• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترقی کی راہ میں حائل اصل رکاوٹ: مجرمانہ طرزِ تغافل

اقوامِ متحدہ کے ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس 2026ء کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان، دنیا کے 193ممالک میں سے 168ویں نمبر پر برقرار ہے۔ یہ مایوس کُن اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کا ثبوت ہیں کہ ہم معیارِ زندگی، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی انسانی شعبوں میں دنیا کے 167ممالک سے پیچھے ہیں۔ آزادی کے 79برس بیت جانے کے بعد بھی ہم جدید دَور کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھنے کے بجائے بیرونی قرضوں کی خطرناک دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ وہ مُمالک جو ہمارے بعد آزاد ہوئے، آج معاشی، علمی اور سیاسی محاذ پر ہم سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ ملکی تنزلی کی اس داستان میں سب سے بڑا عُنصر مِن حیث القوم ہمارا اپنا کردار ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اقوام کی حقیقی ترقی محض جدید ٹیکنالوجی، وافر قدرتی وسائل یا رسمی تعلیم سے مشروط نہیں ہوتی، اس کے لیے معاشرے کے افراد، بالخصوص مقتدر حلقوں کا بلند اخلاق اور تعمیری سماجی کردار ناگزیر ہوتا ہے۔

دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا عروج ان کے مضبوط انفرادی اور اجتماعی کردار ہی کا مرہونِ منّت ہے، جس کی واضح مثالیں چین، سنگاپور، ملائیشیا اور متحدہ عرب امارات کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔ اسی طرح، دوسری جنگِ عظیم میں ایٹمی تباہی کا سامنا کرنے والا جاپان آج اپنی بے مثال ایمان داری، محنت، اعلیٰ معیارِ زندگی اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا کی صفِ اوّل کی 10معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ جب تک ہم قومی سطح پر اپنے اخلاقی و سماجی رویّے نہیں بدلیں گے، ترقی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔

اگر ہم اپنے معاشرے کی زبوں حالی کا معروضی جائزہ لیں، تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہماری تعمیر و ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود ہمارا کردار ہے۔ بدقسمتی سے، معاشرے کی اکثریت ذاتی مفادات کے حصار میں قید ہو کر رہ گئی ہے، آج دیانت داری، سخت کوشی، باہمی ہم دردی اور احترامِ انسانیت جیسے بنیادی اخلاقی اوصاف مفقود نظر آتے ہیں۔

دوسری جانب، اقتدار کے ایوانوں پر قابض وہ اشرافیہ، بشمول وزراء، سیاسی رہنما، بیوروکریٹس اور اعلیٰ سرکاری حکّام، جس کے کندھوں پر قوم کی تقدیر بدلنے کی ذمّے داری ہے، محض اپنی ذات اور ذاتی مفادات ہی کو ترجیح دیتی ہے۔ میرٹ کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے اہم، کلیدی عہدوں پر نااہل، سفارشی افراد فائز کیے جاتے ہیں۔

یہ وہ طبقہ ہے، جو نہ صرف دیانت داری اور احساسِ ذمّے داری سے تہی ہے، بلکہ مُلک کی بہتری اور معاشی استحکام کے لیے کسی تعمیری منصوبے یا وژن سے بھی یک سَر محروم ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ نااہل افراد کا اقتدار پر متمکن ہونا کسی بھی قوم کے لیے سب سے بڑا المیہ ثابت ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں مولانا رومی نے کیا خُوب کہا تھا۔’’ایک ہزار قابل انسانوں کے مر جانے سے مُلک و قوم کا اتنا نقصان نہیں ہوتا، جتنا ایک نااہل انسان کے صاحبِ اقتدار بن جانے سے ہوتا ہے۔‘‘

مملکتِ پاکستان کا موجودہ معاشرتی ، انتظامی اور عدالتی نظام اس وقت شدید زوال اور سنگین بحران کی زد میں ہے۔ ملک کے بیش تر ریاستی و حکومتی اداروں کی حالت یہ ہوچکی ہے کہ سفارش، رشوت ستانی اور غیر قانونی لین دین کے بغیر شہریوں کا کوئی جائز کام بھی ممکن نہیں رہا اور تشویش ناک امر یہ ہے کہ اس سماجی برائی، مجرمانہ روش کو اب معاشرے میں عیب یا گناہ سمجھنے کے بجائے ایک معمول کے طور پر قبول کرلیا گیا ہے۔

قانون کی بالادستی کا خوف اور خوفِ خدا جیسے بنیادی اخلاقی ستون منہدم ہوچکے ہیں اور اس فرسودہ نظام کے نتیجے میں عام آدمی ہر سطح پر ظلم، زیادتی اور کھلی ناانصافی کی چکّی میں پس رہا ہے۔ مُلک کا عدالتی نظام اس قدر سُست رَو اور پیچیدہ ہے کہ معمولی نوعیت کے مقدمات کے فیصلے بھی دہائیوں تک لٹکے رہتے ہیں۔

عدالتی نظام کی سنگین صورتِ حال کا اندازہ ان لرزہ خیز اعداد و شمار سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت مُلک کی اعلیٰ عدالتوں (سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس) میں 4لاکھ سے زائد، جب کہ ضلعی و ماتحت عدالتوں میں18لاکھ سے زائد مقدمات زیرِ التوا ہیں، جو کہ فراہمیِ انصاف کے دعووں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔

پھر عدالتی وانتظامی بحران کے ساتھ معاشرہ لسانی، علاقائی اور صوبائی تعصبات کی لپیٹ میں بھی ہے، جس نے قومی یک جہتی کو پارہ پارہ کرکے ملکی ترقی کی راہ میں سنگین رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں۔ اور ہمارے خیال میں اس تمام تر اخلاقی و سماجی بگاڑ کا بنیادی سبب مذہب کی حقیقی رُوح سے دُوری ہے۔

دینِ اسلام نے معاشرتی اصلاح کے لیے اخلاقیات اور بلند کردار کو اوّلین ترجیح دی ہےاور اس ضمن میں جامع ترمذی کی حدیثِ مبارکہ ؐ (حدیث نمبر 2002) ’’قیامت کے دن مومن کے میزان (ترازو) میں حُسنِ اخلاق سے بھاری کوئی چیز نہیں ہو گی۔‘‘ ا س امَر کی گواہ ہے۔ اسی طرح حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا گیا۔’’یا رسول اللہﷺ ! فلاں عورت رات کو نماز پڑھتی ہے، دن کو روزے رکھتی ہے اور نیکی کے دیگر کام بھی کرتی ہے، صدقہ بھی دیتی ہے، لیکن ہم سایوں کو اپنی زبان سے تکلیف دیتی ہے۔‘‘ آپ ؐ نے فرمایا۔ ’’اس میں کوئی بھلائی نہیں، وہ دوزخی ہے۔‘‘

صحابیِ رسول ؐ نے پھر عرض کیا۔ ’’ایک دوسری عورت (صرف) فرض نماز پڑھتی ہے، پنیر کے کچھ ٹکڑے صدقہ کرتی ہے اور کسی کو تکلیف نہیں دیتی۔‘‘ آپ ؐ نے فرمایا۔ ’’وہ جنّتی عورتوں میں سے ہے۔‘‘ (حدیث نمبر 119،الادب المفرد) توان احادیثِ مبارکہ ؐ سے ہمیں ہدایت ملتی ہے کہ معاشرے اور آخرت کی بھلائی کے لیے عبادت کے ساتھ اخلاق و کردار بھی انتہائی ضروری ہیں۔

پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے ناگزیر ہے کہ مُلکی قیادت باکردار، مخلص اور اہل افراد کے سپرد کی جائے۔ ایک مثالی معاشرے اور مضبوط قیادت کی تشکیل کے لیے شہریوں کی جامع کردار سازی پر ہنگامی بنیادوں پر توجّہ دینا وقت کا اہم تقاضا ہے اور اس مقصد کے لیے ہمیں جاپانی ماڈل اپناتے ہوئے ابتدائی سطح پر بچّوں کی فکری و اخلاقی تربیت کا بیڑہ اٹھانا ہوگا۔ معصوم ذہن میں لچک ہوتی ہے۔ ابتدائی عُمر کی تربیت کا اثر پوری زندگی برقرار رہتا ہے، اس کے برعکس پختہ عُمر میں عادات اور رویّے مشکل سے تبدیل ہوتے ہیں۔

جاپان کے تعلیمی نظام کی کام یابی کا سب سے بڑا راز اُن کا تربیتی ڈھانچا ہی ہے۔ وہاں ابتدائی تین سال (مونٹیسوری اور کنڈرگارٹن سطح پر) بچّوں کوتعلیمی نصاب کے بوجھ تلے دبانے کے بجائے کردار سازی پر توجّہ دی جاتی ہے۔ تقریباً 10 سال کی عُمر تک بچّوں کا کوئی روایتی تعلیمی امتحان نہیں لیا جاتا، مکمل فوکس شخصیت کی نشوونما پر ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج جاپان دیانت داری، سماجی نظم و ضبط اور بلند اخلاق کے اعتبار سے دنیا بھر میں ایک درخشاں مثال ہے۔ اور پھر محض جاپان ہی نہیں، چین، فن لینڈ، ملائیشیا، سنگاپور، انڈونیشیا، فرانس اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ مُمالک نے بھی کردار سازی کو اپنے اسکولوں کے بنیادی نصاب کا حصّہ بنایا ہے۔ ان ممالک میں نظامِ تعلیم کا مقصد محض اسناد کا بے مقصد اجراء نہیں، بلکہ ایسے ذمّے دار، بااصول شہری پیدا کرنا ہے، جو ریاست کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔ یہی فکری سرمایہ کاری ہے، جس کی بدولت ان اقوام کے شہری، اخلاقی عالمی رینکنگ میں دنیا کے چوٹی کے 20 مُمالک میں شمار ہوتے ہیں۔

ماضی میں ہمارا معاشرہ بھی ’’تعلیم و تربیت‘‘ کی مربوط اساس پر استوار تھا، جہاں مروجّہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار سازی، اخلاقی تربیت پرزور دیا جاتا تھا، جب کہ آج بھی ایک صالح، متوازن معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے کہ بچپن ہی سے نئی نسل میں وقت کی پابندی، سلیقہ مندی، نظم و ضبط، اور راست گوئی جیسے بنیادی اوصاف راسخ کیے جائیں۔

نیز، معاشرے کو بگاڑ سے بچانے کے لیے بچّوں کو سادگی، عاجزی اور سفارش و رشوت ستانی جیسی سماجی برائیوں سے نفرت سکھانا ہوگی، تاکہ وہ مستقبل میں مُلک و ملّت کے لیے ایک فعال، مخلص اور بہترین معمار ثابت ہوسکیں۔

مُلک میں بنیادی تعلیمی و معاشرتی اصلاحات اور نئی نسل کی کردار سازی کے لیے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر جامع قانون سازی کی ضرورت ہےاوراس سلسلے میں درج ذیل پانچ نکاتی اقدامات ناگزیر ہیں: ٭سب سے پہلے تو تعلیمی پالیسی سازوں اور ماہرینِ تعلیم پر مشتمل وفود فوری طور پر جاپان بھیجے جائیں، جو وہاں کے اسکولوں کا دورہ کرکے ان کے ابتدائی تعلیمی نظام کا گہرا اور تفصیلی مطالعہ کریں۔٭ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر کردار سازی، ایثار و فلاحی جذبے اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر مُلکی ترقی کے لیے کام کرنے کے رجحان کو سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب کا لازمی حصّہ بنایا جائے، تاکہ طلبہ کی فکری و اخلاقی تربیت ممکن ہوسکے۔٭ پرائمری اسکولز میں روایتی نصابی تعلیم کے بجائے ابتدائی دو سے تین سال صرف اور صرف کردار سازی اور اخلاقی تربیّت کے لیے وقف کیے جائیں اور اس دوران کسی بھی قسم کا نصابی امتحان نہ لیا جائے۔ بعد ازاں، میٹرک تک کردار سازی کا مضمون لازمی طور پر نصاب میں برقرار رکھا جائے۔ ٭سرکاری و نجی دفاتر میں میرٹ کے کلچر کو فروغ دیا جائے اور جزا و سزا کا ایک شفّاف نظام قائم کیا جائے۔ بہترین کارکردگی پر حوصلہ افزائی (انعام) اور بُرے رویّے یا بدعنوانی پر بلاتفریق سخت سزا یقینی بنائی جائے۔ ٭قومی کردار سازی اور معاشرتی اصلاح میں میڈیا کا کلیدی کردار وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ ٹیلی ویژن، اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا کو رائے عامّہ کی ہم واری اور اخلاقی شعور کی بے داری کے لیے بطورِ ہتھیار استعمال کیا جائے۔

آج جہاں دنیا برق رفتاری سے تعمیر و ترقی کی منازل طے کر رہی ہے، وہیں بدقسمتی سے ہمارا مُلک اہلیت کے فقدان اور اخلاقی تنزّلی کے باعث پس ماندگی کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں کے بوجھ نے حکومت اور عوام دونوں کو شدید معاشی و ذہنی اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔

ان حالات میں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر ہم نے اب بھی بطورِ قوم اپنے کردار کی اصلاح، نااہلی کا سدِّباب نہ کیا، تو ہمیں سیاسی، معاشی اور معاشرتی پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

(مضمون نگار، کراچی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (KDA) کے سابق ڈائریکٹر ہیں۔)

سنڈے میگزین سے مزید