور پر بہت ترقّی کی۔ چھوٹے ممالک نے بڑے ممالک کو سہارا دیا۔

اس ضمن میں عرب دُنیا کی مثال ہمارے سامنے ہے، جب کہ اس سے بھی بڑی مثال جنوب مشرقی ایشیا کی ہے کہ جہاں جاپان کی غیرمعمولی ترقّی نے علاقے ہی نہیں بلکہ دُنیا کو اقتصادی ترقّی کے ایک نئے نظریے سے رُوشناس کروایا لیکن ان قومی ریاستوں نے اندرونی یا علاقائی ہم آہنگی پر توجّہ نہیں دی۔ نتیجتاً، مسئلہ کشمیر و فلسطین کا حل نہ نکلنے سے تصادم نے تعاون کی جگہ لے لی۔

سرد جنگ کا آغاز ہوا، تو یہ نظریاتی جنگ عالمی جنگ کی بجائے چھوٹی چھوٹی جنگوں میں تبدیل ہوتی رہی اور پھر گزشتہ صدی کے آخر میں سوویت یونین کے عوام نے اپنے حکومتی نظریے سے بغاوت کردی۔ وہ مغربی طرز کے بلند معیارِ زندگی کے خواہاں ہوئے اور ایک سُپر پاور کو منتشر کر دیا، جس کے نتیجے میں یورپ تو متّحد ہوگیا لیکن تنازعات کی کوکھ سے دہشت گردی کے عفریت نے جنم لیا۔ ملیشیاز نے زور پکڑا اور پھرنائن الیون کا دل دوزسانحہ رُونما ہوا۔

اس کے بعد عراق، ایران، لیبیا، شام اور لبنان وغیرہ سبھی اس خوں ریزی کی لپیٹ میں آگئے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسلامی دُنیا میں ہوا اور حُکم راں اسے اپنی بقا کہہ کر جواز پیش کرتے رہے، جب کہ ان ملیشیاز کوعوام بُھگت رہے ہیں، جنہوں نے کبھی اپنے حُکم رانوں سے یہ نہیں کہا کہ وہ ان کی سرپرستی کریں، جب کہ دوسری جانب اقوامِ متّحدہ ان تمام بُحرانوں پر قابو پانے میں ناکام رہی۔

شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ پانچ عالمی طاقتوں کی ’’ویٹو پاور‘‘ نےاسے بےبس کر رکھا ہے۔ اقوامِ متّحدہ کے قیام کا بنیادی مقصد اقوام کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا اور دُنیا کو امن و خوش حالی کی جانب لے کر جانا تھا لیکن اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ اس مقصد میں کام یاب نہیں ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر کوئی اس سے مایوس ہو چُکا ہے۔

حالیہ عرصے میں چین کا ایک عالمی معاشی طاقت کے طور پر اُبھرنا دُنیا نے دیکھا اورعالم گیریت نے اس سے جِلا پائی کہ چین نے سخت گیر قسم کے کمیونسٹ نظام کی جگہ اقتصادی ترقّی پر مبنی لچک دار پالیسی اپنائی اور جاپان کے بعد جنوب مشرقی ایشیا کو ترقّی دینے کے لیے فرنٹ سیٹ سنبھال لی۔ دوسری جانب سرد جنگ ختم ہونے کا یہ فائدہ بھی ہوا کہ ممالک کی توجّہ اقتصادی ترقّی کی جانب مرتکز ہوئی۔

ایسا نہیں ہے کہ اُس زمانے میں تنازعات ختم یا جنگیں رُک گئی تھیں، لیکن اقوامِ عالم میں خوش حالی اورایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا جذبہ پیدا ہوا، چوں کہ اقوامِ متّحدہ کو اسی مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھا، لہٰذا اس زمانے میں معیشت، صحت اور ماحولیات کے شعبے میں اس کا کردار خاصا مؤثر رہا لیکن اس کے بعد بھی اقوامِ متّحدہ کے چیلنجز ختم نہیں ہوئے اور اسے دہشت گردی جیسے عفریت کا سامنا کرنا پڑا۔

اقوامِ متّحدہ شاید اس چیلنج کے لیے آمادہ نہیں تھی، جب کہ دوسری جانب ایک طرف ترقّی یافتہ ممالک ٹیکنالوجی کی مدد سے ترقّی کی نئی منازل طے کر رہے تھے، تو دوسری جانب پس ماندہ ریاستیں اپنے دیرینہ تنازعات طے کرنے ہی میں ناکام رہیں اور پھر یہ بھی طے ہے کہ قومی ریاست کا تصوّر نیا تھا اور اسے باقاعدہ منصوبہ بندی اور اقوامِ متّحدہ کے ذریعے عوام کی مرضی کی بجائے سرحدوں کی لکیریں کھینچ کر تشکیل دیا گیا تھا۔

ان قومی ریاستوں میں غلامی کی طویل تاریخ کے علاوہ جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کا کوئی نظام نہیں تھا اور جو کچھ ان کےآقا چھوڑ گئے تھے، اُسی کو انہوں نے بِلا سوچے سمجھے ہی اپنے ممالک میں رائج کرنے کی کوشش کی۔ نتیجتاً، پس ماندگی ان کا مقدّر بنی، جس نے طرح طرح کے مسائل پیدا کیے۔ سیاسی عدم استحکام اس کا پہلا نتیجہ تھا۔

اس نے تنازعات کو ایک ایسی ازلی دُشمنی میں تبدیل کر دیا کہ وہ حل ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ یاد رہے، تنازعات کے حل نہ ہونے کا مطلب صرف عدم استحکام ہی نہیں بلکہ ان ریاستوں کی معاشی کم زوری بھی ہے، جو نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔

اقوامِ متّحدہ کے دہشت گردی پر قابو پانے میں غیر مؤثر کردار نے اب ترقّی یافتہ ممالک میں قوم پرستی کی تحاریک کو پھر سے مضبوط کرنا شروع کر دیا ہے اور تارکینِ وطن وہاں نفرت کی علامت بنتے جارہے ہیں۔ یورپ میں فرانس، اٹلی، ہنگری اور برطانیہ کے بعد اب جرمنی بھی اس لہر کی زد میں آچُکا ہے کہ جو اپنی مضبوط معیشت کی وجہ سے یورپ کا لیڈر اور ایک لبرل مُلک سمجھا جاتا ہے۔

اِسی طرح تارکینِ وطن کا مُلک، امریکا اب ٹرمپ جیسے کٹر قوم پرست لیڈر کے کنٹرول میں ہے۔ سو،’’مواقع کی سرزمین‘‘ تارکینِ وطن کےلیے تنگ ہو چُکی ہے۔ وہاں ’’ڈی پورٹیشن‘‘ عام سا لفظ بن گیا ہے اور گرین کارڈ ہولڈرز تک مُلک بدرکیے جانے کے خوف میں مبتلا ہیں لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ امریکی صدر اور حُکّام یورپ کو اس کی نرم امیگریشن پالیسیز پر طعنے دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں یورپ میں ایک کے بعد ایک قوم پرست جماعت برسرِاقتدار آ رہی ہے اور ایسی صُورت میں اقوامِ متّحدہ کا کردار مزید چیلنجنگ ہوگیا ہے۔

اب اسےتنازعات اورجنگوں سمیت قوم پرستی کے مسئلے کا حل بھی تلاش کرنا ہے۔ دوسری جانب مصنوعی ذہانت کی شکل میں ایک نیا باب شروع ہو رہا ہے اور یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ عالمی ادارہ ان تمام چیلنجز کا مقابلہ کرسکے گا۔

یاد رہے، اقوامِ متّحدہ کسی مُلک کی حکومت کی طرح قوّتِ نافذہ نہیں رکھتی۔ یہ وہی کچھ کرسکتی ہے، جو بڑی طاقتیں اورعوام چاہتے ہیں۔ آزمائشوں کا حل اقوامِ متّحدہ کے پاس نہیں بلکہ اقوامِ عالم کے پاس ہے۔ اگر وہ اپنے محدود مفادات سے بالاتر ہوکر کچھ کرنے پر آمادہ نہیں تو پھر اقوامِ متّحدہ سے امیدوں کی وابستگی بھی بےنتیجہ رہے گی۔

سنڈے میگزین سے مزید