• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نور امروہوی

پہلے وہ آسمان دیکھتا ہے

جب پرندہ اُڑان دیکھتا ہے

تم تو اعلیٰ نسب کی ہو لیکن

عشق کب خاندان دیکھتا ہے

لوگ تو ہم زبان ڈھونڈتے ہیں

کون منہ میں زبان دیکھتا ہے

اب اُترتا نہیں زمیں پہ کوئی

ہر کوئی آسمان دیکھتا ہے

بیچ دریا میں ڈوبنے والا

غور سے بادبان دیکھتا ہے

ابرِ باراں کی آس میں کب تک

سر اُٹھا کر کسان دیکھتا ہے

تیرا دشمن تو جا چُکا کب سے

کس لیے اب کمان دیکھتا ہے

لوگ لفظوں کو تولتے ہیں بہت

نؔور حُسنِ بیان دیکھتا ہے

ذکی طارق بارہ بنکوی، سعادت گنج، بارہ بنکی، یوپی، بھارت

ضرور اندر سے وہ ٹوٹا بہت ہے

کہ ہر اِک بات پر ہنستا بہت ہے

اُسے جینے نہیں دے گی یہ دُنیا

سنا ہے ہم نے وہ سچّا بہت ہے

نقابِ رخ پلٹ دی اُس نے شاید

ہر اِک سُو چاند کا چرچا بہت ہے

کروں کس طرح میں اُس کی برائی

مِرے دل نے اُسے چاہا بہت ہے

کوئی اُس کی خبر تک بھی نہ لے گا

وہ سب سے ٹوٹ کر ملتا بہت ہے

اُسے تو دوستوں پر تھا بھروسا

مگر اِس وقت وہ تنہا بہت ہے

سمجھ پائے نہ اُس کو اس لیے ہم

اُسے اس ذہن نے سوچا بہت ہے

ابھی شب کا اثر ہے اس پہ باقی

کہ چہرہ صبح کا اترا بہت ہے

بچو مظلوم کے اشکوں سے اب تم

یہ دریا آج کل بپھرا بہت ہے

نہیں ہے فرض چاہت میں ملن ہی

تم اپنا کہہ دو بس اتنا بہت ہے

مخالف اُس کے بڑھتے جا رہے ہیں

یقیناً وہ ذؔکی اچّھا بہت ہے

سنڈے میگزین سے مزید