• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برلن میراتھون میں 27 پاکستانی اور پاکستانی نژاد رنرز ایکشن میں ہوں گے


دنیا کی 8 میجر میراتھون میں سے ایک برلن میراتھون اتوار کو جرمنی کے دارالحکومت برلن میں منعقد ہوگی، جس میں کم از کم 27 پاکستانی اور پاکستانی نژاد رنرز بھی 42 اعشاریہ 195 کلومیٹر کا چیلنج مکمل کرنے کے لیے ایکشن میں ہوں گے۔

برلن میراتھون میں اس بار 162 ممالک سے 56 ہزار سے زائد رنرز کی شرکت متوقع ہے۔ ایبٹ ورلڈ میراتھون میجرز میں شامل برلن میراتھون دنیا کے تیز رفتار میراتھون کورسز میں شمار ہوتی ہے۔

پاکستانی رنرز میں کراچی سے منیر عمران، مہوش حنیف، زبیر عمر، خالد شیخ، بلال عمر اور عامر بھگت شامل ہیں جبکہ امریکا سے عائشہ اختر، محمد عزیر بٹ، فرہاد ناصر چوہدری، راحت گیلانی اور جنید میمن بھی ریس میں حصہ لیں گے۔

برطانیہ میں مقیم حماد علی اور محمد طارق، کینیڈا سے سیف اللہ جبکہ ناروے سے عمران غیور احمد بھی برلن کی سڑکوں پر ایکشن میں ہوں گے۔

دیگر پاکستانی شرکا میں سلیمہ علی، سید ذیشان علی، عمر انصاری، فاطمہ چوہدری، حمزہ فاروق، نادیہ کمانی، محمد انس خالد خان، تیمور خان، فہد ندیم، محمد ریحان رفیع، ماہین شیخ اور محمد زبیری شامل ہیں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے بلال عمر کے لیے برلن گزشتہ 12 ماہ کے دوران چوتھی ورلڈ میراتھون میجر ہوگی۔

بلال اس سال ٹوکیو میراتھون میں 3 گھنٹے 30 منٹ کا اپنا پرسنل بیسٹ قائم کرچکے ہیں، تاہم برلن میں ان کا ہدف ریکارڈ بہتر بنانے کے بجائے تیز رفتار مگر بھرپور انداز میں ریس سے لطف اندوز ہونا ہے۔

جیو نیوز سے گفتگو میں بلال عمر نے کہا کہ انہوں نے برلن میراتھون کے لیے 12 ہفتوں کا باقاعدہ ٹریننگ بلاک مکمل کیا ہے اور ان کی تیاری تقریباً منصوبے کے مطابق رہی۔

بلال نے کہا کہ وہ برلن میں 3 گھنٹے 40 سے 45 منٹ کے درمیان ریس مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بلال عمر کے مطابق انہوں نے گزشتہ تین ماہ کے ٹریننگ بلاک کے دوران 800 کلومیٹر سے زائد دوڑ لگائی ہے اور اپنی تیاری سے مطمئن ہیں۔

برٹش پاکستانی رنر محمد طارق کے لیے برلن میراتھون جذباتی طور پر اہم ہے کیونکہ یہ ان کی پہلی ورلڈ میراتھون میجر ہے۔

محمد طارق نے جیو نیوز کو بتایا کہ برلن کی تیاری ان کے لیے جذباتی طور پر بھی ایک خاص سفر رہی، ٹریننگ کے بیشتر عرصے میں ان کے والد علیل رہے۔

ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنی پہلی میجر میں مضبوط انداز میں دوڑیں، ریس سے لطف اندوز ہوں اور ان تمام لوگوں کے لیے شکرگزاری کے احساس کے ساتھ فنش لائن عبور کریں جنہوں نے اس سفر میں ان کا ساتھ دیا۔

برلن میراتھون کا آغاز شہر کے وسط میں تاریخی برانڈن برگ گیٹ کے قریب اسٹریس ڈیس 17 جونائی سے ہوگا، رنرز مختلف ویوز میں ریس کا آغاز کریں گے اور جرمن دارالحکومت کے مختلف تاریخی اور معروف مقامات سے گزریں گے۔

42 اعشاریہ 195 کلومیٹر طویل روٹ پر رنرز وکٹری کالم، الیگزینڈر پلاٹز، برلن کیتھیڈرل، پوٹسڈیمر پلاٹز، کرفرسٹن ڈیم اور کائزر ولہیم میموریل چرچ سمیت شہر کے کئی نمایاں مقامات سے گزریں گے۔

ریس کے آخری مرحلے میں رنرز تاریخی برانڈن برگ گیٹ سے گزرتے ہوئے اسٹریس ڈیس 17 جونائی پر قائم فنش لائن کی جانب بڑھیں گے۔

برلن کا نسبتاً ہموار اور تیز رفتار کورس دنیا بھر کے رنرز میں خاصا مقبول ہے اور ماضی میں یہاں متعدد عالمی ریکارڈ بھی قائم ہوچکے ہیں۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید