٭ ہم جس مسجد میں روزانہ نماز ادا کرتے ہیں، وہاں ہمیں وضو کے لیے پانی، ہوا کے لیے پنکھے، ایئرکولرز، روشنی کے لیے لائٹس، کارپٹ، اذان کے لیے موذن اور نماز کی امامت کے لیے امام فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان سب کے بدلے ہم مسجد کو ماہانہ کیا دیتے ہیں، جب کہ ٹی وی، کیبل، انٹرنیٹ، بجلی، گیس، پانی، موبائل فون کے بلز، اسکول، کالج، ٹیوشن کی فیسز انتہائی پابندی، باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں، کیا ہمارے ماہانہ بجٹ میں مسجد کا کوئی حصّہ نہیں۔ ذرا سوچیے۔
٭ اے اللہ کے بندے! اپنے رب کا کرم دیکھ۔ جو فرشتے تیرے دن بھر کے گناہ شام کو اُس کے پاس لے کرجاتے ہیں۔ وہ صُبح اُن ہی فرشتوں کے ہاتھوں تیرا رزق بھیجتا ہے۔
٭ ایک مولانا نے بتایا کہ میرے والد صاحب فرماتے ہیں، کھانا کھاتے کھاتے اذان ہوئی، مگر کوئی ایمان والا نہیں اُٹھا۔ ایسے میں مجھے اپنا کُتا جیکی یاد آگیا۔ وہ کھانا کھا رہا ہوتا۔ مَیں کہتا ’’جیکی…!!‘‘ اور وہ کھانا چھوڑ کے میرے پاس آجاتا۔
٭ ایک سو روپے کا نوٹ بہت بڑا لگتا ہے، جب کسی فقیر یا مسجد میں دیا جائے، لیکن شاپنگ کے لیے استعمال کرنا ہو تو بہت چھوٹا، بےحد معمولی ہو جاتا ہے۔
٭ لڑکی پیدا ہو تو ہم مٹھائی بھی نہیں بانٹتے اور جب بات بہو کی تلاش کی ہو، تو ہیرے جیسی ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔
٭ شوگر کی بیماری اتنی بڑھ گئی ہے کہ لوگ میٹھا کھانا تو کیا میٹھا بولنا بھی چھوڑ گئے ہیں۔
٭ آج تک کسی نے بریلوی کریانہ اسٹور، اہلِ حدیث ہوٹل، دیوبند ٹیلر، شیعہ ورک شاپ وغیرہ نہیں دیکھی کہ کینہ کاروبار میں نقصان دیتا ہے لیکن ان ہی سب ناموں سے جو نقصان دینِ اسلام کا ہورہا ہے، اس کی کسی کو فکر نہیں۔
٭ شادیاں کرتے وقت تو ہم ذات پوچھتے ہیں، تو پھر خون کی بوتل لیتے وقت کیوں نہیں؟
٭ جس نے ایک مرتبہ چائے کی پیالی پلا دی اُس کو آتے جاتے سلام کرکے جاتے ہو، اور جس رب نے زندگی بخشی، زندگی کی تمام تر بہاریں عطا کیں، اُس کو سجدہ کرنا گراں گزرتا ہے۔
٭ وہ قوم جس کو ہمارے پیارے نبی ﷺ نے قبرستان سے گزرتے ہوئے، مُردوں کو سلام کرنے کا حُکم دیا، وہ قوم آج بِنا مطلب کسی کی طرف دیکھتی بھی نہیں۔
٭ ہم اس دنیا کے کھیل تماشوں میں اس قدر مشغول ہیں کہ ہمیں پتا ہی نہیں، جس کپڑے سے ہمارا کفن بننا ہے، وہ بازار میں آچُکا ہے۔
٭ اپنی اندھیری قبر کو خُود روشن کرنے کی تیاری کریں۔ آج زندہ انسان ہیں، لوگ وفا نہیں کرتے، کل مٹّی کے ڈھیر کے لیے دُعا کون کرے گا؟
(مہر منظور جونیئر، ساہی وال، سرگودھا)