• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کا راج ہے: امیر مقام

وفاقی وزیر امیر مقام—فائل فوٹو
وفاقی وزیر امیر مقام—فائل فوٹو

وفاقی وزیر امیر مقام کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خوا میں دہشت گردوں کا راج ہے، صوبے کے عوام ایک عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی کے طرز حکومت سے لگتا ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں سے مل گئی ہے۔

امیر مقام کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کے 2 ٹارگٹ ہیں، ایک جتنا لوٹ سکتے ہو لوٹو، دوسرا قیدی کی رہائی، ایک کٹھ پتلی وزیرِ اعلیٰ عوام کے مینڈیٹ کی حفاظت نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے خلاف قانون سازی منظور نہیں، سہیل آفریدی آئی جی پی اور چیف سیکریٹری کو اپنا ماتحت بنانا چاہتے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ راستے بند ہیں، خیبر پختون خوا کے عوام مشکلات میں ہیں، 27 ستمبر کو نکلنا تھا لیکن جب رپورٹ آئی کہ کوئی نہیں نکلے گا تو لانگ مارچ 4 اکتوبر تک ملتوی کر دیا، ہمیں بھی پتہ چلے کہ کتنے عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

امیر مقام نے کہا ہے کہ طالبان کو دوبارہ واپس لانے اور افغانستان سے بات چیت پر بھی زور دیا جا رہا ہے، تھانوں کی قیمتیں لگانے کے لیے پولیس کو اپنے ماتحت کیا جا رہا ہے،  دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کی کوئی حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔

ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما پورے صوبے میں گھومتے ہیں، انہیں دہشت گردی کا خوف نہیں، پی ٹی آئی ہمیشہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دہشت گردوں سے مذاکرات کی بات کرتی ہے، دہری پالیسی اور معیار کا نشانہ عوام اور سیکیورٹی فورسز بنتی ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت آئی جی سے ڈی ایس پی تک پولیس پر کنٹرول چاہتی ہے، ایسے اقدامات سے پولیس کا مورال متاثر ہو گا، گورنر راج ایک آپشن ہے، سہیل آفریدی صاحب آپ مزید وزیرِ اعلیٰ نہیں رہ سکتے، وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں عوام کی فلاح کے لیے کچھ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف لانگ مارچ کے لیے ٹھیکیداروں سے چندہ جمع کیا جا رہا ہے، لانگ مارچ کی وجہ سے خیبر پختون خوا اور اسلام آباد بند ہیں، باقی ملک میں معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں، سہیل آفریدی مدد کے لیے سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے پاس پہنچ گئے۔

قومی خبریں سے مزید