• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برعظیم کی تاریخ میں چند ہی ایسے گِنے چُنے رہنما ہیں، جنہوں نے حصولِ اقتدار کے بعد ایک پُرآسائش زندگی پر مُلک کی تعمیر کے کٹھن راستے کو ترجیح دی۔ اور نواب زادہ لیاقت علی خان ایسے رہنماؤں میں سرِفہرست ہیں۔ وہ ہندوستان میں وسیع و عریض جائیداد، مال و دولت کے مالک تھے، چاہتے تو بآسانی ایک انتہائی پُرسکون زندگی گزار سکتے تھے، لیکن انہوں نے آرام و آسائش کے بجائے سخت سیاسی جدوجہد کی راہ چُنی۔

قیامِ پاکستان کے بعد جب مُلک کم زور وسائل، بے شمار مسائل اور غیر یقینی مستقبل کا شکار تھا، تو ایسے میں قائدِاعظم نے نواب زادہ لیاقت علی خان پر اعتماد کرتے ہوئے اُنھیں مُلک کا پہلا وزیرِاعظم مقرر کیا۔ یوں وہ نوزائیدہ مملکت کے اہم ترین معمار بن کر اُبھرے۔

شہیدِ ملت ،لیاقت علی خان یکم اکتوبر 1895ء کو کرنال کے ایک بااثر اور خوش حال نواب خاندان میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد نواب رستم علی خان علاقے کی ممتاز سماجی شخصیت، جاگیردارانہ حیثیت کے مالک تھے۔ وسیع جائیداد اور آسودہ زندگی کے باوجود لیاقت علی خان نے محض روایتی جاگیردار بننے کے بجائے اعلیٰ تعلیم کو ترجیح دی اور برطانیہ سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

بعدازاں، وطن واپسی پر برعظیم کے مسلمانوں کی سیاسی، معاشی اور تہذیبی شناخت کے تحفّظ کے لیے خود کو عملی سیاست کے لیے وقف کردیا۔ یہ وہ دَور تھا، جب مسلم بے داری کی لہر تیز ہو رہی تھی اور آل انڈیا مسلم لیگ مسلمانوں کے حقوق کی جدوجہد کے مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر اُبھر رہی تھی، جس کے تحت آگے چل کر انہوں نے ایک تاریخی اور قائدانہ کردار ادا کیا۔

قائداعظم محمد علی جناح نے جب آل انڈیا مسلم لیگ کو منظم کرنا شروع کیا، تو لیاقت علی خان اُن کے سب سے قابلِ اعتماد ساتھی، دستِ راست بن کرسامنے آئے۔ قائدِاعظم کی بے مثال سیاسی بصیرت اور لیاقت علی خان کی تنظیمی و پارلیمانی صلاحیتوں نے تحریکِ پاکستان کو نئی جِلا بخشی، یہاں تک کہ 1940ء کی قراردادِ لاہور کے بعد تقسیمِ ہند ناگزیر ہوگئی۔ اس موقعے پر لیاقت علی خان نے مسلم لیگ کی کام یابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

نیز، اُن کی سیاسی بصیرت کا اعتراف اُس وقت بھی ہوا، جب انہوں نے 1946ء کی عبوری حکومت میں بطور وزیرِ خزانہ ایک تاریخی بجٹ پیش کیا، جس نے انہیں برصغیر کے صفِ اوّل کے مسلم رہنماؤں میں شامل کر دیا۔ بالآخر وہ تاریخی دن آ پہنچا، جب14اگست 1947ء کو پاکستان بحیثیت ایک آزاد ملک دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔

قائدِاعظم نے گورنر جنرل اور لیاقت علی خان نے پہلے وزیراعظم کا منصب سنبھالا۔ یہ نئی حکومت شدید مشکلات میں گِھری ہوئی تھی۔ محدود وسائل کے باوجود مہاجرین کی آباد کاری، معیشت، فوج اور انتظامیہ کی نئے سرے سے تنظیمِ نو اور مسئلہ کشمیر جیسے بڑے چیلنجز سامنے تھے اور اس نازک موڑ پرکہ جب ذرا سی انتظامی غلطی بھی ریاست کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی تھی، لیاقت علی خان کی بہترین قیادت و سیادت نے نوزائیدہ مملکت کو بھرپور سنبھالا دیا۔

ستمبر 1948ء میں بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی وفات ملک کے لیے ایک ناقابلِ تلافی صدمہ ثابت ہوئی۔ ان کے بعد وزیرِ اعظم لیاقت علی خان پر دُہری ذمّے داری آ گئی۔ انہیں ایک طرف نئے ملک کے ریاستی معاملات چلانے تھے، تو دوسری طرف قائد کے سیاسی وَرثے کو آگے بڑھانا تھا۔ اُن کے دورِ حکومت کا سب سے اہم اور تاریخی کارنامہ 1949ء میں قراردادِ مقاصد کی منظوری تھا، جس نے پاکستان کے آئینی اور سیاسی مستقبل کی بنیاد رکھی۔

لیاقت علی خان صرف ملک کے پہلے وزیراعظم ہی نہیں، تحریکِ پاکستان اور تعمیرِ پاکستان کے ضمن میں بھرپور جدوجہد کا استعارہ بھی تھے، مگر افسوس، قیامِ پاکستان کے چند سال بعد ہی وہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔16اکتوبر 1951ء کا خونچکاں سانحہ، راول پنڈی کے کمپنی باغ میں پیش آیا، جب عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اپنے محبوب قائد کو سننے کے لیے امڈ آیا تھا۔ ملک کے پہلے وزیرِاعظم، خان لیاقت علی خان نے ابھی تقریر شروع ہی کی تھی کہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے ملک و قوم کے عظیم رہنما کو ابدی نیند سلادیا۔

گرچہ قاتل سیّد اکبر موقعے ہی پر مارا گیا، مگر یہ قتل پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ المیہ بن گیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ شہادت کے بعد انہیں ’’شہیدِ ملّت‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا اور ان کی آخری آرام گاہ، کراچی میں مزارِ قائد کا احاطہ بنی۔ راول پنڈی کے جس کمپنی باغ میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا، بعدازاں اسے لیاقت باغ کا نام دے کر اس تاریخی مقام کو پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم کی یادگار بنا دیا گیا۔

لیاقت علی خان کے قتل کے محرکات پر اندرونی سیاسی سازش اور بیرونی مداخلت سمیت کئی نظریات سامنے آئے، تاہم حتمی حقائق تاحال پردۂ غیب میں ہیں۔ شہیدِ ملت لیاقت علی خان کا بہیمانہ قتل آج بھی ایک حل طلب معمّا ہے، جو نہ صرف ایک عظیم قومی رہنما سے محرومی کا سانحہ ہے، بلکہ پاکستان کے ابتدائی سیاسی سفر کے تاریک گوشوں پر کئی سنگین سوالات بھی اٹھاتا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید